مواد پر جائیں

رجا: جب امید بن کر نمودار ہوئی

نعیم احمد بلوچ اردو

ایک باپ کی اپنی بیٹی کی رخصتی پر دل سے نکلی تحریر: بیٹی کے بچپن سے لے کر رخصتی تک کا دل نواز حال

یہ آج سے تیس برس پہلے کی بات ہے۔ میں بھی عام مردوں کی طرح بیٹیوں کی پیدائش کو اللہ کی رضا سمجھ کر مجبوراً قبول کرتا اور بیٹوں کی ولادت کو اللہ کی خصوصی نعمت سمجھتا تھا۔ اس لیے ’’اولادِ نرینہ‘‘ ہی کی دعا کرتا۔ مگر اللہ نے پہلی اولاد کے طور پر بیٹی عنایت کی اور صبا گھر کی رونق ٹھہری۔ خوشی لاریب ہوئی کہ صاحبِ اولاد ہو گیا، لیکن ایک گونا محرومی ضرور محسوس کی۔ دوسرے بچے کی تمہید بندھی تو بیٹے کی شدید خواہش دن رات کی دعاؤں میں ڈھل گئی۔ اور جب معمول کے طبی معائنے کے دوران میں بیگم کے اس سوال کو ڈاکٹر نے نظر انداز کر دیا کہ لڑکا ہے یا لڑکی، تو میں سمجھ گیا کہ بیٹے کی تمنا اس دفعہ بھی آسودۂ خاطر نہیں ہوگی۔

میں نے کسی طرح اہلیہ کو تو جھوٹی تسلی دلا دی، لیکن خود کو اللہ سے شکوہ کناں پایا۔ اندرونی کیفیت پر قابو پانا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ اور یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ مطالعے کے دوران میں مجھے سورۂ آلِ عمران کی ان آیات کی تلاوت کرنے کا موقع ملا جنہوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ میں جیسے جیسے ان آیات کو پڑھ رہا تھا، میرے جسم میں سنسنی کی ایک لہر گہری ہوتی جا رہی تھی۔ بے اختیار اپنی کج فہمی اور کوتاہ نظری پر افسوس اور دل معافی کی دعا سے معمور ہونے لگا۔

پروردگار نے ان آیات میں حضرت مریمؑ کی والدہ (حنہ خاتون) کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے منت مانی تھی کہ بیٹا ہوا تو اسے اللہ کی خدمت میں وقف کر دیں گی۔ لیکن ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ انہیں خاصی مایوسی ہوئی۔ بولیں:

پروردگار! یہ تو بیٹی ہے، بیٹے کی طرح تو نہیں کہ تیرے حضور پیش کروں۔ ان کے خیال میں لڑکیوں کا یہ مقام کہاں کہ وہ اللہ کے گھر کی خدمت کی اہل ہوں۔ مگر وہ تو پروردگار ہے، اس نے سب سے پہلے اس بات کی عملی نفی کی کہ اللہ صرف مردوں ہی کو وحی کرتا ہے، اس کے نزدیک وحی کے لیے اس نے مرد اور عورت کی تفریق روا نہیں رکھی۔ چنانچہ اپنے فرشتے کے ذریعے سے وحی کی اور فرمایا، مجھے لڑکا نہیں، یہ لڑکی مریم ہی قبول ہے۔ تم اسے ہی میری خدمت کے لیے وقف کر دو۔ گویا بتا دیا کہ میں نے کب کہا ہے کہ اللہ کے دین کی خدمت صرف مرد ہی کر سکتا ہے۔ مجھے عورت بھی قبول ہے۔ اور تمہاری بیٹی سے اللہ کو جو خدمت چاہیے، وہ مرد کی طاقت اور صلاحیت سے باہر ہے، اس کے لیے لڑکی ہی چاہیے۔ اس لیے تمہیں لڑکی ہی دی ہے۔ اسے اس کے خالو زکریا نبی کی تربیت میں دینا۔ اللہ اس سے عظیم خدمت لے گا۔

