مواد پر جائیں

لڑائی جھگڑے

ثوبیہ نورین اردو

ہمارے معاشرے میں باہمی رشتے اکثر تلخیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس مضمون میں ثوبیہ نورین نے ان تلخیوں کی وجوہات کا جائزہ لیا ہے اور ان کی نشان دہی کرتے ہوئے انھیں ختم کرنے یا انھیں کم کرنے کے بہت تیر بہدف طریقے بتائے ہیں۔

پندرہ سالہ حارث، بال سے کھیلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور داخل ہوتے ہی قدرے خفگی سے بولا:

“اماں! ایک تو آپ اور ابا رشتہ داروں سے قطع تعلقی کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔”

جملہ ختم نہ ہوا تھا کہ حارث کی والدہ تبسم کے ماتھے پر بہت سی شکنیں ابھر آئیں۔ غصے میں بولیں:

“مطلب کیا ہے تمہارا؟ ہم قطع تعلقی کر کے بیٹھے ہوئے ہیں؟”

حارث بولا:

“کیا ہو گیا؟ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں؟”

“کیا غصہ کر رہی ہوں؟ بتاؤ تم!”

“ہاں تو، اتنے عرصے سے ہم آپ لوگوں کی وجہ سے لاہور نہیں جا سکے۔”

“تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود سے الزام لگانا شروع کر دیں!” وہ تنک کر بولیں۔

“مجھ پر کیوں چیخ رہی ہیں؟”

اب تبسم کو واقعی غصہ آ چکا تھا۔

“اندازہ بھی ہے تم لوگوں کو حقیقت کا؟ تم بتاؤ کہ ہم نے ان لوگوں کو کہا کیا تھا؟ ہم نے تو الٹا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تھی، سلجھا رہے تھے۔۔۔” وہ بولتی چلی گئیں۔

حارث منہ بنا کر، بڑبڑاتا ہوا، دروازہ پٹخ کر چلا گیا، اور تبسم وہیں جلتی رہ گئیں۔

دو دن بعد جذبات مدھم ہو چکے تھے، موڈ خوشگوار تھا۔ تبسم کے غور و فکر اور بعد از گفتگو جب مسئلہ سلجھا تو تصویر کے دوسرے رخ کی تفصیلات کچھ یوں سامنے آئیں۔

“قطع تعلقی” کا لفظ سنتے ہی تبسم کے ذہن میں بے شمار باتیں ابھر آئیں۔ مثلاً قطع تعلقی جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ کیا ہم اتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے ہر صورت صلہ رحمی کا حکم دیا ہے، اور یہ میرا بچہ ہمیں ہی قطع تعلقی کرنے والا کہہ رہا ہے۔

ساتھ ہی پچھلے واقعات کی بے شمار جھلکیاں ان کے ذہن میں ابھر آئیں، جن میں وہ صرف اپنا کردار دیکھ رہی تھیں۔

انہوں نے رشتہ داروں کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے وقت لگایا، سب سے بات چیت کی، الزامات کے بارے میں سوال کیے، اور جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو حکمتِ عملی کے تحت وہاں سے واپس آگئیں۔

یہ ساری کہانی ذہن میں آتے ہی وہ حارث پر برس پڑیں اور غصے میں سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔

چلیں مانا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ انسان کسی بھی صورتِ حال میں سب سے پہلے اپنے ہی زاویۂ نظر سے سوچتا ہے۔

دوسرے لوگ ان کے مسئلہ حل کرنے اور چلے آنے کو کیسے دیکھ رہے تھے؟ یہ پھر کبھی بتاؤں گی، کیونکہ یہ ایک اور جھگڑا ہے۔

لیکن فی الحال زیرِ بحث پہلا تنازع یہ ہے کہ:

