ہر انسان فطری طور پر سکون، خوشی، اور اطمینان کی تلاش میں ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ایک بار ہماری کچھ خواہشات پوری ہو جائیں تو ہماری زندگی میں ہمیشہ کے لیے خوشی اور راحت آ جائے گی۔
“بس نوکری لگ جائے، پھر زندگی آسان ہو جائے گی۔”
“بس شادی ہو جائے، تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
“بس گھر بن جائے، بچے بڑے ہو جائیں، ویزا لگ جائے، پروموشن ہو جائے… پھر سکون ہی سکون ہوگا!”
لیکن کیا ایسا ہوتا ہے؟ کیا واقعی کوئی مقام ایسا آتا ہے جہاں تمام پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے: ہر ایک منزل کے بعد ایک اور آزمائش کھڑی ہوتی ہے۔ یہ دنیا کسی بھی انسان کو مکمل اور دائمی سکون دینے کے لیے نہیں بنی!
قرآنی بصیرت – اللہ کے محبوب بندے بھی آزمائش میں
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے سب سے زیادہ محبوب تھے، یعنی انبیاء کرام، ان میں سے کسی کی زندگی بھی سکون اور راحت کا نمونہ نہیں تھی۔
آدمؑ – جنت میں آرام کے بعد دنیا میں آزمائشوں کا سامنا، بیٹے کے ہاتھوں بیٹے کا قتل
نوحؑ – 950 سال کی تبلیغ، نافرمان قوم، اپنے بیٹے اور بیوی کی نافرمانی کا صدمہ
ابراہیمؑ – باپ اور قوم کی مخالفت، آگ میں ڈالے گئے، بیٹے کی قربانی کے امتحان میں ڈالے گئے
یوسفؑ – بھائیوں کی سازش، غلامی، قید، اور پھر بادشاہت کا امتحان
موسیٰؑ – فرعون کے ظلم، بنی اسرائیل کی سرکشی، مسلسل ہجرتیں
– اپنی ہی قوم کی طرف سے جھٹلایا جانا، قتل کی سازش
محمد ﷺ – طائف میں پتھر کھائے، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رہے، اہلِ مکہ کی دشمنی سہی
یہ تمام ہستیاں اللہ کے نزدیک محبوب ترین تھیں، لیکن کیا ان میں سے کسی کی زندگی ہمیشہ کے لیے سکون میں گزری؟
نہیں! کیونکہ یہ دنیا مکمل سکون کے لیے نہیں، بلکہ آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔
زندگی – ایک کشتی کا سفر
زندگی ایک متحرک کشتی کی مانند ہے:
کبھی طوفان آتے ہیں، کبھی سکون کے لمحے ملتے ہیں۔
ہمارا کام اپنی کشتی کے رخ کو درست سمت میں رکھنا ہے۔
اگر ہم غافل ہو گئے، تو یہ کشتی حق کی راہ سے بہک کر غلط سمت میں چلی جائے گی۔
آزمائشوں کا فلسفہ – ہم کیوں آزمائے جاتے ہیں؟
ہم اکثر اللہ سے دعا کرتے ہیں:
“یا اللہ، میری ساری پریشانیاں دور کر دے!”
“زندگی آسان بنا دے، سب مسائل ختم ہو جائیں!”
لیکن جب ہم نماز، زکوٰۃ، صدقہ و خیرات سب کچھ کرنے کے باوجود مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو دل میں سوال اٹھتا ہے:
” میں نے تو سب کچھ ٹھیک کیا، پھر بھی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ “
یہاں قرآن ہمیں سکھاتا ہے:
“أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ؟” ) العنکبوت: 2(
“کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ بس یہ کہہ کر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے، اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟
اصل کامیابی کیا ہے؟
آزمائشوں کو قبول کرنا، ان سے سیکھنا، اور صبر کے ساتھ آگے بڑھنا۔
اللہ پر بھروسہ رکھنا، دعا اور استقامت کے ساتھ زندگی گزارنا۔
یہ سمجھنا کہ دنیا میں ہر امتحان ہمیں بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے آتا ہے۔
دنیا میں سکون کیسے حاصل ہو؟
یہ دنیا محض دکھوں کا گھر نہیں، یہاں سکون بھی ہے، مگر اس کا دار و مدار ہماری سوچ پر ہے۔
حقیقی سکون ان چیزوں میں ہے:
اللہ کی رضا میں سکون – جو کچھ ملے، اس پر شکر، جو نہ ملے اس پر صبر
حق پر استقامت میں سکون – آزمائشوں میں ثابت قدمی اور ایمان
نیت کی درستگی میں سکون – دنیاوی فائدے کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دینا
جیسا کہ سورۃ العصر میں فرمایا گیا:
“حق پر قائم رہو اور صبر کی تلقین کرو۔
نتیجہ – ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟
یہ دنیا آرام کی جگہ نہیں، بلکہ جدوجہد کی جگہ ہے۔
مسلمان کا مقصد آزمائشوں سے فرار نہیں، بلکہ ان کا سامنا کرنا ہے۔
حقیقی کامیابی ان مشکلات کو صبر، استقامت اور ایمان کے ساتھ گزارنے میں ہے۔
دنیا میں سکون کا حقیقی راز – اللہ کی رضا، حق پر استقامت، اور آخرت پر یقین۔
زندگی میں مشکلات آئیں گی، آزمائشیں بڑھیں گی، لیکن جو اپنی کشتی کا رخ درست رکھے گا، وہی منزل پر پہنچے گا۔