ایک بیٹی کی باپ کے ضمیر پر دستک۔۔۔ ایک گھٹی ہوئی چیخ جسے اس نے چھپن برسوں سے دبا رکھا تھا۔ ایک شکایت جسے زبان پر لانے کی ہمت اسے بہت دیر بعد ملی تھی! حقیقی واقعے سے ماخوذ دل کی دہلیز پر سوالوں کے انبار لگاتا ایک دل پذیر افسانہ۔
میں نے زندگی میں بہت سے دروازے خود بند کیے تھے، مگر یہ دروازہ۔۔۔ یہ میں نے وقت پر چھوڑ دیا تھا۔
چھپن برس۔ یہ کوئی حبسِ بے جا نہیں، یہ ایک خاموشی تھی جو دل میں پلتی رہی۔ مزار کے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے میرے قدم ٹھہر گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ میں کسی عمارت کے اندر نہیں، اپنے ماضی میں داخل ہو رہی ہوں۔
دنیا کے لیے یہ ایک بڑا اہم واقعہ تھا۔۔۔ ایک بڑے لیڈر کے پُرشکوہ مزار پر اس کی بچھڑی، ناراض مگر اکلوتی بیٹی کی حاضری۔ حکومت کے نمایندے پورے پروٹوکول سمیت حاضر تھے۔ کیمرے، سکیورٹی، رسمی چہرے۔ مگر میں ان سب سے بے پروا تھی۔ آج میرے دل میں عجیب طوفان تھا۔ برسوں اس پر بند باندھے بیٹھی تھی۔
مگر آج اس پر قابو پانا میرے قابو سے باہر ہو رہا تھا۔ اس لیے کہ میرے لیے یہ پہلی بار تھا کہ میں نے خود کو اپنے باپ کے سامنے بغیر کسی خوف کے کھڑا پایا۔ میں نے سفید پتھر کے نیچے، منوں مٹی کے نیچے “لیٹے” عظمت کے اس مینار کو اس رشتے سے پکارا، جو میرے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتا تھا:
“ابا!”
میں نے یہ لفظ دل میں کہا کیونکہ زبان اب بھی اجازت نہیں دیتی تھی۔ میں دل ہی دل میں بڑبڑائی:
“آپ کے مزار پر ہر چیز سفید ہے۔۔۔ سنگِ مرمر، روشنی، خاموشی۔”
ایک کبوتر کے اڑنے کی آواز میری محویت میں حائل ہوئی۔ شاید وہ مجھے باور کرا رہا تھا کہ خبردار، کوئی گستاخی نہ کرنا۔ مگر کوئی کب تک رکتا۔۔۔ میں اکتا چکی تھی اس بندھن سے۔ کبوتر کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ مدھم ہوئی تو میری روح پھڑپھڑانے لگی:
“آپ کو سفید رنگ ہمیشہ پسند تھا نا!”
میں نے ایک نظر ماحول پر ڈالی۔۔۔ یہ نظم، یہ ترتیب، یہ ضبط جو اس وقت باوردی گارڈز میں نظر آ رہا تھا۔ اور میں؟
میں ہمیشہ رنگ چاہتی تھی۔ شاید اس لیے کہ میں امی جیسی تھی۔
دھیمے سے لفظوں میں انھیں مخاطب کیا، جیسے وہ مجھے ہی سن رہے ہوں۔
“امی۔۔۔”
امی کو یاد کرتے ہی میرے قدم لرزنے لگے۔
وہ ہنستی تھیں تو دنیا آسان لگتی تھی۔ وہ بولتی تھیں تو لفظوں میں جان پڑ جاتی تھی۔ وہ محبت کی دیوی اور حسن کا مجسمہ تھیں۔ میں انھیں یاد کرانے لگی:
“آپ جانتے تھے نا، ابا؟ وہ آپ سے محبت میں ہار گئی تھیں۔ انہوں نے اپنا مذہب بدلا، اپنا گھر چھوڑا، اپنی شناخت قربان کی۔۔۔ اور یاد ہے نا ابا! اس دن جب وہ اٹھارہ برس کی ہوئی تھیں۔۔۔ قانونی بلوغت کا دن۔۔۔ آپ نے اور امی نے مل کر طے کیا تھا۔۔۔ نانا نے مخالفت کی۔۔۔ تو آپ نے قانون کو ہتھیار بنایا۔ قانون آپ کا ہمیشہ سے ہتھیار رہا۔ پوری زندگی اس ہتھیار سے لڑے، لیکن ابا! معلوم ہے آپ کو؟ کاش معلوم ہوتا۔۔۔ زمینی حقائق اور جذبات کی دنیا اکثر قانون سے مختلف ہوتی ہے۔ مگر آپ نے کبھی یہ نہ مانا، قانون کا کھیل کھیلتے رہے۔ اس وقت بھی آپ نے امی سے مل کر یہی کھیل کھیلا۔۔۔ ٹھیک اٹھارہ برس کی ہوتے ہی امی اپنی شادی کے فیصلے میں آزاد تھیں۔ قانون انھیں نہیں
روک سکتا تھا، اور واقعی نہ روک سکا۔ وہ باپ کے نام کے بجائے آپ کے نام سے منسوب ہونے، اپنا محل جیسا گھر چھوڑ کر آپ کے پاس پہنچ گئی۔۔۔ آپ سے بے پناہ اور طوفانی محبت میں انھوں نے یہ سب کچھ کر ڈالا۔۔۔”
بہت زیادہ دبانے کے باوجود ایک لمبی آہ میرے سینے سے نکل گئی۔
“اور بدلے میں؟ صرف آپ کی توجہ چاہی تھی۔ لیکن آپ نے قانون کی طرح محبت بھی ناپ تول کر دی۔۔۔۔
میں آپ دونوں کے درمیان پلی۔ امی جو ہمیشہ آپ کی توجہ کی طلب میں تڑپتی رہیں، آپ سے بے پایاں محبت کا اظہار چاہتی رہیں۔۔۔ سب کچھ نہیں، آپ کی دنیا نہیں۔۔۔ بس چند لمحے کہ محسوس ہو کہ وہ چاہے جانے کے قابل ہیں۔۔۔ مگر آپ کی سیاست جیت گئی، امی ہار گئیں۔ امی کی تمنائیں اور آپ کا ضبط میرے اندر لڑتے رہے۔ آپ مجھے وقت پر سونا، وقت پر کھانا، وقت پر کھیلنا سکھاتے تھے اور امی مجھے خواب دیکھنا سکھاتیں کیونکہ وہ خود خوابوں میں رہتی تھیں۔
آپ مجھے خاموشی سکھاتے تھے، امی مجھے سوال کرنا۔ اور پھر ایک دن!
امی کی موت پر میں نے آپ کو پہلی بار انسان بنتے دیکھا تھا۔
خاموش، ٹوٹے ہوئے، بوڑھے سے۔ حتیٰ کہ روتے دیکھا۔۔۔ زندگی میں پہلی اور آخری بار!
کاش آپ نے اسی دن مجھے بانہوں میں لے لیا ہوتا۔ کاش آپ نے کہا ہوتا:
“اب میں تمھارا باپ ہی نہیں۔۔۔ ماں بھی ہوں۔۔۔ تمھیں کبھی تنہائی نہ ہوگی۔۔۔”
مگر آپ کی انسانیت جاگی تو سہی مگر آپ کی سیاست نے اسے دوبارہ نگل لیا۔ میں ماں کی آغوش سے نکل کر ملازموں کی آغوش میں آگئی۔ وہ مجھے کھاتے پلاتے، میرا خیال رکھتے مگر وہ میرے والدین نہ تھے۔ میں ان کی “محبت” نہیں، “ڈیوٹی” تھی۔۔۔ میرے اور آپ کے درمیان فاصلہ رہا۔ آپ یہ فاصلہ چند خطوں اور چند کارڈوں سے پاٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر محبت۔۔۔ پدری ہو یا ازدواجی۔۔۔ آپ شاید اس کے تقاضوں سے ناواقف محض تھے۔ اس کا احساس آپ کو اس وقت ہوا جب میں نے وہی کیا جو امی نے کیا تھا۔ میں نے دل کی سنی۔
وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ جب میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں نیول سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ یہ الفاظ سن کر آپ کا چہرہ نہیں بدلا،
لیکن آپ کی آنکھوں میں آسمان تک بلند ایک دیوار کھڑی ہو گئی تھی۔
آپ نے کہا تھا:
“There are millions of Muslim boys.”
