بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے سفر وسیلۂ ظفر بن جاتے ہیں۔ اگرچہ محترمہ نسرین خان کا سفر امریکہ کوئی پہلا سفر نہیں تھا لیکن کئی حوالوں سے یہ سفر ان کی زندگی کا ایک نہ بھولنے والا تجربہ بن گیا۔ اس میں وہ آگہی اور شعور کے کن کن لمحات سے گزریں اور اس کا ان کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوا، یہ سفرنامہ اسی کا ایک دل نواز بیان ہے۔
میں امریکہ کسی فکری یا علمی منصوبے کے تحت نہیں گئی تھی۔ یہ سفر دراصل ایک بہن کے لیے تھا۔ میری بڑی بہن نسیم حفیظ، جو میرے لیے ہمیشہ ماں کی طرح رہی ہیں، ان کے گھٹنے کی ریپلیسمنٹ سرجری طے تھی۔ دل میں بس یہی نیت تھی کہ ان کے پاس رہوں، ان کی خدمت کروں، اور ہمیں اکٹھے وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ دو ہفتے صرف تیمارداری کے ہوں گے۔۔۔ خاموشی، دعا اور خدمت کے۔
لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ ہمارے معاملات، ہماری سوچ اور سفر کو ہماری نیت سے کہیں زیادہ وسیع کر دیتا ہے۔ وہ دو ہفتے محض ایک بہن کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رہے۔ وہ میرے لیے رشتوں کی بازیافت بن گئے۔ امریکہ میں میرا خاندان پھیلا ہوا ہے۔ چچا، کزنز، بھانجے، بھانجیاں، بہن، بہنوئی، سب کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ کہیں بیٹھ کر پرانی باتیں ہوئیں، کہیں ہنسی گونجی، کہیں خاموشی نے رشتہ مضبوط کیا۔ ایک طرف بہن کی خدمت، دوسری طرف خاندان کی قربت، یہ امتزاج میرے دل کو ایک عجیب طرح کے سکون سے بھر رہا تھا۔ میں نے امریکہ کو ایک ملک کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دل کی طرح محسوس کیا۔
فلوریڈا میں بہن کے پاس قیام کے بعد میں ڈیلس اور ٹلہاسی بھی گئی، جہاں میرے بھتیجے اور بھتیجیاں رہتے ہیں۔ یوں یہ محض سفر سے زیادہ تعلق کی بازیافت کا سفر بن گیا۔ اور اسی سفر کے دوران ایک اور ملاقات میرا انتظار کر رہی تھی۔ ایک ایسی ملاقات جو دراصل ملاقات نہیں، بلکہ ایک طویل فکری و روحانی نسبت کی تجدید تھی۔
جی ہاں! استادِ محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی سے ملاقات۔
ان سے میرا تعلق آج یا کل کا نہیں۔ میں ان سے پہلی مرتبہ 1986ء میں ملی تھی۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ تعلق مختلف صورتوں میں میرے ساتھ چلتا رہا۔ درس، لیکچرز، نشستیں، سوالات اور مکالمے۔ میں یہ بات پورے شعور اور شکر کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ جن خواتین نے جاوید صاحب۔۔۔ معاف کیجیے گا، میں انہیں جاوید صاحب لکھ رہی ہوں۔۔۔ اصل میں یہی نام تھا جس سے مجھے واقفیت ہوئی تھی، اس لیے “غامدی” صاحب کے بجائے مجھے اس نام سے انہیں لکھنا اور مخاطب کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے! خیر، میں نے انھی سے دین کو سمجھا، بے شمار سوالات کیے اور شعور کے ساتھ دین کو اپنایا۔ اسی لیے میں شاید اولین میں سے ہوں۔ یہ نسبت میرے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
ڈیلس میں ان کے ساتھ گزارے گئے یہ دن محض حال کی باتیں نہیں تھے۔ یہ ماضی اور حال کے درمیان ایک پل تھا۔ ہم نے وہ زمانے بھی یاد کیے جب وہ لاہور میں مختلف گھروں میں قیام کرتے رہے تھے، جب جب، جہاں جہاں درس ہوتا، میں ایک طالبہ کی طرح ان کی باتیں سننے جایا کرتی تھی۔ میرے اندر بے شمار سوالات کلبلاتے رہتے تھے۔۔۔ وہ مجھے ان کے ہر درس میں کھینچ لے جاتے تھے۔ 1986ء سے لے کر آج تک وہ تمام ادوار جیسے ایک لمحے میں سمٹ آئے ہوں۔ یہ میرے لیے بہت جذباتی بھی تھا اور بہت اطمینان بخش بھی۔ ان دو دنوں میں ان کے ساتھ سوال و جواب کا وسیع سلسلہ رہا۔ یہ حسرتِ ناتمام بھی تمام ہوئی کہ جی بھر کر سوال ہوں، کوئی روک ٹوک، کوئی تحدید نہ ہو۔
