مواد پر جائیں

توہم پرستی

ترجمہ و تحقیق: محمد حسن الیاس اردو

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ»، قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ»، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ». (صحیح مسلم، رقم: 2230)

ترجمہ

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم جاہلیت کے زمانے میں بعض کام کیا کرتے تھے۔ (اُنھی میں سے یہ بھی تھا کہ) ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لیکن اب کاہنوں کے پاس مت جایا کرو۔” کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہم برا شگون بھی لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: “یہ ایک خیال ہی ہوتا ہے جو تم میں سے کسی کے دل میں گزرتا ہے، مگر تمھیں یہ کسی کام سے روکے نہیں۔” میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ خط بھی کھینچتے تھے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایک نبی بھی خط کھینچا کرتے تھے۔ جس کا خط اُس کے موافق ہو جائے، وہ یہ خط کھینچ لے۔”

تشریح

یہ علمِ رمل کا ذکر ہے، جس میں لکیروں اور ہندسوں کے ذریعے سے غیب کی باتیں بتانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ (نبی سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہیں) غالباً اسی طرح کا معجزہ تھا، جیسے مسیح علیہ السلام

نے اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ: “میں تمھیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔” (آل عمران 3:49)

“جس کا خط اس کے موافق ہو جائے، وہ یہ خط کھینچ لے۔” یہ زجر (تنبیہ) کا جملہ ہے اور زجر کے طریقے پر اثبات سے انکار کا اسلوب قرآن و حدیث میں بعض دوسرے مقامات پر بھی دیکھ لیا جا سکتا ہے۔ سورۂ حج (22) کی آیت 15 میں: فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ

(اُنھیں بتاؤ کہ) جو یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں ہرگز اس کی مدد نہ کرے گا، اُس کو چاہیے کہ (اپنے تصور میں ذرا) ایک رسی (اوپر چڑھنے کے لیے) آسمان کی طرف تانے، پھر جب منزل کو بہت دور دیکھ کر رنجیدہ ہو تو اُس کو کاٹ دے اور دیکھے کہ آیا اُس کی یہ تدبیر اُس کے رنج کو دور کرنے والی بنتی ہے؟

(حدیث میں) اس کی مثال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی نبوت کے منصب پر فائز کر دیا گیا ہے تو یہ کر لے، اس لیے کہ اس طریقے سے غیب کی خبریں بتانے کا معجزہ ایک پیغمبر کو دیا گیا تھا اور معجزات پیغمبروں ہی کو دیے جاتے ہیں۔ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کے دعوے محض اوہام ہیں، جن سے دور ہی رہنا چاہیے۔

اسی مضمون کی دیگر متعدد روایات میں ایک دوسری روایت کچھ یوں ہے:

صفیہ بنت ابو عبید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: “جو شخص کسی نجومی کے پاس جائے کہ اُس سے کوئی سوال پوچھے، اُس کی چالیس شب و روز کی نمازیں قبول نہیں کی جاتیں۔”

یعنی اس گناہ کی سزا کے طور پر۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اوہام کی پیروی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیسا سخت ہے۔