یہ قارئین کے برقی خطوط اور پیغامات ہیں جو انھوں نے ہمیں ارسال کیے۔ قارئین و سامعین اپنی آراء، تجاویز اور تحریریں اس برقی پتے پر بھیج سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو اپنی تصویر بھی بھیج سکتے ہیں:
Salihaat@almawridus.org
ثوبیہ نورین
پاکستان سے لکھتی ہیں:
“عالمِ بے بسی” کا بہت قابلِ غور مضمون ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ وہ اس جنگ کے دنوں کو ڈرامہ، ڈرامہ کہتے رہے۔ بالفرض یہ ڈرامہ تھا بھی تو بھی لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان خیر یا شر کے جو بھی اقدام کرتے ہیں تو وہ بھی ان کے نتائج سے بے خبر ہوتے ہیں، کیونکہ:
> Man proposes, God disposes
کی حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ ایک حاضر و ناظر خدا اپنی دنیا اور اس کی مخلوق کو ارادہ و اختیار کی آزادی سونپنے کے بعد بار بار مداخلت نہیں کرتا۔ اب سر نعیم کی تجویز کردہ رائے کے بارے میں ہی ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم سب اپنا اجتماعی شعور بیدار کریں اور اپنے ارادہ و اختیار کو خیر و اصلاح کے لیے استعمال کریں۔
آصف امین
اسلام آباد سے آصف امین لکھتے ہیں: “بیٹوں کی تربیت اور چند سنگین مسائل” نامی مضمون میں مصنفہ نے کچھ بہت اہم اور اچھے نکات پر روشنی ڈالی ہے۔ براہِ کرم اسے ایک جامع کوشش بنانے کے لیے کام جاری رکھیں۔
بے حس الفاظ، جملے اور اقوال جو اس قدر مروج ہیں، ان کو معمول بنا لیا گیا ہے، جیسے: مردانہ وار مقابلہ، مرد کا بچہ، نر کا بچہ، عورت کی جگہ گھر ہے، مرد جو کہے وہی صحیح ہے، بیوی شوہر کے قدموں کی خاک ہے، گھر کا مرد خدا ہوتا ہے، لڑکی پرایا دھن ہوتی ہے، عورت کا دماغ گھٹیا ہوتا ہے، عورت ذات ناقص العقل ہوتی ہے، دو عورتیں ایک گھر میں نہیں بس سکتیں، جس گھر میں عورت کی چلے وہ برباد ہو جائے، لڑکیوں کو زیادہ پڑھانا خراب کر دیتا ہے۔۔۔ یہ اتنے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں کہ بدقسمتی سے بہت سے لوگ انہیں حقائق اور حکمت مانتے ہیں۔ اس مائنڈ سیٹ کو شعوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
عنبرین منیر
لندن سے کلثوم ثاقب کے آرٹیکل “ایمان بالغیب کیا ہے؟” کے حوالے سے لکھتی ہیں:
ماشاء اللہ بہترین تحریر ہے، واضح اور جامع۔ آسان الفاظ کی موجودگی نے “بالغیب” جیسے عنوان کو بھی آسان کر دیا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان سمجھنا چاہے۔ جزاک اللہ اس خوب صورت تحریر کے لیے۔
پروفیسر عامر یزدانی
ڈیلس سے کلثوم ثاقب کے اسی مضمون کے حوالے سے لکھتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اسے بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ آپ کی دلیلیں سادہ مگر گہری ہیں اور اس معاملے کے اصل نکتے کو بیان کرتی ہیں کہ درحقیقت غیب کے خدا پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے۔ یہ ہم ہیں جو خود غیب میں رہتے ہوئے خدا پر ایمان لاتے ہیں، نہ کہ یہ کہ خدا غیب میں ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔
سعدیہ کنول
ڈیلس سے نورین شیخ کے مضمون کے بارے میں لکھتی ہیں: یہ مضمون بہت متوازن اور بصیرت افروز ہے۔
یہ ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ہم فضول باتوں اور طویل مباحثوں میں نہ الجھیں، اور اپنی توجہ ان باتوں پر مرکوز رکھیں جن کا اللہ ہم سے تقاضا فرماتا ہے، بغیر اس کے کہ ہم خود پر غیر ضروری بوجھ ڈالیں۔
نزہت فاطمہ
بحرین سے لکھتی ہیں: کلثوم ثاقب صاحبہ کا آرٹیکل ’’ایمان بالغیب کیا ہے؟‘‘ آڈیو اسٹوریز میں سننے کا موقع ملا۔ بہت اہم موضوع ہے جس کو انہوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کچھ لوگوں کی دلچسپیوں کا محور یہی ہے کہ غیب کی خبریں کیسے حاصل کی جائیں، غیب کے راز کیسے جان سکیں۔ اسی لیے خاص طور پر ہمارے ہاں برصغیر میں لوگ صوفی ازم سے متاثر رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ وظائف ایسے ہیں جن کو پڑھنے سے اور چِلّہ کاٹنے سے ان کو ایسی طاقت یا پاور حاصل ہو جائے گی جن سے ان کو غیب کی ساری خبریں ملنی شروع ہو جائیں گی۔ پھر انہیں جنت میں داخلے کا پروانہ بھی مل جائے گا۔ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے کے باوجود بھی بعض لوگ اس بات کا ادراک نہیں رکھتے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور ہمیں بس اپنے پروردگار کی بندگی کرنی ہے۔ یہ آرٹیکل لوگوں کے خیالات و افکار کو صحیح رخ پر موڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دانش احمد
اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس سے لکھتے ہیں: السلام علیکم! میں اسلام آباد میں ہوتا ہوں اور پارلیمنٹ میں۔ ہمارے ہاں لائبریری میں کافی سارے رسالے آتے ہیں، خصوصاً خواتین پارلیمنٹیرینز کے لیے۔ اس لیے میں چاہ رہا تھا کہ صالحات کے بھی ایڈیشن منگوائے جائیں۔ محترمہ کلثوم ثاقب صاحبہ سے سہ ماہی رسالہ ’’صالحات‘‘ کی ہارڈ کاپی کی درخواست کی تھی تو انہوں نے آپ سے رابطہ کرنے کو کہا۔
نیلو فرخان
لاہور سے لکھتی ہیں: آپ کی یہ کاوش بہت عمدہ ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کی آڈیو زیادہ سے زیادہ خواتین تک پہنچائی جائے۔ ابھی تک آپ کی اتنی محنت سے کی گئی کوشش بہت کم لوگوں تک پہنچ پائی ہے۔ اس کی رسائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہونی چاہیے۔