مواد پر جائیں

طلاق کی حقیقت — جواز یا ممانعت

فابیہ احسان اردو

طلاق کے حوالے سے فابیہ احسان نے قارئین کے ذہن میں پیدا ہونے والے کئی نازک اور چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب بڑے احسن طریقے سے دیا ہے۔ نقطۂ نظر کے اس سلسلۂ مضامین میں قارئین کے افکار و آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ارادہ و اختیار کی آزادی ہی وہ اصل ہے جس پر انسان کو مخلوقات میں شرف و امتیاز حاصل ہے۔ دنیا میں انسان کا امتحان دراصل اسی آزادی کے اچھے برے استعمال کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرت کے ہر معاملے اور تعلق میں اختیار کی آزادی کے سوء استعمال سے برائی کا ظہور بھی ہوتا ہے۔

اس لیے خاندان، معیشت، سیاست، سماج، غرض انسانی تمدن کے ہر دائرے میں اللہ کا دین افراد پر چند اصول اور ضابطوں کی لگام ڈالتا ہے۔ انسان چونکہ اپنے سارے کام عقلی توجیہ اور اخلاقی فتوے کی روشنی میں کرتا ہے، اس لیے اللہ کے دین میں مقرر کردہ یہ اصول و ضوابط بھی اپنی ذات میں عقلی اور اخلاقی دونوں توجیہات رکھتے ہیں، جن کو انسان بحسن و خوبی سمجھ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ تعصب اور مفاد پرستی سے بالاتر ہو کر غور کرے۔

خاندان کا ادارہ

انسانی معاشرت کا بنیادی یونٹ خاندان کا ادارہ ہے جو زوجین کے تعلق سے وجود میں آتا ہے۔ بنیاد غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پوری عمارت اس پر ٹکی ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کا آغاز بھی کمزور و ناتواں بچے کی صورت میں ہوتا ہے۔

جسے معاشرے میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، اور عمر کے آخری سال بھی بڑھاپے کے ضعف میں گزرتے ہیں، گویا جوانی کے چند سال چھوڑ کر باقی ساری عمر انسان محتاجِ محض ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا ادارہ بنا کر انسان کو پوری زندگی کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں وہ پیدائش سے موت تک کا سفر ایک محفوظ پناہ گاہ میں مکمل کرتا ہے۔

نکاح ایک معاہدہ

دو لوگ مل کر کاروباری یا فلاحی کوئی سا بھی ادارہ شروع کرنے کے لیے کچھ شرائط پر ایک معاہدہ کرتے ہیں، ادارے کا سربراہ متعین کرتے ہیں۔ جس طرح معاہدے میں چلنے کے لیے شرائط ہوتی ہیں، اسی طرح معاہدے سے نکلنے یا اسے ختم کرنے کے بھی ضابطے ہوتے ہیں۔

نکاح بھی عورت و مرد کے مابین زندگی بھر کی رفاقت کا معاہدہ ہے۔ انسانی نسل کی بقا کے لیے یہ ادارہ چونکہ اللہ نے بنایا ہے، لہٰذا معاہدۂ نکاح کی شرائط اور سربراہِ ادارہ کو اللہ نے خود مقرر کر دیا۔ دنیاوی معاہدوں کی نیچر کے عین مطابق معاہدۂ نکاح کو ختم کرنے کے بھی اصول و ضوابط مقرر کر دیے۔

مفتی شفیع عثمانیؒ کا کہنا ہے کہ خدا نے نکاح و طلاق کے معاہدات کو عام معاہدوں کے جیسا نہیں رکھا بلکہ ان میں خصوصی شرائط اور طریقہ مقرر کیا، جس کی حکمت یہ ہے کہ خصوصاً طلاق جیسے معاملے میں عورت و مرد کے مابین، نسلوں اور خاندانوں میں فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ (تفسیر معارف القرآن: البقرۃ 229-230)

الہامی دین — فطرتِ انسانی کے عین مطابق

تاریخِ انسانی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جب بھی معاملات کو سرتاسر انسانی عقل کے حوالے کیا گیا، نتیجہ انسانی فطرت کے خلاف بصورتِ ظلم سامنے آیا۔ مثلاً ماضی قریب میں ہندوستانی عورت کی شوہر سے وفاداری کا پیمانہ ستی کی رسم تھی، یعنی اسے شوہر کی چتا کے ساتھ جل کر مر جانا تھا۔ اسی لیے باپ بیٹی کو سسرال وداع کرتے وقت وصیت کرتا:

“اب تمھاری میت ہی اس گھر سے نکلے گی”

ہندو مذہب میں چند دہائیوں قبل تک رشتۂ زوجین سے آزادی محض موت ہی دلا سکتی تھی۔

اسی طرح قبائلی دور میں باپ کی ساری جائیداد بڑے بیٹے کو منتقل ہو جاتی کیونکہ وہ جنگ و جدال اور معاشی سرگرمی میں باپ کا ہاتھ بٹاتا، کم عمر اولاد بشمول بیٹے اور بیٹیاں اس بنا پر محروم کر دیے جاتے کہ وہ مددگار نہ بن پاتے۔ چنانچہ وہ سب

اپنی ساری زندگی بڑے بیٹے کے مرہونِ منت ہو کر رہ جاتے۔ برصغیر کے دیہاتوں میں تو پچھلی صدی کے اوائل تک کم عمر اولاد کو وراثت سے محروم کر دینا مروج رہا۔ عقل وحی کے تابع نہ رہے تو اسی طرح انحرافات کا شکار ہوتی ہے۔

اس کے برعکس اللہ کا دین عورت کی انفرادی حیثیت اور حقوق کو تحفظ دیتا ہے اور قانونِ وراثت کی صورت میں ناانصافی کو روکتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام جو دین لے کر آئے، اس میں ہمیشہ سے معاہدۂ نکاح ختم کرنے کا پورا اختیار فریقین کو حاصل رہا اور ایسا طریقہ بتایا گیا جس میں فریقین باہم ظلم یا ناانصافی کے بغیر اعلیٰ ظرفی اور شرفِ انسانی کے عین مطابق الگ ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی اصطلاح میں یہ طریقہ “طلاق” کہلاتا ہے۔

سوال یہ اٹھ جاتا ہے کہ۔۔۔۔

• وہ دین جو ایثار، عفو و درگزر کو ایک مومن کے شعار بتاتا ہے، ایفائے عہد کو مومن کی پہچان دکھاتا ہے، صلہ رحمی کو رشتوں کی سلامتی گردانتا ہے، انسانی معاشرت کی بنیاد میں کھڑے زوجین کو کیسے یہ حق دے سکتا ہے کہ وہ ان تمام اخلاقی اقدار سے بے نیاز ہو کر الگ ہو جائیں؟

• وہ ربِ حکیم و علیم، جو کائنات کی ہر شے میں حکمت کا دعوے دار ہے، کیسے ایسا قانون دے سکتا ہے جس کا لوگ ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ان سب کا جواب اس جملے میں مخفی ہے:

“اسلام دینِ فطرت ہے”

خدا یہ جانتا ہے کہ تمام انسان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ ان میں تھوڑ دلہ پن بھی ہوتا ہے، لوگ ارادہ و اختیار کا سوء استعمال بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں تو اللہ کا دین انسان کی تعلیم و تربیت اور اچھے ماحول کی فراہمی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انسان کا رویہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مطابق پروان چڑھے۔ اس کے باوجود اگر انسان سے برائی سرزد ہو تو دین تادیب و تنبیہ کا طریقہ مقرر کرتا ہے تاکہ معاشرے میں برائیوں کے جڑ پکڑنے اور پھیلنے پر روک تھام کی جا سکے۔

رسول اللہ ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کے مطابق خدا نے انسان کی عزت، جان اور مال کو ذی الحجہ، شہرِ حرم اور کعبہ کے جیسی حرمت عطا کی ہے۔ (بخاری: 1741)

