حضور ﷺ کے صاحب زادے ابراہیمؓ کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تو صحیح مسلم میں ہے کہ ان کی والدہ، سیدہ ماریہ قبطیہؓ، کو حضور ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي مَاتَ صَغِيرًا، وَإِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ
یعنی ابراہیم کم عمری میں فوت ہوئے اور جنت میں ان کی پرورش ہو رہی ہے۔ یہ افسانہ اسی سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔
وہ رات شہر کی سب راتوں سے مختلف تھی۔ آسمان پر چاند ایسے بے نور لٹکا ہوا تھا جیسے کسی غم زدہ آنکھ میں آخری نمی بچی رہ گئی ہو، اور ہوا میں ایسی سرد خاموشی تحلیل تھی کہ در و دیوار تک سانس روکے کھڑے معلوم ہوتے تھے۔ صحن کے بیچوں بیچ رکھا ہوا مٹی کا وہ ننھا سا گملا، جس میں کبھی ایک چھوٹا سا پودا کلیاں دینے کی ضد کیا کرتا تھا، اب سوکھا پڑا تھا، جیسے گھر کے ایک کمرے میں موت نے قدم رکھا ہو اور باقی تمام چیزوں سے بھی ان کی رونق چھین لی ہو۔
زہرہ ایک ماں، مگر ایسی ماں جس کے ہاتھ کی لکیروں سے جیسے اس کا دس سالہ بیٹا اچانک مٹ گیا ہو۔ چند ہی روز پہلے تک اس گھر میں ایک آواز پھڑکتی تھی: کبھی کتابوں کے ورق پلٹنے کی، کبھی دوڑتے قدموں کی، کبھی بے ساختہ سوالوں کی، کبھی ہنسی کی۔ اب ہر طرف ایک ایسا خلا تھا جو صرف سنائی نہیں دیتا تھا، محسوس بھی ہوتا تھا۔ دروازہ کھلتا تو لگتا شاید وہ دوڑتا ہوا آئے گا؛ باورچی خانے سے برتنوں کی آواز اٹھتی تو گمان ہوتا ابھی آ کر کہے گا، “اماں، آج کھانے میں کیا ہے؟” مگر کوئی نہ آتا۔ خاموشی کسی ظالم حقیقت کی طرح اس پر مسلط رہتی۔
ایان کی عمر ابھی دس برس کی ہی تو تھی۔ نہ چہرے کی معصوم روشنی میں کوئی تغیر آیا تھا، نہ آواز کے ساز میں کوئی بھاری پن اترنے پایا تھا۔ بلوغت کی سرحد سے بہت پہلے وہ زندگی کی گلیوں سے گزرتا ہوا، ماں کے سینے میں ایک ایسا زخم رکھ کر چلا گیا تھا جو دکھتے رہتے بھی پورا محسوس نہ ہوتا تھا۔ بیماری مختصر تھی، صدمہ طویل۔ اس کی پیشانی کی حرارت، اس کی انگلیوں کی ڈھیلی پڑتی گرفت، اور پھر سفید چادر کے نیچے اس کے چہرے کی پراسرار خاموشی۔ یہ سب مناظر زہرہ کے باطن میں یوں ثبت ہو گئے تھے جیسے کسی نے آگ سے لفظ لکھ دیے ہوں۔
اس کے بعد کئی دن گزر گئے۔ دن یا رات، زہرہ کے لیے دونوں ایک جیسے تھے: جاگتی آنکھیں، خشک ہونٹ، دھڑکتا ہوا دل اور ذہن میں ایک ہی نام، ایک ہی صورت، ایک ہی پکار۔ نیند اس کی پلکوں سے ایسے روٹھ گئی تھی جیسے نیند بھی اس کے غم سے خوفزدہ ہو۔ لوگ تعزیت کے لیے آتے، صبر کی تلقین کرتے، جنت کی بات کرتے، اجر کی بات کرتے، مگر ماں کے کانوں تک الفاظ پہنچتے تو تھے، دل تک نہیں۔ وہ بس اپنے بیٹے کی وہ چھوٹی سی بنیان سینے سے لگا لیتی، کبھی اس کی کتاب کھول کر دیکھتی، کبھی بستے کی زپ کھولتی اور بند کرتی، کبھی اس کے تکیے پر چہرہ رکھ کر سسکتی رہتی۔