اور مجھے پہلی دفعہ شعوری طور پر معلوم ہو رہا تھا کہ بیٹا یا بیٹی، جو بھی ہو، انسان کی خواہش سے نہیں اللہ کی مشیت سے پیدا ہوتے ہیں۔ (مذہب پر یقین نہ رکھنے والے دوست، ہو سکتا ہے آج کے انسان کی اس صلاحیت کو پیش کریں کہ وہ اب اس پر قدرت رکھتا ہے کہ چاہے تو بیٹی کا انتخاب کر لے یا بیٹے کا، لیکن عرض ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی مشیت کی خلاف ورزی کا اختیار دے رکھا ہے۔ آپ بے شک اپنی ذمہ داری پر ایسا کر سکتے ہیں۔) اس لیے اللہ کے ماننے والوں کو یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ بیٹی کے الہامی فیصلے پر محرومی یا تنگی محسوس کریں۔ بیٹی کا فیصلہ ہے تو یہ یقین کر لے کہ یہی اس کے لیے بہترین ہے۔ بیٹے اگر ناگزیر نعمت ہوتے اور بیٹیاں یقینی طور پر زحمت ہوتیں تو اللہ اپنے سب سے پسندیدہ انسان محمد ﷺ بن عبداللہ کو بیٹوں کے بجائے بیٹیاں عنایت نہ کرتا۔ یوں میرے بھیجے میں پہلی دفعہ یہ بات پڑی کہ بیٹی کی پیدائش پر افسوس اور محرومی کا اظہار یقیناً کوتاہ نظری بھی ہے اور حماقت بھی۔

لیکن مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب میری دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا کس بے قدری اور بے بسی سے استقبال کیا گیا۔ میری نظروں میں ددھیال اور ننھیال دونوں کی خواتین کے اترے اور نچڑے چہرے گھوم جاتے ہیں جس پر مجھے بہت غصہ آ رہا تھا مگر میں اس خبر کے لیے تیار بھی تھا اور بہت حد تک مطمئن بھی۔ شاید خواتین کے اس رد عمل کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ یہ اپنے چار کزنوں کے درمیان پیدا ہونے والی واحد لڑکی تھی۔ اسی لیے صبا کا نام تو بڑے مشوروں کے بعد اس کے دادا نے خود رکھا لیکن اب کسی کو کوئی پروا نہ تھی۔ یہ دوسرا دن تھا کہ کسی نے پوچھنے پر توجہ دلائی کہ “بیم و رجا” میں “رجا” بھی ایک نام ہو سکتا ہے۔ مجھے یہ نام اتنا اچھا اور منفرد لگا کہ بڑی خوشی سے اسے یہ نام دے دیا۔ میرا اطمینان اور خوشی دیکھ کر اسی وقت ننھیال نے اعلان کر دیا کہ “رجا تو ابو کی بیٹی ہے!” اور رجا پھر ابو ہی کی بیٹی بنی۔ سب

سے زیادہ وہ مجھ ہی سے مانوس رہی ہے۔ اگرچہ چند ہفتوں ہی کے بعد اس نے مجھے الطاف حسین حالی کی نظم ’’چپ کی داد‘‘ یاد دلا دی جو کسی زمانے میں حصۂ نصاب تھی، اور رجا اس کی مجسم تصویر تھی:

> آتی ہو اکثر بے طلب، دنیا میں جب آتی ہو تم

پر موہنی سے اپنی یہاں، گھر بھر میں چھا جاتی ہو تم

شاید اسے بھی اس کا احساس ہو چکا تھا، اس لیے چند ہفتوں ہی کی عمر میں جب میں اس کے کمرے میں داخل ہوتا تو اس کی نظریں مجھ پر ٹک جاتیں، اور وہ فیڈر کی اوٹ سے مجھے دیکھ کر مسکراتی۔ میں کمرے سے باہر نکلتا تو اس کی والدہ ناصرہ بیگم حیرت سے کہتیں کہ دیکھیں، اب بھی آپ ہی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ صبا نے محبت پہلی بیٹی ہوتے ہوئے سمیٹی تو رجا نے اپنی پیاری باتوں، ذہین عادتوں اور چلبلی حرکتوں سے کمائی۔

