مواد پر جائیں

جانوروں کے ساتھ ہمدردی: ایک ذاتی ڈائری

حبا شاہد زبیری اردو

حبا شاہد زبیری

انسان کا اصل شرف یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مذہب ہو یا معاشرہ یا ریاست، اس سے کچھ مطالبات کیے جاتے ہیں۔ اسی شرف کی وجہ سے اسے اس زمین کی باقی ساری مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور یہ فضیلت اسے پکار پکار کر کہتی ہے کہ اسے دوسری مخلوقات سے محبت، خیال اور حفاظت کا تعلق رکھنا چاہیے۔ یہ مضمون اسی شاندار احساس کی ترجمانی کرتا ہے۔

پہلا ورق: وہ دن جو بھلایا نہیں جا سکتا

آج پھر یادوں کا در کھل گیا۔ وہ دن، وہ منظر، سب کچھ جیسے سامنے آ گیا ہو۔

کراچی کی گرد آلود گلیاں، پرانی سبزی منڈی کے پاس کا چمکتا سورج، اور وہ بے چارہ گدھا۔ اس کی پسلیاں ایسے ابھری ہوئی تھیں جیسے کوئی کمان سے نکلی تلوار ہوں۔ گاڑی پر آموں کے کریٹ لدے تھے اور بیچارہ جانور لرزتی ٹانگوں کے ساتھ گھسٹتا چلا جا رہا تھا۔ مالک کا کوڑا بار بار اس پر برس رہا تھا۔ میں ٹھٹک گئی، دل چاہا آگے بڑھ کر کچھ کروں، لیکن ڈر نے قدم جکڑ لیے۔ کچھ ہی دیر میں وہ جانور دھڑام سے ایک دکان کے سامنے گر پڑا۔

کچھ آگے بڑھی تو ایک اور کہانی میرے سامنے تھی۔ ایک آوارہ کتا، ہڈیوں کا ڈھانچا، کھانسی سے ہلتا ہوا۔ محلے کے لڑکے اس پر پتھر برسا رہے تھے۔ میں لپکی، مگر ایک عورت نے روک دیا: “اسے ہاتھ مت لگانا۔”

کتے نے زخمی اور تھکے ہارے انداز میں لنگڑاتے ہوئے وہاں سے رخصت لی۔ وہ لمحے میری ڈائری کے پہلے ورق کی طرح ہیں۔۔۔ ایسے ورق جو مٹائے نہیں جا سکتے۔

دوسرا ورق: روزمرہ کے غلام

جب بھی میں سندھ اور پنجاب کی سڑکوں پر جھلستی دوپہریں دیکھتی ہوں، میرے ذہن میں ایک ہی تصویر ابھرتی ہے: گدھے اور گھوڑے، جن پر بے تحاشا بوجھ لدا ہے، اور مالک ان کے ساتھ ایسے پیش آ رہا ہے جیسے یہ صرف لکڑی کے پہیے ہوں، زندہ وجود نہیں۔

کتوں کی حالت تو اور بھی عجیب ہے۔ اکثر لوگ انہیں صرف “ناپاک” کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ ان سے ناپاکی کا عقیدہ اتنا عام ہے کہ یہ بیچارے کتے ہمارے معاشرے میں رحم کے ادنیٰ سے سلوک کے بھی مستحق نہیں سمجھے جاتے۔ نتیجہ؟ وہ خاموشی سے سڑکوں پر مرتے رہتے ہیں۔

تیسرا ورق: خوشی کے تہوار، جانوروں کی قید

عید، عقیقہ یا شادی کی دعوتیں ہمارے لیے مسرت کے دن ہیں، لیکن جانوروں کے لیے؟ اکثر مرغیاں، بکریاں اور گائیں تنگ پنجروں اور گندے باڑوں میں زندگی گزارتی ہیں۔ نہ کوئی آرام، نہ دوا، نہ سکون۔

میرے دل میں اکثر سوال اٹھتا ہے: کیا وہ جنہیں ہم اللہ کے نام پر قربان کرتے ہیں، زندگی کے دوران کسی نرمی کے لائق نہیں؟ کیا وہ دل اور احساس سے خالی ہیں؟

چوتھا ورق: قانون کا دکھاوا

میری ڈائری کے صفحات گواہ ہیں کہ ہم ایک پرانے قانون کے سائے میں جی رہے ہیں۔

Prevention of Cruelty to Animals Act, 1890

سوچیے، 1890ء سے اب تک سزا کیا ہے؟ صرف 50 یا 100 روپے جرمانہ اور چند دن قید۔

پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 429 یہ کہتی ہے کہ اگر 50 روپے سے زیادہ قیمت والا جانور مارا یا معذور کیا جائے تو پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے اس سزا کا منہ دیکھا؟ میرا دل کہتا ہے: نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ بھی تسلیم کر چکی ہے کہ یہ قوانین ناکافی ہیں۔ پنجاب میں SPCA ہے، مگر دوسرے صوبے یا تو اداروں سے خالی ہیں یا ان کے دروازوں پر زنگ جم گیا ہے۔