پھر ایک رات، جب آنسو شاید اتنے بہہ چکے تھے کہ بدن کی ساری توانائی تحلیل ہو گئی، زہرہ کو نیند آگئی۔ یہ نیند بھی عام نہ تھی، جیسے کوئی غیبی دستِ شفقت اس کی پلکوں پر اتر آیا ہو۔ پہلے پہل اسے لگا کہ وہ ایک نہایت لطیف خوشبو میں ڈوبتی جا رہی ہے۔ ایسی خوشبو جو دنیا کے کسی پھول میں نہ تھی۔ پھر اس نے دیکھا کہ وہ ایک کشادہ، روشن اور شفاف وادی میں کھڑی ہے۔ وہاں روشنی تھی، مگر سورج نہ تھا؛ ہوا تھی، مگر اس میں گرد نہ تھی؛ رنگ تھے، مگر ان میں دنیا جیسی کثافت نہ تھی۔ ہر شے ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے نور نے شکل اختیار کر لی ہو۔
وہ حیران کھڑی تھی کہ دور سے ایک آواز آئی:
“اماں!”
یہ ایک لفظ نہ تھا، صدیوں کی پیاس پر برستی ہوئی بارش تھی۔ زہرہ نے چونک کر دیکھا۔ سامنے ایان تھا۔ بالکل ویسا ہی، مگر پھر بھی ویسا نہیں۔ وہی پیشانی، وہی آنکھیں، وہی ہلکی سی مسکراہٹ، مگر اب اس کے چہرے پر ایک ایسی طمانیت تھی جو زمین والوں کے نصیب میں کم آتی ہے۔ اس کے لباس میں سفیدی تھی، مگر وہ کپڑا نہیں، جیسے روشنی کا کوئی نرم پیرہن ہو۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس گئی، اس کو سینے سے لگا لیا، اور ایسی روئی جیسے کسی نے اس کے وجود کی گرہ کھول دی ہو۔
“ایان! میرے بچے! تو کہاں چلا گیا تھا؟ مجھے کیوں چھوڑ گیا؟”
ایان نے اپنی ننھی مگر مطمئن ہتھیلیوں سے اس کے چہرے کو تھاما۔
“اماں، میں کھویا نہیں ہوں۔ میں تو یہاں ہوں۔۔۔ بہت اچھی جگہ ہوں۔ آپ کیوں اتنا روتی ہیں؟”
زہرہ نے بے یقینی سے گرد و پیش دیکھا۔
“یہ۔۔۔ یہ کہاں ہے؟”
وہ مسکرایا، اور اس کی مسکراہٹ میں کوئی پوشیدہ یقین چمکا۔
“یہ جنت کا ایک حصہ ہے، اماں۔ ہمیں یہاں رکھا گیا ہے۔ ہم سب وہ بچے ہیں جو بلوغت سے پہلے دنیا سے چلے گئے۔”
زہرہ کی نگاہیں پہلی بار پوری وادی میں پھیلیں۔ اب اسے محسوس ہوا کہ ایان کے ارد گرد صرف وہی نہیں، اور بھی بہت
سے بچے ہیں۔ کچھ لڑکے، کچھ لڑکیاں، مختلف عمروں کے، مگر سب کے چہروں پر عجب سکون تھا۔ کوئی پھولوں جیسے روشن میدان میں کھیل رہا تھا، کوئی کسی نورانی عمارت کی طرف جا رہا تھا، کوئی جھرنے کے کنارے بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا، کوئی شفاف ہواؤں میں بنتی بکھرتی تصویروں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ ان سب میں معصومیت بھی تھی اور حیرت انگیز وقار بھی، جیسے بچپن کو یہاں ابدی تکریم مل گئی ہو۔
“یہ سب؟” زہرہ نے پوچھا۔
“یہ سب وہ بچے ہیں جنہیں دنیا نے جلدی واپس بھیج دیا۔ یہ پیٹر، یہ مکیش، یہ سارہ۔۔۔” اس نے کئی نام بتائے، مختلف تہذیبوں، مختلف مذہبوں میں بچوں کے نام۔ ایان نے نرمی سے کہا:
“مگر یہاں کوئی محرومی نہیں، کوئی اندھیرا نہیں، کوئی بخار نہیں، کوئی قبر کی تنگی نہیں جیسا آپ سوچتی رہی ہیں۔ یہاں رحمت بہت وسیع ہے۔”
زہرہ نے دھیان سے دیکھا تو واقعی بچوں کے احوال یکساں نہیں تھے۔ کچھ ایسے تھے جن کے ارد گرد نعمتوں کی فراوانی زیادہ تھی، ان کے چہروں پر سرشاری زیادہ روشن تھی، جیسے ان کی دنیا زیادہ آسودہ ہو۔ کچھ اور بھی خوش تھے، مگر ان کے مراتب میں فرق جھلکتا تھا۔ ماں کے دل میں سوال اٹھا:
“میرے بچے، یہ فرق کیوں ہے؟”
ایان نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، جہاں نور کی نہریں جیسے دعا کی صورت بہہ رہی تھیں۔
“ہمیں بتایا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین دنیا میں جتنے زیادہ نیک تھے، تقویٰ اور اخلاص میں جتنے بلند تھے، ان کے بچے یہاں اتنی ہی زیادہ خوشحالی، آسودگی اور رفعت میں ہیں۔ والدین کے اعمال کا فیض یہاں تک پہنچتا ہے، اماں۔”
زہرہ کے دل پر یہ جملہ چوٹ کی طرح بھی لگا اور روشنی کی طرح بھی۔ اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کا خیال آیا۔ کتنی نمازیں سستی سے ادا کی تھیں، کتنے غصے دل میں پالے تھے، کتنی غیبتوں پر خاموش رہی تھی، کتنی بار دنیا کی الجھنوں نے اسے ذکر سے دور کیا تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اولاد محض گھر کی زینت نہیں ہوتی، وہ والدین کے اعمال کے آئینے میں بھی پلتی ہے۔ یہاں تک کہ موت کے بعد کے جہان میں بھی۔
اس نے ایان کا ہاتھ تھام لیا۔
“اور تم؟ تم کیسے ہو؟”
“میں اچھا ہوں، اماں، بہت اچھا۔ آپ کے خیال سے بھی زیادہ۔”
اس کی آواز میں ایسا سچا اطمینان تھا کہ زہرہ کی آنکھیں پھر بھیگ گئیں، مگر اس بار ان آنسوؤں میں پہلی سی ٹوٹ پھوٹ نہ تھی۔ اس نے ارد گرد دیکھا تو کئی فرشتے نور کے میناروں کی مانند دور دور کھڑے تھے۔ ان کی موجودگی میں جلال بھی تھا اور انس بھی۔ کچھ بچے ان کے ساتھ جا رہے تھے، جیسے کسی درس گاہ کی طرف۔ کچھ نہایت باریک نقشوں، روشن تختیوں، اور متحرک شبیہوں کے سامنے مصروف تھے۔ زہرہ کو تعجب ہوا۔
“یہ سب کیا کر رہے ہیں؟”
ایان کے چہرے پر خوشی کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی، جیسے اسے اپنی دنیا دکھانے کا اشتیاق ہو۔
“ہم یہاں صرف کھیلتے نہیں، سیکھتے بھی ہیں۔ ہر بچے کی ذہانت، فطانت اور ذہنی صلاحیت کے مطابق فرشتے اسے تعلیم دیتے ہیں۔ کسی کو حکمت سکھائی جاتی ہے، کسی کو حسنِ ترتیب، کسی کو تعمیر، کسی کو خدمت کے آداب، کسی کو علم کی باریکیاں، کسی کو نغمہ، کسی کو باغبانی، کسی کو نور سے اشکال بنانا، کسی کو ایسی صنعتیں جو دنیا میں لفظوں میں بھی بیان نہیں ہو سکتیں۔”
زہرہ کو یاد آیا، ایان دنیا میں بھی سوال بہت کرتا تھا۔ کبھی آسمان کیوں نیلا ہے، کبھی پرندے راستہ کیسے ڈھونڈتے ہیں، کبھی پانی کی بوند گرتی کیوں ہے۔ وہ اکثر تھک کر کہہ دیتی: “بس اب خاموش بھی ہو جاؤ!”