ذرا شعور سنبھالا تو مجھ سے کہانی سننے کی عادت میں صبا سے بھی بازی لے گئی۔ کچھ برس تو بھیڑیا اور چڑیا کی کہانی اس باقاعدگی سے سنی کہ میں سناتے ہوئے سو بھی جاتا تو خودبخود رٹے رٹائے الفاظ منہ سے نکلتے رہتے۔ کہانی سننے سنانے کا یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ آٹھویں کلاس تک جاری رہا۔ شروع میں دنیا کے سارے ظالم، خوب صورت، حیرت انگیز اور شرارتی جانور، کلاسیکی اور لوک کہانیوں کے اودھم مچانے والے سبھی کردار اس کی دنیا کا حصہ بنے۔

پھر پیغمبروں کی سچی کہانیوں سے لے کر میری لکھی ہوئی ساری کہانیاں، سب ختم ہو گئیں۔ میں نے لطیفوں کو کھینچ کر کہانیاں بنانا شروع کر دیں، بچپن کے واقعات کی کھچڑی بنا کر سنا ڈالا، اپنے تخیل کی ساری وادیاں کھوج ڈالیں مگر رجا کی کہانی سے محبت تشنہ ہی رہی۔ اس معاملے میں اس کی یادداشت کمال کی تھی۔ کہانی کے پہلے جملے ہی کو اچک کر بتا دیتی کہ سنی ہوئی ہے، نئی سنائیں۔ وہ صرف مزاحیہ کہانی ہی بار بار سننا پسند کرتی۔ اور بے چاری صبا کو بھی یہ سننی پڑتی۔ بڑھاپے والی کہانی تو شاید سینکڑوں دفعہ سنی ہو، اور شاید اب بھی سننے کا ارادہ ہو۔

اصل میں آج کے بچے اگر موبائل اور ٹیبلیٹ کے رسیا ہیں تو اس کے لیے ’’ابو‘‘ ہی موبائل تھے۔ وہی گھوڑا اور وہی جھولا، وہی کمپیوٹر گیمز تھے۔ میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ میری بڑی دونوں بیٹیوں کی شاندار شخصیت میں اس چیز کا بنیادی کردار ہے۔

رجا کی شرارتیں، فرمایشیں اور سوالات بڑے مختلف ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ گھر پہنچنے پر گاڑی میں سوئی ہوئی ’’پائی‘‘ جاتی، اور یوں ابو اسے اٹھا کر اندر لاتے۔ اکثر کمرے میں داخل ہوتے ہی قہقہہ لگاتی۔ دورانِ سفر کوئی کھانے کی چیز لینی ہوتی تو پاس گزرتے ہوئے ’’گورمے‘‘ قسم کے اسٹورز کو کہتی: ’’بائے بائے گورمے، مس یو!‘‘ سوالات اس قدر کرتی کہ خدا کی پناہ، مگر اس میں ندرت ہوتی۔ اسے اللہ تعالیٰ کی ’’لمبائی چوڑائی‘‘ جاننے کا بہت شوق تھا، کیونکہ اس کا ’’بہت بڑا ہونا‘‘ اس کے کچھ پلے نہ پڑتا۔ ایک دفعہ ماڈل ٹاؤن سے کنال روڈ پر چڑھے اور جلو پارک جاتے ہوئے کنال روڈ ہی پر رہے۔ جب گاڑی کئی کلومیٹر سفر کرتی ہوئی اس روڈ کو چھوڑ کر پارک کی طرف مڑی تو بولی: ’’ابو، کیا اللہ تعالیٰ اس نہر سے بھی لمبے ہیں؟‘‘

