قرآن، بائبل اور مذہبی روایت کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ
حضرت مریم دنیا کی واحد خاتون ہیں جن کا ذکر محض عقیدت یا تقدیس تک محدود نہیں، بلکہ فکری، اعتقادی اور تہذیبی مباحث میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ غیر معمولی امر ہے کہ ایک ایسی خاتون جو نہ نبی ہیں، نہ شریعت کی حامل، تین آسمانی مذاہب کے فکری بیانیے میں اس قدر نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
قرآن مجید، بائبل (عہدِ جدید) اور بعد ازاں مذہبی روایت، تینوں میں حضرت مریم کی زندگی کے مختلف پہلو محفوظ ہیں، تاہم ان کی وفات کے بارے میں تینوں متون تقریباً یکساں خاموش ہیں۔ یہ مضمون اسی تناظر میں حضرت مریم کی حیات، ان سے متعلق ولادتِ عیسیٰ کے الہامی بیانیے، اور پھر وفات کے باب میں پائی جانے والی اس غیر معمولی خاموشی کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔
حنہ کا مکالمۂ دعا — سیدہ مریم کی پیدائش
قرآن مجید حضرت مریم کی کہانی کو ان کی ذات سے نہیں، بلکہ ان کی والدہ حنہ کے روحانی مکالمے سے شروع کرتا ہے۔ یہ اسلوب بذاتِ خود اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کسی فرد کی عظمت کو اس کے سماجی مرتبے سے نہیں، بلکہ
اس کے باطنی انتخاب سے جوڑتا ہے۔
سورۂ آل عمران میں حنہ کا مکالمہ یوں محفوظ ہے:
جب عمران کی بیوی نے کہا: اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، میں نے اسے تیرے لیے نذر مانا، سو تو اسے مجھ سے قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ (آل عمران: 35)
یہ نذر اس دور کے مذہبی ماحول میں غیر معمولی تھی، کیونکہ عبادت گاہ کی خدمت عموماً مردوں کے لیے مخصوص تھی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب بچی پیدا ہوئی تو حنہ نے حیرت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ عرض کیا:
اے میرے رب! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا، اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطانِ مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
یہ دعا دراصل آنے والے واقعات کی تمہید ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے اس نذر کو قبول فرمایا:
پس اس کے رب نے اسے حسنِ قبولیت کے ساتھ قبول کیا، اور اسے بہترین نشوونما عطا کی۔ (اُس کے احساسات یہی تھے، تاہم اُس کے پروردگار نے اُس لڑکی کو بڑی خوشی کے ساتھ قبول فرمایا اور نہایت عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اُس کا سرپرست بنا دیا۔) (آل عمران: 37)
سورۂ آل عمران کی آیت 44 میں ہے:
یہ غیب کی باتیں ہیں، (اے پیغمبر)، جو ہم تمھیں وحی کر رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ جب ہیکل کے خدام یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ اُن میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے گا، اپنے اپنے قرعے ڈال رہے تھے تو تم اُس وقت اُن کے پاس موجود نہ تھے، اور نہ اُس وقت اُن کے پاس موجود تھے، جب وہ اس معاملے میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے۔
قرآن مریم کے بچپن اور جوانی کے بارے میں بھی خاموش نہیں، بلکہ ان کے روحانی مقام کو واضح کرتا ہے:
جب کبھی زکریا ان کے پاس محراب میں داخل ہوتے تو ان کے پاس (حکمتِ خداوندی کا) رزق پاتے۔ (آل عمران: 37)