اور وہ ہنس دیتا۔ آج وہی بچہ ایک غیر مرئی وقار کے ساتھ بات کر رہا تھا۔
“اور یہ جو تختیاں، یہ عمارتیں، یہ سارے کام؟”
“یہ ہمارے پراجیکٹس ہیں، اماں،” ایان نے ایک نورانی ہال کی طرف اشارہ کیا۔ “ہم مختلف کاموں پر لگے ہوئے ہیں۔ کچھ بچے جنت کے باغات کی ترتیب کے نئے نمونے بناتے ہیں؛ کچھ ایسے راستوں کی آرائش سیکھتے ہیں جن سے جنتی گزریں گے؛ کچھ چشموں اور نہروں کے کناروں کی خوب صورتی میں حصہ لیتے ہیں؛ کچھ استقبال کے آداب، کچھ مہمان نوازی کے فن، کچھ آرام گاہوں کی ترتیب، کچھ علم و حکمت کی مجلسوں کے اہتمام کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں جو کچھ ہے، اس میں خدمت بھی ہے، حسن بھی، علم بھی، اور خوشی بھی۔”
زہرہ نے حیرت سے کہا:
“تم لوگ کام کرتے ہو؟”
وہ ہنسا۔
“یہ دنیا جیسا کام نہیں، اماں، جہاں تھکن ہوتی ہے، مجبوری ہوتی ہے، رزق کی فکر ہوتی ہے۔ یہاں سیکھنا بھی لطف ہے، کرنا بھی لطف ہے۔ ہر بچے کو اس کی صلاحیت اور پسند کے مطابق تربیت دی جاتی ہے۔ جب تربیت مکمل ہو جائے گی تو ہم اپنی مرضی اور پسند سے جنتیوں کی خدمت پر مامور ہوں گے۔ کوئی کسی کے لیے راحت کی چیزیں مہیا کرے گا، کوئی محفلوں کی آرائش، کوئی باغات کی نگرانی، کوئی نغمات کی ترتیب، کوئی نورانی سفروں کی رہنمائی۔ یہاں خدمت، عزت کی ایک صورت ہے، محرومی کی نہیں۔”
زہرہ نے سوچا، دنیا میں تو بچے بڑے ہو کر مستقبل کے لیے پڑھائے جاتے ہیں؟ یہاں بچے جنت کے لیے سنور رہے ہیں۔ دنیا میں تعلیم اکثر روزگار کے خوف سے جڑی ہوتی ہے؛ یہاں تعلیم، محبت، خدمت اور تکمیلِ نعمت کا نام بن گئی تھی۔ اسے پہلی بار لگا کہ شاید خدا کے ہاں کسی معصوم کا چھن جانا محض اختتام نہیں، ایک غیر مرئی ابتدا بھی ہے۔
پھر ایان اسے ایک ایسے حصے میں لے گیا جہاں نہایت نرم روشنی کے گنبدوں کے نیچے بچے حلقوں میں بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے فرشتے تھے جو کچھ سکھا رہے تھے، مگر بغیر آواز کے۔ جیسے علم یہاں لفظوں سے زیادہ نور کے ذریعے منتقل ہوتا ہو۔ کہیں نقشے بن رہے تھے، کہیں نہریں ابھر رہی تھیں، کہیں ایک بچی اپنی ہتھیلیوں سے روشنی کے پھول بنا رہی تھی، کہیں ایک لڑکا کسی آبی گزرگاہ کی ساخت ترتیب دے رہا تھا۔ سب کے چہروں پر انہماک تھا، مگر سختی نہیں تھی؛ دھیان تھا، مگر بوجھ نہیں تھا۔
“یہ سب ایک دن جنتیوں کی مدد کریں گے؟” زہرہ نے آہستہ سے پوچھا۔ “تو کیا تم جنتیوں کے ملازم ہو گے؟” زہرہ نے پہلی دفعہ فکرمندی سے پوچھا۔