سب سے پہلے میں نے ان کے سامنے وہ سوال رکھا جو میرے دل کا درد ہے۔۔۔ ایک کانٹا جو نہ جانے کب سے ایک ماں کے دل میں ترازو ہے۔ بچوں کا دین سے دور ہونا، مذہب سے بیزاری، عمل سے لا تعلقی۔
جاوید صاحب نے بہت سادگی مگر بہت گہرائی سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو خود کو قصور وار سمجھنا بند کریں، کیونکہ یہ مذہب بیزاری آج ہر دوسرے گھر کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا:
جب اولاد شعوری عمر میں داخل ہو جائے تو دین کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے کا حق اسی کا ہو۔ والدین کا کردار اب حکم دینے والا نہیں بلکہ ساتھ چلنے والا ہونا چاہیے۔ مشورہ بھی تب، جب وہ خود مانگیں۔
سب سے مشکل بات میرے لیے یہ تھی، اور شاید سب سے ضروری بھی، کہ اولاد کو کبھی یہ دھمکی نہ دی جائے کہ اگر انہوں نے کوئی ایسا فیصلہ کیا جو ہمیں دین کے خلاف لگتا ہے تو ہم تعلق توڑ لیں گے۔ یہ دھمکی دین کو خوف بنا دیتی ہے اور محبت کو زہر۔
یہ سب میرے لیے صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ذاتی کرب تھا۔ میں بار بار خود سے پوچھتی رہی کہ کیا تربیت میں کہیں کوئی بنیادی کمی رہ گئی؟ کیا میں نے کچھ چھوڑ دیا؟ یا شاید کچھ زیادہ کر دیا؟ اس سوال کے ساتھ ایک گہرا احساسِ ندامت اور گلٹ بھی جڑا ہوا تھا۔
جاوید صاحب نے میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے میرے دل کے بوجھ کو دیکھا۔ انہوں نے بڑے سکون سے کہا کہ اس معاملے میں میں خود کو مجرم نہ ٹھہراؤں۔ یہ صرف ایک گھر یا ایک ماں کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس دور کی آزمائش ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے فکری ماحول میں سانس لے رہا ہے جہاں الحاد، سوشل میڈیا، ٹیکنالوجی اور عالمی بیانیے مسلسل اس کے ذہن پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اُن کا میرے دکھ کو محسوس کرنا اور انتہائی دردمندی سے جواب دینا۔۔۔ میرے اندر جیسے کوئی سخت گرہ آہستہ آہستہ گھل رہی تھی۔ گویا بند گلی سے ایک دم روشن راستے پر آگئی۔ پہلی بار مجھے اپنے آپ سے ہمدردی ہوئی کہ نسرین! اصل میں یہ بوجھ اکیلے اٹھانے کا تھا ہی نہیں۔
ان کی باتوں میں ایک لفظ بار بار ابھر کر سامنے آیا کہ حل بات چیت ہے، مکالمہ ہے، نہ جبر، نہ غصہ، نہ خوف۔ بچوں کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے سوال سننا، ان کی الجھنوں کو برداشت کرنا، اور سب سے بڑھ کر ان کے انسان ہونے کا احترام کرنا۔
یہ والدین ہونے کا لازمی تقاضا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے خدا کے بندے ہیں، اور خدا نے انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے۔ یہ بات میرے دل میں بہت گہرائی تک اتر گئی۔ مجھے لگا کہ شاید ہم اکثر دین کو محبت کے بجائے حکم اور ناگزیر ڈسپلن کے طور پر پیش کر دیتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں رشتے میں دراڑ پڑتی ہے۔ ان کی باتوں میں اللہ نے عجب تاثیر رکھی ہے کہ میں نے محسوس کیا کہ میرا دل کھل رہا ہے۔ میں اس بات کو قبول کرنے کے قریب آگئی کہ یہ میری بیٹیاں سب سے پہلے اللہ کی بندیاں ہیں۔ ہدایت دینا میرا کام نہیں۔ اللہ جب ہدایت دیتا ہے تو اپنے وقت، اپنے قانون اور اپنے اصول کے مطابق دیتا ہے۔
پھر گفتگو ذاتی دائرے سے نکل کر عالمی منظرنامے تک پہنچی۔ میں نے ان سے آج کے ایک اور بڑے مسئلے پر بات کی: اے آئی، الحاد اور نئی نسل میں پھیلتا ہوا بے سمت فکری رجحان۔
