مواد پر جائیں

دورِ جدید کی حکمران خواتین

وجیہہ حسان واحدی اردو

اگرچہ سیاست و حکمرانی میں خواتین کا حصہ ہمیشہ سے محدود رہا ہے، لیکن دورِ جدید میں انسانی حقوق کی پاس داری میں بہتری کی تحریکوں کے نتیجے میں ہمیں اس میدان میں بھی خواتین کی خاصی تعداد نظر آئی۔ وجیہہ حسان واحدی نے ڈی ڈبلیو (DW) میں شائع ہونے والے مضمون کی مدد سے اس دور کی حکمران خواتین کا ایک اجمالی جائزہ لیا ہے جو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

اگر دنیا پر عورتیں حکمران ہوتیں تو کیا دنیا میں جنگیں کم اور امن زیادہ ہوتا؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ خواتین کے حقوق کے علم بردار تو کم از کم یہی سوچتے ہیں۔ اس کے باوجود حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، چین، روس، جاپان اور فرانس جیسے ’’جدید، حقوقِ نسواں کے نام لیوا‘‘ ممالک میں آج تک کسی عورت کو سربراہِ مملکت بننے کا موقع نہیں دیا گیا۔ محض جنس کی بنیاد پر کسی ’’مثالی دنیا‘‘ کا تصور کرنا سادہ لوحی ہو سکتا ہے۔ آئیے دورِ جدید کی چند نمایاں خواتین حکمرانوں کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے ناموافق حالات کے باوجود امورِ مملکت چلائے۔

بندرانائیکے: سری لنکا

نہ صرف سری لنکا بلکہ دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کا اعزاز رکھتی ہیں۔ اپنے شوہر، سابق وزیرِ اعظم سولومن بندرانائیکے کے قتل کے بعد جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا۔ تین بار وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں۔ تعلیم، صحت اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی ان کی نمایاں کامیابیاں رہیں۔ مگر ان کے عہد میں سنہالی قوم پرستی، تامل فسادات کا آغاز، معاشی زوال اور خانہ جنگی کی بنیاد بھی پڑی۔

اندرا گاندھی: بھارت

قومی طاقت، نیوکلیئر پروگرام، سن 71 کی جنگ اور بینکوں کے قومیانے جیسے دلیرانہ فیصلے کیے۔ مگر پہلے دور میں ایمرجنسی کا نفاذ، جبری نس بندی، جبکہ دوسرے دورِ حکومت میں سکھوں کا بڑی تعداد میں سفاکانہ قتلِ عام، آپریشن بلیو سٹار جیسے اقدامات ان کے دور کو ایک آمرانہ رنگ دے گئے۔ دنیا کی طاقت ور ترین خاتون سربراہ ہونے کے باوجود کئی لحاظ سے بدترین حکمران بھی کہلائی جاتی ہیں۔

گولڈا مئیر: اسرائیل

’’آئرن لیڈی‘‘ کہلانے والی یہ رہنما مضبوط ارادوں کی مالک تھیں، مگر فلسطینی عوام کے حقوق سے انکار اور یومِ کیپور جنگ کی انٹیلیجنس ناکامی ان کے استعفے کا باعث بنی۔

مارگریٹ تھیچر: برطانیہ

برطانیہ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم جن کی آمد کے شروع کے دو سال تو خوش گوار ہوا کا جھونکا تھے، لیکن اقتدار کی طاقت سے چمٹے رہنے کی خواہش نے انھیں ایک بدترین ڈکٹیٹر بنا دیا۔ سخت معاشی اصلاحات، فاکلینڈ جنگ میں برطانیہ کی قیادت اور لیبر یونینز کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ان کی پالیسیاں ملک میں گہری سیاسی تقسیم کا باعث بنیں، جو آج بھی برطانیہ بھگت رہا ہے۔

کورازون اکینو: فلپائنز

ان کے شوہر نینوئے اکینو فلپائنز کے آمر فرڈینینڈ مارکوس کے شدید مخالف تھے۔ جمہوریت کی جدوجہد میں شوہر کے قتل کے بعد سیاسی میدان میں آئیں اور آمریت کے خلاف تحریک کی علامت بنیں۔ جمہوری اداروں اور بین الاقوامی وقار کو بحال کیا۔ زرعی اصلاحات کیں مگر فوجی اور کمیونسٹ بغاوتوں نے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا، جس پر ان کی قیادت کو چیلنج کیا گیا۔ انھوں نے انیس سو بانوے میں اپنی صدارت کی آئینی مدت مکمل کی اور پُرامن طور پر اقتدار اپنے جانشین، فیدل راموس، کو منتقل کیا۔ انھیں مادرِ جمہوریت کا خطاب دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو: پاکستان

دنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم۔ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیر اعظم، کی جبری برطرفی اور پھانسی کے بعد جمہوریت کی بحالی کے لیے پُرامن جدوجہد کرتی رہیں اور بالآخر ملک کی دو بار وزیر اعظم منتخب ہوئیں، لیکن فوجی ریشہ دوانیوں اور سیاسی چالوں کے باعث دونوں مرتبہ مدت سے پہلے ہی ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔ خواتین کی تعلیم، صحت اور سماجی اصلاحات ان کے ایجنڈے میں شامل رہیں، مگر دونوں ادوار میں ان پر کرپشن کے الزامات لگے اور سیاسی انتشار پھیلا کر ان کی حکمرانی کو داغ دار کیا گیا۔ بالآخر 2007ء میں ملک کی اس جہاندیدہ سیاست دان کو ایک سازش کے تحت قتل کرا دیا گیا۔ ان کے دورِ حکومت مختصر رہے، لیکن دنیا میں پاکستان کا روشن اور مثبت امیج نمایاں ہوا۔

ویولیتا چمارو: نکاراگوا

بنیادی طور پر ایک گھریلو خاتون تھیں، لیکن اپنے شوہر، جو آمرِ وقت ’’ساموزا‘‘ کے بدترین مخالف تھے، کے قتل کے بعد سیاست میں آئیں اور لاطینی امریکی ملک نکاراگوا کی پہلی خاتون صدر بنیں۔ ایک نڈر، معتدل مزاج اور مفاہمت پسند رہنما تھیں۔ ان کے دور میں خانہ جنگی کا خاتمہ، جمہوریت کی بحالی اور خواتین کی سیاست میں شمولیت بڑھی، لیکن معاشی نظم و نسق میں کچھ کمزوری رہی۔ ان کا سات سالہ دورِ اقتدار مجموعی طور پر بہترین اور قابلِ ستائش رہا۔

خالدہ ضیاء: بنگلہ دیش

فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد جمہوری عمل کی قیادت کی، مگر بعد ازاں ان کی سیاست خاندانی مفادات، سیاسی انتقام پر مبنی رہی اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہو گئی۔ وہ ایک نیک نام حکمران کا تاثر دینے میں ناکام رہیں۔

تانسو چیلر: ترکی

ترکی کی پہلی خاتون وزیر اعظم۔ معاشیات کی ماہر ہونے کے باوجود سیاسی عدم استحکام، کردوں کے خلاف سخت گیر پالیسی، اور بدعنوانی نے ان کے اقتدار کو متاثر کیا۔ ان کی ناکامی میں فوجی اثر و رسوخ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

شیخ حسینہ واجد: بنگلہ دیش

بنگلہ دیش کے بابائے قوم ’’شیخ مجیب الرحمان‘‘ کی واحد اولاد جو قتل ہونے سے محفوظ رہی۔ ترقیاتی منصوبے، خواتین کی تعلیم، اور معاشی استحکام ان کی قیادت کی نمایاں جھلک ہیں۔ مگر آمریت، ریاستی جبر اور سیاسی مخالفین سے سخت سلوک کی وجہ سے ان پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ آمرانہ طرزِ حکمرانی کے باعث 2024ء میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بنا پر حسینہ واجد کو جلا وطن ہونا پڑا۔

میگا وتی سوئیکارنوپتری: انڈونیشیا

صدر سوئیکارنو کی بیٹی، جنہوں نے آمرِ وقت سوہارتو کے استعفے تک پُرامن جمہوری جدوجہد کی اور انڈونیشیا کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ جمہوریت کی بحالی میں ان کا کردار قابلِ قدر رہا، لیکن فوج کی بالادستی درپردہ قائم رہی۔ اسی بنا پر ان کی قیادت میں معیشت سست روی کا شکار رہی اور کرپشن پر بھی قابو نہ پایا جا سکا۔

گلوریا ماکاپگل آرویو: فلپائنز

دو مسلسل ادوار میں صدارت کی۔ معاشی اصلاحات، سیاسی استحکام، تعلیم و صحت میں بہتری اور کامیاب بین الاقوامی سفارت کاری کی داعی، مگر انتخابی بدعنوانی، کرپشن اور اظہارِ رائے پر قدغن نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ عدالتی فیصلے کی رو سے کئی سال نظر بند اور جیل کاٹنی پڑی۔

میشل باچیلٹ: چلی

چلی کی پہلی خاتون صدر جو دو بار ملک کی سربراہِ مملکت منتخب ہوئیں۔ بحیثیت سربراہ تعلیم، صحت اور خواتین کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ فوجی آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی بنیں، مگر دوسری مدت میں بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات نے ان کا سیاسی قد کم کیا۔ مجموعی طور پر ان کا کردار مثبت رہا۔