لیکن وہی انسان جب ناحق قتل کرتا ہے تو قصاص کے تحت اپنی جان کی حرمت کھو دیتا ہے، کسی شخص کا محفوظ مال چراتا ہے تو قطعِ ید کے تحت اپنے ہاتھ کی حرمت کھو دیتا ہے، اصولِ منفعت پر باپ کا وارث اگر اپنے ہی باپ کو جانی نقصان پہنچائے تو علم الفقہ کے تحت وراثت سے محروم قرار پاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نکاح کا ادارہ اسی خاطر بنایا جہاں نسلوں کی پرورش محفوظ ماحول میں ہو، جو اُن کو ان کی جنسی، نفسیاتی، جذباتی تسکین کا سامان میسر ہو، بزرگوں کی دیکھ بھال کا اہتمام ہو، نئی نسل دین اور فطرت میں طے شدہ اخلاقی قدریں اپنے ماحول سے سیکھ سکے۔ لیکن وہی ماحول اگر انسان کی نفسیات و جذبات کے لیے محفوظ نہ رہے، جہاں بنیادی اخلاقیات کا جنازہ نکلے، جہاں بزرگوں کا وقار سلامت نہ رہے، جہاں رشتوں کا لحاظ و پاسداری نہ رہے، جہاں بدلے کی نفسیات ہر اخلاقی قدر کو روندتی چلی جائے، ایسا ماحول انسانی معاشرت میں تعمیری کی بجائے تخریبی کردار ادا کرتا ہے اور انسانی تہذیب کو تدریجی انداز میں علم و اخلاق کے زوال کی طرف دھکیلتا ہے۔

خالقِ کائنات، جس کے تخلیق کردہ ذرّے ذرّے میں حکمت پوشیدہ ہے، نہ صرف بندوں سے تقاضا کرتا ہے کہ اپنے معاملات میں جذباتیت کی بجائے عقل اور سمجھ سے کام لیں بلکہ اپنے منتخب کردہ دین میں بھی بندوں کی تربیت کرتا ہے کہ ترجیح و فوقیت کی بنیاد سرتاسر عقلی ہونی چاہیے اور یہ تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عقل وحیِ الٰہی کے تابع ہو تو ہمیشہ ٹھیک ترجیح قائم کرتی ہے۔

ٹکراؤ میں معیارِ ترجیح

اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ تلقین کی ہے کہ انسان خدا کے ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار بن کر رہے، ان سے حسنِ سلوک سے پیش آئے، وہیں یہ بھی توجہ دلائی کہ والدین کی اطاعت گزاری وہاں نہ کی جائے جہاں بندہ خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہو۔ (لقمان: 14-15)

“لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق”

“خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔” (سنن ترمذی: 1707)

روزمرہ زندگی میں اکثر دو اخلاقی قدروں میں ٹکراؤ ہو جاتا ہے، ایسے میں فیصلہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ ہمارے دین نے کس کو فوقیت دی ہے۔ مثلاً اگر کسی معصوم کی جان کو جھوٹ بول کر حملہ آوروں سے بچانے اور سچ بول کر اس کی جان خطرے میں ڈال دینے کے مابین انتخاب کرنا پڑے تو ہم انسانی جان بچانے کو سچ بولنے پر ترجیح دیں گے۔

رشتۂ نکاح اور قانونِ طلاق چونکہ دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے پیش کردہ ہیں، لہٰذا میرے نزدیک کچھ ایسا ہی معاملہ ان کے مابین ہے۔ وہ تعلق جس میں شوہر بیوی کے مابین حفظِ مراتب کا لحاظ نہ رہے، بچوں کی مثبت بنیاد پر نفسیاتی و جذباتی نشوونما کے لیے محفوظ ماحول میسر نہ رہے، مقابلہ بازی میں اپنے ظرف کو کسی بھی حد تک گرا لیا جائے، رازوں کے امین ہی انہیں افشا کر کے رشتوں کے وقار کو مجروح کرتے پھریں، بدلے کی نفسیات، مخاصمانہ رویے اور خاندانی نفاق پروان چڑھیں۔

ایسے تعلق پر انسانی وقار، مثبت ماحول، انسانیت کی بقا اور معاشرے کی سلامتی کی ضامن اعلیٰ اخلاقی اقدار کو ترجیح دیتے ہوئے خدا نے معاہدۂ نکاح میں بندھے دو افراد ہی سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ وہ دونوں اپنی جگہ اعلیٰ ظرفی، رعایت اور خیر خواہانہ رویہ دکھانے کو تیار نہیں، لہٰذا سب کی بہتری اسی میں ہے کہ یہی دو لوگ معاہدہ ختم کر کے کنارہ کشی اختیار کریں۔

