ایلفی کوہن نے تربیت اولاد کا تعارف بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے:
“بچے پروان چڑھانا بزدل اور احمق لوگوں کاکام نہیں۔”
تعلیم ، نفسیات اور انسانی رویوں کے معروف لیکچرار اور مصنف کے یہ الفاظ شعور رکھنے والے انسان کی نیندیں اور ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہیں۔لیکن افسوس اگلی نسل کو پروان چڑھانے اور انسانیت کا مستقبل جن افراد اور اذہان پرمبنی ہے ،ان کو سنوارنے، خود اچھے والدین بننےکے لئے ہمارے ہاں اتنی تربیت لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی جتنی کھانا پکانے ، لکڑی کی چیزیں بنانے ، صفائی ستھرائی کرنے یا ،فری لانسنگ یا ڈیجٹل مارکٹنگ سیکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
آپ لوگ سچ سچ بتائیں کہ کیا ایسا ہوتا ہے یا ہونا چاہیےکہ ایک ٹیچر،درزی، بیٹوٹیشن، ڈاکٹر، انجینئر بننے کے لئے ڈگری اور مہارت دونوں دیکھے بغیر جاب دے دی جائے؟
یہ دونوں ہوں تو جا کر لوگ قانونی طور پر اپنی شناخت یا کمپنی رجسٹر کر پاتے ہیں :یا پریکٹس شروع کر سکتے ہیں، لیکن شادی کرنے اور بچے پالنے کے لئے ، یعنی ایک الگ منفرد انسانی جان کو پروان چڑھانے کے لیے کسی قسم کی کوئی تربیت یا افراد کی ذہنی صحت کا معیار نہیں دیکھا جاتا۔ کیوں؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کےلئے باقاعدہ قوانین و ضوابط موجود ہیں! لیکن ہماری ذہنی پس ماندگی کا یہ حال ہے کہ بڑی خوشی سے یہ جملے بولے جاتے ہیں:
” چٹ منگنی پٹ بیاہ کر دیا۔بچوں کا شادی بیاہ کی باتوں سے کیا لینا دینا۔ بچے تو اللہ کی دین ہیں جتنے بھی ہوں”۔
ہماری اکثریت اس سلسلے میں بنیادی آگاہی کو ابھی تک جرم سمجھتی ہے۔اس سلسلے میں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ بچے پیدا کرنا اور ان کی افزائش کرنا تو انسانی فطرت ہے۔ کیا آپ قارئین و سامعین میں سے بھی کچھ کا یہ خیال ہے؟
ہر طرح کے فن اور مہارتیں بھی انسان ازل سے ہی سیکھتا اور کرتا چلا آیا ہے۔ لیکن جوں جوں انسانی تہذیب نے ترقی کی انہوں نے ادارے تشکیل دیے۔تاکہ ان فطری مہارتوں کو نکھارا جائے، بہترین تہذیب و تمدن تشکیل دینے کےلئے ان انسانی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے۔ پھر ہمارے ہاں، تربیت اولاد سے آخر اس قدر بے پروائی اور عدم حساسیت کا شکار کیوں ہے؟ حالانکہ ہزاروں بدترین اور گھمبیر نوعیت کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔والدین پریشان ہونے کے باوجود کبھی اپنی بدنامی کے ڈرسے کسی سے ذکر نہیں کرتے، تو کہیں یہ سوچ اذہان میں سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی ہے کہ پیدا کر دیا ، دن بھر محنت کر کے کما کے کھلا رہے ہیں،پال پوس رہے ہیں اور بھلا کیا کریں؟ آج کل کے بچے ہے ہی بگڑے ہوئےہیں ۔تھوڑی سختی کر کے ٹھیک کر لیں گے ۔کچھ اس سوچ کے مالک ہیں کہ لاڈپیارسے ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔
میں آج کل کے والدین کے مسائل اور جملے، جو ہر وقت ان کے حواس پر طاری رہتے ہیں ، فرضی ناموں کے ساتھ مختصر مکالمے تحریر کر رہی ہوں۔ تاکہ اگرآپ بھی بچوں سے متعلق،ان مسائل اور الجھنوں کاشکار ہیں توہمیں لکھئے،آگاہ کیجئے تاکہ ہم تربیت اولاد کے حوالے سے بہترین اور موثر کاوش کو ممکن بنا سکیں ۔
ہر مسئلے کو جڑ سے سمجھنے کے لئے میں نے والدین کے لئے سوالات تحریر کر دیے ہیں تاکہ وہ خود اپنے بارے میں سوچنے کے قابل ہو سکیں کہ آیا مسائل کس سوچ اور ذہنی شاکلہ کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔
سعدیہ: بچوں کے سکرین ٹائم کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں۔
سوال: آپ کا اپنا،سکرین ٹائم کتنا ہے ؟
سعدیہ : مگر میں تو،دن بھر اتنے کام کاج بھی کرتی ہوں۔
سوال: تو کیا آپ کے بچے دن بھر میں اور کوئی کام نہیں کرتے ؟
تربیت اولاد
سعدیہ: نہیں، کرتے تو ہیں پر سب فضول کام۔۔
سوال: مثلا کیا؟
سعدیہ: بس صبح اٹھتے ہیں رو دھو کے، سکول جاتے ہیں،دن کو تین بجے واپس،آ کر کھانا،پینا، کھیل ،منہ چڑھا کر ٹیو شن جاتے ہیں، سپارے میں دھیان نہیں دیتے،جونہی وقت ملے تو موبائل موبائل کی ضد اور اس پہ لڑائیاں۔۔
سوال: تو،ان میں سے فضول کام کون سا ہے؟
سعدیہ: سوچ میں گم ہو کر ، آگے بہت کچھ بتاناچاہتیں ہیں۔
تبصرہ یہ ہے کہ:
اصل میں وہ جن مسائل سے پریشان ہیں، وہ غالبا ًان کوسمجھ نہیں پارہی۔ سعدیہ خود بھی دن بھر اتنے ساری ایکٹیویٹیز نہیں کرتیں جتنی کہ اس وقت کے بچے کر رہے ہیں۔ ان میں سے وہ کام جو بچے کر رہے ہیں ،دراصل بچوں کی نظر میں فضول ہیں۔اس لیے وہ یہ کام کرنے پہ مائل نہیں، اور جواباً ردعمل ظاہر کرتے ہیں جوسعدیہ کے لئے مسائل کھڑے کرتے ہیں۔
طاہر صاحب: آج کل کے بچوں نے پڑھائی کوتماشا بنا لیا ہے!
سوال: کیا مطلب ؟ ذراسمجھائیے تو؟
طاہر صاحب: ہر مضمون پہ ، ہر کام پہ یہی کہتے ہیں، اس کا کیافائدہ؟ یہ کیوں پڑھیں؟
سوال: تو کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے بچے سوچنے اور جاننے والے بنیں؟
طاہر صاحب: یہ کیاسوچ رہے ہیں اور جان رہے ہیں۔ سیدھا،سیدھا اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نے نہیں پڑھنا۔
سوال: وہ یہ کہتے ہیں؟
طاہر صاحب: نہیں ، لیکن مطلب یہی ہوتا ہے۔
یہ کہتے ہیں؟
طاہر صاحب: نہیں ، لیکن مطلب یہی ہوتا ہے۔
سوال: تو،آپ ان کے سوال کودرست سمجھتے ہیں یا نہیں؟
طاہر صاحب: کس،سوال کو ؟
سوال: یہی کہ ریاضی میں الجبرا پڑھنے کا ،ملکوں کی ، کمپیوٹر کی تاریخ پڑھنے کا کیا فائدہ؟سکول میں پڑھنے کے وجود پھر ٹیوشن لینے کا ۔علیحدہ سے سپارہ پڑھنے کا۔
جواب سوچنے کی بجائے طاہر صاحب نے شکوہ بیان کیا کہ ہم تو اپنے ماں باپ کو یہ نہیں کہتے تھے۔
سوال: کیا آپ کے والدین نے آپ کوزبردستی سکول بھیجاتھا۔
طاہر صاحب: نہیں میں تو لڑ بھڑ کے سکول داخلے کے لئے پہنچاتھا۔دادی نے حمایت کی تھی میرے داخلے کی۔
سوال: اور آپ کے بچے؟
ان کو ہم لڑ بھڑ کے بھیج رہے ہیں۔
سوال: تو پھر اب آپ بتائیں کہ جو کام آپ سے زبردستی کروایا جائے ،آپ کا رویہ کیا ہو گا؟