ینگ لک شناواترا: تھائی لینڈ

تھائی لینڈ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم جو کسانوں کے لیے خوش آئند پالیسیوں کی حامل رہیں، مگر بدعنوانی اور فوجی بغاوت نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

ڈلمار وسیف: برازیل

غریبوں اور خواتین کی نمائندہ، برازیل میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور اولمپکس منعقد کرنے والی حکمران، مگر معاشی بدحالی، سیاسی افراتفری اور کرپشن کے سبب مواخذے کا شکار ہوئیں۔ بعض مبصرین کے مطابق کرپشن پر مواخذہ ایک سیاسی سازش تھی۔

پارک گُن ہے: جنوبی کوریا

آمر صدر پارک چونگ ہے کی بیٹی اور جنوبی کوریا کی پہلی خاتون صدر، جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کرپشن کی ایک مثال قائم کی، جس کے نتیجے میں لاکھوں عوام نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ 2017ء میں انہیں پارلیمنٹ میں مواخذے کے بعد عدالتی حکم پر برطرف کر دیا گیا۔

آنگ سان سوچی: میانمار

آزادی کے بانی اور میانمار کے قومی ہیرو ’’جنرل آنگ سان‘‘ کی بیٹی، جنہوں نے جمہوری اقدار کے لیے برسوں جدوجہد کی اور جمہوریت کی عالمی علامت کہلائیں۔ نوبیل انعام یافتہ سوچی نے اقتدار میں آ کر روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی، بلکہ نسل کشی میں معاونت جیسے الزامات اور فوج سے مفاہمت ان کے زوال کا سبب بنی۔

یہ کہنا درست نہیں کہ عورت کی حکمرانی امن یا انصاف کی مکمل ضمانت ہے۔ عورت بھی اقتدار کے کھیل، سیاسی سازش اور بدعنوانی میں ملوث ہو سکتی ہے۔ مگر جب عورت حکمران بنتی ہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ حتی الامکان جنگ کے بجائے مکالمہ، ظلم کے بجائے فلاح، اور انا کے بجائے انسانیت کو ترجیح دے۔ تاہم، جن خواتین سربراہوں نے طاقت، عسکریت اور جبر کا راستہ اپنایا تو اس کے نتائج بھی بھیانک ہی برآمد ہوئے۔ لیکن آج ہم دورِ جدید کی ان دو خواتین کا ذکر کر رہے ہیں جن کی کارکردگی باقی تمام خواتین حکمرانوں سے بہت زیادہ اچھی رہی ہے۔ اینجیلا مرکل اور جیسنڈا آرڈرن دو نمایاں مثالیں ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی لیڈرشپ کے ذریعے سے ایک مثبت مثال قائم کی۔

اینجیلا مرکل — استقامت، تدبر اور اعتدال کی علامت

اینجیلا مرکل نے دنیا بھر کی خواتین اور مردوں کو یہ دکھا کر متاثر کیا کہ حقیقی قیادت صبر، عاجزی اور علم میں چھپی ہوتی ہے۔ جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر کے طور پر انہوں نے 16 سال تک دنیا کی ایک طاقتور معیشت کو پرسکون اور حقیقت پسندانہ انداز میں سنبھالا، اور اپنے عوام سے ’’مُٹّی‘‘ (ماں) کا پیار بھرا لقب پایا۔ ایک موقع پر انہوں نے جرمنی کے لیے کہا کہ: ’’نفرت، نسل پرستی اور انتہا پسندی کی اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

مرکل کو کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی حاصل ہے۔ وہ اس بات کی مثال ہیں کہ سائنس، دلیل اور تحمل کا سیاست میں طاقت سے زیادہ مؤثر کردار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مردوں کے غلبے والی سیاست میں رکاوٹیں توڑیں اور دنیا بھر کی خواتین کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنی اقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر قیادت کر سکتی ہیں۔

مرکل کی قیادت کے اہم پہلو

معاشی استحکام:

یورپی قرضہ بحران کے دوران مرکل نے جرمنی کی معیشت کو سنبھالے رکھا اور یورپی یونین کو تقسیم ہونے سے بچایا۔

پناہ گزینوں کا بحران:

2015ء میں شامی پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کر کے انہوں نے انسانی ہمدردی کو سیاسی مصلحت پر ترجیح دی۔ کسی موقع پر انہوں نے بہت خوبصورتی سے کہا کہ: ’’جب بات انسانی وقار کی ہو، تو ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔‘‘

