مواد پر جائیں

کوڈنگ اور ڈیجیٹل کے ذریعے امکانات کو کھولیے

وجیہہ حسان واحدی اردو

اس سلسلہ تحریر میں ہم صالحات کے لیے ایسے ہنر کا تعارف کرائیں گے جن کے ذریعے سے وہ گھر بیٹھے آن لائن آ مدنی کے ذرائع پیدا کر سکتی ہیں ۔ قارئین اس حوالے سے اپنے تجربات اور مشوروں سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون ان صالحات کے لیے ہے جو کمپیوٹر لٹریٹ ہیں اور اس میڈیا سے اپنی سکلز کو استعمال کرنے میں سہولت محسوس کرتی ہیں ۔

کیا صرف ڈاکٹر یا ٹیچربننے کے آپشنز ہیں؟ بینکنگ پڑھی تو بینک میں مردوں کے ساتھ بہت ملنا جلنا ہوگا۔ لایَر بنی تو کورٹ کے ہر وقت کے چکر۔ نرس تو نرس ہوتی ہے، ہسپتال میں دوسروں کے کام کرتے رہو۔ ہوم اکونومکس اچھا آپشن ہے”۔

لڑکیوں کو زندگی میں کیا کرنا ہے، کیا پڑھنا ہے، کیا کریئر بنانا ہے؟ کیا آج ہماری سوچ اس سوچ سے بہتر ہے؟ یقیناَ!میں تو پاکستان کا حال ہی بتا سکتی ہوں۔ آج سے پچیس سال پہلے جب میں کالج میں تھی تو میرے ساتھ کی لڑکیاں مختلف قسم کے کورسز پڑھ رہی تھیں، جیسے بزنس اور فائنانس، کامرس، ، لٹریچر، ڈاکٹری، نرسنگ، ڈنٹسٹری۔۔ لیکن آپشنز پھر بھی محدود تھے۔

آج دنیا بہت آگے آ گئی ہے، کریئر آپشنز کی بھرمار موجود ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود کیا پاکستان میں صنفی تفاوت ابھی بھی پوری قوت کے ساتھ برقرار ہے؟ بےشک! کیونکہ میں جس طبقے کی بات کر رہی ہوں وہ پورے ملک کی آبادی کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس بات کو پوری قوم سے منوانا ہے کہ لڑکی کا خودمختار ہونا کتنا اہم ہے اور وقت اور آج کی دنیا کی ناگزیر ضرورت ہے۔

اس بات کو جان کر دل کو خوشی ہوتی ہے کہ آج، چھوٹے پیمانے پر ہی سہی لیکن، خواتین ایک دوسرے کو اِمپاور کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ رول ماڈلز بن رہی ہیں۔ آزادی کی امید دے رہی ہیں۔

آج میں آپ کے ساتھ کوڈنگ سیکھنے کے آپشن کے بارے میں بات کروں گی، جس کی مہارتیں حاصل کرنے کی ترغیب دے کر، پاکستان جیسے ملک میں صنفی تفاوت کی خلا کو پُر کرنے میں ایک بڑھتا ہوا قدم ہے۔ یہ قدم لڑکیوں کو آزادی اور روزگار حاصل کرنے میں فروغ دے گا۔

کوڈنگ کیا ہے؟

کوڈنگ، جسے کمپیوٹر پروگرامنگ بھی کہا جاتا ہے، ان ہدایات کو ڈیزائن کرنے، لکھنے، جانچنے اور برقرار رکھنے کا عمل ہے جن کی پیروی ایک کمپیوٹر کسی مخصوص کام کو انجام دینے کے لیے کرتا ہے۔ یہ ہدایات جنہیں ” کوڈ” کہا جاتا ہے، ایک یا ایک سے زائد پروگرامنگ زبانوں میں لکھی جاتی ہیں۔ جیسے کہ پائیتھون، جاوا یا جاوا سکرپٹ۔ یہ سب سافٹ وئیرز، آپس، ویب سائٹس اور دوسرے ڈیجیٹل مصنوعات کو تخلیق کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کوڈنگ ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد ہے۔ اس کو مختلف صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے ٹیکنالوجی اور فائنانس سے لے کر، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک۔ کوڈنگ سیکھ کر، افراد اختراعی حل تخلیق کرنے، نئے آئیڈیاز کو زندگی میں لانے کے لیے درکار مہارت اور علم حاصل کر سکتے ہیں۔

