یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا ﴿۱۔النساء﴾
لوگو، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا۔اور اِن دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں۔ اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور ڈرو رشتوں کے توڑنے سے۔ بے شک ، اللہ تم پر نگران ہے۔
) ترجمہ جاوید احمد غامدی (
تفسیر
اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی تدبر قرآن میں لکھتے ہیں :
اِ س آیت میں جس تقویٰ ( اللہ سے ڈرو )کی ہدایت کی گئی ہے، اُس کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ اِس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ یہ خلق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی ہے، بلکہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو سب کا خالق بھی ہے اور سب کا رب بھی۔ اِس وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اِس کو ایک بے مالک اور بے راعی(چرواہے ) کا ایک آوارہ گلہ سمجھ کر اِس میں دھاندلی مچائے اوراِس کو اپنے ظلم وتعدی کانشانہ بنائے، بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اِس کے معاملات میں انصاف اور رحم کی روش اختیار کرے ،ورنہ یاد رکھے کہ خدا بڑا زور آور ہے۔ جو اُس کی مخلوق کے معاملات میں دھاندلی مچائیں گے، وہ اُس کے غصے اورسزا سے نہ بچ سکیں گے۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ دوسری یہ کہ تمام نسل انسانی ایک ہی آدم کا گھراناہے۔ سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آدم وحوا کی نسل سے پیدا کیا ہے۔
نسل آدم ہونے کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اِس پہلو سے عربی و عجمی، سرخ و سیاہ اور افریقی وایشیائی میں کوئی فرق نہیں، سب خدا کی مخلوق اور سب آدم کی اولاد ہیں۔ خدا اور خون کا رشتہ سب کے درمیان مشترک ہے۔ اِس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کی بندگی کرنے والے اور ایک ہی مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہرومحبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر زندگی بسر کریں۔ تیسری یہ کہ جس طرح آدم تمام نسلِ انسانی کے باپ ہیں، اُسی طرح حوا تمام نسل ِانسانی کی ماں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم ہی کی جنس سے بنایا ہے، اِس وجہ سے عورت کوئی ذلیل، حقیر، کم تر اور فطری گناہ گار مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے۔ اُس کو حقیروذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اُس کو حقوق سے محروم کیا جاسکتا نہ کم زور خیال کرکے اُس کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ چوتھی یہ کہ خدا اور نسل کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون وہمدردی کا محرک رہا ہے۔ جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے کا سامنا ہوتا ہے، وہ اُس میں دوسروں سے خدا اور نسل و خاندان کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے، اِس وجہ سے اکثر حالات میں یہ موثر بھی ہوتی ہے۔ لیکن خدا اور نسل کے نام پر حق مانگنےوالے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح اِن واسطوں پر حق مانگنا حق ہے، اُسی طرح اِن کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔
جو شخص خدا اور نسل کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس ہے، لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے، وہ خدا سے دھوکا بازی اورنسل سے بے وفائی کا مجرم ہے اور اِس جرم کا ارتکاب وہی کر سکتا ہے جس کا دل تقویٰ کی روح سے خالی ہو۔
خدا اور رحم ( نسل )کے حقوق پہچاننے والے جس طرح اِن ناموں سے فائدے اٹھاتے ہیں، اُسی طرح اِن کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں اور درحقیقت حق طلبی وحق شناسی کا یہی توازن ہے جو صحیح اسلامی معاشرے کا اصلی جمال ہے۔ اس طرف “اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور ڈرو رشتوں کے توڑنے سے”کے الفاظ سے اشارہ کیا گیا ہے ۔