الغرض طاہر صاحب کے پاس مزید گفتگو کے لئے بے شمار الجھنیں ہیں ، مگر وقت نہیں۔
وہ پریشان بھی ہیں اور الجھے ہوئے بھی ، مگر پھر بھی ان کے پاس ان سنجیدہ مسائل کے لئے ، ایک مرتب طریقے سے غوروخوض کا وقت نہیں۔
نصرت صاحبہ: بیٹا بہ ضد ہے کہ گاڑی چلاوں گا۔ اجازت کے بغیر گاڑی لے جاتا ہے۔
گاڑی چلانی آتی ہے اس کو؟
سوال: جی ،پچھلے سال ہی اس کے بابا نے بڑے شوق سے سکھائی تھی اس کو۔
سوال: تواب آپ کواعتراض کیوں ہے؟
نصرت صاحبہ: اجازت کے بغیر لے جاتا ہے۔ ہر جگہ جانے کے لئے لاڈ صاحب کو گاڑی چاہیے ۔
سوال: یہ تبدیلی یک دم آئی؟
نصرت صاحبہ: نہیں شروع شروع میں ، اس کے بابا گھر نہیں ہوتے تھے تو میں سودا منگوا لیا کرتی تھی۔لیکن اس نے تو اب عادت بنا لی ہے۔
سوال: جب آپ لوگوں نے اسے ڈرائیونگ سکھائی تو اس سے گفتگو ئیں کی تھی؟
نصرت صاحبہ: کس،بارےمیں؟
کہ کب چلانی ہے، قانون کیا ہے، کس عمر میں گاڑی کا لائسنس ملتا ہے، گاڑی کے بے جااستعمال کی عادت کب پڑتی ہے۔ اس کے نقصان کیا ہیں؟ آپ جن اصولوں کو مدنظر رکھ کر گاڑی کااستعمال کرتے ہیں وہ کیا ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ
نصرت صاحبہ: اس طرح خاص طور پہ تو نہیں پر جب بھی جاتا ہے تو میں سمجھاتی ہوں،منع بھی کرتی ہوں، اس کے بابا بھی اس کوڈانٹتے اورسمجھاتے ہیں۔
کیا اس وقت وہ آپ کی بات ، ڈانٹ ،سمجھانا غور سے سنتا ہے؟
نصرت صاحبہ: کہاں جی، عجیب بے پروائی سے ،ٹھیک ہے ٹھیک ہے کہہ کر گردان اکڑا کر نکل جاتا ہے۔
تو آپ سوچ کر بتائیں کہ جب بچہ یا انسان کسی خواہش یا ضرورت میں ڈوبا ہوتا ہے ،اور اسی کے زیر اثر ہو تو اس وقت بات سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ؟ کیاوہ وقت سمجھانے کے لئے مناسب ہوتا ہے؟ وہ اس وقت بات سنتا ہے یا ٹالتا ہے؟ ڈانٹنے اور سمجھانے میں کوئی فرق ہے کیا؟
سوال تواس سے آگے بھی بہت ہیں ،مثلاًبچوں تھرل کو آپ کیا سمجھتے ہیں ؟ گفتگو کے لئے مناسب وقت اور عمر کون سی ہے؟
مختلف عمر کے بچوں سے بات کیسے کرنی چاہیے؟
ایسے ہزاروں مکالمے لکھے جا سکتے ہیں۔ آج کل ہر چوتھا گھر ،والدین اور بچوں کے بیچ ایک میدان جنگ بن چکا ہے، جہاں طاقت اور بڑے ہونے کے دھونس جما کر باتوں کو رد کیا جاتا ہے۔ جہاں بچے فرسٹریشن کا شکار ہو کر فرار کی راہوں پہ باہر نکل رہے ہیں یا سکرین اور بے کار مشغلوں کے شکار ہو رہے ہیں۔
اب آپ سامعین بتائیے کہ آپ کس مسئلے پر مکالمہ سننا چاہتے ہیں؟ کن مسائل پر،ان کے حل پر کس ترتیب سے آگاہی لینا چاہتے ہیں؟ آپ کے بچوں کی عمر یں کیا ہے؟ بیک گروانڈ کیا ہے؟ آپ کس مسئلے پر سب سےزیادہ پریشان ہیں؟ گفتگو میں رکاوٹیں کیا ہیں؟
لیکن یہ سب آپ کو سوچنا ہو گا، وقت دیناہوگا۔
جن والدین نے اپنے اس بنیادی فرض سے غفلت برتی ،یقین جانیے آج کہ دور میں جبکہ سیکھنے کے مواقع اور ذرائع لا محدود ہوچکے ہیں ،وہاں ہم اپنے بچوں کی تربیت کی مہارت اور آرٹ کو نہ سیکھ پائے تو خدا کے ہاں جواب دہی سے کیسے بچ پائیں گے؟