مواد پر جائیں

اینڈرائیڈ فون، ماسی اور ٹک ٹاک

یاسمین فرخ اردو

اینڈرائیڈ فون کی ایپس نے دنیا کو تو کیا ایسے ایسے دنیا والوں کو بدل ڈالا کہ آپ کچھ منٹوں کے لیے سکتے میں آ جاتے ہیں۔جیسے زینت آپا کی کام والی یعنی ماسی۔ جسے سابقہ کام والی کہنا چاہیے کیونکہ وہ چار سال پہلے کام چھوڑ کر چلی گئی تھی اور ان دنوں” آئی فون” لیے گھومتی نظر آتی ہے۔

جی ہاں آپ نے بالکل درست سُنا۔ اس کے پاس” آئی فون” ہی نہیں بلکہ ایک عدد سیکنڈ ہینڈ سوزوکی مہران بھی ہے ، خاصی اچھی حالت میں۔

کسی شاپنگ مال میں زینت آپا سے اپنی اس سابقہ کام والی کا آمنا سامنا ہو ا تو وہ اس کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں۔ سابقہ کام والی یعنی ماسی ایک معروف پاکستانی برینڈ کا سوٹ پہنے اور چارلس اینڈ کا بیگ پکڑے ، روبنز کی آئس کریم خرید رہی تھی۔ زینت آپا نے فوراً گھبرا کر اپنا جائزہ لیا کیونکہ وہ یونہی سبزی گوشت لینے چلی آئی تھیں۔ اس وقت وہ اپنی سابقہ کام والی یعنی ماسی کے سامنے خود ماسی لگ رہی تھیں۔

” کیسی ہو زینت؟”

جب وہ اُن کے ہاں کام کرتی تھی تو “باجی جی “کہا کرتی تھی۔

” مم، میں ،میں،تم۔۔۔ تم صائمہ ہو کیا؟”

زینت آپا ہڑ بڑائیں۔اُنہیں اس کا یہ انداز تخاطب بہت بُرا لگا۔ یعنی صرف” زینت”نہ ” جی ” اور نہ ” باجی”۔

کیسی ہو؟ بچے وچے کیسے ہیں؟” زینت آپا اس قدر بوکھلائی ہوئی تھیں کہ اس کے کسی سوال کا جواب ہی نہیں دے پا ئیں۔

شاپنگ مال سے باہر ہوئے صائمہ( سابقہ کام والی یعنی ماسی ) نے اپنی کار میں انہیں لفٹ کی بھی آفر کی۔ مگر زینت آپا کو کہاں گوارا تھا کہ سابقہ کام والی یعنی ماسی کی گاڑی میں بیٹھے، قدرے درشت لہجے میں جب انہوں نے انکار کیا تو صائمہ نے جل کر کہا:

” باجی تُسی تے مینوں ویکھ کے سڑ ای گئے ہو، کی سانوں وی چنگی زندگی جین دا حق نئیں” یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

صائمہ کی اس انقلابی معاشی تبدیلی کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے پہلے یوٹیوب بنانا تھا، جسے وہ” یائو ٹوب” کہتی تھی۔اس کے بعد ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانےکا ہنر سیکھا ۔

اکثر وہ جان پہچان والوں کو کہتی ہے کہ ” میرا سِنک(لنک) سیو کر لو تے میرے ٹُک ٹُک( ٹِک ٹاک) ویکھ کے لائق ضرو کریو جی”۔

اسے ابھی تک ” لنک ” لفظ یاد نہیں ہوا۔ سنک ہی کہتی ہے شاید اس لیے کہ سنک میں برتن دھوتے ایک عمر گزری تھی ۔یہ تو معلوم نہیں ہوا کہ اس نے ان “فنون جدیدیا “میں ملکہ کب اور کیسے حاصل کیا لیکن کیا کمال حاصل کیا۔ خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ اُس نےچار سال قبل پہلی ویڈیو ” صائمہ کی زندگی کا ایک دن” کے عنوان سے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی تھی۔ جس میں وہ دکھاتی ہےکہ وہ علی نماز فجر سے اپنے دن کا آغاز کرتی ہے، پھر قرآن مجید پڑھتی ہے۔اس کے بعد اس ویڈیو میں محنت اور امانت داری پر ایک پانچ منٹ کا بھاشن دیتی ہے. وہ بھی ایسے صوفیانہ اور پُر یقین لب و لہجے میں کہ دیکھنے والیوں نےصائمہ کو “معیارِ ماسی” بنا لیا ۔ کوئی کام والی کام کے لیے آتی تو اکثر باجیاں اس خواہش کا اظہار کرتیں کہ بس ہمیں بھی صائمہ جیسی نیک صفت کام والی چاہیے۔

زینت آپا نے سُن تو رکھا تھا کہ چار سال پہلے کام چھوڑ کر چلی جانے والی اس صائمہ نے کوئی یو ٹیوب چینل بنالیا ہے ۔ مگر اُنہیں آج سے پہلے تک یقین نہیں آتا تھا کہ نری اَن پڑھ اور بات چیت کے ڈھنگ سے قطعی نا آشنا کیسے یو ٹیوب بنا سکتی ہے ۔

” بھلا ایک کام والی کا کیا کام یو ٹیوب سے ،دو لفظ تو ڈھنگ سے ادا نہیں ہوتے “۔ انہوں نے خبر دینے والی پڑوسن کو جواب دیا مگرآج صائمہ کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر وہ تو چکرا سی گئیں۔

