مواد پر جائیں

بیٹوں کی تربیت

ثوبیہ نورین اردو

یہ اس سلسلے کا دوسرا مضمون ہے۔ محترمہ ثوبیہ نورین نے اس مضمون میں برصغیر کے عام گھرانوں کی ان خامیوں کی نشان دہی کی ہے جن میں تربیت کے نقص سے وہ رویے جنم لیتے ہیں، جن کا نتیجہ معاشرے میں صنفی عدم مساوات کی شکل میں نکلتا ہے۔ گزشتہ مضمون کے فیڈ بیک کے حوالے سے وہ اس دلچسپ پہلو کی نشان دہی کرتی ہیں کہ قارئین نے اسے “بیٹوں کی تربیت” کے بجائے “بیٹیوں کی تربیت” پڑھا۔ اس سے ان کے اس مائنڈ سیٹ کا علم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بیٹیوں میں بیٹوں کی نسبت زیادہ خرابی پائی جاتی ہے۔

حقوقِ نسواں کی تحریکیں، تعلیمِ نسواں کی اہمیت، عورتوں کا استحصال اور حق تلفی کے خلاف آوازیں، سیمینارز اور فیمنزم کی بحث، سب اس بات کی غماز ہیں کہ کہیں نہ کہیں عدم مساوات موجود ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن میرا زاویۂ نظر آج ذرا مختلف ہے۔ یہ صرف عورتوں کا نہیں، پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے ان تحریکوں نے معاشرتی بگاڑ کو مرد و زن کی جنگ بنا کر ایک ردِّعمل کی نفسیات پیدا کر دی ہے۔ اسی لیے میں نے کوشش کی کہ آج کی تحریر میں خاندان اور والدین کے تربیتی نظام میں ان عوامل کو نمایاں کروں جہاں یہ بگاڑ جنم لیتا ہے، تاکہ ہر باشعور قاری سمجھ سکے کہ سوشل فیبرک کے تانے بانے میں ٹیڑھ کہاں ہے جو ہمارے بگاڑ کی جڑ بنتا ہے، اور وہ جڑ ہے ہمارا گھر۔

ہمارا گھر: خرابی کی ابتدا

بظاہر بے ضرر جملے اور رویے کیسے بڑے زہریلے اثرات میں ڈھلتے ہیں، یہیں سے ڈبل اسٹینڈرڈز اور حق تلفی کا آغاز ہوتا ہے۔ سسرال یا دفتر سے نہیں، بلکہ بچپن میں اپنے ہی والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں۔ سب سے نمایاں عنصر ہے لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت میں امتیازی سلوک، جس نے مرد و زن کی وہ خوبیاں جو رب نے حکمت کے ساتھ عطا کی تھیں، استحصال کا ذریعہ بنا دیا۔

اللہ نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا (سورۂ التین)۔ مرد اور عورت کو الگ الگ اوصاف اس لیے دیے کہ دونوں اپنے دائرے میں چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔ مرد کو جسمانی قوت اور عورت کو صبر، ایثار اور جذباتی پختگی عطا ہوئی تاکہ نسلِ انسانی کی پرورش بہترین ماحول میں ہو۔ عورت جہاں ماہواری، حمل اور زچگی جیسے کٹھن مراحل سہتی ہے، وہیں اس کی ہمدردی اور رحم کا جذبہ نوزائیدہ کو پالنے میں کارگر ہوتا ہے۔ لیکن معاشرہ ان اوصاف کو بچپن سے دبانے لگتا ہے اور لڑکی کو اپنی شناخت و آواز سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں عورت کے استحصال اور خاموشی کا آغاز ہوتا ہے، اور قربانی کو ظلم کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

اسی طرح لڑکوں کو استحقاق اور برتری کی نفسیات میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ لاڈ پیار اور جواب دہی سے آزادی انہیں غلطیوں کے باوجود خود کو درست سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔ دوسری طرف، خدمت گزاری، دلیل سے بات کرنا، صفائی ستھرائی یا چھوٹے موٹے گھریلو کام مرد کے لیے معیوب ٹھہرتے ہیں۔ یوں وہ اپنی ہی بنیادی ضروریات کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ گھریلو نزاکتیں سمجھ نہ پانے کی وجہ سے ازدواجی زندگی جھگڑوں اور بے اعتمادی میں گھر جاتی ہے۔

بچپن کے اثرات

بچے جب عورت اور مرد کی حیثیتوں کا فرق شعوری طور پر دیکھتے ہیں تو وہ کبھی عورت کو دل سے عزت نہیں دے پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت میں سب کچھ قربان کرنے والا مرد شادی کے بعد عورت کو ملکیت سمجھتا ہے، اسے کم تر اور جذباتی قرار دیتا ہے۔ یہ رویہ کسی فرد کا نہیں، صدیوں کی مساجی اور کنڈیشننگ کا شاخسانہ ہے۔

