کیا آپ تھوڑا سا غور و فکر کریں گے؟ کچھ ہوش اُڑا دینے والے حقائق کو سمجھنے میں کہ خوش نما عبادتوں کی آڑ میں کیا ہو رہا ہے۔
رمضان آتے ہی عبادت کی تیاری ہمارے ہاں کچھ انوکھے ڈھنگ سے شروع ہوتی ہے۔ رمضان اب مذہبی شعار سے زیادہ ایک بھرپور کلچرل فیسٹیول کا روپ دھار چکا ہے۔
افطاری کلچر
رمضان آتے ہی عبادت کی تیاری ہمارے ہاں کچھ انوکھے ڈھنگ سے شروع ہوتی ہے۔ رمضان اب مذہبی شعار سے زیادہ ایک بھرپور کلچرل فیسٹیول کا روپ دھار چکا ہے۔
روزوں سے پہلے ہی اسٹوروں اور مارٹس میں راشن کی خریداری کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ الماریاں اور فریزر گروسریز (اشیائے خوردونوش) اور فروزن آئٹمز سے بھرنے لگتے ہیں۔ خواتین سموسوں اور رولز کی تیاری میں لگ جاتی ہیں اور کئی کئی گھنٹوں کی مشقت سے فاقے کے مہینے کے لیے چٹ پٹے اور لذیذ کھانوں کا بندوبست کر دیتی ہیں۔
ذرا رک کر سوچیے۔۔۔ کیا واقعی یہ بھوکا رہنے اور صبر و برداشت کا مہینہ رہا ہے؟
یا ہم سب مل کر اسے آہستہ آہستہ شہر الصیام سے شہر الطعام میں تبدیل کر چکے ہیں؟
یہ منظر صرف گھروں تک محدود نہیں۔ بازاروں، مسجدوں، نجی محفلوں اور ٹی وی چینلز، غرض ہر جگہ یہی رونق، میلہ اور کھیل تماشا جاری رہتا ہے۔
رمضان کا فائدہ بھی اب بسنت فیسٹیول کی مانند بس یہ رہ گیا ہے کہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک بزنس جنریشن کا محرک ثابت ہوتا ہے، اور ہم اس پر کس قدر مطمئن ہو چکے ہیں۔ آئیے کچھ جھلکیاں دیکھیے:
کھانوں میں تنوع (ورائٹی) اور قومی پستی
محنت کش لوگ پوری پوری رات بازاروں میں جاگتے ہیں تاکہ روزے داروں کے لیے پراٹھے، پوریاں اور چائے لسی کا اہتمام کر سکیں۔
دوسری طرف گھروں میں مائیں، بیویاں اور بہو بہنیں تیرہ چودہ گھنٹے کے روزے کے لیے پندرہ سولہ گھنٹے کی محنت کرتی ہیں۔ کچھ خواتین شوہروں کے چاؤ سے، کچھ سسرال کے دباؤ سے تو کچھ محلے اور معاشرے میں بھرم رکھنے کے لیے، خاندان کی عزت و آبرو کی خاطر۔ البتہ کچھ ماؤں کی ممتا اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے خاندان کے لیے پراٹھے، دودھ، انڈے، دہی، مکھن، دیسی گھی، دہی بھلے، پکوڑے، پوریاں، بروسٹ، بریانی، چنا چاٹ، فروٹ چاٹ، سموسے، کچوریاں، رولز، جلیبیاں، سیکس اور شربت کے انبار نہ لگا دیں۔ جیسے یہ غذائیں کھا کر آنکھوں کو وقتی سکون ملتا ہے، ویسے ہی ان ماؤں کو اپنے لخت جگروں کو یہ ڈھیر کھلا کر ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
گویا ہر شخص اس مقدس مہینے میں عبادت کے طور پر اپنے ہی طریقے اختیار کیے ہوئے ہے اور پھر یہی مشقت ہمارے لیے عبادت کے نام پر کفایت بھی کرتی رہتی ہے۔
دعوتوں اور افطار پارٹیوں کا سیلاب اب ایسا ہے کہ رمضان کا لازم و ملزوم محسوس ہوتا ہے۔ اب تو واعظین اور شوہر حضرات بھی رمضان کے تناظر میں افطاریوں کی فضیلتیں بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ ان انتظامات میں پسی ہوئی بے بس عورتوں کی دل جوئی کے لیے یہ جملے فرماتے ہیں کہ جو کسی کے لیے آسانی پیدا کرے، اللہ اس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ سحر و افطار تو سنت ہے بھئی۔ یوں ہم ایک دوسرے کے لیے افطار کا بے شمار سامان مہیا کر کے ہی اب خود کو رمضان کے اجر کا امیدوار سمجھتے ہیں۔
کھانا پینا برا ہے نہ دوسروں کو کھلانا۔ بات ہے قوم کے مزاج کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ابنِ آدم کی کمر سیدھی رکھنے کے لیے تو دو لقمے ہی کافی ہیں۔ یہ سب سرگرمیاں محض پیٹ بھرنے کی عکاس نہیں ہیں، بلکہ یہ پتا دیتی ہیں کہ قوم کی ترجیحات و مقاصد کیا ہیں۔
قرآن نے ایک جگہ بنی اسرائیل کی زوال شدہ ذہنیت کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کا اپنے نجات دہندہ، عظیم پیغمبر سے مطالبہ بیان کیا کہ:
لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ … (البقرۃ: 61)
ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔ ذرا اپنے رمضان بازاروں کو دیکھیے۔ کیا ہمیں واقعی ایک کھانے پر صبر ہے؟ افطار کی میزوں کی تشہیر، کھانوں کی تصاویر، ریسیپیز کی بھرمار، افطار کی تیاری کی ویڈیوز، ہوٹلوں میں افطار بوفے—ہمیں لگتا ہے ہم عبادت کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے یہ سوچا کہ رمضان کے اس مہینے میں، جس میں خود بھوکا رہنا مقصود تھا، ہم نے کھانے کو ہی سب سے بڑا موضوع و مقصد کیوں بنا دیا؟ یہ کام پورا سال ہوتا ہی ہے، مگر ہم نے اسی مہینے کو کیوں چنا جس کا مقصد نفس اور شہوات کو کمزور کرنا تھا؟ ذرا تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں، اپنے دل سے پوچھیے۔
رمضان کا اصل مقصد کیا تھا؟
حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ رمضان میں دل لگا کر کام کیجیے، کیونکہ اس مہینے میں کچھ زیادہ فراغت و یکسوئی میسر آسکتی ہے، تو یہ بات لوگوں کو عجیب لگتی ہے۔ لیکن ذرا تنہائی میں خود سے پوچھیے: اگر سحر اور افطار صرف جسم کی اہم غذائی ضرورت کے مطابق ہوں تو کیا واقعی وقت کی کمی باقی رہے گی؟
گمشدہ شہر القرآن
رمضان دراصل شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) ہے۔ تدبر و تفکر، ذاتی احتساب اور خالی پیٹ رہ کر اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی مشق کرنے، شعور بیدار کرنے اور دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے، یعنی روحانی اصلاح کے لیے وقت نکالنا اس مہینے کی بنیادی ترین ضرورت ہے۔ مگر ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ روزے میں عمومی سستی اور کمزوری کی سی کیفیت رہتی ہے، اور سحر و افطار کے بعد جو غنودگی طاری ہوتی ہے، اس کا علاج یا تو نیند میں ڈھونڈا جاتا ہے یا پھر موبائل کی رِیلز میں۔ اور اگر فیملی ٹائم ہو تو ہم جھوٹ و فریب، اسراف و تبذیر پر مبنی بندر تماشے جیسی رمضان نشریات اور پُرکشش ڈراموں میں گھرے رہتے ہیں۔
یوں اللہِ علیم و حکیم کی اس حکمت پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ خالی پیٹ رہنا دراصل انسان کو اعلیٰ روحانی مقاصد کے لیے تیار کرتا ہے۔ جب جسمانی تقاضے کمزور ہوتے ہیں تو سرکش خواہشات پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے ایمان، شعور اور روحانی آگاہی (حق الیقین) میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھوک، پیاس اور ذاتی اصلاح
کیا آپ نے اپنے رمضان کے وقت اور مقصد کے بارے میں سوچا ہے؟
یقین کیجیے، اسی کیفیت میں انسان اپنے کردار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ بری عادتوں، مثلاً جھوٹ، غلط بیانی، غیبت، بے مقصد تبصرے، فضول تفریح، موبائل دیکھنے کی عادت، طنز و تمسخر اور بے مقصد گفتگو پر قابو پا سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی کم کھائیں اور کچھ وقت خاموشی اور تنہائی میں اپنے ساتھ گزاریں، راتوں کو تھوڑا سا قیام کریں، قرآن پڑھیں اور سمجھیں، اپنا کڑا احتساب کریں اور دعائیں مانگیں تو شاید ہمارا معاشرہ بہت سی بدتمیزیوں اور اخلاقی زوال سے بچ سکے۔
زکوٰۃ و خیرات کا بے ہنگم سلسلہ اور راشن مہمات ٹرینڈ
رمضان سے جڑا ایک اور نمایاں مسئلہ صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کی صورتوں میں پیدا ہونے والا بگاڑ ہے۔ زکوٰۃ اور انفاق کی ترغیب دراصل معاشروں کے لیے خدا کی طرف سے ایسی رحمت بن سکتی ہے کہ پست ترین معاشرہ بھی اگر اس حکم پر صحیح شعور اور حکمت کے ساتھ عمل کرے تو اٹھ کھڑا ہو۔ مگر جب انفاق کے مقاصد پیٹ کی فوری ضروریات، مادی آسائشوں اور فوری تعریف و تسکین تک محدود ہو جائیں تو بلند تر مقاصد کے لیے خرچ کرنے کا تصور ہی ذہنوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جو طبقہ پہلے محدود وسائل کے باعث سادہ زندگی گزار کر اصل معنوں میں روزے کی مشقت برداشت کرتا تھا، وہ بھی اب اپنا بہت سا وقت پورا مہینہ جاری رہنے والی راشن مہمات کی دوڑ میں سرگرداں رہتا ہے۔
