واقعات نے ایسی کروٹ لی کہ دنیا کو یہ فکر دامن گیر ہونے لگی کہ تیسری عالمی جنگ اب دہلیز پر کھڑی ہے۔ مگر پھر جنگ لڑنے والوں نے نوید دی کہ سب خیریت ہے۔ جنگ بندی کرا دی گئی ہے۔ بے ترتیب دھڑکنوں کو قرار آ گیا، لیکن ذہنوں میں یہ خیال ضرور آیا کہ جنگوں کا فیصلہ کرنے والے تو زیرِ زمین محفوظ قلعوں میں جا براجمان ہوں گے، مگر کروڑوں عوام کا کیا ہو گا؟
ایک محتاط اور مستند تحقیق کے مطابق دنیا کے نو ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً تیرہ ہزار سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اگر صرف چند بڑے شہروں پر بھی ایٹمی حملے ہوں تو لاکھوں افراد فوری طور پر ہلاک ہو سکتے ہیں، جبکہ تابکاری، بیماری، قحط اور ماحولیات کی تباہی سے کروڑوں سے اربوں افراد بعد میں متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس قیامت خیز موسمی تبدیلی کو “نیوکلیئر ونٹر” کہتے ہیں۔ اس سے حیوانی یا نباتاتی، دونوں قسموں کی غذائیں تباہ ہو جائیں گی۔ یوں دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں تین سے پانچ ارب افراد بھوک اور بیماریوں سے ختم ہو جائیں گے۔
فرض کریں یہ جنگ ایٹمی جنگ نہیں، بلکہ روایتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ تب بھی کروڑوں افراد کا ہلاک اور بے گھر ہو جانا یقینی ہے۔ کیونکہ دوسری عالمی جنگ میں تقریباً سات کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آبادی میں اضافے کے تناسب سے اب یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔
یہ تو صرف اسلحہ اور فوجی کارروائیوں کی تباہ کاری کا تخمینہ ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اقتصادی تباہی، عالمی نظامِ صحت کا انہدام، مہاجرین کا بحران، وبائی امراض اور سیاسی افراتفری بھی جنم لے سکتی ہے۔ یہ اثرات ایسے ملکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں جو جنگ کا براہِ راست حصہ نہ ہوں، کیونکہ دنیا اب ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اس تلخ تخمینے کی دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ جب بھی ہوئی وہ چند مہم جو اور طالع آزما لیڈروں کے غلط اور شدید قسم کے خود غرضانہ اور سطحی مقاصد کے حصول کی خاطر ہو گی۔ پچھلی جنگوں میں ہٹلر کی مثال بہت واضح ہے اور اس دور میں ہمیں دنیا کے سیاسی اسٹیج پر ایک نہیں، کئی “ہٹلر” نظر آ رہے ہیں۔ پچھلی جنگوں میں اگر قومی اور نسلی تعصب نے ان لیڈروں کو اندھا کر رکھا تھا تو موجودہ صورتِ حال میں مذہبی تعصب کا خطرناک عنصر بھی شامل ہو چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم عوام، جن کی جنگوں کو شروع کرنے میں کوئی رائے شامل نہیں ہوتی اور جن کے مفادات کو کبھی سامنے نہیں رکھا جاتا اور جو ان خطرات کا اصل ہدف بنتے ہیں، وہ کیا کریں؟
ہم عوام کو سب سے پہلے اپنے شعور کو بیدار اور بلند کرنا ہو گا۔ اس کی ضرورت کس قدر زیادہ ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت اسرائیل اور ایران دونوں میں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور اس سے قبل پاکستان اور ہندوستان کی چند روزہ جھڑپ میں بھی یہی صورتِ حال تھی کہ دونوں اپنے آپ کو فتح مند سمجھ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر طرف نفرت کی آندھیاں چل رہی ہیں اور جذبات کے خون آشام عفریت ایک دوسرے کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال کبھی بھی حقیقت کے قریب نہیں ہو سکتی۔ لازمی طور پر ایک ملک شکست کھاتا ہے اور دوسرے نے دشمن کے ارادوں اور اس کے اہداف کو پورا نہیں ہونے دیا ہوتا۔ لیکن یہ لیڈر اپنے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ انھیں یقین دلاتے ہیں کہ مکمل فتح اور دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لیے مزید خون اور مزید نقصان کی بھینٹ درکار ہے۔
