ہماری صحت ہماری ذمے داری ہے۔ خواتین اس شعبے کو نظر انداز کر کے بہت سے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں ایسی قیمتی معلومات ہیں جن سے آپ کی زندگی کے بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔
دورِ حاضر میں عورتوں کی خود مختاری پر بہت گفتگو ہوتی ہے، اور “میرا جسم، میری مرضی” اور “می ٹو” جیسی تحریکوں، بہتر تعلیم اور شعور نے عورتوں کو اپنے حقوق اور ذمے داریوں سے اچھی طرح آگاہ کیا ہے۔ لیکن خواتین کی بااختیاری ایک بہت وسیع موضوع ہے۔ بااختیاری کی یہ مسلسل تحریک اپنے اندر بہت سے موضوعات کو لپیٹے ہوئے ہے۔
جہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ خواتین کو اپنے ساتھ ثقافتی اور معاشرتی ماحول میں یکساں سلوک ہونے کا شعور ہو، چاہے تعلیم کا معاملہ ہو یا سیاست کا یا کوئی اور دیگر مسئلہ، وہاں عورتوں کی صحت اور تندرستی کے مسائل پر بات کرنا اور نوجوان لڑکیوں میں بہتر صحت کے بارے میں آگہی کو اجاگر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
عورت کی صحت کے مسائل اس کی بالغ عمر میں پہنچتے ہی شروع ہو جاتے ہیں، جن کو ہمارے معاشرے میں پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس پر بات کرنا اہم نہیں سمجھا جاتا اور یہی رجحان جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ لڑکی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے، وہ صحت کے ان مسائل سے غافل رہتی ہے جو اس وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے ہمارے معاشرے میں عورتوں کی صحت کے مسائل بڑھتے ہی رہے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شروع سے لڑکیوں کو یہ آگاہی نہیں ملتی کہ وہ اپنی موجودہ صحت یا آنے والے جسمانی مسائل کے بارے میں بات کریں۔
ایک لڑکی اپنی زندگی میں بہت سے مراحل سے گزرتی ہے۔ بالغ عمر میں پہنچنے سے لے کر ماں بننے کے عمل تک، اور پھر بچوں کی پیدائش کے بعد کے مسائل سے لے کر مینوپاز تک کا سفر، عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت پر دور رس نتائج رکھتا ہے۔ عورت کو زندگی کے مختلف مراحل میں صحت کے مختلف مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر لڑکیوں کو اس بارے میں بروقت آگاہ کیا جائے اور اسکول، کالجز میں اس کے بارے میں تعلیم دی جائے تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ ایک نشست میں مکمل نہیں ہو سکتا، لیکن کہیں سے تو شروعات کرنی ہے! اس لیے میں نے عورت کی زندگی کا ایک خاص مرحلہ، جو کہ 40 سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے، اس کے بارے میں بات کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ میں یہاں ہر عمر کے طبقے کی خواتین سے مخاطب ہوں۔
چالیسواں برس: نئی تبدیلیوں کا آغاز
اس عمر تک ہم عورتیں عام طور پر حمل اور بچوں کی پیدائش جیسے مراحل سے گزر چکی ہوتی ہیں۔ اُس وقت ہم کو
جسمانی طور پر جن تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے، ہم آج ان کے بارے میں بات کریں گے۔ کیا مسائل لاحق ہو سکتے ہیں؟ ان مسائل پر کسی طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟ یہی ہمارے اس آرٹیکل کا موضوع ہے۔
چالیس کی دہائی کے شروع ہوتے ہی خواتین زندگی کے ایسے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں جہاں، اجازت ہو تو یہ کہوں، جیسے جسمانی طور پر کوئی بغاوت یا ہڑتال شروع ہو گئی ہو! جسم میں ہمارے ہارمونز کی مقدار میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو ہمیں “پری مینوپاز” کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور قدرت نے اسے اسی طرح تخلیق کیا ہے۔ مگر اس تبدیلی کے باعث جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہ عورت کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں معلومات رکھنا اور یہ جاننا کہ انہیں کس طرح بہتر انداز میں سنبھالا جائے، ہر لڑکی کے لیے ضروری ہے۔