لوگوں کو سمجھائیں تو کہتے ہیں کہ روٹی کپڑا ضروری ہے اور آخر اس مہینے میں لوگوں کو رزق بانٹنے کا زیادہ ثواب ہے۔ اور کیا کریں ہم؟ اپنے زیادہ ثواب کے چکر میں ہم رمضان کی روح پامال کرتے جا رہے ہیں۔ یہی تو دھوکا ہے شیطان کا، جس کے بارے میں اللہ نے اپنی کتاب میں ابلیس کے ہتھکنڈوں کو بیان کر دیا ہے:
> وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ
’’شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا۔‘‘ (النمل: 24)
سوچیے کہ ہم نے کیوں نہیں خود کو منظم کرنے یا کسی متبادل کا سوچا؟
مردہ و مفاد پرست حکومتیں اگر کوئی اقدام نہ بھی کریں تو اہلِ علم اور اہلِ فراست ایسا اقدام کر سکتے ہیں کہ مخیر حضرات اور منظم سوچ رکھنے والے افراد (چند ایکسپرٹ لاجسٹیشنز) کے ساتھ مل کر کسی کمیونٹی سطح کے منظم مالی نظام یا چھوٹے مگر باقاعدہ معاشی ماڈل کی بنیاد رکھ دیں تو بہت سا سرمایہ بار بار مانگنے والوں یا عدم اعتماد والے اداروں کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچ جائے۔ چھوٹے مگر منظم مالی ڈھانچے، خواہ وہ کمیونٹی فنڈز ہوں، تعلیمی معاونت کے نظام ہوں یا ہنر کی تربیت کے پروگرام، اللہ کے حکم پر عمل کے ساتھ ساتھ گردشِ زر اور منصفانہ تقسیمِ دولت کے مؤثر مواقع پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مگر جب انفاق کا عمل بے ہنگم اور غیر منظم ہو جائے تو اس کے اثرات بالکل مختلف ہو جاتے ہیں۔ محدود آمدنی رکھنے والے افراد تعلیم، ہنر اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع تلاش کرنے کے بجائے صدقہ و زکوٰۃ تقسیم کرنے والے گھروں کے پتے ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ یوں وہ ایک ایسے خیراتی نظام کے حصہ دار بنتے جا رہے ہیں جو نہ انہیں خودمختار بناتا ہے اور نہ معاشرے کو مضبوط۔ اس صورتِ حال کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ مسکین خاندانوں کی بچی کھچی عزتِ نفس متاثر ہوتی جا رہی ہے اور معاشرے میں انحصار (dependency) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
ہم اپنی صدقات کی عبادت پر مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر اجتماعی تدبر کے فقدان کے باعث یہ احساس کم ہی ہوتا ہے کہ کہیں ہم خود ہی ایک شارٹ کٹ ذہنیت کو پروان تو نہیں چڑھا رہے۔ سب تو یہ ہے کہ جب فوری ضرورتوں کی تسکین ہی اصل مقصد بن جائے تو لوگ اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی لمبی جدوجہد سے بتدریج دور ہونے لگتے ہیں۔ یوں غربا اس نظام سے نکلنے کے بجائے اس کے مستقل حصہ دار بنتے چلے جاتے ہیں۔
زکوٰۃ و صدقات کی یہی بے ترتیب تقسیم ان لوگوں کے لیے بھی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے جو محنت، تعلیم اور طویل المدت منصوبوں کے ذریعے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ مخیر حضرات کی کمی نہیں، مگر ہمارے معاشرے میں غریب کو کھانا کھلانا یا کسی بیوہ کی بیٹی کو جہیز دینا بڑی نیکی سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، اپنی اور دوسروں کو تعلیم و تربیت پر خرچ کرنا، اعلیٰ کردار کی تعمیر اور صلاحیتوں کا حصول اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔
اسی کا تو نتیجہ ہے کہ صدقہ و زکوٰۃ کے نام پر ہونے والا انفاق فی سبیل اللہ نہ تو تعلیمی و تربیتی منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے، نہ تحقیق و ریسرچ کے اداروں پر، نہ ایسے اداروں اور افراد کی تقویت پر جو معاشرے کے لیے طویل المدت وژن رکھتے ہیں۔ وسیع النظر اور دوراندیش لوگوں کی معاونت کے بجائے زیادہ تر وسائل ان سرگرمیوں پر صرف ہو جاتے ہیں جو وقتی اور سطحی اطمینان تو دے دیتی ہیں مگر معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کرتیں۔
امیروں کی تجوریوں کے منہ کھلتے بھی ہیں تو پرتکلف افطار کے ڈبے بانٹنے کے لیے، لمبے دسترخوانوں کو سجانے، راشن پیکجز کی تقسیم اور مساجد میں افطاریوں کی نمائش وغیرہ کے لیے۔ چند امراء تو نام کے فلاحی اداروں میں راشن، پانی کی تقسیم کی تقریب کر کے بعد ازاں اُن تصاویر و ویڈیوز کی تشہیر سے مزید چندے، فطرانے اور چیریٹی بٹور کر ذاتی جیبیں بھرتے ہیں۔ کچھ اور اہلِ ثروت بیواؤں کی مدد کرتے ہیں یا کسی یتیم کی کفالت، مگر یہ سب انفرادی حیثیت ہی میں ہوتا ہے۔
یہ سب یقیناً بامعنی کام ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام صرف رمضان ہی کے محتاج ہیں؟ کیا ان اقدامات کا انجام افراد کو خودمختار بنانے میں نکلے گا یا ایک پورے معاشرے کو مستقل محتاجی کی طرف دھکیل دے گا؟
نیک اعمال کا جھانسا اور شیطان کا دھوکا
ہمیں چوکنا ہونا چاہیے کہ شیطان بہت بڑے گناہ بھی نیکی کے خوبصورت لبادے میں کراتا ہے۔ شرک کی ابتدا بہت نیک تصور سے ہوئی۔ بیواؤں کے مہر میں زیادتی بڑے نیک مقصد سے شروع ہوئی۔ اسی طرح آپ پورے رمضان کی سرگرمیوں کا جذباتی ہوئے بغیر ہوشمندی سے جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہم اجر و ثواب کے ایسے فریب میں مبتلا ہیں، جس سے نکلنا امرِ محال لگتا ہے۔
سچ کہوں تو یہ خوشنما عبادتوں کا دھوکا، عالمی جنگوں کے مسلط ہونے سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ تخریبی جنگیں اللہ کی رضا پانے اور اجر کی امید سے نہیں شروع کی جاتیں، اسی لیے ان کی شناعت واضح ہوتی ہے اور ختم ہونے کا امکان بھی۔ مگر رمضان کے یہ سب اعمال، پُرتکلف افطاریاں، راشن پیکجز، سستے بازار اور پاروں کی دوڑ کو نیکی کی خوبصورت آڑ میسر ہے، اور یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ رمضان المبارک میں کیے جانے والے سارے اعمال بظاہر نیکی کے ہیں مگر رمضان کی روح اور اصل مقصد سے بہت دور لے جانے والے ہیں۔ مگر انسان سوءِ فہم کا شکار ہوتا ہے کہ گویا ہم نیکی کر رہے ہیں۔
سورۂ حدید میں ایک گروہ کے بارے میں فرمایا:
وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
“اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا، اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا دینے والے (شیطان) نے مبتلائے فریب ہی رکھا۔”
ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ہو سکتا ہے ہمیں محسوس ہو کہ رمضان کی ساری رونقیں اور رسوم، افطار کے دسترخوان، تراویح کی گنتی، صدقات کی نمائش، کہیں نہ کہیں ہمیں اصل مقصد سے دور لے جا رہی ہیں۔
اور اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی سے باز رہنا ہوگا۔
نمازِ تراویح اور قلتِ تدبر
رمضان وہ مہینہ ہے جس کی اصل اہمیت قرآن سے تعلق میں ہے، تنہائی میں غور و فکر، تدبر اور اعتکاف میں۔
قرآن خود اس کی بنیاد یوں بیان کرتا ہے:
> شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
> “رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔”
(البقرۃ: 185)
اسی مہینے کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
> “جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اور فرمایا:
> مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَّدَمَ مِنْ ذَنْبِهِ