رکاوٹیں توڑیے

سماجی اصول اور وسائل تک محدود رسائی، اکثر ایس-ٹی-ای-ایم شعبوں میں لڑکیوں کی شرکت میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور کمیونٹی لیڈروں کی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ مواقع اور مدد فراہم کرکے، ہم لڑکیوں کو ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانے کے لیے بااختیار بنا سکتے ہیں۔

کوڈنگ اور ڈیجیٹل سکلز کے فوائد

کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں کا حصول لڑکیوں کی زندگیوں پر ایک بڑی تبدیلی کا اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ مہارتیں نیٹ ورکنگ کے مواقع کو بڑھاتی ہیں، کیریئر بنانے کے بہت سے دروازے کھولتی ہیں، مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں بڑھاتی ہیں۔

اقدامات اور وسائل

کوڈ گرلز پاکستان جیسی تنظیمیں کوڈنگ بوٹ کیمپس، رہنمائی، تربیت، اور نیٹ ورکنگ کے مواقع پیش کرتی ہیں۔ یہ اقدامات لڑکیوں کو کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں کو دریافت کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ لڑکیاں باآسانی ان بوٹ کیمپس میں حصہ لے کر بہت کچھ سیکھ کر اپنے آنے والے کل کو بدل کو سکتی ہیں۔

آن لائن وسائل

لڑکیاں کو کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کے لیے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر جاکر اپنے آپشنز د یکھنے چاہییں، جیسے

کوڈ اکیڈمی ⁠

⁠ فری کوڈ کیمپ

گرلز ہو کوڈ

کامیابی کی کہانیاں

ٹیکنالوجی میں پاکستانی خواتین کی متاثر کن کہانیاں، کامیابی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جہان آرا، پی@ایس ایچ اے کی صدر، عنوویٹ کی بانی سلیمہ ویلانی، ” وومن ان ٹیک پی کے” کی بانی فائزہ یوسف اور ” سرکل” کی بانی صدف عابد، آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموار کرنے والے ٹریل بلزرز ہیں۔

فائزہ یوسف

ایک وقت تھا جب فائزہ جس کمپنی میں کام کرتی تھیں وہاں وہ واحد خاتون تھیں جو ایک ٹیک امپلوئی کے عہدے پر تھیں۔ بس انھوں نے ٹھان لی کہ وہ اور خواتین کو اُس جیسی تنہائی کا احساس کبھی نہیں ہونے دیں گی۔ جینن ٹیک میں سینئر پروڈکٹ مینیجر کے طور پر، وومن ان ٹیک پی کے کی بانی، کوڈ گرلز کی شریک بانی، اور” کاٹرپل ہرس” کی پروگرام ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز، فائزہ، خواتین کو ٹیک میں بااختیار بنا رہی ہیں اور اس شعبے میں داخل ہونے کے لیے مزید دروازے کھول رہی ہیں۔

انھوں نے ۲۰۱۶ میں وومن ان ٹیک پی کے کی بنیاد رکھی۔اس کو ایک ایسی محفوظ کمیونٹی بنایا ہے جہاں خواتین ممبران پیشہ ورانہ مدد، کام اور کریئر سے متعلق مشورے اور سرپرستی حاصل کر سکتی ہیں۔ آج وہاں دس ہزار سے زائد خواتین اپنے آپ کو بااختیار بنانے اور ٹیک کی فیلڈ میں آگے جانے کا خواب پورا کر رہی ہیں۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ فائزہ کو بچپن سے ڈسلیک سیا ہے! لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کے لیے دیگر شعبوں کا مطالعہ کرنا نسبتاً مشکل تھا، لیکن کمپیوٹر یا پروگرامنگ کی زبانوں کو سمجھنا فطری طور پر آیا! اس بات سے ان لڑکیوں کو کتنی ہمت اور امید ملے گی جو کسی بھی قسم کی سیکھنے کی معذوری کا سن کر یا تو خود یہ سمجھتی ہیں یا پھر معاشرہ ان کو یقین دلادیتا ہے کہ ان کا مستقبل باورچی خانے میں کھانا پکانے اور بچے پیدا کرنے سے زیادہ نہیں ہے! غلط سراسر غلط۔

