وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۚ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ﴿النساء: 34﴾
ترجمہ
اور جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، انھیں نصیحت کرو، اور اُن کے بستروں پر انھیں تنہا چھوڑ دو، اور (اس پر بھی نہ مانیں تو) انھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ تمھاری بات ماننے لگیں تو ان پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک اللہ بہت بلند ہے، وہ بہت بڑا ہے۔
تشریح
سورۂ نساء کی آیت کے اس حصے میں ان بیویوں سے معاملہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جو اپنے شوہروں سے سرکشی کا رویہ اختیار کر لیں۔ ہم یہاں مختلف مفسرین کی تشریح کا خلاصہ بیان کرتے ہیں:
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی رائے
مولانا مودودی کے مطابق یہ آیت ایک نظامِ خانہ داری کی وضاحت کر رہی ہے، جس میں شوہر کو قوامیت (نگہبانی و انتظام) دی گئی ہے۔
“واضربوهن” سے مراد مارنے کی اجازت صرف نافرمانی (نشوز) کی صورت میں دی گئی ہے، جب وعظ و نصیحت اور علیحدگی مؤثر نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مارنا ظلم یا انتقام کی صورت نہ ہو، بلکہ آخری حد کے طور پر ہو، جو اصلاح کی نیت سے ہو۔ ان کے نزدیک یہ قانونی اختیار ہے، نہ کہ اخلاقی فضیلت، اور حکمت و عدل کے دائرے میں رہ کر استعمال ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی رائے
ڈاکٹر اسرار احمد اس آیت کو قوامیتِ مرد کے تسلسل میں دیکھتے ہیں۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ “ضرب” (مارنے) کا مطلب محض علامتی مار ہے، جس میں کوئی جسمانی تکلیف یا ذلت کا پہلو نہ ہو۔
ان کے نزدیک یہ صرف تادیبی قدم ہے، نہ کہ غصے یا جذبات کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی بیوی کو ہاتھ نہیں لگایا، اور امت کو بھی اس سے منع کیا ہے، لہٰذا اس اجازت کا استعمال بہت ہی نرمی اور حکمت سے ہونا چاہیے۔
اہلِ حدیث مکتبِ فکر کی رائے
اہلِ حدیث علماء کے نزدیک یہ اجازت ایک شرعی حد ہے، جو اصلاحِ بیوی کی غرض سے، علامتی اور غیر موذی مار تک محدود ہے۔
کئی اہلِ حدیث مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ اس “مارنے” میں چہرے پر مارنے کی ممانعت اور نرمی کا پہلو شامل ہونا ضروری ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
وہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اقدام آخری مرحلہ ہونا چاہیے، اس سے پہلے نصیحت اور علیحدگی اختیار کی جائے۔
مفتی محمد شفیع عثمانی (بحوالہ معارف القرآن)
دیوبندی نقطۂ نظر کے جید عالم اور مفسر، مفتی محمد شفیع کے نزدیک “ضرب” کا مفہوم تادیب ہے، نہ کہ تشدد۔
وہ فرماتے ہیں کہ یہ صرف نشوز (بغاوت یا نافرمانی) کی صورت میں جائز ہے، اور وہ بھی تین مراحل کے بعد:
وعظ و نصیحت
بستر سے علیحدگی
ہلکی پھلکی مار (جس میں کوئی چوٹ یا زخم نہ آئے)
وہ حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔”
ان کے نزدیک یہ اجازت شوہر کی اصلاحی قوامیت کا حصہ ہے، ظلم یا تفوق کا اظہار نہیں۔
علامہ شبیر احمد عثمانی (تفسیر عثمانی)
علامہ عثمانی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوام (نگہبان و منتظم) بنایا ہے، لیکن یہ قوامیت اخلاق و شفقت کے دائرے میں ہے۔
“ضرب” کا استعمال آخری مرحلے پر ہے اور اس میں بھی شرعی حدود کا لحاظ ضروری ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کی سنت اور سیرت کو دیکھتے ہوئے اس اختیار کو علامتی، محدود، اور اخلاقی دائرے میں رکھنا لازم ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر شوہر اس اختیار میں ظلم کرے تو بیوی کو قاضی یا عدالت میں رجوع کا پورا حق حاصل ہے۔
جاوید احمد غامدی کی رائے
قرآن نے فرمایا ہے کہ صالح بیویوں کا رویہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے (کہ وہ رازوں کی حفاظت کرتی ہیں)۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو عورتیں سرکشی اور تمرد اختیار کریں یا گھر کے راز دوسروں پر افشا کرتی پھریں، وہ خدا کی نگاہ میں ہرگز صالحات نہیں ہیں۔