“نہیں اماں، ملازم تو سارے فرشتے ہوں گے۔۔۔ ہم تو مددگار ہوں گے۔۔۔ کیا دنیا میں آپ کے حکم پر میں آپ کو پانی کا گلاس پلاتا تھا یا آپ کا کوئی کام کرتا تھا تو میں آپ کا ملازم ہوتا تھا؟”
زہرہ نے اسے زور سے سینے سے چمٹا لیا۔ پھر وہ سرگوشی کرتے ہوئے بولا:
“ہاں، اماں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب قیامت برپا ہو گی، حساب ہو گا، اور لوگ اپنے اپنے انجام کو پہنچیں گے، تو جن بچوں کے والدین جنت کے حق دار ہو جائیں گے، وہ بچے اپنے والدین کے ساتھ رہیں گے۔”
یہ سنتے ہی زہرہ کا دل زور سے دھڑکا۔
“اپنے والدین کے ساتھ؟ یعنی تم میرے ساتھ رہو گے؟”
ایان کی آنکھوں میں محبت اتر آئی۔
“اگر آپ جنت کی حق دار ہوئیں، تو ہاں، میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ ہمیں یہی بتایا گیا ہے۔ اسی لیے، اماں، آپ کو اب رونا کم اور اپنے اعمال کی فکر زیادہ کرنی چاہیے۔”
یہ جملہ ایان نے بچے کی طرح نہیں، کسی دانائی کے سفیر کی طرح کہا۔ زہرہ ساکت رہ گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ نصیحت نہیں، چیلنج ہے۔۔۔ کتنی سیدھی مگر کتنی بھاری۔۔۔ وہ لرز گئی تھی۔ ماں ہونے کے باوجود یہاں وہ سوال کرنے والی تھی اور اس کا بچہ جواب دینے والا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر اس کے دل میں ایک عجیب سوال اٹھا۔ ایک ایسا سوال جو ماں کی ممتا اور ابدیت کے تصور کے بیچ پیدا ہوتا ہے۔ اس نے ایان کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا:
“میرے بچے! کیا تم جنت میں ہمیشہ بچے ہی رہو گے؟”
ایان کے ہونٹوں پر شوخی سے بھری مسکراہٹ آئی، وہی دنیا والی، مگر اب اس میں ایک لطیف رمز بھی شامل تھی۔ اس نے ذرا سا سر ٹیڑھا کیا اور بولا:
“اماں، ساری باتیں ابھی جان لو گی؟”
زہرہ بے اختیار مسکرادی، شاید کئی دنوں میں پہلی بار۔
ایان نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
“اچھے انسان بن کر رہنا، اللہ اور بندوں کا حق ادا کرنا۔ جنت میں ملیں گے تو یہ راز بھی کھل جائے گا۔”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز میں نہ وعظ کی سختی تھی، نہ فاصلوں کی سردی؛ وہ تو گویا محبت کا ایک عہد تھا، ایک ملاقات کا وعدہ۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے گرد کی روشنی بڑھنے لگی۔ دور سے دوسرے بچوں کی آوازیں آنے لگیں، جیسے کسی درس یا کسی اجتماع کا وقت ہو۔ ایان نے پلٹ کر ایک بار پھر ماں کو دیکھا۔ اس نظر میں الوداع بھی تھا، تسلی بھی، اور ایک خاموش تاکید بھی کہ اب دنیا میں واپسی کے بعد اس کے آنسو اپنی سمت بدلیں۔
زہرہ نے گھبرا کر اسے پکڑنا چاہا۔