کیا حارث واقعی یہی کہنا چاہ رہا تھا؟

کیا وہ ماں باپ کی اس کاوش سے واقف تھا؟

کیا اسے مسئلے کی حقیقت معلوم تھی؟

یا وہ واقعی اپنی والدہ تبسم پر الزام لگا رہا تھا؟

یا حارث کے ذہن کی کہانی کچھ اور تھی؟

جی ہاں، بالکل مختلف۔

وہ تو صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے کزنز کو یاد کر رہا ہے۔ لاہور جانا، گھومنا پھرنا، ان کے ساتھ کھیلنا اور وہ سب مزے اسے یاد آ رہے تھے۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اس کی امی کیا باتیں کر رہی ہیں۔

امی کے جملوں کا شور، تبسم کے سوالات اور حقیقت سمجھانے کی کوشش، سب اس کے لیے محض شور تھا، اسی لیے وہ جھنجھلا کر دروازہ پٹخ کر چلا گیا۔

حارث اپنی فراغت اور بوریت سے اکتا کر، اپنے کزنز کے ساتھ لطف اندوز ہونے کے احساسات اپنی امی کے پاس بیان کرنے آیا تھا۔

یہ ہے پہلا مسئلہ:

ہمارے جملے اور الفاظ اکثر وہ نہیں ہوتے جو ہم کہنا چاہتے ہیں، جس کے باعث شدید رابطے کی خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

تبسم نے ایک لفظ سنتے ہی اپنے ذہن میں موجود سابقہ یادداشت کے مطابق ردِّ عمل دیا۔ وہ یہ سمجھ نہ سکیں کہ اچھی نیت اور اچھے عمل کے باوجود انہوں نے کسی سے رشتہ نہیں توڑا، پھر یہ الزام کیوں؟

دوسرا مسئلہ:

ہم دوسروں کے الفاظ کے معانی، خود ان سے سمجھے بغیر، اپنے ذہن میں موجود معلومات، تجربات اور فہم کی بنیاد پر طے کر لیتے ہیں۔

مسئلے کا حل یہ ہے کہ جب بھی کسی کے الفاظ ناگوار گزریں تو رک کر سوال کریں اور بات کو پوری اہمیت دیں۔

آئیے ایک واقعے سے سمجھتے ہیں۔

میاں بیوی۔۔۔ سعد اور نازیہ۔۔۔ بیٹھے تھے اور نازیہ کچھ جگہوں کی تصویریں اپنے شوہر کو دکھاتے ہوئے بولیں:

“یہ جگہ تو بہت خوبصورت ہے، آپ کو پتا ہے یہ کہاں ہے؟”

سعد نے ہلکی سی نظر ڈالی اور روکھے انداز میں بولے: “ہم۔۔۔”

نازیہ مزید جوش سے بولیں: “اچھی ہیں نا، بھلا کہاں ہے یہ جگہ؟”

سعد چڑتے ہوئے بولے: “تم نے کھانا بنا لیا ہے یا نہیں؟”

نازیہ جذباتی ہو کر بولیں:

“میں آپ سے کیا بات کر رہی ہوں اور آپ کھانے پر بات کرنا شروع ہو گئے۔ کبھی تو کسی کی بات سن لیا کریں!”

سعد بولے:

“ہاں، ہاں! تم تو جیسے ساری باتیں سنتی ہو!”

“آپ سے کم از کم زیادہ ہی سنتی ہوں!”

تمہاری یہی تکرار مجھے زہر لگتی ہے۔۔۔

آگے کے درجۂ حرارت کا اندازہ آپ کو ہو ہی گیا ہوگا۔

چار دن کی ناراضی اور خاموشی کے بعد جب درجۂ حرارت کم ہوا اور کچھ دھند چھٹی تو اصل تفصیل سامنے آئی۔

نازیہ سردیوں کی چھٹیوں کے لیے کسی قریبی تفریحی مقام کی تلاش میں تھیں کہ ایک خوبصورت جگہ کی ویڈیوز نظر سے گزریں۔ وہ یہ دکھانے اپنے شوہر کے پاس آئیں کہ کبھی کسی سال وہاں جانے کا سوچا جا سکتا ہے۔