دوسرے اس کے سوالوں سے بہت زچ ہوتے اور اکثر اسے ڈانٹ بھی پڑتی، اس لیے میں ہی اس کا وکی پیڈیا اور گوگل تھا۔ اس کا یہ سوال تو شاید اب بھی تشنۂ جواب ہو کہ آخر اللہ کو کیا سوجھی کہ اس نے انسان کو بنایا؟ اور یہ عادت تو آج بھی برقرار ہے کہ گھر آ کر ماں باپ یا جو بھی اپنا سامنے ہو، اسے اسکول کی ساری کہانی، ساری بپتا، ساری روداد سنانی ہے، پھر کالج پہنچی تو کالج کی، یونیورسٹی پہنچی تو اس کی اور دفتر پہنچی تو اس کی بھی۔ [اس لیے بیٹے ولید، تیار ہو جاؤ]

اس کی گپ شپ اور سوالوں کی بہتات کو دیکھتے ہوئے صبا نے اسے کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ اگر میں اکیلے کہیں جا رہا ہوں تو وہ گاڑی میں میرے ساتھ جائے۔ اور یہ عادت اس وقت بھی نہ چھوٹی جب یہ اللہ مارے موبائل مردود، معاشرتی زندگی کی متعدد خوشیوں کے ڈاکو اور دورِ جدید کی ناگزیر ضرورت بنے۔ اس نے موبائل سیکنڈ ایئر میں لیا اور اسے بہت تمیز اور حدود میں رہ کر استعمال کیا۔ والدین کو صبا اور رجا دونوں نے کبھی یہ پچھتانے کا موقع نہ دیا کہ کاش نہ لے کر دیا ہوتا۔

امی ابو کی لڑائی میں وہ ہمیشہ غیر جانب دار رہتی۔ اس کا موقف ہے کہ والدین میں لڑائی ہونی ہی نہیں چاہیے، اگر ہوتی ہے تو اسے بچوں کے علم میں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو والدین دونوں ذمہ دار ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ وہ لڑے ہیں تو پھر اس کے ذمہ دار بھی ہیں۔ چنانچہ اس معاملے میں اس نے کبھی میری یک طرفہ حمایت نہیں کی۔ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد جب اسے سوتیلی ماں کے ساتھ رہنا پڑا تو تب بھی اس کی یہی رائے اور یہی عملی رویہ رہا۔

میں ذاتی طور پر اپنے بچوں کو پورا حق دیتا ہوں کہ وہ مجھ پر تنقید کریں اور میری رائے سے اختلاف رکھیں۔ چنانچہ ایسا کئی دفعہ ہوا کہ اس نے میرے مقابلے میں زیبا کی حمایت کی اور میرے رویے پر تنقید کی۔ [اس حوالے سے اس کی بڑی

بہن صبا کا بھی یہی رویہ رہا۔] میری دعا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بارے میں اس شان دار اور صائب رائے پر قائم رہے۔

کیونکہ بچوں کے لیے گھر تب محفوظ جنت ہے جب والدین اپنی لڑائی کو بھی اپنی پرائیویسی کا حصہ بناتے ہیں۔

وہ سائنس کی طالبہ ہے اور الیکٹرک انجینئر، لیکن اس کا لٹریچر سے لگاؤ میرے لیے بہت اطمینان کا باعث بنا۔ اس میں لکھنے کی صلاحیت دیکھ کر اسے میں نے ایک آئیڈیا دیا کہ وہ روزنامہ جناح کے بچوں کے ہفتہ وار میگزین ’’فرینڈز‘‘ میں کارٹون پروفائل لکھے۔ اسے کارٹون دیکھنے کا شوق نہیں، خبط تھا۔ یوں اس نے معروف کرداروں کے پروفائل لکھے۔ اسے یہ ایک بور کام لگا تو میں نے کہا کہ اسے اخبار والے ایک پروفائل لکھنے کا سو روپے معاوضہ دیں گے۔