یہی وہ مقام ہے جہاں سیدہ مریم کا مقام محض ایک لڑکی سے بڑھ کر ایک منتخب ہستی کے طور پر قائم ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر بائبل یا کسی یہودی لٹریچر میں ان واقعات کا کوئی ذکر نہیں ملتا، حالانکہ یہ واقعات سیدہ مریم کے بارے میں ان حقائق کو بیان کرتے ہیں کہ:
سیدہ مریم کی پیدائش ایک خاص مقصد کے لیے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ کی پرورش اور تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ ان کے لیے حضرت زکریا جیسی جلیل القدر شخصیت کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے کیا۔ وہ اگرچہ پیغمبر نہیں تھے، لیکن انہیں ہیکل میں نمایاں منصب حاصل تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اس لیے کیا جا رہا تھا کہ بنی اسرائیل کو سیدہ کے بارے میں ادنیٰ درجے میں بھی کوئی ابہام نہ ہو کہ وہ اخلاق اور بزرگی کے لحاظ سے ان کے ہاں کی سب سے معزز خاتون ہیں، اور وہ جو کچھ بھی کہیں گی، کریں گی، کسی شک و شبہے کے بغیر درست ہوگا۔
یہ واقعہ بائبل میں موجود نہیں، البتہ کچھ غیر مصدقہ صحائف میں ضرور موجود ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس واقعے کو چھپایا گیا ہے۔
فرشتے کی بشارت — قرآن اور بائبل کا تقابلی بیان
قرآن کے مطابق، فرشتے مریم سے مخاطب ہوتے ہیں:
اے مریم! اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزہ کر دیا ہے، اور دنیا کی عورتوں پر فضیلت دی ہے۔ (آل عمران: 42)
پھر وہ غیر معمولی بشارت دیتے ہیں:
اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہوگا۔ (آل عمران: 45)
جب مریم سوال کرتی ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے، تو جواب ملتا ہے:
اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے: ہو جا، سو وہ ہو جاتا ہے۔ (آل عمران: 47)
یہاں قرآن پوری وضاحت کے ساتھ عیسیٰ کی ولادت کو خالقِ مطلق کے ارادے سے جوڑتا ہے، نہ کہ کسی الوہی نسبت سے۔
بائبل میں بشارت (Gospel of Luke)
انجیلِ لوقا میں یہی واقعہ نسبتاً تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ فرشتہ جبرائیل مریم کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے:
مبارک ہے تو، جس پر خدا کا فضل ہوا۔ (Luke 1:28)
پھر بشارت دیتا ہے:
تو حاملہ ہوگی اور ایک بیٹے کو جنم دے گی، اور اس کا نام یسوع رکھے گی۔ (Luke 1:31)
جب مریم سوال کرتی ہیں تو جواب آتا ہے:
”روح القدس تجھ پر نازل ہوگا، اور خدا کی قدرت تجھ پر سایہ کرے گی۔” (Luke 1:35)
یہاں قرآن اور بائبل دونوں:
کنواری ولادت پر متفق ہیں۔
فرشتے کی بشارت پر متفق ہیں۔
اختلاف صرف تعبیرِ الہیات میں ہے، واقعے میں نہیں۔
حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر سیدہ مریم کی کیفیت
قرآن میں سورۂ مریم میں ہے:
سو مریم اُس بچے سے حاملہ ہو گئی اور (بیت المقدس سے نکل کر) اس حمل کو لیے ہوئے، سب سے الگ ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔ پھر (وہ وقت بھی آگیا کہ) زچگی کی تکلیف اُسے کھجور کے تنے کے پاس لے آئی۔ (اس وقت سخت بے بسی کی حالت میں) اُس نے کہا: اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔ اس پر مریم کے نیچے سے فرشتے نے اُس کو پکار کر کہا: غم نہ کرو، تمھارے پروردگار نے تمھارے پاؤں کے پاس ایک چشمہ جاری کر رکھا ہے۔ اور تم کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، تمھارے اوپر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ سو کھاؤ، پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر کوئی آدمی دیکھو کہ کچھ پوچھنا چاہتا ہے تو اشارے سے کہہ دو کہ میں نے خدائے رحمن کے لیے روزے کی نذر مان رکھی ہے، اس لیے آج میں کسی انسان سے کوئی بات نہ کروں گی۔ اس کے بعد وہ بچے کو گود میں لیے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آئیں۔ اُنھوں نے (دیکھا تو) کہا: مریم! تم نے یہ بڑی سنگین حرکت کر ڈالی ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تمھارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمھاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔ اُس نے جواب میں بچے کی طرف اشارہ کیا (کہ وہی بتائے گا)۔ لوگوں نے کہا: ہم اُس سے کیا بات کریں جو گود میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟ بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا، اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں، اور مجھے اپنی ماں کا وفادار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا، اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ (مریم: 22–33)
قرآن کے اس بیان سے بین السطور یہ حقائق اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ:
جب ان کا ہیکل میں حمل ظاہر ہو گیا تو اس کا بھید کھلنے سے پہلے ہی وہ وہاں سے چلی گئیں۔ بائبل کا بیان ہے کہ وہ بیت اللحم کے مقام پر گئیں۔ یقیناً انہیں وہاں پر کسی کی مدد حاصل ہو گی۔ یعنی سیدہ مریم نے خدا کی طرف سے کنواری ہونے کے باوجود ماں بننے کی آزمایش کو قبول کیا۔ کوئی ایسی حرکت نہیں کی کہ ان کا حمل ضائع ہو۔ ان کو بتایا جا چکا تھا کہ ان کے پاس اللہ کی امانت ہے اور یہ امانت کوئی عام بچہ نہیں بلکہ اللہ کا پیغمبر ہے، جس کی فضیلت بھی انہیں بتا دی گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے دل و جان سے اس کی حفاظت کی۔ جس کا طریقہ انہوں نے یہ اختیار کیا کہ بچے کی ولادت تک اپنے آپ کو لوگوں سے دور کر لیا، تاکہ کسی بد مزگی کی صورت میں وہ بچے کو نقصان نہ پہنچائیں۔ یقیناً ان کے ساتھ ان کے کوئی ہم راز بھی ہوں گے۔ قرآن میں ذکر نہیں، لیکن بائبل میں اشارہ ہے کہ ان کے ساتھ انتہائی قریبی لوگ ساتھ تھے۔
قرآن کے آگے کے بیان سے واضح ہے کہ یہ راز عام لوگوں کے لیے ایک راز ہی رہا کہ وہ بچے کی ماں بننے والی ہیں۔ پھر انہوں نے زچگی کے لیے مناسب جگہ بھی سوچ رکھی تھی۔ البتہ اگلی تفصیل سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ جگہ لوگوں سے پوشیدہ تھی۔ یہاں کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں تھا اور قرآن کے مطابق وہاں ایک کھجور بھی تھی۔ جب پیدائش ہو چکی تو سیدہ کو تنہائی کا شدید احساس ہوا۔ آنے والے طوفان کو بھی وہ دیکھ رہی تھیں۔ اپنی حالت پر انہیں بہت دکھ ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی آزمایش سے گزر رہی ہوں اور وہ بھی خفیہ طور پر تن تنہا۔ اسی لیے انہوں نے وہ جملہ کہا کہ یہاں تک نوبت آنے سے پہلے ہی کاش میرا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔
تب سیدہ کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو بھیجا تاکہ انہیں احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا۔ فرشتے نے کہا کہ آپ تنے کو جب ضرورت ہو، بس ہلائیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ انہیں اس کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہ تھی، محض تنے کو ہلانا کافی تھا۔ ہو سکتا ہے اس وقت پھل کا موسم بھی نہ ہو اور سیدہ کو معجزاتی طور پر کھجوریں عطا ہوئی ہوں۔ اس رائے کو اس بات سے تقویت پہنچتی ہے کہ وہاں پر چشمہ بھی جاری ہوا۔ یقیناً اس جگہ چشمے کا ہونا ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس قدر معجزاتی مدد اور وہ بھی اس شان سے یقیناً سیدہ کے لیے بہت حوصلہ افزا اور اطمینان بخش ہو گی۔