سعد صاحب تصویریں دیکھتے ہی اپنے ذہن کے ڈیٹا کے سمندر میں بہہ گئے۔

“نیا خرچہ، بجٹ پہلے ہی ختم ہے، اتنی دور کی جگہ، گاڑی کا مسئلہ، بچوں کو سنبھالنا، کم چھٹیاں۔۔۔”

یہ سوچیں سونامی کی طرح آئیں اور اتنی ہی تیزی سے باہر تباہی مچا گئیں۔

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ

ہم دوسروں کے عمل کی نیت اور محرک بھی خود ہی طے کر لیتے ہیں، اور پھر اپنے ہی خوف کو جواب دیتے رہتے ہیں۔

سعد صاحب نے خوف میں کھانا مانگ لیا، اور آگے جذبات کا طوفان آگیا۔

اب سوال یہ ہے: کیا وہ اب ریلیونٹ بھی تھا؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے اس قدر لاشعوری طور پر جینے لگے ہیں کہ انسانوں کو سمجھنا اور تعلقات پر غور کرنا ہمارے لیے اہم ہی نہیں رہا۔

حل یہ ہے کہ دوسروں کے اعمال کو ان کی چھوٹی خوشیوں کے طور پر دیکھیں۔ کسی بھی عمل کی اصل وجہ جاننا چند لمحوں کی خوشی اور مضبوط رشتے دے سکتا ہے۔

اگر بچے نئے بیٹ بال، نئی باربی گڑیا، سکول سے چھٹی، کسی خاص ڈریس کی تعریفیں، مرسڈیز کے قصے، پلے اسٹیشن کی نئی ٹیکنالوجی، آئی فون کے نئے ماڈل کے اشتہارات دکھا رہے ہوں، تو ایسے تمام مواقع پر ماں باپ اور بچوں کے درمیان ختم نہ ہونے والی بحث و تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ مثلاً والدین کچھ اس طرح ردِّ عمل دیتے ہیں:

والد (فرسٹریشن سے جواب دیتے ہیں): “یار! ابھی تین ہفتے پہلے تمہیں نیا بیٹ بال لے کر دیا ہے۔ کتنے بلے چاہئیں تمہیں؟ پڑھائی پہ تو کوئی فوکس نہیں ہے تمہارا!”

والدہ (ذہن میں صفائی کے معاملات سے تنگ آ کر کہتی ہیں): “بیٹا! آپ کے پاس تو پہلے سے گڑیا ہے۔”

بچی: “مگر وہ ایسی تو نہیں ہے۔”

تو پھر بیٹا آپ انہی سے گھر بھر لو۔ پہلے والی سنبھالی نہیں جاتی۔ نئے شوق جان نہیں چھوڑتے، پورے گھر میں کھلونے بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔

بیٹے: تو پھر۔۔۔ جو بھی ہو۔۔۔ مجھے چاہیے یہ سب کچھ!

والدین: تم لوگوں کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔ وہ غبارے بیچنے والا دیکھ رہے، پاؤں میں پھٹا ہوا جوتا پہنا ہوا ہے اس نے۔ تم لوگوں کو کمانا پڑے تو جو مرضی لینا۔۔۔ فراریاں اور مرسیڈیز لینا۔

اب ذرا تجزیہ کیجیے اس گفتگو کا۔ بچوں کی باتوں کا لازم یہ مطلب نہیں کہ وہ ہم سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ ہم یہ سب ان کو دلائیں۔ وہ بس اپنی خواہشوں اور حسرتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس اظہار کو دبانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے ان کے دل میں پیدا ہونے والی خواہشات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔ بس آپ نے انھیں وقتی طور پر دبا دیا۔ وہ اندر تو ہوں گی، بس اب آپ کے سامنے نہیں آئیں گی۔

