مواد پر جائیں

عورتوں کا محرم کے بغیر سفر

استاد جاوید احمد غامدی اردو

لَا یَحِلُّ لِإِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ باِللّٰہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِیْرۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ عَلَیْہَا۔ (مسلم، رقم ۱۳۳۹)

ترجمہ:

’’ کسی ایسی خاتون کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ اپنے کسی محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کے سفر کے برابر اکیلے سفر کرے۔‘‘

تشریح:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے عورتوں کو شوہر یا محرم یعنی باپ ، سسر ، ماموں ،بھائی وغیرہ ، جن سے نکاح حرام ہے کے بغیر سفر کرنے سے روکا اور فرمایا ہے کہ اِس طرح کا سفر اُن کے لیے جائز نہیں ہے۔ اِس کی مدت بعض روایتوں میں ایک، بعض میں دو اور بعض میں تین شب و روز بیان ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر علماء کا بھی یہی موقف ہے ۔جامعتہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فتوے کے مطابق :

اگر عورت کا اپنے شہر یا علاقہ سے باہر سفر کا ارادہ ہو اور اڑتالیس میل (سوا ستتر کلومیڑ) یا اس سے زیادہ مسافت کا سفرہو تو جب تک مردوں میں سے اپنا کوئی محرم یا شوہر ساتھ نہ ہو اس وقت تک عورت کے لیےشرعاً سفر کرنا جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے ۔ البتہ سفر شرعی سے کم مسافت کے سفر میں اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اکیلے سفر کی گنجائش ہے۔ عمومی احوال میں بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اڑتالیس میل سے کم یا شہر کے اندر بھی بالکل تنہا سفر نہ کرے۔

جاوید احمد غامدی حدیث کا مفہوم واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

یہ “سدِّ ذریعہ” کی ہدایت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جس چیز سے روکا گیا ہے ، وہ اصل میں منع نہیں ہے، لیکن ممنوعات میں سے کسی چیز تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اِس کے مخاطبین بھی افراد بحیثیت افراد ہیں۔ اِس میں ریاست سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ کسی عورت کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں دے گی۔

)یاد رہے کہ سعودی عرب نے حج و عمرہ کے لیے اسی حکم کی بنا پر خواتین کے لیے سفر کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ محرم ہی کے ساتھ حج و عمرے کا سفر کر سکتی ہیں ۔حال ہی میں سعودی حکومت نے یہی شرط ختم کر دی ہے ۔(

پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ اِس طرح کی ہدایات ہمیشہ حالات سے متعلق ہوتی ہیں۔ اسلام میں عورت کی عفت و عصمت کو جو اہمیت حاصل ہے، اُس کے پیش نظر ضروری تھا کہ زمانۂ رسالت کے حالات میں اُنھیں محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا جائے۔ اُس زمانے میں سفر پیدل یا اونٹ گھوڑوں پر کیا جاتا تھا۔ جن مقامات تک اب ہم گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں، اُس وقت وہاں پہنچنے میں ہفتے، بلکہ مہینے لگ جاتے تھے۔ مسافر تنہا یا قافلوں میں سفر کرتے اور بعض اوقات جنگلوں اور بیابانوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتے تھے۔ رات آجاتی تو کھلے آسمان تلے قافلوں میں یا اجنبی شہروں کی سرایوں میں قیام کرنا پڑتا تھا۔ اِس طرح کے حالات میں اگر عورتوں کی حفاظت کے پیش نظر اور اُنھیں کسی تہمت سے بچانے کے لیے پابند کیا گیا کہ وہ محرم کے بغیر سفر نہ کریں تو اِس کی حکمت ہر سلیم الطبع ( عام سمجھ بوجھ رکھنے والا )آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔

دور حاضر نے اِس کے برخلاف سفر کے ذرائع میں حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مہینوں کا سفر اب گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ ریل، جہاز اور بسوں میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات ہیں۔ ہوٹلوں اور سرایوں وغیرہ کا نظم بھی بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔ آج سے سو سال پہلے اپنی بہن یا بیٹی کو تنہا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک بھیجنے میں بھی خدشہ ہوتا تھا، لیکن اب یورپ اور امریکا کے سفر میں بھی اِس طرح کا کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ حج کا سفر بھی آخری درجے میں محفوظ ہو چکا ہے اور عورتیں اپنی شناسا عورتوں کے ساتھ نہایت اطمینان کے ساتھ حجاز مقدس جا سکتی اور حج و عمرہ کے مناسک ادا کر سکتی ہیں۔ حالات کی یہ تبدیلی تقاضا کرتی ہے کہ حکم کو دور حاضر کے سفروں سے متعلق نہ سمجھا جائے اور عورتوں کو اجازت دی جائے کہ خطرے کی کوئی جگہ نہ ہو تو اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے وہ تنہا یا عورتوں کی معیت میں جس طرح چاہیں، سفر کریں، تاہم اتنی بات ملحوظ رکھیں کہ اُن کی عزت ہر حال میں محفوظ رہے اور گھروں سے وقت اُن سے کوئی غفلت نہ ہو۔ وہ اگر اللہ اور اُس کے رسول کو ماننے والی ہیں تو اِس معاملے میں اُنھیں بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