اور میں نے۔۔۔ میں نے وہ جملہ کہا جس نے ہمیں ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا:
“There were millions of Muslim girls… why didn’t you marry one of them?”
ابا، وہ جملہ ضد نہیں تھا۔ وہ سوال تھا۔ آخر سوال کرنا تو بچوں کا حق ہوتا ہے نا! آپ قوم کے لیے سوال کرتے رہے مگر اپنی بیٹی کے سوال کو نظر انداز کر گئے۔۔۔ ابا! کیا اصول صرف بچوں کے لیے ہوتے ہیں؟
کیا قوم کی خاطر باپ ہونے کی ذمہ داری معطل ہو جاتی ہے؟
لیکن اب، اتنے برس بعد، میں خود سے پوچھتی ہوں۔۔۔ کیا میں نے آپ کو چوٹ دی؟ یا آپ پہلے ہی قوم کے بوجھ تلے مجھے کھو چکے تھے؟
آپ نے قوم چنی۔۔۔ میں جانتی ہوں، ابا۔ شاید آپ کے بغیر قوم کو منزل نہ ملتی۔ لیکن دوبارہ پوچھتی ہوں: کیا قوم کا باپ بنتے ہوئے اپنی بیٹی کا باپ ہونے کی ذمہ داریاں چھوڑنا ضروری تھا؟
آپ اسمبلیوں میں، جلسوں میں، میٹنگز میں بولتے رہے، میں خطوط کا انتظار کرتی رہی۔
آپ نے تاریخ بدلی،
میں نے بچپن ہارا۔
ایسا نہ ہوتا تو شاید میں آج یہاں شکوہ لے کر نہ کھڑی ہوتی۔”
میں کچھ دیر کے لیے رک گئی۔ میرے چہرے کو میرے آنسو دھو رہے تھے۔ میں نہ رہ سکی۔ میں نے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے مگر ساتھ یہ ضرور کہا:
“آپ نے اپنی قوم کا خیال رکھا۔ لیکن کیا یہ انسانی رویہ تھا کہ اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کو نظر انداز کر دیا جائے؟”
میرا سوال ایک بڑے لیڈر سے نہیں تھا۔ یہ ایک بیٹی کا اپنے باپ سے سوال تھا:
“میں وہی لڑکی ہوں جو آپ کے اسٹڈی روم کے باہر کھڑی رہتی تھی، جو آپ کے ساتھ بس چائے پیتی تھی، دل کا حال نہیں سنا پاتی تھی، بڑے باپ کا ساتھ، بڑے باپ کا وقت وہ بھی چاہتی تھی۔ اپنی سکول کی کامیابیاں شیئر کرنا چاہتی تھی۔ جو صرف ایک جملہ چاہتی تھی:
“I am proud of you.”
میں نے پھول رکھے۔ پلٹی۔ اور جاتے ہوئے خاموشی سے کہا:
“مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ ہوا جو آپ کو پسند نہ تھا۔ صرف اس لیے کہ جہاں آپ کھڑے تھے میں وہاں نہیں کھڑی تھی۔۔۔ کیونکہ آپ نے مجھے اُس جگہ کھڑا ہونا کبھی نہ سکھایا۔”
افسوس۔۔۔ مگر یہ حقیقت ہے ابا۔۔۔ میں آپ کی بیٹی ہوں۔ آپ کے اس وطن میں آئی ہوں جسے آپ نے بنانے کی خاطر مجھے کھویا۔۔۔ اس لیے:
“Goodbye, Father…
Not Quaid.”
چھپن برس بعد میں نے آخرکار اپنے باپ، قائداعظم محمد علی جناح سے بات کر لی تھی۔
اور شاید یہی میری آزادی تھی۔