تعارف
حمیرا رحمان 24 نومبر 1957ء کو پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان، ملتان سے کیا اور بعد ازاں لندن میں بی بی سی سے وابستہ رہیں۔ وہ اس وقت نیویارک یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو اردو زبان کی تدریس سے وابستہ ہیں اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی ایک فعال رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
حمیرا رحمان ایک ممتاز شاعرہ بھی ہیں جن کی شاعری میں ہجرت، شناخت اور احساسِ تنہائی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں „تشنگی“، „ایک سا خواب“، „اک شام میرے نام“، „نام“، „چاند کے ساحل پر“ اور „اور سرخ گلابوں کا غم“ شامل ہیں، جو ان کی فکری گہرائی اور تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔
پچھلے دنوں انہوں نے غامدی سنٹر ڈیلس میں منعقد ہونے والی ادبی محفل میں بطورِ خاص شرکت کی۔ اپنا کلام بھی سنایا۔ اس میں یہ غزل بھی شامل تھی۔ „صالحات“ کے قارئین کے لیے اسے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔
ان کا انٹرویو دیکھنے کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں:
https://youtu.be/i3f2NC6rnYg?si=5Um8ZYKZvJBKIdAX
عجیب الجھی ہوئی داستاں کا حصہ ہیں
وہاں کے ہیں ہی نہیں ہم جہاں کا حصہ ہیں
گزرتے رہتے ہیں ہر روز رائیگانی سے
ہم ایسے شعبدہ گاہِ سیاہ کا حصہ ہیں
سمجھ رہے ہیں کہ ہم ہیں مگر کہیں بھی نہیں
یقین کے شور میں وہم و گماں کا حصہ ہیں
ادھار مانگی ہے کچھ سال زندگی ہم نے
زمین پر رہتے ہوئے آسماں کا حصہ ہیں
جو تیز دھوپ میں ہیں سوچ بھی نہیں سکتے
وہ غائبانہ کسی سائبان کا حصہ ہیں
زمین بانٹی تو آنے لگے ہیں راستے میں
وہ چند بوڑھے شجر جو مکاں کا حصہ ہیں
یہ عمر ایسے تضادات میں گزاری ہے
منکرین میں ہیں اور ہاں کا حصہ ہیں
حمیرہؔ نیند نہ آنے سے آنکھ کھلنے تک
یہ خواب کیفیت درمیاں کا حصہ ہیں