ہم عوام کو ایک بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جنگ میں ہمیشہ لیڈروں کی جیت یا ہار ہوتی ہے، جبکہ عوام ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ جانیں، املاک، کاروبار انہی کے تباہ ہوتے ہیں۔ کامیاب اور قابل لیڈر وہ ہوتے ہیں جو تنازعات کا سیاسی اور مذاکراتی حل نکالتے ہیں، جنگ کی نوبت نہیں آنے دیتے۔ وہ مستقبل بینی کے ذریعے سے حالات کا درست اندازہ کرتے ہوئے اپنے عوام کو اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ناکام اور کوتاہ نظر ہیں۔ ہاں، اگر کسی قوم کی شوریدہ سری اور جارحیت اس قدر بڑھ جائے کہ وہ اس کا شکار ہو جائے تو پھر دیکھنا ہو گا کہ اس کے اسباب کیا تھے؟
دوسرے یہ کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے حکمران عالمی ضمیر کی آواز سے کس قدر ہم آہنگ ہیں؟ کیونکہ عالمی ضمیر کی آواز کو نظر انداز تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں موجود سچائی کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ان کے حکمران عالمی ضمیر کو پسِ پشت ڈالتے ہیں تو وہ بطورِ قوم دنیا میں اپنی ساکھ کو مجروح کر بیٹھیں گے۔ ان کے حکمران اگر دوسری قوموں سے وعدہ خلافی کے مرتکب ہوتے ہیں تو کل کو وہ اپنی قوم کو بھی اسی کہہ مکرنیوں سے دوچار کریں گے۔ اگر دوسری قوم کمزور ہے اور وہ اس کی وعدہ خلافی اور زیادتی کا شکار ہوئی ہے تو کل کو وہ اس قوم کے انتقام اور نفرت کا شکار ہوں گے۔ کوئی بھی قوم یا ملک ہمیشہ کے لیے عروج میں نہیں رہ سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسے بھی زمانے کی کروٹوں کا شکار ہونا ہو گا۔ اس لیے ایسی ظلم و زیادتی پر عوام کو اپنے حکمرانوں کا احتساب ضرور کرنا چاہیے۔ ان کو درست راہ کی طرف لانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ قوم کی دانش کو اس شعور کا اظہار کرنا چاہیے کہ ناانصافی کی بنیاد پر کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ کمزوروں پر جب ظلم کی انتہا کی جاتی ہے تو وہ جائز اور ناجائز کی تمیز بھول جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنی بقا کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مظلوم قومیں اپنے جرائم کا اخلاقی جواز ڈھونڈ لیتی ہیں۔ یہ تاریخ کا وہ سبق ہے جسے بھولنے والے عوام ہوں یا حکمران، اس کو بھگت کر رہتے ہیں۔
دوسری اہم ترین بات ان عوام کے غور کرنے کی ہے جو اپنے حکمرانوں کے پروپیگنڈے کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے یہ جانتے ہیں کہ وہ شکست اور ہزیمت سے دوچار ہوئے ہیں۔ ان عوام کو اپنے اندر اس شعور کو بیدار کرنا چاہیے کہ عالمی قانون کو پامال کر کے انصاف کا حصول ناممکن ہے۔ انھیں ایسا اخلاقی کردار پیش کرنا ہو گا کہ ان کی آواز میں اثر پیدا ہو، ان کا مقدمہ عدل کی عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا تسلیم کرے کہ ان کا وجود انسانیت کی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ دنیا کی ترقی میں ان کا کردار اس قدر اہم ہو کہ زمانہ ان سے محروم ہونے کو بہت بڑا نقصان سمجھے اور ان کے وجود سے محرومی اسے کسی طور گوارا نہ ہو۔ اس کے برعکس محض نفرت، انتقام اور احساسِ برتری کا رویہ کسی کو قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اور اس کا سب سے خطرناک مقام یہ ہے کہ کسی قوم کا وجود دنیا کے امن اور اس کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے۔
درخت کا پھل اس کے کانٹوں سے زیادہ ہے تو اسے زندہ رہنے کی اجازت ملتی، ورنہ اسے تلف کر دیا جاتا ہے۔ یہی اس دنیا کی تلخ ترین حقیقت ہے!