مرزا اسداللہ خاں ؎ غالبؔ کا مشہور شعر ہے
غَلَطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ محبوب کے بارے میں بہت غلط فہمیاں ہیں کہ وہ ہمارے رونے دھونے سے متاثر ہو جائے گا ۔ مگر شعر پر کئی اعتراضات کیے جاتے ہیں ۔ ایک یہ کہ غالب نے پہلی بار کسی شعر میں لفظ ’’غَلَطی‘‘ استعمال کیا۔ اس سے قبل ایسی غلطی کسی نے نہیں کی تھی۔ ’’غلطی‘‘ کے لیے بھی لفظ ’’غلط‘‘ ہی استعمال ہوتا تھا۔میرؔ کا یہ شعراس کی مثال ہے ؎
غلط اپنا کہ اُس جفا جُو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
میرؔ شریف آدمی تھے، اپنی ہی ’’غلطی‘‘ کا اعتراف کیا ہے، غالب بے مثل کی ادا دیکھیے، لوگوں پر بات ڈال دی ۔ میر نے اسے ’’ غلطی‘‘ نہیں کہا ’’اپنا غلط‘‘ قرار دیا۔یوں غالبؔ کی غلطی سے اردو میں ’’غلطی‘‘ عام ہوگئی۔ مشہور مقولہ ہے” غَلَط العام فصیحٌ” ۔ یعنی جو غلطی عام ہوجائے اور جسے فصحاء جائزقرار دیں وہ فصیح ہوگیا ۔ اسی طرح نالے کی پہنچ یعنی رسائی کو ” رسا باندھنا ” بھی غالب ہی کاکمال تھا۔ اہل زبان تھے اس لیے ان کا فرمایا ہوا مستند ٹھہرا۔
کچھ یہی حال فیمنزم کا ہے ۔اس کی غلطیوں کا بھی مت پوچھیے ۔ اس تحریک میں خرابی تو کوئی نہ تھی ، سیدھی سادی حقو ق نسواں کی آواز تھی۔ خواتین کے ووٹ دینے کے مطالبے سے شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے ” ازم ” بن گئی ۔ مسلمانوں کے معاشرے میں آئی تو اپنے پورے ” لوازم ” کر ساتھ آئی ۔ اب لوگوں کا کیا ہے ، وہ لفظ “لوازم” کو ” لَوّ ۔ازم ” بھی پڑھ سکتے ہیں ۔حقوق نسواں کی اس تحریک کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ اسلام میں خواتین کے ساتھ ” انصاف ” کرنے کا حکم ہے مگر فیمنزم میں یہ مساوات اور برابری بن گیا ۔ حالانکہ اللہ عادل ہے چنانچہ اس نے انصاف سے کام لیا اور عورت کے حالات کا لحاظ رکھا ۔ اسے ایام خاص میں نمازوں اور روزے وغیرہ سے رخصت دی ۔ بات مساوات کی ہوتی تو کوئی رخصت نہ ہوتی ، مگر پروردگار نے عدل کیا اور ان پر بوجھ نہ ڈالا۔ برابری کی بات ہوتی تو ماں اور باپ کے حقوق برابر ہوتے لیکن سب جانتے ہیں ماں کے حقوق باپ کی نسبت تین گنا ہیں ۔ مزید یہ کہ زمانے کے چلن کا لحاظ کیا اور خاندان کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ شوہر پر ڈالا ، مگر غلطی یہ ہوئی کہ یہاں ” شوہر ” کے بجائے ” مرد ” سمجھنے کی غلطی کی گئی ۔ یہاں بھی دیکھ لیجیے بھائی بہن پر قوام نہیں ، بیٹا ، بیٹی پر قوام نہیں وغیرہ ۔ ماں چاہے نحیف و ناتواں ہو ، چھ فٹ کے مرد کو تھپڑ مار سکتی ہے اور وہ ہاتھ اٹھائے تو رانداہ درگاہ ہو جاتا ہے ۔ بڑی بہن چھوٹے بھائی کے کان کھینچے یا گوشمالی کر ڈالے، وہ احترام سے سر جھکا دیتا ہے ۔
آزادی اور خودمختاری کا مطلب حدود نا آشنا لیا جاتا ہے حالانکہ اس کا مطلب نشوز نہیں ، بغاوت نہیں بلکہ خود انحصاری ہے۔ یعنی عورت کو نا موافق حالات میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے یا عام حالات میں بھی وہ شوہر ہی کی محتاج ہو کر نہ رہ جائے بلکہ وہ اپنے ذوق اور ضروریات کو ” آزادی” اور ” فراخی ” سے پورا کر سکے ۔ اسی طرح عورت جب بیوی بنتی ہے تو برصغیر میں روایت ہے کہ اس کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگا دیا جاتا ہے ۔ جب کہ عربی معاشرہ ہو یا مغربی ، وہاں طلاق و علیحدگی کی شرح بہت ہے ۔ اب عورت تو اپنے شناختی کارڈ کی تصحیح کراتی پھرے گی ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد ،اس کی قابلِ قبول شناخت ،اس کے قانونی باپ یا ماں سے منسوب ہونے سے ہے ۔ ماں یا باپ یا شوہر پر اصرار اضافی ہے ۔
پردےپر اعتراض کو بھی فیمنزم کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے ۔ لیکن اصلاً یہ قرآن کے ناقص فہم کی وجہ سے ہے ۔علمی بحث سے قطع نظر ، یہ خدا کا حکم ہو ہی نہیں سکتا ۔ عقلاً ہی محال ہے ۔پردہ خدا کی صفت ” عدل ” کے خلاف ہے ۔ یعنی کہا جاتا ہے کہ عورت کو دیکھ کر مرد کو جنسی تحریک ہوتی ہے ۔ اگر یہ درست ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ اس پر قابو پانا سیکھے ، اپنی نگاہوں کے آگے کوئی ایسا فلٹر لگائے کہ اسے عورت کا چہرہ پوری طرح دکھائی نہ دے ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ اپنی” کھجلی “کو قابو میں رکھنے کے لیے عورت کو اپنا چہرہ کپڑے کی دیوار کے پیچھے دھکیل دینے پر مجبور کرے ۔ اسی لیے قرآن چہرے کو جنسیاعضاء میں شامل نہیں کرتا۔ وہ یہ آداب سکھاتا ہے کہ نگاہوں کو مہذب اور پست رکھا جائے ۔اس کاسے فیمنزم کوئی تعلق نہیں ۔