لیکن کوئی عورت اگر اس طرح کی سرکشی پر اتر ہی آئے تو مرد کیا اُس کی تادیب کر سکتا ہے؟ قرآن نے اس کا جواب اثبات (ہاں) میں دیا ہے۔ آیتِ زیرِ بحث میں اس سرکشی کے لیے “نشوز” لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی سر اٹھانے کے ہیں، مگر اس کا زیادہ استعمال اُس سرکشی اور شوریدہ سری (بغاوت) کے لیے ہوتا ہے جو کسی عورت کی طرف سے اُس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو۔ یہ لفظ عورت کی ہر کوتاہی، غفلت یا بے پروائی یا اپنے ذوق اور رائے اور اپنی شخصیت کے اظہار کی فطری خواہش کے لیے نہیں بولا جاتا، بلکہ اس رویے کے لیے بولا جاتا ہے، جب وہ شوہر کی قوامیت کو چیلنج کر کے گھر کے نظام کو بالکل تلپٹ کر دینے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاملہ یہاں تک پہنچ رہا ہو تو مرد اپنا گھر بچانے کے لیے تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے، بلکہ اسے کرنی چاہییں:
پہلی یہ کہ عورت کو نصیحت کی جائے۔ آیت میں اس کے لیے وعظ کا لفظ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی حد تک زجر و توبیخ (ڈانٹ) بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری یہ کہ اُس سے بے تکلفانہ قسم کا خلا ملا ترک کر دیا جائے، تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اُس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
تیسری یہ کہ عورت کو جسمانی سزا دی جائے۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیرِ تربیت شاگردوں کو یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر اس کی حد “غیر مبرح” کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی اثر چھوڑے۔
آیت کے اندازِ بیان سے واضح ہے کہ ان تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ ہے۔ یعنی پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری صورت اُسی وقت اختیار کرنی چاہیے، جب آدمی مطمئن ہو جائے کہ بات نہیں بنی اور اگلا قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ مرد کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اگر اس سے اصلاح ہو جائے تو عورت کے خلاف انتقام کی راہیں نہیں ڈھونڈنی چاہییں۔ چنانچہ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا کے الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ سب سے بلند اور سب سے بڑا خدا ہے۔ وہ جب آسمان و زمین کا مالک ہو کر بندوں کی سرکشی سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ و اصلاح کے بعد نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اُس کے بندوں کو بھی دوسروں پر اختیار پا کر اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ (میزان)
اہم نکات
- یہ حکم “عورتوں” کے بارے میں نہیں بلکہ صرف بیویوں کے بارے میں ہے۔
- یہ حکم میاں بیوی میں عام گھریلو اختلاف اور تلخی کے وقت توتکار کے بارے میں نہیں ہے۔
- میاں بیوی کے درمیان یہ سارے حقوق و فرائض اس بنیاد پر مقرر ہوئے ہیں جب اس میں مرد “قوام” یعنی وہ بیوی، بچوں اور گھر کے سارے اخراجات اور حفاظت کا ذمہ دار ہے، یعنی گھر کے ادارے کا “سربراہ” اور “باس” ہے۔ اگر اس میں تبدیلی آ جائے اور بیوی بھی گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے لگے، نان و نفقہ میں کسی حد تک معاون ہو جائے اور وہ نکاح کے معاہدے میں باہمی افہام و تفہیم سے تبدیلی کر لیں تو ظاہر ہے کہ حقوق و فرائض بھی اسی تبدیل شدہ معاہدے کی روشنی میں مقرر ہوں گے۔
اگر ملکی قوانین ایسے ہیں کہ مرد کو کسی بھی صورت میں ضرب کی اجازت نہیں تو شوہر اس قانون پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ وہاں انھیں اس حق سے دستبردار ہونا پڑے گا جو ایک خاص طرح کی معاشرت میں انھیں شریعت نے دیا ہے۔ وہ اگر بیوی پر ہاتھ اٹھائیں گے تو قانون کے مطابق مجرم اور قابلِ سزا قرار پائیں گے۔ یاد رہے کہ اس وقت پاکستان سمیت اکثر ممالک میں یہ قوانین نافذ ہو چکے ہیں، اور ان ملکوں کے شوہر بیویوں کو نشوز پر جسمانی سزا نہیں دے سکتے۔ اور یہ شریعت کی خلاف ورزی بھی نہیں کہلائے گا، کیونکہ بیوی کی تادیب فرض نہیں بلکہ یہ محض ایک اختیاری تدبیر ہے جس کی اسے اجازت دی گئی ہے۔ اس کی حیثیت فرض کی ہرگز نہیں، اور جس ملک میں شوہر رہتا ہے اس کے قانون کی تعمیل اس پر فرض ہے۔