مروج معاشرتی افکار کا جائزہ

1۔ ہمارے ہاں ایک روایت کی بنیاد پر یہ تاثر پھیلا کہ طلاق دینے والا مرد یا اس کا مطالبہ کرنے والی عورت خدا کے ناپسندیدہ ہیں اور وہ ان پر غضب ناک ہوتا ہے۔

“اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔” (حدیث: 2178)

اسی تاثر کی بنا پر عزیز و اقارب بھی ایسے مرد و عورت سے ناراضی اور ملامت کا رویہ اپناتے ہیں۔

درحقیقت یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ نکاح کے رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، اور طلاق کو آخری حل کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ معمولی جھگڑوں میں فوراً اس پر عمل کیا جائے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں کہ جھگڑوں کو معمولاتِ زندگی بنا لیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے سرکشی کی اصلاح اور گھر بچانے کے لیے ترتیب و تدریج کے ساتھ چار اقدام لینے کا حکم دیا:

وعظ و نصیحت

بے تکلف گھلنے ملنے پر روک لگانا

شوہر کا بیوی کو جسمانی سزا دینا (جس طرح والدین اولاد کو اور استاد شاگرد کو دیتے)

فریقین کی جانب سے ایک ایک حکم کا بیٹھنا اور مصالحت کی کوشش کرنا

پہلے تین اقدام مرد خود اپنی چار دیواری کے اندر، لوگوں کے علم میں لائے بغیر، اپنی بیوی کی اصلاح و تربیت کے لیے اٹھائے، لیکن اگر یہ کوشش بے سود جائے تب چوتھا و آخری قدم اٹھائے اور خاندان، قبیلے کے بزرگ یا اربابِ مصالحت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان چاروں اقدام کے بعد آخری حل کے طور پر طلاق کی طرف جائیں۔ (النساء: 34، الطلاق: 2)

2۔ دور حاضر میں بعض لڑکیاں سوشل میڈیا اور جدید تہذیب کے زیرِ اثر خاص اسٹیٹس اور لائف اسٹائل کی شادی

شدہ زندگی چاہتی ہیں، اسی طرح کچھ لڑکیاں جدید تعلیمی رجحان کے باعث مخصوص پیشہ ورانہ، مثلاً ڈاکٹری، ٹیچنگ جیسی خدمات سرانجام دینے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ ایسے میں شوہر یا سسرال معاون ثابت نہ ہوں تو وہ رشتۂ ازدواج منقطع کر دیتی ہیں، جس پر معاشرے میں انہیں باغی، ناشکرا اور نافرمان کا فتویٰ لگ جاتا ہے۔

اسلام طبقاتی، معاشی، قبائلی و خاندانی حیثیت کے فرق کے باوجود مسلمانوں کو برادرانہ تعلق کی بنا پر برابری کا سلوک کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ تعلیم عام کرنے کے لیے اپنے خاندان سے ابتدا کی، یعنی اپنی پھوپھی زاد سیدہ زینب بنت جحش کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ سے کیا۔ اس دور اور معاشرت میں غلام لونڈی چونکہ کم حیثیت افراد تھے، لہٰذا سیدہ زینب ناگواری محسوس کرتیں، سیدنا زید رسول اللہ ﷺ سے ان کے رویے کی شکایت بھی کرتے، رسول اللہ ﷺ باہم نباہ کی تلقین کرتے، بالآخر حالات بہتر نہ ہونے کے باعث ایک سال بعد سیدنا زید نے طلاق دے دی۔

معاشرتی رواج کے زیرِ اثر ذہن اگر کم حیثیت فرد کو بطور شوہر عزت و اکرام دینے اور اپنے اوپر سربراہی کا درجہ دینے میں ناگواریت محسوس کر رہا تھا تو خدا نے اس پر بذریعۂ وحی غضب ظاہر نہ کیا، اگرچہ وہاں تو یہ جواز بھی تھا کہ انہیں رسول کی براہِ راست تربیت میسر تھی، تو پھر آج کی عورت پر ان فتاویٰ کا جواز کیا ہے؟