وہ ہماری [میں ان دنوں روزنامہ جناح میں شعبۂ میگزین کا انچارج تھا] ’’پیڈ رائٹر‘‘ ہوگی اور اسے باقاعدہ کارڈ بھی ایشو کیا جائے گا۔ تب اس کی دلچسپی قائم ہوگئی، لیکن جب بہت بعد میں میں نے یہ راز افشا کیا کہ وہ سو روپے اسے میں دیتا تھا تو بہت مایوس ہوئی۔ لیکن اس کی لکھنے کی صلاحیت پختہ ہوگئی۔ اب وہ ایک کامیاب کانٹنٹ رائٹر بھی ہے۔ (چھ برس پہلے) اور اس نے میرے ساتھ یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ میرے ناول کے پراجیکٹ ’’دی برج‘‘ کی معاون مصنفہ ہوگی۔ [اس ناول پر تحقیقی کام شروع ہے، موجودہ زیرِ تصنیف پراجیکٹ ’’صبح کا ستارہ‘‘ کے مکمل ہونے سے اسکرپٹ لکھنے کا آغاز ہو جائے گا۔ اِن شاء اللہ]

میرا اس کے بارے میں یہی خیال تھا کہ وہ انگلش لٹریچر کو اپنا مستقبل بنائے، مگر جب اسے فاسٹ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تو مسائل کے باوجود میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس نے بڑی چابک دستی اور ذہانت سے اپنی ڈگری مکمل کی اور رزلٹ آنے سے پہلے ہی ایک باوقار ادارے میں ایسی جاب حاصل کر لی جو کم از کم ایک برس کے تجربے کے بعد ہی مل سکتی تھی۔

پچھلے برس جولائی کی بات ہے کہ اس نے گھر آ کر میری مسز زیبا کو حسبِ عادت دفتر کی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ [آنٹی، دونوں اپنی سوتیلی والدہ کو آنٹی کہتی ہیں] آج عجیب بات ہوئی۔ وہ ولید ہے نا، جس کے بارے میں آپ کو بتاتی رہتی ہوں کہ ہم لڑکیوں کو اس کی ٹنگ کا کھانا بہت پسند ہے، اس نے نئی کمپنی جوائن کر لی ہے۔ آج اس کی فیئر ویل پارٹی تھی۔ لیکن ساتھ ہی اس نے عجیب بات کی ہے۔ جاتے ہوئے مجھے کہا کہ اگر تمہیں برا نہ لگے تو تمہارے گھر اپنے والدین کو بھیجنا چاہتا ہوں۔

زیبا نے مجھ سے بات کی تو ہم دونوں نے پہلے ولید کو جاننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اسے دفتر بلا لیا۔ اتنی بات تو واضح تھی کہ اگر رجا کو اس کا پوچھنا برا لگتا تو وہ گھر آ کر بالکل ذکر نہ کرتی۔ وہ سہیلیاں بنانے میں بھی خاصی محتاط رہی ہے۔ اپنے

مزاج اور دوسرے کی عادات کا خاص خیال رکھتی ہے اور پھر دوستی نبھاتی بھی ہے۔ اسکول سے اس کی دو سہیلیاں ہیں، انیقہ اور غنوہ۔ پھر کالج سے عائزہ اور یونیورسٹی سے غوثیہ۔ سبھی گھر آتی رہی ہیں، بہت سلجھی بچیاں ہیں۔ اور آخر میں رجا نے وہ بات کر دی کہ میرا سر فخر سے بلند اور آنکھیں تشکر سے بھیگ گئیں۔ اس نے کہا:

“ابو، میں نے اسے بہت صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے … آپ کے جذبات جو بھی ہیں، اصل اور آخری فیصلہ میرے والد کا ہوگا۔ یہ ذہن میں رکھیں۔”

یہ میرے لیے انتہائی اطمینان کی بات تھی کہ اس نے میری اس رائے اور پالیسی کو درست ثابت کیا ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت کی جائے اور ان کو نیک و بد کی تمیز سکھلا کر بااختیار بنایا جائے تو وہ کبھی مایوس نہیں کرتے۔ اس لیے مجھے پہلے مرحلے میں بہت خوشی اور اطمینان ہوا، لیکن یہ معاملہ نازک تھا۔ میں نے ابتدائی معلومات لینے کے بعد مناسب خیال کیا کہ پہلے ولید سے مل لینا چاہیے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ وہ ایک شریف النفس لڑکا محسوس ہوا۔

