مواد پر جائیں

اڑان (Uraan)

تبصرہ: ثوبیہ نورین اردو

مصنف: عمیرہ احمد

ڈائریکٹر: یاسر نواز

فن کار: آمنہ شیخ، ہمایوں سعید، صبا قمر

پروڈکشن: ایورنیو پروڈکشن

ریلیز: جیو انٹرٹینمنٹ چینل

“اڑان”۔۔۔ یہ عنوان ہی ایک ایسا دلکش احساس ہے جو اُن لوگوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے جو حدود و قیود سے ماورا سوچ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ایک حساس، باشعور اور ذی فہم فرد ہیں تو اس ڈرامے کا منفرد اور پُراثر بیانیہ آپ کو آغاز ہی میں اپنی جانب متوجہ کر لے گا۔ یہ محض ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک احتجاج، ایک سوال، اور ایک دعوتِ فکر ہے۔ ڈرامے کا ابتدائی مکالمہ کچھ یوں ہے:

“میں بات کروں گی ان موضوعات پر جن پر آپ بولنا نہیں چاہتے، جن پر خاموشی کا ٹوٹنا بہت ضروری ہے، میں اُٹھاؤں گی وہ مسائل جو بعض کے لیے طنز ہیں اور بعض کے لیے تنازع۔ عورت کے لیے شادی فریب ہے یا خیال۔۔۔”

یہ مکالمے فقط تمہید نہیں بلکہ مصنفہ کے فکری انقلاب کا پیش خیمہ ہیں، جہاں وہ معاشرے میں مکالمے کی نئی ثقافت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس ڈرامے میں عورت کے بنیادی حقوق اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو جس جرأت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ ہمارے معاشرتی رویوں کو بے نقاب کرتا ہے۔

یہ ڈرامہ ان والدین کی سوچ پر بھی سوال اُٹھاتا ہے جو اپنی بیٹیوں کو اپنے خوف اور اندیشوں کے سبب ایسی تربیت دیتے ہیں جو درحقیقت ان کے لیے قید بن جاتی ہے۔ بیٹیوں کو ایسے گھروں میں بیاہ دینا جہاں وہ اپنی شناخت، وقار اور حتیٰ کہ وجود تک گنوا بیٹھیں، صرف اس لیے کہ “گھر بسانا ہے”، دراصل سب سے بڑی ناانصافی ہے۔

ڈرامہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ تعلیم یافتہ، پیشہ ور، باوقار اور سنجیدہ نظر آنے والے افراد آخر کیوں نفسیاتی اور جسمانی تشدد جیسے بدترین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں؟ اور وہ کون سے گہرے زہریلے رویے ہیں جو معاشرتی پردوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور جنہیں عام لوگ پہچان نہیں پاتے؟

یہ سوال بھی اُٹھایا گیا ہے کہ بظاہر خودمختار اور کامیاب مرد شادی کے بعد کیسے کٹھ پتلی بن جاتے ہیں، اور ان کے فیصلے کس طرح ان ذہنی سانچوں اور ماضی کے زخموں کے غلام ہوتے ہیں، جن سے وہ کبھی باہر ہی نہیں نکل پاتے۔

“اڑان” مایوسی میں مبتلا کر دینے والا ڈرامہ نہیں ہے۔ یہ امید، ہمت اور خوداعتمادی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ایک عورت کیسے ظلم اور محبت کے ملے جلے عذاب سے نکل کر اپنی ذات کو ازسرِنو تعمیر کر سکتی ہے۔

مصنفہ نے “خواتین کی خودمختاری”، “حساس موضوعات”، “مساوات”، “تعلیم” اور “پیشہ ورانہ زندگی” جیسے موضوعات کو کسی نظریاتی شدت پسندی کے بغیر، متوازن انداز میں پیش کیا ہے۔ مکالموں کے ذریعے ناظرین کو خود سوچنے اور سوال اُٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے۔

ڈرامے کا ایک قابلِ غور پہلو وہ ماں ہے جو تنہا اپنی اولاد کی پرورش کرتی ہے۔ جب وہی ظالم شوہر ایک روز ندامت کا لبادہ اوڑھ کر واپس آتا ہے تو اولاد کیا کرے؟ ایسے لمحوں میں ایک عورت اپنے وقار، صلاحیت اور حوصلے کو پہچان کر اپنے بچے کا مستقبل کیسے محفوظ بناتی ہے، یہ دیکھنا ہر فرد، خاص طور پر خواتین کے لیے ناگزیر ہے۔

والدین کے لیے بھی اس ڈرامے میں کئی سبق ہیں۔ یہ کہ تعلیم یافتہ ہونا اچھی پرورش کی ضمانت نہیں، اور یہ کہ ناکام تربیت کس طرح پورے خاندان کو برباد کر سکتی ہے۔

ڈرامے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر والدین کی شادی فقط معاشرتی دباؤ یا نفرت کی بنیاد پر ہوئی ہو تو اس کا زہر نسلوں میں کیسے سرایت کرتا ہے۔

نینا اور جواد کی جوڑی اس نکتے کو اجاگر کرتی ہے کہ محبت بھری شادی بھی غلط فہمیوں اور خاموشیوں کی نذر ہو سکتی ہے، لیکن باہمی فہم و فراست اور نرمی سے اس میں رنگ بھرے جا سکتے ہیں۔

اور آخر میں، اس ڈرامے کی سب سے چونکا دینے والی پرت وہ ہے جس میں ایک شدید نفسیاتی مریض کے رویوں کو دکھایا گیا ہے۔ ایسے لوگ جو ہماری معاشرت میں عام انسانوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں مگر درحقیقت ایک مجسم خطرناک عارضہ ہوتے ہیں۔

یہ ڈرامہ ان نشانیوں کی پہچان سکھاتا ہے جو کسی مرد یا عورت کی ذہنی بیماری کی خبر دیتی ہیں۔ ظاہری کشش، شائستگی یا محبت میں لپٹے سلوک کے پیچھے چھپے زہریلے رویے کیسے شناخت کیے جائیں، یہ بات ہر ذی شعور کو جاننی چاہیے۔ آخری سین، جس میں ڈاکٹر فراز کی ماں کا مکارانہ رویہ دکھایا گیا ہے، ناظر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے:

کیا ایسے لوگ واقعی کبھی بدلتے ہیں؟ کیا ان کے زخم بھر سکتے ہیں؟ کیا انہیں معافی ملنی چاہیے؟

یہ ڈرامہ ان تمام افراد کے لیے ایک بیداری ہے جو رشتوں کی خوشنمائی میں چھپے زہر کو پہچاننا اور خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