کوڈ گرلز

فائزہ کا کہنا ہے کہ”ہمارے پاس متوسط ​​سے کم آمدنی والے خاندانوں کی بہت سی لڑکیاں ہیں جو کوڈ گرلز میں حصہ لیتی ہیں۔ جب کوئی لڑکی وہاں کے پروگرام سے فارغ ہوتی ہے، تو ہم اسے ٹیک انڈسٹری میں نوکری دلواتے ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں، یہ ان کے خاندان کی آمدنی کو دوگنا کر دیتا ہے۔ ان پروگراموں کی وجہ سے ہم نے خواتین کو گاڑیاں خریدنے، مکان خریدنے اور اپنے بچوں کو بہتر اسکولوں میں داخل کرانے کے قابل ہوتے دیکھا ہے۔”

فائزہ سمجھتی ہیں کہ ٹیک انڈسٹری میں متنوع لوگوں کی اور ان کی آوازوں کی ابھی بھی بہت کمی ہے۔ وہ اس فیلڈ میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ ٹرانس لوگ، مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد اور ایسے لوگ دیکھنا چاہتی ہیں جو نیورو ٹیپ یکل نہ ہوں۔

صدف عابد

اس فیلڈ میں لڑکیوں کو ہمت دلانے کی ایک اور شاندار مثال صدف عابد، سرکل کی بانی، ڈیجیٹل لٹرسی اور انٹرپرینیورشپ کے ذریعے پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے میں ایک ٹریل بلزر ہیں۔ ان کا سفر خواتین کی صلاحیتوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے وژن کے ساتھ شروع ہوا۔ اس خواب کی تعمیر انہوں نے اپنے گھرسے شروع کی۔ بلکہ ان کے کہنے کے مطابق اپنی کھانے کی میز سے شروع کی۔ سماجی اصولوں اور محدود وسائل کا سامنا کرنے کے باوجود، صدف نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ثابت قدمی انھوں نے اپنے والدین اور ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز سے سیکھی۔ انسان کی تربیت میں والدین کے بعد، ٹیچرز کا سب سے اہم ترین رول ہوتا ہے۔ صدف نے گراجوئیشن کے بعد ٹھان لی تھی کی بس عورتوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔

صدف نے ۲۰۱۸ء میں سرکل قائم کیا، جس میں انھوں نے اس بات پر توجہ دی کہ خواتین کو یہاں وہ آپشنز میسر ہوں جو عام تور پر انھیں کہیں اور میسر نہیں ہیں۔

“صدف کا کہنا ہے کہ ہمارا وژن یہی ہے کہ ہم عورت کے لیے ایک “گو ٹو پلاٹ فورم” بن جائیں۔ اگر اس کو کاروبار شروع کرنا ہے وہ کوڈ گرلز کا سوچے، اگر وہ کام کی طرف جانا چاہتی ہے ۔۔۔ لیڈرشپ میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تب بھی وہ کوڈ گرلز کا سوچے۔

ہم ایک مضبوط فیملی، ایک مضبوط ملک تبھی بنا سکتے ہیں جب ہم اکھٹے مل کر ایک دوسرے کے قابلیت کو موقع دیں۔۔۔ میری اپنی زندگی میں میرے والد کا بہت اہم رول رہا ہے ، انھوں نے ہمیشہ مجھے انکریج کیا۔”

سرکل کے ذریعے، صدف نے روایتی حدود کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ابھی اور بہت آگے جانا ہے۔ انھوں نے اپنے اثرات کو بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کی خواتین، گوگل اور فیس بک جیسی تنظیموں کے ساتھ کام کیا ہے۔ صدف کی کوششوں نے زندگیوں کو بدل دیا ہے، خواتین کو تعلیم، روزگار اور معاشی آزادی تک رسائی کے قابل بنایا ہے۔ ان کی لگن کو اشوکا فیلوشپ اور پاکستان انٹرپرینیورشپ ایکوسسٹم ایوارڈ کے ذریعہ پہچان ملی ہے۔ صدف کی کہانی خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے عزم کی گواہی کے طور پر کام کرتی ہے۔

رکاوٹوں پر قابو پائیں

لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے، ہمیں کلیدی چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی تعاون اور حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔ تحریک میں شامل ہوں۔ لڑکیوں کو کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں دریافت کرنے کی ترغیب دیں۔ مدد، وسائل، اور رہنمائی فراہم کریں۔ سوچ کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ چلیں سوچ کو بدلیں!!!