انہوں نے اس مسئلے کو بہت محبت سے سنا۔ ان کے نزدیک یہ محض بغاوت نہیں بلکہ ایک عالمی پروپیگنڈا ہے، جس کا شکار ہماری نئی نسل ہو رہی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ اس کا جواب نہ لڑائی ہے، نہ جھگڑا، نہ جبر۔ اس کا جواب دعا، محبت، شعور اور مکالمہ ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کے مقابل نہیں، ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ صرف پیار سے، سمجھ سے اور سچائی ہی سے اس بیانیے کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
نئی نسل کی فکری بے سمتی صرف ہمارے معاشرے تک محدود نہیں، یہ ایک عالمی کیفیت ہے۔ جاوید صاحب نے اسے بین الاقوامی فکری پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ اس وقت ہمارے پاس مکالمے کے سوا کوئی مؤثر راستہ نہیں۔ یہ بات میرے لیے بہت معنی خیز تھی، کیونکہ اس نے مجھے ردِ عمل سے نکال کر فہم اور صبر کی طرف منتقل کیا۔
پھر گفتگو پاکستان کے حالات کی طرف مڑ گئی۔ میں نے اُن کے سامنے اپنی تشویش رکھی کہ ہمارے ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہمیں کس سمت لے جارہی ہے اور یہ تلخ حقیقت کہ فوج اپنے ہی لوگوں پر ظلم کرتی نظر آتی ہے۔
جاوید صاحب نے کہا کہ اس پر وہ اپنا موقف پہلے ہی کھل کر ریکارڈ پر لا چکے ہیں۔ ان کے نزدیک، چونکہ فوج پیچھے ہٹتی دکھائی نہیں دے رہی، جو اخلاقی طور پر غلط ہے مگر عملی حقیقت بن چکی ہے، اس لیے اب شاید آئین میں فوج کے کردار کے حوالے سے کوئی واضح اور متعین فریم ورک بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ غیر اعلانیہ طاقت کے بجائے ایک آئینی حد قائم ہو سکے۔
انسانی حقوق، سیاسی عدم استحکام، عوام کی بے بسی پر بات کرتے ہوئے ان کی گفتگو میں جذبات کے بجائے حقیقت پسندی تھی۔ کچھ باتیں سننا آسان نہیں ہوتیں، مگر ان پر بات کیے بغیر راستہ بھی نہیں نکلتا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ سیکھنا بھی شعوری مسلمان ہونے کے سفر کا حصہ ہے کہ ہم نعروں کے بجائے سمجھ کے ساتھ سوچیں۔
ایک اور ذاتی سوال جو میں نے اُن کے سامنے رکھا کہ دو انسان ایک ہی آزمائش میں ہوتے ہیں، ایک کے لیے راستہ کھل جاتا ہے اور دوسرا وہیں رک جاتا ہے۔ دونوں بالکل ایک جیسی صورتِ حال سے گزرتے ہیں، ایک ہی نوعیت کی آزمائش میں ہوتے ہیں، مگر ایک کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا ہے، اس کی مشکل آسان ہو جاتی ہے، جبکہ دوسرا اسی مشکل میں الجھا رہتا ہے۔ یہ فرق کیوں ہوتا ہے؟
اس کے جواب میں انہوں نے نہایت خوبصورتی سے یہ بات سمجھائی کہ ہدایت صرف حالات کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ نیت، طلب اور اللہ سے تعلق کا معاملہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک شخص کو مشکل وقت میں فوراً راستہ مل گیا، اور دوسرا وہیں کا وہیں رہ گیا۔ لیکن اس فرق کے پیچھے انسان کے دل کی سمت، اس کی نیت اور اس کا خدا سے باطنی رشتہ کارفرما ہوتا ہے۔ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال دی کہ جب وہ ایک نہایت کٹھن آزمائش میں مبتلا ہوئے، زلیخا کے فتنے میں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مشکل سے بچا لیا، اس لیے نہیں کہ آزمائش نہیں تھی، بلکہ اس لیے کہ حضرت یوسف کی نیت اس گناہ سے بچنے کی تھی۔ ان کا دل اللہ کے سامنے جھکا ہوا تھا، اور وہ اندر سے پاکیزگی کے طالب تھے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں، جو دل سے بچنا چاہتا ہے، جس کی نیت درست ہوتی ہے، اور جس کا تعلق اللہ سے زندہ ہوتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے بنا دیتے ہیں۔