ان مسائل میں بے شمار تبدیلیاں شامل ہیں، جیسے بے قاعدہ ماہواری، نیند میں تبدیلی (مثلاً نیند نہ آنا)، مزاج میں چڑچڑا پن، روزمرہ کے کاموں کے لیے طاقت کا کم ہو جانا، جسم یا سر میں درد کا ہونا، اور بعض اوقات بہت زیادہ گرمی یا سردی محسوس ہونا۔ یہ سب عورت کے اندر ہارمونز کی سطح میں تبدیلی کے باعث ہوتا ہے۔ ان علامات کے بارے میں آگاہی ہونا اور انہیں بہترین طریقوں سے مینیج کرنا ہی اس مرحلے میں سب سے زیادہ اہم ہے۔
اس عمر کی بیماریاں
ان علامات کے علاوہ عورت کا جسم کچھ بیماریوں کا بھی سامنا کر سکتا ہے، جن کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ چالیس سال کی عمر کے بعد عورت کے جسم میں ہارمون ایسٹروجن کی کمی کے باعث میٹابولک تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے شوگر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح ہڈیوں کی مضبوطی بھی بڑی حد تک متاثر ہوتی ہے، یعنی ہڈیاں اتنی مضبوط نہیں رہتیں جتنی دس برس پہلے ہوا کرتی تھیں۔ اس وجہ سے جوڑوں کے درد اور “آسٹیوپوروسس” کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ جسم میں چربی (Fat) اور پٹھوں (Muscles) کی تقسیم بھی اس دہائی میں نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے۔ یعنی جسم زیادہ چربی جمع کرتا ہے اور پٹھے کم بنتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پٹھے بتدریج کمزور ہوتے جاتے ہیں اور جسم میں چربی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
مسائل کا حل
آپ کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے اگلے 10 سے 20 برس کیسے گزاریں گی؟ ان سب مسائل سے
دور رہنے کے لیے کیا سیکھنا ہے؟ کیونکہ ہم اپنے جسم میں پیدا ہونے والی ان تبدیلیوں کو آنے سے روک نہیں سکتے، مگر ان کے ساتھ بہتر زندگی گزارنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں، تاکہ ہمیں آگے بڑھتے ہوئے وقت میں کم سے کم صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ آئیے اب ہم ان مسائل کے حل کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
غذا یا نیوٹریشن
آپ کو اپنے کھانے کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ اپنی خوراک کو متوازن بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس دہائی میں اپنی خوراک میں سبزیوں کا استعمال زیادہ رکھنا چاہیے۔ یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک پوری حکمت ہے۔ سبزیاں غذائیت میں زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ فائبر کا ذخیرہ بھی رکھتی ہیں، جو کہ نہ صرف آپ کے نظامِ ہضم کے لیے بہت ضروری ہے بلکہ فائبر آپ کی گلوکوز کی مقدار کو بھی توازن میں رکھتا ہے۔
لہٰذا اپنی خوراک میں سلاد، کچی سبزیاں یا پکی ہوئی سبزیوں کو زیادہ شامل رکھیں۔ سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی مقدار کو توازن میں رکھنا ضروری ہے۔ یاد رہے! بہت زیادہ مقدار میں پھلوں کا استعمال آپ کی بلڈ شوگر کو بڑھا سکتا ہے، مگر پھر بھی پھل صحت کے لیے مفید ہیں، البتہ دن میں ایک کپ سے زیادہ نہ کھائیں۔ اب اگر آم کا موسم آ گیا ہے تو مہربانی سے آموں پر ہاتھ ہولا رکھیں۔
پروٹین کی اہمیت پر میں ایک ہفتے تک بول سکتی ہوں! پروٹین کو اپنی غذا میں شامل کریں۔ روز 80 سے 100 گرام کی مقدار مناسب ہے۔ مچھلی اور مرغی کا استعمال مفید ہے۔ گوشت میں مٹن اور بیف کی مقدار میں احتیاط ضروری ہے۔ مگر مکمل پروٹین کا آپ کی غذا میں شامل ہونا عمر کے اس حصے کی ناگزیر ضرورت ہے۔
اناج یا عام زبان میں کاربز کی مقدار کو کم رکھنا چاہیے کیونکہ اس کی زیادہ مقدار آپ کی بلڈ شوگر کو بڑھا سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ گلوکوز کو کم رکھنا ہے، پروٹین اور فائبر کو زیادہ رکھنا ہے۔ یہ اس دہائی کا اصول بنا لیں۔
ورزش
افسوس اس بات کا ہے کہ جس ماحول میں میں بڑی ہوئی، اس میں ورزش کی اہمیت کا کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا تھا۔ شکر ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے اور لوگوں میں ورزش کی اہمیت کا شعور بھی پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی بھی ہمارا شعور وہاں نہیں پہنچا جہاں دنیا کی صحت مند قومیں ہیں۔ ورزش تو بچپن سے ہی کسی نہ کسی طرح کرنی چاہیے، لیکن ایک عورت کی چالیسویں سالگرہ کے بعد ورزش بہت سے مسائل کا حل ہے!
بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک ہفتے میں 150 منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش انتہائی ضروری ہے، یا یوں کہوں کہ ناگزیر ہے! اس میں چلنا شامل ہے، جو آپ ہر روز 30 سے 40 منٹ کر سکتی ہیں۔ اور اگر آپ اس سے زیادہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو 75 منٹ کی ہائی اِنٹینسٹی ٹریننگ (HIIT) کرنے کی کوشش کریں، جس میں سائیکلنگ، تیراکی یا ہائیکنگ شامل ہے۔ آپ اپنی عمر اور صلاحیت کے مطابق ورزش کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ یوگا اور ایروبکس بھی اچھے انتخاب ہیں۔
اس کے علاوہ خواتین کے لیے وزن اٹھانے کی ٹریننگ کی اہمیت اس عمر میں بہت بڑھ جاتی ہے۔ آپ کسی پیشہ ور ٹرینر کے ساتھ ہلکے وزن لے کر محتاط طریقے سے اس ٹریننگ کا آغاز کریں۔ ریسرچ سے ثابت ہوتا ہے کہ چالیس سال کی عمر کے بعد وزن کے ساتھ ٹریننگ آپ کی ہڈیوں کی طاقت بڑھانے اور مستقبل میں آسٹیوپوروسس (Osteoporosis) اور فریکچرز سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔ لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ اگر وہ وزن اٹھانے کی ورزش کریں گی تو ان کے بازو مردوں کی طرح بہت موٹے ہو جائیں گے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے! ایسا کچھ نہیں ہوتا! وزن اٹھانے سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوگا اور ہمارے بازو بہت اچھے ٹون ہو جائیں گے۔
ذہنی صحت اور نیند
اب ہم ایک انتہائی اہم رکن کے بارے میں بات کریں گے، وہ ہے ذہنی صحت اور نیند۔ جونہی ایک لڑکی کی چالیسویں سالگرہ ختم ہوتی ہے، وہاں وہ دیگر مسائل سے دوچار ہو جاتی ہے۔ ان ختم نہ ہونے والے مسائل میں اینگزائٹی (Anxiety) اور انسومنیا (Insomnia) بھی شامل ہیں۔ ان دونوں مسئلوں کی وجہ سے ڈپریشن جیسے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہارمونز میں تبدیلی کی وجہ سے طبیعت میں ناراضی، بے یقینی اور جھنجھلاہٹ کا پایا جانا ایک عام عمل ہے۔ بہت سی خواتین کو نیند نہ آنے کی بھی شکایت رہتی ہے۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے آپ کا اپنے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہے۔ اپنی ذات کو وقت دیں اور اپنے لیے کوئی ایسا مشغلہ اختیار کریں جس سے آپ کو خوشی ملتی ہو۔ ورزش باقاعدگی سے کرنے اور کھلی ہوا میں وقت گزارنے سے نیند نہ آنے جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
غرض اپنے آپ کو وقت دینا اور ایک مشغلے کا انتخاب کرنا جو آپ کو ذہنی طور پر مصروف رکھے، نہایت اہم ہے۔ اور آخر میں ان تمام چیزوں کے علاوہ اپنا طبی معائنہ باقاعدگی سے کرانا بہت ضروری ہے۔ اس میں بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کے علاوہ خون کا مکمل جائزہ کروائیں۔ پاپ سمئیر (Pap Smear) اور میموگرام (Mammogram) کا ٹیسٹ ہر دو سے پانچ سال کے اندر کرانا مت بھولیں۔ (عمر کے لحاظ سے وقفے کی مدت اپنے ڈاکٹر سے ضرور معلوم کریں۔)
بروقت جانچ مستقبل میں ہونے والی بہت سی بیماریوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وزن کو کم رکھنا بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت آپ کو کیلشیم، وٹامن ڈی تھری (Vitamin D3) اور اومیگا آئل کا استعمال کرنا چاہیے۔ وٹامن بی اور آئرن بھی عورتوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔
غرض یہ کہ صحت ایک توازن رکھنے کا نام ہے، جس میں خوراک، ورزش، غذائیت، وٹامنز، ذہنی صحت اور سکون، سب مل کر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اپنے بارے میں جانیے اور اپنی صحت کا بیڑا خود اٹھائیے۔ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت صرف ہماری ذمہ داری ہے۔
اپنی زندگی کے مسائل کا اثر اپنی صحت پر مت پڑنے دیں اور اپنے لائف اسٹائل کو بہتر بنائیں۔