انہوں نے گھر آ کر سب سے پہلے اپنے فون پر صائمہ کی ویڈیوز تلاش کیں تو انہیں پہلی ویڈیو باآسانی مل گئی۔ویڈیو میں اُن کی یہ سابقہ کام والی یعنی ماسی اور موجودہ صائمہ بے حد حسین و جمیل لگ رہی تھی ۔نین نقش تو اچھے تھے ہی ، فون میں فلٹر کی سہولت نے اسے تھوڑی سی” مدھو بالا “بنا ہی دیا تھا۔

اس ویڈیو میں اتفاق سے زینت آپا کی نظر اپنے اس سوٹ پر پڑی جو اسی کام والی یعنی ماسی کے ” دور اقتدار “میں لا پتہ ہو گیا تھا اور پوچھنے پرصائمہ نے کمال معصومیت سے اس سوٹ سے لا علمی کا اظہار کر کے صاف دامن چھڑا لیا تھا۔ اپنے سوٹ کو دیکھ کر زینت آپا غصّے میں بُڑبڑائیں:

” بڑی امانت دار بنی پھرتی ہے، چور کہیں کی”۔

ویڈیو میں صائمہ جس محنت کا پرچار کرتی نظر آئی اسے دیکھ کر زینت آپا کی یاد داشتیں تڑپ کر بیدار ہو نےلگیں۔ ان کے ہاں اس نے چھ برس کام کیا تھا۔دس مرلے کی گھر کی صفائی کے لیے دس گھنٹے بھی کم ہوتے۔ سات آٹھ کپڑے دھونے کو دے دیئے جاتے تو پھر گھر کا کوئی اور کام اس دن تو کم سے کم نہ ہوتا ۔اگلے شام کی سبزی آج ہی بنوا لیں کیونکہ آلو چھیلنے اور مٹر نکالنے کے لیے پہلے ٹی وی آن ہوتا ، پھر ایک کپ چائے بنتی اور پھر ” ہم ” اور” جیو” پر نشر ہونے والے کم سے کم دو ڈراموں سے لطف اندوز ہونے کے بدلے سبزی بن کر کچن تک واپس آتی ۔

“زینت تم نے اس اللہ ماری کو بہت ڈھیل دے رکھی ہے ” ایک بار زینت کی ساس نے صائمہ کے یہ چلن دیکھ کر کہا۔

“ڈھیل نہ دوں تو کام چھوڑ کر چلی جائے گی اور دوسری اس سے بھی بڑھ کر ملے گی”۔ زینت نے جواب دیا۔

زینت آپا نے اگلی ویڈیو بعنوان ” مالکوں سے وفاداری” اوپن کی۔اس ویڈیو میں صائمہ اپنے من گھڑت تخیلاتی تجربات کی قوس قزح بکھیرتی دکھائی دی۔

” مالکوں سے وفاداری میرے اُصولوں میں سر فہرست رہی۔” صائمہ کی گفتگو شروع ہوئی۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ صائمہ نے اپنی تمام ویڈیوز کی وائس اوور بھی کسی ایسی لڑکی سے کرائی ہوئی تھی جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور اس کا لب و لہجہ خام قسم کا تھا مگر اس کی آواز میں ایسی نرمی اور مٹھاس تھی جو کسی جوگن کو بڑی تپسیا کے بعد ودیعت ہوئی ہوتی ہے، کانوں میں رس گھولنے والی۔

اور اگلے جملے نے تو ان پر گویا کھولتا پانی ہی ڈال دیا ۔ کہہ رہی تھی :

“مجھے میری وفاداری کی وجہ سے میری مالکن بہت پسند کرتی ہیں”۔ “ہونہہ !خاک پسند کرتی تھی” زینت آپا کو اب اس کی ایک اور یاد آئی ۔” اللہ ماری سارے محلے میں مجھے بدنام کرتی پھرتی رہی۔ایک بار جب مجھے قے آئی تھیں تو محلے میں بتاتی پھرتی تھی کہ ” ساڈی باجی دے ہون والا جے”۔حالانکہ مجھے میرے بڑے بیٹے کے ولیمے پر بدہضمی ہو گئی تھی۔

خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ صائمہ نے یوٹیوب سے تو تھوڑا بہت کمانا شروع کر دیا تھا لیکن اصل ریل پیل تب ہوئی جب وہ ٹک ٹاک بنانے لگی ۔آج کل اس کے ٹک ٹاک کی بڑی دھوم ہے جن کے موضوعات اس کے یو ٹیوب کے موضوعات( صوفیانہ بھاشن) سے یکسر مختلف ہیں۔ ان ٹک ٹاکس میں وہ کام والی ماسیوں کو نت نئے گُر اور ٹپس دیتی دکھائی دیتی ہے ۔چند ایک میں نے بھی دیکھے ہیں۔ جیسے:

“باجیوں کو چکمادینے کا بہترین طریقہ”، ” کام بگاڑو غصّہ نکالو “باجی کے بچوں کو کیسے ڈرا کے رکھو”،میاں بیوی کی جاسوسی کے فوائد”

مزید دیکھیں : “جس دن مہمانوں نے آنا ہو تو کاموں سے جان چھڑانے کا طریقہ”،” گھر والوں میں لگائی بجھائی” ،” چوری سینہ زوری کے ساتھ”،” باجی کا خضاب بنا عذاب”، ” گھر کا بھید باہر لے جاو ” ، ” مالک کے پرس کا درس “وغیرہ وغیرہ۔

اس کے یہ ٹک ٹاکس کام والیوں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور وہ اب انہی کی آئیڈل بھی بن چکی ہے۔ شنید ہے کہ باجیاں بھی ہوشیار ہو رہی ہیں اور اینڈرائیڈ والی ماسیوں کو تو ” نو” ہی کہہ رہی ہیں۔ اس ڈر سے کہیں صائمہ کے ٹک ٹاکس کے نسخوں کی تجربہ گاہ ان کے گھر ہی نہ بن جائے۔