جبکہ معاملہ یوں ہے کہ مرد ہو یا عورت، دونوں ہی خدا کی نظر میں مجرم نہیں، بشرطیکہ وہ قانونِ طلاق کے مطابق علیحدگی اختیار کر کے باہم ظلم و زیادتی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اللہ نے دونوں کے لیے اپنی رحمت کی وسعتوں اور نئے راستوں کی امید دلائی ہے:

وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهِ (النساء: 130)

البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جس قدر غیر معمولی اہمیت کا حامل یہ ادارۂ نکاح ہے، خدا اپنے بندوں سے بھی یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس ادارے کی بقا کو اپنے معاملات میں ترجیحی مقام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر جائز عذر کے طلاق لینے والی عورت سے متعلق فرمایا کہ وہ جنت کی خوشبو سے محروم ہوگی۔ (سنن ابی داؤد، باب الخلع، طبع حقانیہ، 1/310)

3۔ بہو بیٹیوں کا اپنے میکے بیٹھ کر شوہر سے مطالبات منوانے کی عادت بھی ہمارا روزمرہ معاشرتی مشاہدہ ہے۔ اس کے پس منظر میں عمومی سوچ یہ ہے کہ کسی بھی سسٹم میں ماتحت افراد جب تک کام جاری رکھیں، سربراہان کی جانب سے ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرا جاتا، لیکن جیسے ہی کام کا بائیکاٹ کر دیا جائے تو کافی حد تک منظوری مل جاتی ہے۔ جو لوگ ان تراکیب سے حصولِ مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں، وہ اسی اسلوب کا پرچار گرد و پیش کے افراد میں بھی کرتے ہیں۔

میں کرتے ہیں۔

افکار و اطوار اسی طرح رواج پا کر تہذیب و اقدار کی شکل ہی بدل دیتے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں مرد بیوی کو بار بار طلاق دے کر گھر بھیجتے پھر رجوع کر لیتے، یوں ساری عمر نہ وہ ٹھیک طرح شوہر کے ساتھ بس پاتی نہ آگے نکاح کر کے اپنی نئی زندگی شروع کر پاتی۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اس زبوں حالی سے نکالنے کے لیے قانونِ طلاق نازل کر کے مردوں کو پابند کر دیا کہ اب اگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر میکے بھیجیں گے تو صرف دو مرتبہ صلح اور رجوع کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تیسری مرتبہ یہ عمل دہرانے پر رجوع کا راستہ باقی نہ رہے گا۔ (البقرۃ: 229-230)

دورِ جاہلیت میں مردوں کا عادتاً بیویوں کو گھر سے نکال میکے بٹھائے رکھنا ہو یا عصرِ حاضر میں خواتین کا بذاتِ خود جا بیٹھنا ہو، بہر صورت اس کی چوٹ سیدھا ادارۂ نکاح کے نظام پر پڑتی ہے۔ ایفائے عہد مومن کی پہچان ہے، مرد و عورت کا معاہدۂ نکاح اپنی اصل میں محفوظ ادارے اور مستحکم نظام کی فراہمی ہے اور جب اسی نظام کو تلپٹ کرنے والے اسلوب اپنائے جائیں تو عین ممکن ہے شوہر یا بیوی تو اپنے مطالبے و مقصد میں کامیاب ہو جائیں مگر یہ کامیابی ادارۂ نکاح کے اولین مقصد پر کاری ضرب لگا کر ملتی ہے۔

مرد و عورت سے مطلوب رویہ

مرد یا عورت اگر مخصوص معاشی معیار، طرزِ رہن سہن یا پیشہ ورانہ زندگی کا نصب العین رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ معاہدے میں داخل ہوتے وقت بطورِ شرائط انہیں طے کر لیں، تاکہ فریقین ایک دوسرے کے متعلق کسی ابہام یا گمان کا شکار نہ ہوں اور واضح متعین شرائط کے ساتھ یا تو معاہدے میں داخل ہوں یا رضامندی نہ ہو تو ان کے مابین رشتہ سرے سے قائم ہی نہ کیا جائے۔

معاہدے میں داخلہ سنجیدگی اور ذمہ داری سے ہونا چاہیے، نہ کہ لاابالی و جذباتی پن سے، تاکہ آئندہ زندگی میں ہر اقدام رشتۂ ازدواج کے اولین مقصد کو ملحوظ رکھ کر اٹھایا جائے۔