میں نے پوچھا: رجا ہی کیوں؟

بولا: دماغ سے سوچتی ہے اور پھر دل کی مانتی ہے۔ یہ اس کے اور میرے درمیان قدرِ مشترک ہے۔

میں نے اسے بہت “کمپوزڈ” پایا۔ میں نے اس کی باڈی لینگویج سے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ لڑکا دل سے بول رہا ہے، تصنع نہیں ہے۔ تب میں نے یہ جانا کہ وہ مذہب بیزار ہے کہ مذہب دوست؟ وہ اس میں بھی معیار پر پورا اترا۔ آدھ گھنٹے کی یہ ملاقات اس جملے پر تمام ہوئی:

“آپ انٹرویو میں پاس ہو، والدین کو بھیجیں۔”

اس کے بعد خاندان کے باہمی مشورے اور رضامندی سے بات طے ہو گئی۔

میں نے پہلے ہی یہ اعلان کر رکھا تھا کہ ٹونٹی ٹونٹی رجا کی شادی کا برس ہوگا اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کرنے کا موقع پیدا کر دیا تھا۔ چنانچہ تیاریاں شروع ہو گئیں۔ شاپنگ میرے لیے ہمیشہ سے ایک ناپسندیدہ مشغلہ رہا ہے، خاص طور پر جس میں بھاؤ تاؤ کرنا پڑے، اور ہماری بیگم صاحبہ کو یہ اتنا ہی مرغوب۔ چنانچہ صبا کی طرح اس دفعہ بھی یہ مشکل اور انتہائی ضروری کام انھوں نے انجام دیا اور حسبِ سابق بہت خوب کیا۔ صرف شاپنگ ہی نہیں، خواتین سے متعلق کم و بیش سارے معاملات انتہائی چابک دستی اور مہارت سے انجام دیے۔ دونوں بہنیں اس دفعہ بھی ان سے بہت خوش اور مطمئن رہیں۔ ایک سوتیلی ماں کے ساتھ بچیوں کا یہ اطمینان اللہ کی خصوصی نعمت ہے۔ یقیناً اس میں دونوں طرف سے سمجھ داری اور نیک نیتی کا عمل دخل رہا ہے۔

شادی بیاہ کے معاملے میں میری یہ رائے رہی ہے کہ اسے باوقار مگر فضول خرچی سے پاک ہونا چاہیے۔ شیخ ظہیر احمد اور ان کی اہلیہ عشرت بیگم بھی اس میں ہم خیال نکلے۔ خاندانی لوگ ہیں، سب اہم امور بغیر کسی اختلافِ رائے کے کامل اتفاق سے طے ہوئے کہ منگنی کے بجائے پہلے نکاح کی تقریب ہو گی اور پھر دونوں خاندانوں کے گھر کے قریبی احباب مہندی میں شریک ہوں۔ ولیمہ اور رخصتی کی تقریب ’’شکلیمے‘‘ کی جدت سے ماخوذ ایک ہی ہوگی۔ پرنس ہال کیونکہ شیخ ظہیر صاحب کے داماد کا تھا، اس لیے اسی کا انتخاب کیا گیا اور یہ فیصلہ ایک ایسی نعمت ثابت ہوا جس کا بیان لفظوں میں نہیں ہو سکتا۔

چودہ اور پندرہ مارچ کی تاریخیں متعین تھیں اور تیرہ مارچ کو رات سات بجے کے قریب مجھے معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کے باعث بے شمار پابندیاں عائد ہو چکی ہیں اور ان میں شادی ہال بھی شامل ہیں۔ بلاشبہ یہ خبر ایک ناگہانی آفت تھی۔ گھر میں ہر کوئی سخت پریشان ہو گیا۔

