کسی نادیدہ عالم میں جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو آدم کی تخلیق کے منصوبے کی خبر دے رہا تھا تو ملائکہ نے عرض کی تھی کہ پروردگار اسے اختیار دے گا تو وہ بہت فساد برپا کرے گا۔ فرشتوں کا اندازہ اصول میں ہر گز غلط نہیں تھا ۔ ظاہر ہے کہ جسے زیادہ اختیار ملا تھا اسی نے زیادہ شر پھیلانا تھا۔ مرد و عورت میں یہ اختیار بعض صورتوں میں مرد کے پاس زیادہ تھا اور اسی لیے وہ عورت کے ساتھ شر انگیزی میں ہر دور میں آگے رہا ۔
وہ خدا کی تعلیم سے دور ہوا تو اس نے سب سے پہلے عورت کے مقام ہی کو بدل کر رکھ دیا۔ خدا کی مہمان گاہ یعنی ” الجنت ” میں آدم و حوا شیطان کے بہکاوے کا یکساں طور پر شکار ہوئے مگر مردوں نے الزام عورت پر دھرا اور اسے بہکانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ تمدن کی طرف سفر شروع ہوا تو پروردگار نے اسے مرد کا ساتھی اور رفیق بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن شریروں نے اسے اپنی ملکیت بنا ڈالا ۔ اسے اس کی معاشی ذمہ داری دی تو اس اختیار کی آڑ میں بے اعتدال ” قوام ” نے اسے باندی و ملازم سمجھ لیا ۔ خاص دور کے تمدن کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے مردوں کو تعدد ازواج کی اجازت دی تو ہوس کے ماروں نے اپنے اپنے حرم سجا لیے ۔ مرد عمومی طور پر جسمانی طاقت میں عورت سے بڑھ کر تھا تو وہ قوت کے نشے میں بہک کر اس کا استحصال کرنے لگا ۔ اور اس استحصال کی اتنی قسمیں ہیں کی ان کا شمار کرنا ممکن نہیں ۔
پروردگار کی ہدایت نے بار بار اس کی رہنمائی کی ۔ تاریخ رسالت کے تینوں بڑے ادوار کے آغاز میں اپنا فیصلہ اور سنت کے آثار ثبت کیے ۔ حاجرہ کو اسماعیل کی والدہ بنا کر ، ام موسیٰ یوکبد کو اپنے بیٹے کو صندوق میں ڈلوا کر ،کنواری مریم کو حاملہ کرکے مسیح کی ماں بنا کر اور خدیجہ کو آخری پیغمبر کی غم خوار و رفیق بیوی اور عائشہ کو دین کی سب سے بڑی معلمہ بنا کر یہ دکھایا کہ رسالت کا سلسلہ خواتین کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ مگر بات فرشتوں کی ثابت ہو کر رہی ۔ اختیار کے غرے میں مردوں نے عورت پر جی بھر کر حکومت کی ۔ تو وہ اسی کی گود ہی سے تھا مگر جیسے ہی وہ ارسطو افلاطون بن کر کھڑا ہوتا تو اسے کبھی پاؤ ں کی جوتی قرار دیتا کبھی ٹیڑھی پسلی ، کبھی ناقص العقل تو کبھی ادھوری انسان ۔ کبھی ازلی گناہ گار تو کبھی دجل و فریب کا استعارہ ۔ ایسے مردوں نے اس پر احسان بھی کیا تو اسے داسی بنایا۔ رنگ کائنات قرار دے کر رونق محفل بنایا ، اس کے حسن کی تعریف کی تو سر بازار نچوا کر کی۔ اپنی ہوس کی خاطر اسے جنس خریدوفروخت بنایا اور ہیرے جوہرات کی ہتھکڑیوں ، ہاروں کے طوقوں اور پازیبوں کی بیڑیوں میں جکڑ دیا۔
اللہ کا محفوظ دین آیا تو وہ بھی چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والا معاملہ ہوا۔ اس دین نے معاشرے کو اعتدال کی راہ پر ڈالا تھا مگر زمانے نے کچھ ہی کروٹیں لیں تو تعدد ازواج سے لے کر نکاح و طلاق کے مسائل تک ، گواہی سے لے کر وراثت تک ، فکرونظر کی آزادی سے لے کر اظہار پسند و ناپسند تک، اس کے استحقاق کو دبانے کی ایسی ایسی کوششیں کی کہ عورت نے کبھی زبان سی لی ، کبھی وہ خود غرض ہو کر اسی کی آلہ کار بن گئی، کہیں بغاوت پر اتر کر مظلوم سے ظالم بن گئی اور کہیں یاسیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر کر اپنے مقام و مرتبے ہی کو بھول گئی۔
مگر انسانی تمدن کی ترقی نے جہاں زندگی کے ہر میدان میں انسان کو سوچنے سمجھنے پر مجبور کیا وہاں عورت کو بھی اٹھنے کا موقع ملا ۔ وہ بھی” ستی” ہونے کے عذاب سے نکل کر برابری کے تخت کے خواب دیکھنے لگی۔ مجبور محض کی حیثیت کو قصہ پارینہ قرار دے کر اختیار و اقتدار میں حصے کا تقاضا کرنے لگی ۔ مرد کے ضمیر کو بدلے ہوئے زمانے کے تازیانے سے جگانے لگی۔
صالحات اسی سوچنے ، سمجھنے اور متحرک خواتین کی آواز ہے !
……………………………………..
اس موقع پر اس آواز کو توازن ، انصاف ، ذمہ داری کے اصولوں کے مطابق مثبت سمت دینے کے لیے کچھ لوگ آگے بڑھے ۔ اللہ کے اولین و آخری دین اسلام پر یقین رکھنے والی خواتین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی توفیق سے اس آواز میں اپنی آواز ملائیں گی اور ” صالحات ” بن کر افراط و تفریط سے بچ کر معاشرے کی ان تمام خواتین کی نمایندگی کریں گی جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ سماج میں اپنا کھویا مقام اور اپنا گہنایا ہوا تشخص اسی رب کی مقرر کردہ حدود و قیود میں رہ کر حاصل کر سکیں گی جس کی تعلیم اس نے اپنے پیغمبروں کو دی تھی۔
………………………………..
علم وعرفان، تاریخ و سماج اور شعرو ادب سمیت زندگی کے ہر میدان میں اور ہر عنوان کے تحت
” صالحات ” قارئین و سامعین کی خدمت کے عزم کے ساتھ ان کی سماعتوں اور بصارتوں کو آسودہ کرنے سر دست ہر تین ماہ کے بعد حاضر ہوا کرے گا ۔
یہ غامدی سنٹر آف لرننگ کے پلیٹ فارم کے اس احساس کا آئینہ دار ہے کہ یہ اقدام وقت کی نا گزیر ضرورت ہے ۔ اس ادارے کے نزدیک نساء المسلمین ہوں یا برصغیر کی دوسری خواتین ، ان سب کے دل و دماغ پر شعور و آگہی کی دستک دینی چاہیے ۔ اصل میں یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن اللہ کی توفیق اور اس کی عنایت کے شامل حال ہوئے بغیر یہ ممکن نہ تھا ۔ یہ ادارے کی حقیر سی کوشش ہے اور بڑے مقصد کی طرف ایک عاجزانہ قدم ۔ اللہ کی مدد و توفیق کے ساتھ ساتھ اسے قارئین و ناظرین کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی یقیناً ضرورت ہے ۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ خیر کے اس کام میں اس کی نصرت ہمیں حاصل رہے !