چوتھا مسئلہ

ہم اظہار کی آزادی کا حق بھی نہیں دینا چاہتے۔ یہ بہت پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ اس سے تو معلوم ہو گا کہ تربیت کی ضرورت کہاں کہاں پہ ہے۔ مثلاً ان سب باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے کنزیومر ازم کا جو کلچر دیکھ رہے ہیں، وہی بول رہے ہیں۔ مگر والدین اسے ایک ایسی لڑائی میں بدل دیتے ہیں جو بچوں کی سمجھ سے بھی باہر ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سب جملوں اور طنز سے ان کی خواہشات کو لگام ڈل جائے گی مگر وہ صرف یہ جان پاتے ہیں کہ ان کے سامنے یہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

دن میں کئی بار ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں بعد میں بڑے جھگڑوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ عموماً بچے اپنی دانست میں یہ خواہشات بول کر اپنی چوائسز کا اظہار یا ان اشیا کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں افورڈ نہیں کر سکتے یا ان فرمایشوں کو ان کی تربیت کے لیے مناسب نہیں سمجھتے۔ ایسا ہے تو واحد علاج یہ ہے کہ انھیں متبادل دیں۔ ایسا متبادل جو آپ کو بھی پسند ہو، ان کو بھی۔

ایک اور قصہ لیں۔ ایک بچی اپنی امی سے بحث کر رہی ہے۔

فضہ: آپ لوگ ہمیشہ بادام پستے ضائع کرتے ہیں۔

امی: وہ کیسے؟

فضہ: ان بالز (پنیاں) میں ڈال دیتے ہیں سارے۔ گندی، مجھے نہیں پسند! پنیاں ونیاں۔

“اچھا تو آپ کو کیا پسند ہے؟”

“پستے اور بادام اسی طرح۔”

“تو ان بالز میں بھی تو یہی ڈلتے ہیں۔”

“ہاں، پر ان کا سارا ٹیسٹ بدل جاتا ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ میں پستہ، بادام ہی کھا رہی ہوں۔”

“واقعی! یہ تو آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ ان کا ٹیسٹ باقی چیزوں میں مل جاتا ہے۔”

“ہے ناں۔ آپ کو بھی یہی لگتا ہے ناں!”

“ذائقہ بدل تو جاتا ہے، پر مجھے وہ بھی اچھا لگتا ہے۔”

“تو آپ خود کھائیں ناں۔”

“اوکے۔ تو آپ کے لیے آئندہ ہم یہ نٹس تھوڑے سے الگ رکھ دیا کریں گے۔”

فضہ ہنستی اور چہکتی جا رہی ہے۔ اس کے کئی الفاظ پر لڑائی اور نصیحتیں شروع ہو سکتی تھیں، مگر سمجھ دار ماں نے اسے سب کچھ ایک ساتھ سکھانے کی جلدی نہیں کی۔ یہ اس نے کسی اور وقت پر اٹھا رکھا ہے۔ ابھی کے لیے اس کی فیلنگز اور بات کو سن کر سمجھ لینا مناسب سمجھا۔

اب آپ بھی آغاز کیجیے:

روزمرہ کے لڑائی جھگڑوں میں ان حقائق کو سمجھنے کی۔ آپ بھی یقیناً نوٹ کریں گے کہ ہم اکثر بحثوں میں جن باتوں پر گتھم گتھا ہوتے ہیں، وہ ہمارے اپنے ہی دماغوں کی کہانیاں اور کارستانیاں ہوتی ہیں۔ اپنے خیالات و جذبات کی دھند میں ہم دوسروں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہر تنقید اور غصہ کرنے سے پہلے سوال کر کے دوسروں کے الفاظ کے مصداق و مدعا معلوم کیجیے۔ اسی سے ہمیں اپنے ذہنوں کے غبار سے نجات پانے میں آسانی ہوگی۔