میں نے عشاء کی نماز میں اللہ سے دعا کی: اے پروردگار! تو گواہ ہے جس دن صبا کی شادی سے فارغ ہوا تھا، اس دن کے بعد سے شاید ہی کوئی دن ایسا گیا ہو کہ رجا کے اس دن کے لیے دعا نہ کی ہو، بس اپنا کرم فرمانا، خیر کا معاملہ کرنا۔ دعا کے بعد یہ ذہن بنایا کہ جیسے بھی ہو، رخصتی ملتوی نہیں کی جائے گی۔ گھر پہنچا تو سب کے چہروں پر سوال تھا کہ اب کیا ہو گا؟ سب بھائی بہن اپنی فیملیز سمیت تشریف لا چکے تھے اور اب بے یقینی کی صورتِ حال سے دوچار تھے۔

مگر یہ کیفیت وقتی ثابت ہوئی۔ شیخ ظہیر صاحب کو ان کے داماد عدنان صاحب نے یقین دہانی کرا دی تھی کہ کسی بھی انتہائی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تقریب ان کے گھر میں منتقل کر دی جائے گی، جو ہال کے بالکل قریب ہی ہے۔ یوں قانون کی پابندی بھی ہوگی اور تقریب بھی۔ ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ بھی کیا کہ مہمانوں میں ممکن حد تک کمی کر دی جائے تاکہ اجتماع کم سے کم ہو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تقریب پورے وقار اور اہتمام سے منعقد ہوئی۔ بلاشبہ یہ عدنان صاحب کی خصوصی توجہ اور نگرانی سے سب کچھ بہترین طریقے سے ممکن ہوا اور اللہ نے ایک اہم فریضے کی احسن طریقے سے انجام دہی کی توفیق دی۔

رجا اپنے مزاج میں صبا سے اگرچہ مختلف ہے لیکن دونوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے جذبات کے بجائے دماغ سے کرتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہیں۔ مجھے کامل امید ہے کہ یہ عادت اور مزاج ایک کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی کی بنیاد بنے گا۔ پھر دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور تعلیم ہنر ہی نہیں، اخلاقی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اور یہ اخلاقی تربیت وہی کردار ادا کرتی ہے جو دیوار پر رنگ و روغن، لباس پر سجاوٹ و بناوٹ اور چہرے پر بناؤ سنگھار ادا

کرتا ہے۔ ان کی ڈگریاں تو ان کی فائل میں لگی رہیں گی مگر صرف ان کا رویہ اور رہنے سہنے کا سلیقہ بتائے گا کہ وہ کتنے پڑھے لکھے اور کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

زندگی کے اس اہم ترین موقعے پر ہر دولہا دلہن کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے یادگار بنایا جائے، لیکن کورونا وائرس کی وبا نے اس خواہش پر کئی قدغنیں لگا دی ہیں۔

زندگی اسی کا نام ہے۔ یہی مواقع ہوتے ہیں کہ انسان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ بااختیار ہونے کے باوجود بھی کتنا بے اختیار ہے۔ میاں بیوی کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ان کے اختیار کے راستے میں بھی معاشرے کی بنائی ہوئی کئی جائز اور ناجائز رکاوٹیں در آتی ہیں۔ عقل مند ہیں وہ جو ان ناگوار دیواروں اور رکاوٹوں سے سر پھوڑنے کے بجائے ان کا صبر اور حکمت سے سامنا کرتے ہیں۔

اس موقع پر رجا اور ولید کو یہ بات ضرور سامنے رکھنی چاہیے کہ کتنے ہی دولہا دلہن ہوں گے جن کی شادیاں شدید بدمزگیوں کا شکار ہوئی ہوں گی، لیکن وہ کتنے خوش قسمت ہیں کہ وہ کم سے کم اس سے متاثر ہوئے، ورنہ اگر وہ ایک دو ہفتے پہلے میاں بیوی ہوتے تو اور کسی سفر میں ہوتے تو کس قدر مشکل میں ہوتے۔ انھیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ کسی مشکل اور ہنگامی صورتِ حال سے دوچار نہیں ہوئے۔

دعا ہے کہ اللہ انھیں مستقبل میں بھی ہر ناگوار صورتِ حال سے محفوظ رکھے اور ان کا دامن خوشیوں سے ہمیشہ بھرا رہے۔

(رجا اور اس کے شوہر اس وقت جرمنی میں اپنی ہی فیلڈ میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ الحمد للہ)