کراچی میں پیش آنے والے ایک الم ناک واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ایک شام عباسی شہید اسپتال میں چند برس کے معصوم بچے کو اس حال میں لایا گیا کہ وہ بے ہوش تھا اور اس کا نچلا دھڑ مکمل طور پر جھلسا ہوا تھا۔ بچے کی تشویش ناک حالت دیکھ کر اسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے لیے پولیس کو بلوالیا۔
تفتیش کے بعد جو تفصیلات سامنے آئیں، اس نے ہر صاحبِ دل کو لرزا کر رکھ دیا۔ معلوم ہوا کہ خاندانی روایت کے مطابق پندرہ برس کی لڑکی کو سترہ برس کے لڑکے کے ساتھ بیاہ دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے یہ خاندان برادری کے اندر ہونے والی شادی تھی۔ خاندان بہت مذہبی تھا اور والدین کے نزدیک بچوں کو گناہ سے بچانے کا بہترین طریقہ یہی تھا کہ ان کی بلوغت کے ساتھ ہی شادی کر دی جائے۔ اس کے نتیجے میں ان کا بیٹا پیدا ہوا۔ بیٹے کا نام احمد رکھا گیا۔ جس دن سے بیٹا پیدا ہوا تھا، والد کو اعتراض تھا کہ اس کا رنگ کالا ہے۔ یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔ جاہل باپ کا خیال تھا کہ اگر بچے کے والدین کا رنگ سفید ہے تو اولاد بھی لازمی اسی رنگ کی ہونی چاہیے۔ اس لیے اس نے معصوم بچے کو کبھی بھی دل سے قبول نہ کیا۔ معصوم احمد ہمیشہ اس کے لیے ذہنی خلجان کا باعث تھا۔ اس کا اظہار ماں اور بچے پر تشدد کی شکل میں ہوتا۔ بچہ ذرا بڑا ہوا تو بات بے بات غصہ کرنا، تھپڑ لگانا، دھکے دینا اس کا معمول تھا، بلکہ کبھی کبھی تو پھول جیسے بچے کو پکڑ کر مسلسل مار پیٹ کرتا رہتا۔ باپ کی نفرت اور تشدد سے ڈرا سہما بچہ باپ کو دیکھ کر خوف سے گھبرا جاتا اور ماں کی گود میں چھپنے کی کوشش کرتا۔ سفاک باپ اس پر بھی بچے کو مارتا پیٹتا کہ یہ ماں سے محبت کرتا ہے اور میرے قریب نہیں آتا۔
اس ظالم شخص نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بیوی کا بھی میکے آنا جانا بند کرا دیا۔ والدین سے ملنے پر اس قدر پابندی
عائد کر دی کہ فون پر بات کرنے پر بھی بیوی کو تشدد کا نشانہ بناتا۔ بچے کی ماں کے بقول حادثے والے دن صبح فجر سے لے کر سات بجے تک اس ظالم باپ نے بچے کو مسلسل مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔ ماں چیختی چلاتی رہی لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ جب مار مار کر تھک گیا تو خود آرام سے سو گیا۔ بچہ جسم پر پڑنے والی ضربیں کھا کھا کر جب نڈھال ہو گیا تو اس کی ماں روتے ہوئے اسے ساس کے پاس لے گئی جو قریب ہی میں رہتی تھی۔ ساس نے ہمیشہ کی طرح یہ ماننے ہی سے انکار کر دیا کہ اس کا بیٹا بچے کو مارتا ہے۔ اسپتال لے جانے کے لیے شوہر کے سامنے منتیں کیں تو شوہر نے بچے کو کمرے میں بند کر دیا۔ جب بچے کی حالت غیر ہو گئی تو اس کے باپ نے بچے کو پلنگ سے دھکا دے کر گرا دیا۔ اس سے بچے کی ناک سے خون نکلنے لگا اور بچہ بے ہوش ہو گیا۔ جس کے بعد باپ نے بچے کی چوٹ کی ٹکور کرنے کا کہہ کر بچے کو اٹھایا اور کچن میں لے جا کر دونوں ہاتھ اور ٹانگیں پکڑ کر جلتے چولہے پر گرا دیا۔ بچے کی ماں نے جب چیخ و پکار کی تو باپ بچے کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔
گرفتار ہونے کے بعد باپ کا پہلے یہ کہنا تھا کہ بچے پر جنات تھے، اسے بھگار رہے تھے۔ پھر میڈیا پر بیان دیا کہ بچہ پلنگ سے گر گیا تھا، اس لیے ہم ٹکور کر رہے تھے۔ بچے کے باپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی بیوی، یعنی بچے کی ماں بھی بچے پر تشدد کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ آخری اطلاعات آنے تک بچہ جناح اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہے۔ بچے کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔
یہ حادثہ دراصل متعدد گمبھیر حادثات کا مجموعہ ہے۔ اگر ایک جملے میں اس کا خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ یہ خاندان اگرچہ آج کے جدید دور میں زندہ ہے، لیکن اس کا شعور اب بھی اس دور میں بھٹک رہا ہے جہاں عورت کا اصل کردار مرد کی جنسی بھوک مٹانا اور اس کے بچوں کو جنم دینا سمجھا جاتا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں روایتی مذہب نے بھی عورت کے اسی کردار کو درست مانا ہے۔
اس موقف کے حق میں فوراً عرب کی سماجی روایات کو تقدس کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی چاروں بیٹیوں کی شادی بلوغت کے فوراً بعد کر دی تھی، حتیٰ کہ خود بھی ایک چھ برس کی بچی سے نکاح کر کے اسے نو برس کی عمر میں گھر لے آئے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ چھ اور نو برس والی روایت پر اب اتنی تحقیق ہو چکی ہے کہ کوئی سلیم الفطرت شخص اس کو ماننے پر تیار نہیں۔ اگر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے کامل نمونہ بنا کر بھیجا تھا، وہ رحمت للعالمین تھے اور اخلاق کا بہترین نمونہ تھے تو ایسی ہستی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ چھ
