مواد پر جائیں

سبحان ربی الاعلیٰ

کلام: محمد باسط بلال اردو

میں جو سرتا سر اک سوال ہوں

جو تھا کھوج میں اک جواب کے

میں جو سرتا پا اک عام ہوں

جو تھا کھوج میں کسی خاص کے

بھلا کس معیار کا عدل ہے

بھلا ہے کہاں کا یہ فلسفہ

مجھے چھوڑ کر اس جہان میں

کہا جا کہ تیرا ہے امتحاں

میرے ارد گرد سب بھیڑ تھی

میرے ارد گرد سب شور تھا

میرے ارد گرد تھے گروہ بہت

میرے ارد گرد بس خوف تھا

مجھے ہر گروہ نے پکار دی

تیرا نام لے کے پکار دی

تیرے نام کی جو صدا سنی

میں کھچا گیا ہر سمت میں

تیرے نام لیوا تھے دل شکن

خاطر شکن، لالہ شکن

میں بدگماں ہوتا گیا

تجھ سے خفا ہوتا گیا

مجھے تیرے نام سے پیار تھا

مجھے تیری ذات کی چاہ تھی

کبھی اس طرف، کبھی اُس طرف

تیرا نام لیتا چلا گیا

جو سوال تھے، وہ پہاڑ تھے

جو جواب تھے، وہ غبار تھے

نکلا تھا اک تیری کھوج میں

پر قدم قدم پر الٰہ تھے

ذرا اس سمت کبھی دیکھ تُو، ذرا دیکھ تو بار الٰہ!

کہیں نفس کے، کہیں عقل کے، کہیں دولتوں کے کئی الٰہ

کہیں تھے الٰہ امامہ بند، کہیں فلسفی کے کئی الٰہ

کہیں غوث تھا، کہیں قطب تھا، کہیں منبروں کے کئی الٰہ

مجھے جس الٰہ کی تلاش تھی، نہ ملا کہیں کبھی وہ الٰہ

اسی کشمکش میں تھا خاکستر

کہ پڑی نگاہ میری طاق پر

میری سسکیوں کی جزا ملی، میری منتوں کا صلہ ملا

ملا نسخۂ ہائے وفا مجھے، مجھے اپنے رب کا کہا ملا

میری چشمِ تر بہنے لگی، مجھ سے یہ پھر کہنے لگی

تو کو بہ کو پھر تا رہا، تیرے گھر سے تجھ کو خدا ملا

وہ جو اس سے تھیں میری فرقتیں، میری ذات سے تھیں وہ فرقتیں

وہ جو اس پہ گرد و غبار تھا، میری ذات پہ وہ غبار تھا

اُسے آگے بڑھ کے اٹھا لیا، سینے سے اپنے لگا لیا

جو دفن تھیں ساری شکایتیں، انہیں آنسوؤں میں بہا دیا

میرے ہاتھ میں میزان تھا، میرے ہاتھ میں فرقان تھا

شاہِ ذوالجلال کی بات تھی، میرے ہاتھ میں قرآن تھا

اُسے کھول کر پڑھنے لگا، پڑھتا گیا، پڑھتا گیا

سبھی ظلمتوں کا جو ابر تھا، چھٹتا گیا، چھٹتا گیا

قرآں کو جو پڑھتا گیا، سر شرم سے جھکتا گیا

جو تکبری کا گمان تھا، ہٹتا گیا، ہٹتا گیا

پھر جبیں لگی میری خاک پر، میرے لب پہ ورد شروع ہوا

سبحان ربی الاعلیٰ، سبحان ربی الاعلیٰ