مواد پر جائیں

تبصرہ و تعارف

ادارہ اردو

اس گوشے میں ہم ایسی کتاب ، فلم یاویڈیوز پر تبصرہ و تعارف پیش کریں گے جو قابل مطالعہ و مشاہدہ ہیں ۔ آپ بھی اپنی پسند کا تذکرہ کر سکتی ہیں

فلم ” مہاراج”

ہدایت کار : ملہوترا پی سدھارتھ

مصنف:سنہا ڈیسائی

کاسٹ : جنید خاں بن عامر خاں۔ جدیپ اہلوات

سکرین : نیٹ فلیکس

تبصرہ و تعارف

تاریخ گواہ ہے کہ نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے اپنے ذاتی مفاد واثر ورسوخ کے لیے مذہب کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ اختیارات کے اس غلط استعمال سے اکثر اس تقدس ، اعتماد اور تعظیم کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے جو پیروکاراپنے مذہبی رہنما پر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مذہبی متون کی من مانی تشریح کر تے ہوئےمقدس صحیفوں کی سیاق و سباق سے ہٹی ہوئی تشریحات کی جاتی ہیں ۔ اس سے پیروکاروں کو من چاہے عمل پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس میں مالی استحصال، سماجی کنٹرول ، نفسیاتی ہیرا پھیری، سیاسی اثرو رسوخ کہ جنسی استحصال بھی شامل ہے۔

مثال کے طور پر پیروکاروں اور عقیدت مندوں سے عطیات وصول کر کے بدلے میں روحانی بشارتیں یا ما فوق الفطرت کامیابیوں کی پیش کش اور وعدے کیے جاتے ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے حکمرانوں نے بھی اس

سلسلے میں لوگوں کے مذہبی جذبات ہی کا استعمال کیا ہے ۔ آمرانہ قوانین کو نافذ کرنے اور اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا شاطرانہ استعمال کیا جاتا رہا۔ اس کے لیے عوام کی جہالت ان کی سب سے بڑی مددگار ہوتی ہے ۔

تاریخ ایسے متعدد واقعات کی گواہی دیتی ہے جہاں ان مذہبی داروں نے پیروکاروں خصوصاً بچوں اور عورتوں کا جنسی استحصال کرنے کے لیے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اس عمل کو عین مذہبی قرار دینے کی سفاکانہ سوچ کو عقید ت مندوں کے نا پختہ ذہنوں میں زہر کی طرح انڈیلا مگر نام ” امرت”کا دیا۔ کمزور اور جاہل افراد کو مجبور کیا کہ وہ ان کے گمراہ کُن احکامات کی من و عن تعمیل کریں اور یہ کہ سوچنا اور سوال اُٹھانا پاپ بلکہ گھور پاپ ہے۔

فلم ” مہاراج” کا موضوع ایسے ہی ایک چہرے”مہاراج جے جے” کے پیچھے اُس کی درندگی اور سیاہ کاریوں کا پردہ چاک کرتی ہے اور کئی ایسے سوالات اُٹھاتی ہے جو نہ صرف آج کے سماج کی ضرورت ہے بلکہ اس طرح کے استحصال کو روکنے کے لیے پیروکاروں میں بیداری ، تنقیدی سوچ پیدا کرنے کی بھی

کا وش ہے۔

1800 کی دہائی پر مبنی یہ فلم ایک حقیقی عدالتی کارروائی ” مہاراج لائل بل کیس” پر مبنی سچی کہانی ہے جو ایک نوجوان صحافی”کرسن داس”کے گرد گھومتی ہے، یہ کردار جنید خان، عامر خاں کے بیٹے نے عمدگی سے نبھایا ہے اور یہ ان کی پہلی فلم ہے ۔ وہ جے جے جیسے طاقتور مہاراج کی بدکرداری اور بد اعمالیوں کو بے نقاب کرنے کے ایک جرات مندانہ مشن کا آغاز کرتا ہے۔ مہاراج، جو اپنی بادشاہی میں اختیار اور احترام کا پیکر ہے، لیکن سطح کے نیچے دھوکا دہی اور جنسی استحصال کا خوف ناک کردار ہے۔سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے کرسن داس کا سفر مذہبی روایت میں الجھے سماج اور اس وقت کے طاقتور ڈھانچے کے خلاف قلم اور عزم کی جنگ سے بھرا ہوا ہے۔مگر یہ جنگ کوئی ایکشن پیک مسالے والی نہیں ، ایک پر امن مگر تجسس سے بھرپور جدوجہد پر مبنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مذہبی شدت پندوں نے اس فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی اس پر شور مچایا اور پابندی کا مطالبہ کیا۔

فلم میں 1800 کے ممبئی اور گجرات کو بڑی سادگی مگر خوبصورتی سے دکھایا گیاہے، عکس بندی نہایت دلکش ہے اور مکالمے بے حد جاندار۔ عدالت کی کارروائی کے دوارن کر سن د اس کے عمدہ د لائل فلم کی مقصدیت کا نچوڑ ہیں۔ فلم کے ہر ہر سیٹ، ملبوسات اور مجموعی ماحول میں تفصیل سے توجہ دی گئی ہے۔ پوری فلم سامعین کی دل چسپی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مستحکم رفتار کو یقینی بناتی ہے۔ ساؤنڈ ٹریک بیانیہ کی تکمیل کرتا ہے اور کلیدی مناظر کے جذباتی اثر کو بڑھاتا ہے۔تاہم فلم کبھی کبھار قابلِ پیشن گوئی کے زمرے میں آتی ہے۔ کہانی میں مزید گہرائی شامل کرنے کے لیے کچھ معاون کرداروں کو مزید تیار کیا جا سکتا تھا۔ ان معمولی کوتاہیوں کے باوجود، “مہاراج” ایک فکر انگیز اور بصری طور پر دلکش فلم کے طور پر کامیاب پیشکش ہے ۔ یہ تفریح ​​کے ذریعے سے شعور و آگہی کی ایک کامیاب کوشش قرار دی جا سکتی ہے ۔

)تبصرہ: اُم ِ ایقان(