> “جس نے رمضان میں قیام (رات کی عبادت) ایمان اور احتساب کے ساتھ کیا، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ایمان اور احتساب
ہمیں بچوں کو روزہ رکھوانے کی بڑی جلدی ہوتی ہے، لیکن قبولیت کے اصل معیارات کی تربیت نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں۔ تو ایمان و احتساب کیا ہیں؟
“احتساب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کو کٹہرے میں کھڑا کرے، اپنے ارادوں اور محرکات کو پرکھے، اپنی خرابیوں کو پہچانے اور ندامت کے ساتھ اصلاح کی طرف بڑھے۔ قیام اللیل صرف کھڑے رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ کے حضور جھکنے کا نام ہے۔”
مگر اسی مہینے میں ہم نے کیسا منظر بنا لیا ہے؟
ہر طرف سوشل میل جول، دعوتیں، اجتماعات۔ ان سب کے لیے آیات بھی پیش کی جاتی ہیں کہ صلہ رحمی تو مطلوب ہے۔ یقیناً مطلوب ہے، مگر رمضان اصل میں مجاہدۂ نفس کا مہینہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی لغو بات کرے تو ہدایت یہ ہے کہ وقت ضائع نہ کرو بلکہ کہہ دو:
> إِنِّي صَائِمٌ
“میں روزے سے ہوں۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
گویا روزہ انسان کو اپنے اندر کی تعمیر اور تفکر کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں تو عبادت کے نام پر ایک اور ہجوم برپا ہو جاتا ہے۔ دن میں اداروں میں دورۂ قرآن کے نام پر ترجمے کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ آیات گزر جاتی ہیں مگر دل تک نہیں پہنچتیں۔ رات کو تراویح کی گہما گہمی سے مسجدیں روشن ہوتی ہیں۔ اب خواتین بھی ان نورانی محفلوں میں شریک ہوتی ہیں۔ صاف ستھرے لباس، دوستوں سے ملاقاتیں، تراویح کے وقفوں میں چائے اور افطار آئٹمز کے ساتھ، دن بھر کی مصروفیات کی گپ شپ۔۔۔ عورتوں اور بچوں کے لیے خاصی اچھی ایکٹیوٹی ہے مگر صیام و قیام کے نام پر نہیں۔ پھر راتوں میں رمضان نشریات کے چرچے، بازاروں میں برانڈز اور پراڈکٹس پر رمضان سیلز اور لوگوں کا جمِ غفیر۔ لہٰذا ایک سوال دل میں ابھرنا چاہیے: ان تراویح اور نوافل میں تدبر کتنا ہے؟
قرآن کی آیات بجلی کی رفتار سے گزر جاتی ہیں۔ ہم سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ ہم کھڑے رہتے ہیں مگر دل کہیں اور ہوتا ہے۔ تعداد بڑھتی ہے مگر کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ حالانکہ قرآن ایمان والوں کی ایک علامت یوں بیان کرتا ہے:
> وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا
“اور جب انہیں ان کے رب کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔” (الفرقان: 73)
تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا ہم نے واقعی رمضان میں عبادت کی ہے، یا صرف عبادت کی رونقیں پیدا کی ہیں؟
مگر قرآن ہمیں ایک اور حقیقت بھی بتاتا ہے:
> وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ
“شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا۔” (النمل: 24)
سوچیے! اگر شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار یہی ہو کہ وہ ہمارے اعمال کو خوب صورت بنا دے تو؟ پھر ہمیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوگا کہ ہم غلطی کر رہے ہیں۔ ہم سمجھیں گے کہ ہم عبادت کر رہے ہیں، حالانکہ ہم اصل مقصد سے دور جا رہے ہوں گے۔
اور یہی تو شیطان کا دعویٰ تھا۔ اب ذرا اپنے اردگرد دیکھیے، کیا ہم واقعی اس دعوے کا نشانہ نہیں بن چکے؟ اور اگر ایسا ہے،
تو شاید شیطان کا وہ دعویٰ آج ہمارے معاشرے کی گلی گلی میں سچ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
> وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ
> “میں انہیں گمراہ بھی کروں گا اور جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا بھی کروں گا۔”
(النساء: 119)