خدائے بزرگ و برتر نے مرد اور عورت کو الگ الگ اوصاف اس لیے عطا نہیں کیے کہ ایک کو کمتر اور دوسرے کو برتر سمجھا جائے، بلکہ تاکہ دونوں اپنے اپنے دائرۂ کار میں مخصوص صلاحیتوں کے مطابق زندگی کے چیلنجز کا سامنا کر

سکیں۔ کارخانۂ قدرت میں مرد کو حفاظت، انتظامِ معاش اور مشقت جیسے کاموں کے لیے مضبوط جسم و اعصاب دیے گئے تاکہ وہ عورت کو تحفظ فراہم کر سکے۔ دوسری طرف عورت کو نازک جسم کے ساتھ صبر، برداشت، ایثار، جذباتی پختگی اور ہمدردی عطا کی گئی تاکہ رحمِ مادر سے گود تک انسان کے ناتواں وجود کو بہترین ماحول میسر آئے۔

عورت کی طاقت: اس کے استحصال کا باعث

مرد جہاں جسمانی قوت میں آگے ہے، وہیں عورت درد سہنے اور جذباتی استقامت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ماہواری، حمل، زچگی، دودھ پلانے اور ہارمونی اتار چڑھاؤ کے مراحل اسی کی خصوصیت اور مہارت ہیں۔ نوزائیدہ کئی برس تک ماں کا محتاج رہتا ہے، اور یہ ماں کی قربانی، محبت اور بے لوث خدمت ہی ہے جو اسے زندہ اور پروان چڑھاتی ہے۔ لیکن معاشرہ انہی اوصاف کو بچپن سے دبانے لگتا ہے۔ لڑکی کو خود مختار بنانے کے بجائے اپنی آواز دبانے، ترجیحات قربان کرنے اور ظلم کو صبر کے نام پر سہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یوں عورتوں کے استحصال اور خاموشی کا آغاز گھر ہی سے ہوتا ہے، اور قربانی کو ظلم کی بنیاد بنا کر قابلِ فخر بنا دیا جاتا ہے۔

یوں خاندان ہی سب سے بڑا شریکِ ظلم بن جاتا ہے۔ لڑکوں کو استحقاق اور برتری کا احساس دیا جاتا ہے۔ لاڈ پیار اور جواب دہی سے آزادی انہیں یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ غلطی پر بھی درست ہیں اور خدمت کے حقدار۔ دوسری طرف خدمت گزاری، دلیل سے بات کرنا، صفائی اور گھریلو نظم و ضبط جیسے اوصاف عورت سے منسوب کر کے مرد کے لیے معیوب بنا دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مرد اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے بھی دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں یہ رویہ سنگدلی اور بے حسی کو جنم دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض شوہر اپنی بیوی کو مہینوں میکے نہیں جانے دیتے کہ ’’کھانا کون بنائے گا؟‘‘ یا ’’موزے کون ڈھونڈے گا؟‘‘

یہ مرد اپنی ذاتی ضرورتوں میں بے حد حساس مگر دوسروں کے بنیادی حقوق کے معاملے میں بے پروا ہو جاتے ہیں۔ گھریلو نزاکتوں سے ناآشنا رہنے کی وجہ سے ازدواجی زندگی عدمِ توازن اور نااتفاقی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے بچے جو مرد و زن کی حیثیتوں میں فرق دیکھتے بڑے ہوتے ہیں، وہ عورت کو دل سے عزت دینا سیکھ ہی نہیں پاتے۔ یوں معاشرے میں یہ تاثر جڑ پکڑ لیتا ہے کہ عورت مکمل انسان نہیں بلکہ مرد کی ملکیت ہے۔ محبت میں سب کچھ قربان کرنے والا مرد بھی شادی کے بعد عورت کو ناقص العقل اور کمزور سمجھتا ہے۔ یہ رویہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ نسل در نسل چلی آنے والی مساجنی اور کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔

یہی کنڈیشننگ گلی کوچوں اور اداروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ بزدلی کا طعنہ دینا ہو تو کہا جاتا ہے: ’’چوڑیاں پہن رکھی ہیں؟‘‘ ماں یا بہن کا احترام کرنے والے لڑکوں کو ’’ممی ڈیڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔ کم عمر بچے بھی عورت سے منسوب گالیاں دیتے ہیں۔ دفتر میں اگر کوئی مرد بیوی کی رائے یا ذہانت کا اعتراف کرے تو اسے ’’زن مرید‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی ہی نیکی پر شک کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہی رویہ اگر عورت دکھائے تو اسے اس کا فرض سمجھا جاتا ہے، اور اگر مرد کرے تو احسان اور عظمت گردانی جاتی ہے۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا دوہرا معیار ہے۔