پانچواں ورق: آوارہ کتوں کا قتلِ عام

میری یادداشت میں ایک اور کڑوا ورق درج ہے: ہر سال کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں ہزاروں آوارہ کتوں کو زہر دے کر یا گولیاں مار کر ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہ طریقے ظالمانہ بھی ہیں اور بیکار بھی۔ مسئلہ حل نہیں ہوتا، صرف ظلم بڑھ جاتا ہے۔

چھٹا ورق: امید کا چراغ

مگر ہر ورق اندھیرا نہیں۔ 2013ء میں عائشہ چندریگر نے کراچی میں ACF کی بنیاد رکھی۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ ٹیم کتوں، بلیوں، گدھوں اور گھوڑوں کو بچانے کے لیے کس جذبے سے ریسکیو ایمبولینس، شیلٹرز اور علاج مہیا کرتی ہے۔ ان کا TNR پروگرام آوارہ کتوں کی آبادی کو انسانی طریقے سے قابو میں رکھنے کا ایک روشن قدم ہے۔ کم وسائل کے باوجود یہ لوگ مسلسل روشنی بانٹ رہے ہیں۔

ساتواں ورق: اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں

میں نے اپنی ڈائری کے اس حصے میں ہمیشہ یہ نمبر محفوظ رکھے ہیں، تاکہ کسی جانور کی مدد کے وقت ہاتھ میں ہوں:

1. ACF (Karachi): +92 333 3766024

2. SAWO (Lahore): +92 42 35456333

3. ARRS (Lahore): +92 42 35716472

4. VCO (Lahore): +92 42 35440826

اور اپنے لیے چند اصول بھی لکھے ہیں:

شیلٹرز کو وقت یا عطیہ دیں۔

سڑک پر آوارہ جانوروں کے لیے پانی اور کھانا رکھیں۔

ظلم دیکھیں تو نظر نہ چرائیں، اطلاع دیں۔

TNR پروگرام کی حمایت کریں۔

آٹھواں ورق: دین کی روشنی

جب بھی دل بوجھل ہوتا ہے، میں اپنی ڈائری میں اسلام کی وہ تعلیمات دہراتی ہوں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر جاندار اللہ کی مخلوق ہے۔

کیا واقعی کتے کی موجودگی سے اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے؟ قرآن و سنت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ بلکہ اللہ نے پالتو کتوں کے شکار کو حلال قرار دیا ہے، جو ان کی پاکیزگی کا ثبوت ہے۔ ذرا اصحابِ کہف کے کتے کو یاد کریں، جسے اللہ تعالیٰ نے ان حق پرستوں کی حفاظت کے لیے ان کے غار کے سامنے بیٹھنے کا شرف بخشا تھا۔

نبی ﷺ کا فرمان یاد آتا ہے:

> “ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والی عورت کو اللہ نے بخش دیا۔”

تو پھر ہم کیوں اپنی بخشش کے دروازے بند کریں؟

وہ واقعہ بھی یاد کریں جب صحابۂ کرامؓ کے لشکر نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ ایک صحابیؓ ایک پرندے کے بچوں کو گھونسلے سے اٹھا لائے۔ اس پرندے کے والدین اردگرد پھڑپھڑا کر شور مچانے لگے۔ نبی ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے شدید ناراضی کا اظہار فرمایا، بچوں کو واپس گھونسلے میں رکھنے کا حکم دیا اور صحابہؓ کو نصیحت فرمائی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جانوروں کو ستانا بڑا گناہ ہے۔ جنت چاہتے ہو تو اس طرح کے گناہوں سے بچو۔ نبی ﷺ کی سیرت ایسے متعدد واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بھی یاد کریں، جنہوں نے اپنی فوج کو چیونٹیوں کی بستی سے ہٹ کر گزرنے کا حکم دیا تھا۔

آخری ورق: میرا وعدہ

میں نے اپنی ڈائری کے آخری ورق پر یہ عہد لکھا ہے:

> آج سے آگے، میں ہر جانور کو نرم دل سے دیکھوں گی۔ پیاسا ہوگا تو پانی دوں گی، بھوکا ہوگا تو کھانے کو دوں گی۔ کسی دکاندار کو نرمی سے سمجھاؤں گی، کسی ہمسائے کو حدیث یاد دلاؤں گی۔

کیونکہ میں جانتی ہوں کہ چھوٹا سا عمل بڑا فرق لا سکتا ہے، اور یہی فرق کل کو ہمارے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