سائنس پر یقین: مرکل نے سائنس اور تحقیق کو پالیسی سازی میں شامل رکھا، خاص طور پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکل اپنی سادہ طرزِ زندگی اور انکساری کے لیے مشہور ہیں۔ کئی بار انہیں عام شہری کے طور پر خریداری کرتے اور اپنے بیگ خود اٹھاتے دیکھا گیا ہے، جو کسی عالمی رہنما کے لیے غیر معمولی منظر ہے۔ انہیں آلو کا سوپ پکانے اور آلوبخارے کا کیک بنانے کا شوق ہے، جو سیاست سے ہٹ کر ان کی گرم جوش اور مانوس شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنے مشہور ’’مرکل روبس‘‘ (Merkel-Raute) ہاتھ کے اشارے کے باعث وہ ایک ثقافتی علامت بھی بن گئیں، جنہیں میمز اور میڈیا میں جگہ ملی۔ یہ ذاتی پہلو اور پرسکون مگر مضبوط قیادت انہیں محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک متاثر کن رول ماڈل بنا دیتے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن — بحران میں قیادت کی نئی روایت

جیسنڈا آرڈرن، نیوزی لینڈ کی سابق وزیرِ اعظم، اپنی ہمدرد اور رحمدل قیادت کے انداز کے باعث دنیا بھر میں قابلِ ستائش ہیں۔ وہ صرف 37 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے کم عمر خاتون سربراہِ حکومت بنیں اور جلد ہی اپنی نرمی اور قوت کے امتزاج سے نمایاں ہو گئیں۔ کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملوں اور کووِڈ-19 کے وبائی دور جیسے بحرانوں میں انہوں نے غیر معمولی ہمدردی اور سخت فیصلوں کا شاندار امتزاج دکھایا، اور دنیا کو یاد دلایا کہ انسانیت اور مضبوطی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ آرڈرن کی قیادت آج بھی نوجوان خواتین اور مردوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اخلاص اور ہمدردی سیاست میں سب سے طاقتور ہتھیار ہو سکتے ہیں۔

آرڈرن کی قیادت کے نمایاں کارنامے

کرائسٹ چرچ حملہ (2019ء):

اس سانحے کے بعد آرڈرن نے جس ہمدردی، درد اور فوری قانون سازی کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا بھر میں متاثر کن مثال بنی۔

کووِڈ-19 کا ردِّ عمل:

نیوزی لینڈ نے دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں وائرس کو مؤثر طریقے سے قابو کیا، جس کا سہرا آرڈرن کی شفاف، بروقت اور سائنسی پالیسیوں کو جاتا ہے۔

ماحولیات اور بچوں کی فلاح و بہبود:

آرڈرن نے “ویلفیئر بجٹ” متعارف کرایا، جو صرف جی ڈی پی پر نہیں بلکہ انسانوں کی فلاح پر مبنی تھا۔

سیاست سے ہٹ کر، جیسنڈا آرڈرن کئی دلچسپ اور روایت ساز خصوصیات رکھتی ہیں۔ وہ موسیقی سے محبت کرتی ہیں اور کچھ عرصہ ڈی جے کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں، جو ان کی تخلیقی اور خوش مزاج شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے تاریخ رقم کی جب وہ دنیا کی دوسری منتخب سربراہِ حکومت بنیں جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بچے کو جنم دیا، اور ماں ہونے کے ساتھ سیاسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ آرڈرن اکثر ذہنی صحت اور خوش حالی کی اہمیت پر زور دیتی رہیں، جو عام لوگوں کی روزمرہ مشکلات کے لیے ان کی سچی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ذاتی پہلو اور ان کی ہمدرد قیادت انہیں نیوزی لینڈ سے کہیں زیادہ دور تک ایک متاثر کن رول ماڈل بناتے ہیں۔

اہم نکات

خواتین رہنما، مرد رہنماؤں کی طرح، سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی پابندیوں کے اندر کام کرتی ہیں۔ کچھ لوگ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے روایتی طور پر “مردانہ” انداز اپنا سکتے ہیں (جیسے مثال کے طور پر مارگریٹ تھیچر نے کیا)۔

اینجیلا مرکل کی مستقل مزاجی اور جیسنڈا آرڈرن کی ہمدردی پر مبنی قیادت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ خواتین دنیا کے لیے ایک بہتر طرزِ حکمرانی پیش کر سکتی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ خواتین کی قیادت کو “متبادل” کے طور پر نہیں بلکہ “ضرورت” کے طور پر دیکھا جائے۔ سیاسی، سماجی اور اقتصادی فیصلوں میں خواتین کی یکساں شمولیت ہی دنیا کو زیادہ متوازن و پُرامن بنا سکتی ہے۔