چھوٹے چھوٹے لڑکے بہنوں پر حکم چلاتے ہیں، چیختے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ’’ہماری بہن ہمیں ٹرے میں کھانا دیتی ہے، کپڑے استری کرتی ہے، چائے اور کھانا اس کی ذمہ داری ہے‘‘۔ وہ ایک دوسرے کو خواتین کو قابو میں رکھنے کے گر بھی سکھاتے ہیں۔ یوں ان میں دبدبے اور برتری کی نفسیات پروان چڑھتی ہے اور لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ وہ کمزور ہیں، ادھوری ہیں اور کسی سہارے کی محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی رائے رکھیں یا فیصلہ خود کریں تو یہ خوبی نہیں بلکہ خودسری سمجھا جاتا ہے۔

یہی خوف عورت کے دل میں اس قدر رچ بس جاتا ہے کہ اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد سے بھی کتراتی ہے کہ کہیں کوئی قریبی فرد یا تشدد رویہ اس کی ذات ہی نہ مٹا دے۔ یوں عورت اپنی ضرورتوں اور جذبات کو کم تر سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لیکن یہی گھٹن اسے بعد ازاں ذہنی اور جذباتی مریض بنا دیتی ہے۔ اس سب کی جڑ وہی زہر آلود جملے ہیں جو گھروں میں گونجتے ہیں: ’’مرد ہو، تمہاری بات آخری ہونی چاہیے‘‘ یا ’’عورت کا کام صبر کرنا ہے‘‘

نتیجہ یہ کہ لڑکے غیر شعوری طور پر عدم برداشت سیکھتے ہیں اور لڑکیاں عزتِ نفس قربان کرنے کی عادی ہو جاتی ہیں۔

بچوں کی لڑائی میں بھی بھائی کے ہاتھ اٹھانے کو نظر انداز کر کے بہن کو سمجھا دیا جاتا ہے کہ ’’خیر ہے، بھائی ہے، لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں، تم سہہ لو، صلح کر لو‘‘۔ یہی رویہ لڑکے کو یہ سبق دیتا ہے کہ غصہ اور تشدد مردانگی کی علامت ہے۔

اسی طرح جملے جیسے ’’بھائی باہر سے تھکا آیا ہے، اس کے لیے کباب بنا دو‘‘، ’’بھائی کے لیے چائے‘‘، ’’ابا کے کپڑے دھو دو‘‘ برسوں کانوں میں پڑتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ یہ سمجھتا ہے کہ گھریلو کام صرف لڑکیوں کا فرض ہیں۔

فرض ہے، جبکہ محبت اور خدمت پر صرف اسی کا حق ہے۔ بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ کل کو کمائے گا، بڑھاپے کا سہارا ہوگا اور خاندان کا وارث ہے، جبکہ بیٹی کو ’’پرایا دھن‘‘ اور بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ یہی جملے اجتماعی شعور میں بگاڑ پیدا کرکے عدم مساوات، استحصال اور جذباتی گھٹن کی بنیاد رکھتے ہیں۔

ہم بحیثیتِ معاشرہ ان رویوں کے دور رس اثرات کو نہیں سمجھ پائے۔ اگر ظلم و زیادتی کو ختم کرنا ہے تو ابتدا گھروں سے کرنی ہوگی۔ بچوں کی تربیت میں بولے جانے والے الفاظ اور رویوں کی اصلاح سب سے پہلی شرط ہے۔ یہ زیادتی صرف ایک عورت سے نہیں بلکہ مستقبل کی ماں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

افسوس کہ جب عورت محرومیوں اور زیادتیوں کے بوجھ تلے برسوں گزار کر خاندان میں بڑائی کے منصب تک پہنچتی بھی ہے، تو بھی اپنی مجروح عزتِ نفس کی جنگ میں الجھی رہتی ہے اور دوسروں کے وجود کو آزاد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھ پاتی۔ یوں یہ گھن چکر چلتا رہتا ہے۔ گھر، جو محبت اور سکون کا گہوارہ ہونا چاہیے، مکڑی کے جال کی مانند بظاہر موجود مگر اندر سے کھوکھلا اور کمزور ہو جاتا ہے۔ انہی تاروں میں مسائل کی جڑیں بھی ہیں اور تبدیلی کی امید بھی چھپی ہوئی ہے۔