برس کی بچی سے نکاح کر کے اسے نو برس کی عمر میں بیوی بنا کر گھر لے آئیں۔ مزید یہ کہ یہ بات نہ تاریخی حقائق سے ثابت ہے اور نہ درایتاً درست ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ کبھی سنت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا اور نہ اس پر عمل کیا گیا۔ اگر کسی نے کبھی اس طرح کی کوشش کی ہے تو اسے جرم ہی قرار دیا گیا۔ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ کم سنی کی شادی دراصل سرے سے ہوئی ہی نہیں۔
جہاں تک کم عمری کی شادیوں کا تعلق ہے تو یہ اُس دور کے تمدن کے مطابق تھا۔ عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی، نہ تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی معاشی جدوجہد کے لیے خواتین کو ہنر سکھانے کی کوئی ضرورت سمجھی جاتی تھی۔ معاشی ذمہ داری مرد کے حصے میں تھی، اس لیے یہ عرف قائم تھا کہ بیٹیوں کو بالغ ہوتے ہی بیاہ دیا جائے۔ البتہ بیٹوں کو چھوٹی عمر میں بیاہنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ عرب معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم نہیں تھا۔ لڑکے جب کمانے کے قابل ہو جاتے اور اپنا گھر بنا لیتے تو ان کی شادی کی جاتی۔ آج بھی عرب معاشرہ اسی روایت پر قائم ہے۔
پھر ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج بھی تھا، جو بالخصوص اشرافیہ کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کے لیے بھی یہی دستور تھا کہ بیٹیوں کو بلوغت کے بعد رخصت کر دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس دور کے سماج میں اُس تبدیلی کا آغاز ابھی نہیں ہوا تھا جو اسلام کی تعلیمات کے اثر سے آہستہ آہستہ سامنے آئی۔
معاشرتی تبدیلی کا باقاعدہ آغاز غزوۂ اُحد کے بعد ہوا۔ مدینے کی چھوٹی سی بستی میں ایک ہی دن ستر کے قریب خواتین بیوہ اور درجنوں بچے یتیم ہو گئے۔ اسی غزوہ کے کچھ دن بعد ایک اور حادثے کے نتیجے میں مزید ستر صحابہ دھوکے سے شہید کر دیے گئے۔ یوں بیواؤں اور یتیم بچوں کی تعداد میں پریشان کن حد تک اضافہ ہو گیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے معاشرے کو کچھ ہدایات دیں، کچھ نصیحتیں کیں اور کچھ احکام نازل فرمائے، جنہیں ہم سورۂ نساء میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک حکم، جو زیرِ بحث معاملے سے تعلق رکھتا ہے، یہ ہے:
“اور (اگر یتیم ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنے اموال، جن کو اللہ نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے، ان بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ البتہ ان سے فراغت کے ساتھ ان کو کھلاؤ، پہناؤ اور ان سے بھلے طریقے سے بات کرو۔ اور نکاح کی عمر کو پہنچنے تک ان یتیموں کو آزماتے رہو۔ پھر اگر ان کے اندر اہلیت پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔” (سورۂ نساء: 4-5)
اس حکم سے واضح ہے کہ نکاح کے لیے صرف بلوغت کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ “رشد” یعنی سمجھ بوجھ کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ قرآن کا یہ تقاضا ہے کہ نکاح صرف اسی وقت ہو جب میاں بیوی گھر اور بچوں کے معاملات سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ شوہر کی کمانے کھلانے کی صلاحیت کے ساتھ اس کی ذہنی اور عملی پختگی کا بھی لحاظ رکھا جائے۔ قرآن کا واضح حکم ہے کہ ذمہ داری اس پر ڈالی جائے جو اس کا اہل ہو۔ اگر کوئی شخص نفسیاتی مریض ہے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا مرد یا مال و دولت والا کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس میں “رشد” کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ نکاح کے لیے ناموزوں، بلکہ بعض اوقات خطرناک سمجھا جائے گا۔
یہی اصول ہم زندگی کے دوسرے شعبوں میں اپنائے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس ڈگری ہو، لیکن کام کرنے کی صلاحیت یا مزاجی توازن نہ ہو تو کوئی ادارہ اسے ملازمت نہیں دیتا۔ یہ کامن سینس کا تقاضا ہے۔ افسوس کہ برصغیر کے معاشروں میں زندگی کے باقی تمام شعبوں میں تو اس اصول کا خیال رکھا جاتا ہے، لیکن شادی بیاہ میں اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً بے شمار مسائل، حادثات اور المیے جنم لیتے ہیں، جن میں سے ایک مثال ہم اس واقعے میں دیکھ رہے ہیں۔