پھر ان کے دل میں پوشیدہ خوف کو بھی رفع کیا گیا اور بتایا گیا کہ لوگوں کی باتوں کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ انہیں فرمایا گیا کہ اب معاملے کو خفیہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ جب مناسب سمجھیں اپنے لوگوں میں جائیں۔ وہ پوچھیں تو روزے کا کہہ دیں۔ یاد رہے کہ تورات کی شریعت میں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ خاموش رہنے کا بھی روزہ رکھا جا سکتا تھا۔ یہاں بھی سیدہ کا اپنے اللہ پر کامل بھروسا نظر آتا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ
اللہ نے اگر بچے کی طرف اشارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو ضرور کوئی بات ایسی ہو گی کہ میری پاک دامنی ثابت ہو گی اور ایسے ہی ہوا۔ چنانچہ جب سیدہ واپس ہیکل گئیں تو توقع کے عین مطابق لوگوں نے سوالوں اور طعنوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جیسے ہی شیر خوار عیسیٰ کی طرف والدہ نے اشارہ کیا تو وہ معجزانہ طور پر بول پڑے اور ثابت کر دیا کہ ان کی پیدائش معجزہ ہے اور وہ خدا کے بندے ہیں، کسی الوہیت کا مظہر نہیں۔
حضرت عیسیٰ تمام پیغمبروں میں واحد رسول ہیں جنہوں نے پہلا کلام والدہ کی معصومیت اور پاک دامنی کی گواہی کا کیا۔ یہ فضیلت سوائے سیدہ مریم کے دنیا کی کسی خاتون کے حصے میں نہیں آئی اور یہ سعادت عیسیٰ کے سوا کسی بیٹے کو نہیں ملی کہ جس کو پہلی وحی ماں کی پاک دامنی اور خدا کی توحید ثابت کرنے کے لیے کی گئی۔ اور انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ میں اپنی والدہ کی عفت و پاکیزگی کا پہرے دار ہوں اور جس طرح میری پیدائش ہر قسم کی آلودگی سے پاک اور بابرکت ہے، اسی طرح میری ماں کی عفت بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے اور میں اپنی پوری زندگی اس کی حفاظت کروں گا۔ ایسا نہ کر پایا تو میں سرکش اور بدبخت قرار پاؤں گا۔
سیدہ مریم کی ذات کی یہ عظمت قرآن کا خاص امتیاز ہے اور اتنی فضیلت قرآن مجید میں دنیا کی کسی خاتون کی بیان نہیں کی گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ اس واقعے میں خدا نے بچے کی پیدائش کے لیے باپ کی ضرورت کو اضافی بنا دیا، لیکن عورت کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ اس کے تخلیقی معجزے کا وسیلہ بنے۔ یوں مرد پر عورت کی فضیلت کا یہ واقعہ بڑا معنی خیز ہے۔
سیدہ مریم کی زندگی کا اختتام — ایک مشترک خاموشی
یہ ایک غیر معمولی حقیقت ہے کہ قرآن مجید حضرت مریم کی وفات کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور چاروں اناجیل اور دوسرے مذہبی ماخذ بھی ان کی وفات پر خاموش ہیں۔
کچھ مفسرین عموماً یہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم نے طبعی وفات پائی، لیکن نہ وقت معلوم، نہ مقام، نہ قبر۔
حضرت مریم کی زندگی قرآن اور بائبل میں منتخب، محفوظ اور بامعنی انداز میں بیان ہوئی ہے، مگر ان کی وفات کے باب میں دونوں الہامی کتابیں خاموش ہیں۔ یہ خاموشی تاریخ کی کمی نہیں، بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ سیدہ کی بعد کی زندگی نے ان کی عظمت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ وہ اسی مقام اور بے پناہ فضیلت کی حامل ہیں جس کی گواہی بائبل اور قرآن دونوں سے ملتی ہے۔