گویا ایک جیسی آزمائش، مگر انجام مختلف! فرق حالات کا نہیں، نیت اور خدا سے تعلق کا ہوتا ہے۔ جو دل سے بچنا چاہے، اللہ اسے بچا لیتے ہیں۔ حضرت یوسف اس کی روشن مثال ہیں۔ اس مثال نے مجھے یہ سمجھایا کہ ہدایت کوئی اتفاق نہیں، بے ضابطہ نہیں، بلکہ ایک اندرونی آمادگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اللہ دلوں کے حال دیکھتا ہے۔
اس پورے قیام کا سب سے تسلی بخش لمحہ میری بیٹی نیہا اور جاوید صاحب کی طویل گفتگو تھی۔ نیہا نے اپنے دل میں موجود تمام سوالات مرد و عورت کے فرق، چار شادیوں، وراثت اور تشدد سے متعلق آیات بغیر کسی خوف کے ان کے سامنے رکھ دیے۔ تقریباً دو گھنٹے کی اس گفتگو کو میں خاموشی سے سنتی رہی۔ اس لمحے مجھے پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوا کہ میرا بچہ مذہب سے بھاگ نہیں رہا، بلکہ سمجھنا چاہ رہا ہے۔ جاوید صاحب نے ایک ایک سوال کو بڑے تحمل اور محبت سے سنا اور جواب دیا۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اور اہم لمحہ تھا کہ میری بیٹی، جو عام طور پر ایسی باتیں سننے کو تیار نہیں ہوتی، اس دن اُس نے نہ صرف یہ باتیں سنیں، بلکہ غور کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی۔ یہ میرے لیے سکون، امید اور شکر کا مقام تھا کہ ایک دروازہ کھلا تھا، اور شاید یہی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
ان دنوں جاوید صاحب کے خاندان کے ساتھ گزارا گیا وقت میرے لیے بہت قیمتی رہا۔ وہ غیر رسمی گفتگو، پرانی
یادیں، اور وہ ماحول جہاں جاوید صاحب کی بیگم، بیٹی، داماد، بیٹا، بہو اور گرینڈ چلڈرن سب موجود تھے۔ میرے لیے یہ بے حد خوش گوار یادیں سمیٹنے والے لمحات تھے۔ حسن الیاس کی شائستگی، دھیمے پن اور ذہانت نے مجھے متاثر کیا۔ ان کی شخصیت میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جو فوراً محسوس ہو جاتی ہیں۔ سادگی، سنجیدگی، ذہانت، شائستگی اور مقصدیت۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو واقعی باکمال انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں۔ مجھے یوں لگا کہ ان کو جاننا، سمجھنا اور دیکھنا بھی میرے امریکہ کے مجموعی تجربات کا ایک قیمتی حصہ ہے۔ غامدی سینٹر کا وزٹ جو ایک دیرینہ دعا تھی، میرے لیے محض ایک جگہ دیکھنا نہیں تھا، بلکہ اس بات کی تصدیق تھی کہ جب علم اخلاص کے ساتھ جڑ جائے تو وہ ادارے نہیں، امید کے چراغ بن جاتے ہیں۔
جب میں اس پورے سفر کو دیکھتی ہوں تو مجھے صاف نظر آتا ہے کہ یہ محض امریکہ کے چند دن نہیں تھے۔ یہ میرے اپنے اندر کے سفر کی ایک اہم منزل تھی۔ یہ ایک ماں کی بے چینی، ایک طالبہ کی جستجو، اور ایک عورت کے شعوری ایمان کی کہانی تھی۔ جاوید صاحب کے ساتھ میرا تعلق صرف استاد اور شاگرد کا نہیں، بلکہ ایک ایسے رہنما کا ہے جس کے ساتھ چلتے ہوئے میں نے دین کو خوف نہیں بلکہ روشنی کے طور پر سمجھا۔ اگر میں آج پیدائشی مسلمان سے شعوری مسلمان کے سفر میں کہیں کھڑی ہوں تو اس میں اس چالیس سالہ رفاقت کا کردار بہت گہرا ہے۔
میں یہ تحریر صالحات کی قاری خواتین کے ساتھ اس امید کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں کہ شاید میری کیفیتیں کسی اور کے دل کی آواز بن جائیں۔ کیونکہ ہم میں سے بہت سی خواتین ایک ہی طرح کے سوالات، ایک ہی طرح کے خدشات، اور ایک ہی طرح کی امیدیں لیے جی رہی ہیں۔ اور شاید اس عہد میں دین کے ساتھ جڑے رہنے کا سب سے سچا راستہ یہی ہے کہ ہم روشنی کی طرف سفر جاری رکھیں، خاموشی، مکالمے اور سچائی کے ساتھ۔
آخر میں یہ دعا ہے کہ:
اے اللہ! ہمیں وہ دل عطا فرما جو سوال کرنے سے نہ ڈرے، وہ عقل دے جو سمجھنے کا حوصلہ رکھتی ہو، اور وہ ایمان عطا فرما جو خوف نہیں، روشنی پیدا کرے۔ ہمیں اور ہماری نسلوں کو حق کو پہچاننے، اس پر ٹھہرنے اور محبت کے ساتھ اسے جینے کی توفیق دے۔ آمین۔