“نہیں، مجھے چھوڑ کر مت جاؤ! مجھے بھی ساتھ لے چلو۔”
ایان نے سرِ نفی میں ہلایا۔
“ابھی نہیں، اماں۔ آپ کا کام ابھی باقی ہے۔”
“کیا کام؟” وہ بے بسی سے بولی۔
“صبر۔ عبادت۔ اپنے آپ کو پاک کرنا۔ اور میرا انتظار اس طرح کرنا کہ جب آئیں تو شرمندہ نہ ہوں۔”
پھر منظر دھندلانے لگا۔ روشنی دھوئیں کی طرح نہیں، دعا کی طرح بلند ہوئی۔ خوشبو مدھم ہونے لگی۔ بچوں کی آوازیں دور ہوئیں۔ ایان کی صورت ایک روشن نقطے میں ڈھلی اور پھر سب کچھ اوجھل ہو گیا۔
زہرہ کی آنکھ کھل گئی۔
فجر کی اذان ہو رہی تھی۔
کمرہ وہی تھا، دیواریں وہی، چھت وہی، تکیہ وہی، مگر وہ خود وہ نہ رہی تھی جو سونے سے پہلے تھی۔ اس کے گال آنسوؤں سے تر تھے، مگر یہ آنسو ویسے نہ تھے جیسے گزری راتوں کے تھے۔ ان میں صرف ہجر کا نمک نہ تھا، امید کی مٹھاس بھی گھلی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے پہلی بار کئی دنوں بعد اپنے سینے میں ایک واضح سانس اترتی محسوس کی۔ دکھ موجود تھا، بلکہ پہلے سے زیادہ حقیقی تھا، مگر اب وہ اندھا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک رخ، ایک سمت، ایک مقصد جڑ گیا تھا۔
وہ اٹھی، وضو کیا۔ پانی جب چہرے پر پڑا تو لگا جیسے خواب کی باقی ماندہ روشنی جاگتی دنیا میں بھی اتر آئی ہو۔ جائے نماز بچھائی، تکبیر کہی، اور جب سجدے میں گئی تو اس کے لبوں سے صرف رونا نہ نکلا، ایک دعا بھی نکلی:
“اے میرے رب! اگر میرا بچہ تیرے پاس خیر و عافیت میں ہے تو مجھے بھی ایسا بنا دے کہ میں اس سے وہاں ملنے کے لائق ہو جاؤں۔ میرے صبر کو قبول کر، میری خطاؤں کو معاف کر، اور میرے بچے کو میرے لیے جدائی نہیں، ہدایت کا سبب بنا دے۔”
اس دن کے بعد گھر کی خاموشی تو کم نہ ہوئی، ایان کی کمی بھی پوری نہ ہوئی، اس کی کتابیں بھی وہی رہیں، بستر بھی ویسا ہی رہا، مگر زہرہ کے اندر ایک نئی شمع جل اٹھی۔ اب جب وہ بیٹے کی چیزیں دیکھتی تو صرف یہ نہیں سوچتی کہ وہ نہیں رہا، یہ بھی سوچتی کہ وہ کہیں ہے۔ ایک ایسی بستی میں جہاں معصومیت زوال نہیں پاتی، جہاں تعلیم نعمت ہے، خدمت شرف ہے، اور جہاں ایک دن ملاقات ممکن ہے، بشرطیکہ راستہ سیدھا رکھا جائے۔
لوگ کہتے تھے:
“وقت مرہم رکھ دیتا ہے۔”
مگر زہرہ جان گئی تھی کہ وقت نہیں، معنی مرہم رکھتے ہیں۔ اور اس کے غم کو اب ایک معنی مل گیا تھا۔
کبھی کبھی رات کو وہ پھر تکیے پر سر رکھتی، اور آہستہ سے کہتی:
“ایان، میں کوشش کر رہی ہوں۔”
پھر اس کے دل میں محسوس ہوتا، کہیں بہت دور، نور کے کسی باغ میں، ایک دس سالہ بچہ مسکرا کر کہہ رہا ہے:
“اماں، میں انتظار کر رہا ہوں۔”