یہ قارئین کے برقی خطوط اور پیغامات ہیں جو انھوں نے ہمیں ارسال کیے ۔ قارئین و سامعین اس پتے پر اپنی آراء ، تجاویز اور تحریریں اس برقی پتے پر بھیج سکتے ہیں : آپ چاہیں تو اپنی تصویر بھی بھیج سکتے ہیں ۔
عظمیٰ
سنگاپور سےعظمیٰ لکھتی ہیں کہ”عدت اور اس کے مسائل” بہت اچھی طرح سے پیش کیا گیا مضمون ہے۔ ایک پیچیدہ موضوع کے بارے میں سادہ الفاظ میں مکمل وضاحت کی گئی ہے۔عدت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے اور غلط فہمیاں اکثر متعلقہ خواتین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔اس آرٹیکل میں دیا گیا پس منظر اور استدلال عورتوں اور مردوں کے حقوق کی واضح تفہیم فراہم کرتا ہے، وہ بھی ایک ایسے نازک اورمشکل وقت میں جب تعلقات کے خاتمے کی صورت بن چکی ہو۔ اس مشکل وقت میں معاملات کیسے چلانے ہیں جو دونوں کے لیے ہمدردی بھی رکھیں اور باوقار بھی ہوں۔
فوزیہ نورین
بچوں کی تربیت کے چند اہم پہلو کے بارے میں فوزیہ نورین اسلام آباد سے لکھتی ہیں کہ اس تحریر میں مصنفہ ثوبیہ نے کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، لیکن والدین جس فریم ورک میں کھڑے ہیں اس سے اوپر اٹھ کر دیکھنا یا سوچنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ لہٰذا مسائل میں گِھرے والدین کے لیے ان نکات پر اس طرح غور کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ہاں اگر وہ اس طوفان سے کچھ دیر کے لیے نکلیں تو بہتر طور پر چیزوں کو ایک الگ زاویے سے دیکھ سکیں گے۔ نئے والدین جو ابھی پیچیدہ مسائل کا شکار نہیں بنے ہیں، انھیں اپنی اولاد کو فکری اور عملی آزادی دینے کا سوچنا چاہیے، بچوں کو ذاتی ٹرائل اینڈ ایرر سے خودسیکھنے کا سوچنا چاہیے، ان کو اپنے عملی نتائج کا سامنا خود کرنے دینا چاہیے۔
اسماء عباسی
شہر اسلام آباد سے اسماء عباسی مصنفہ ثوبیہ کی تحریر”بچوں کی تربیت کے چند اہم پہلو” کو پسند کرتے ہوئے درخواست کرتی ہیں کہ اگر آپ مندرجہ ذیل عنوانات کو بھی موضوع گفتگو بنا سکیں تو بہت اچھا ہوگا:
ماں باپ کے آپس کے رشتے کی کمزوری بچوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
کیا بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت میں کچھ بنیادی فرق ملحوظ خاطر رکھیں؟
اولاد کا ماں اور باپ دونوں سے براہ راست تعلق کو پن پنا کتنا ضروری ہے؟
آج کے والدین کل کے گرینڈ پیرنٹس ہونگے
It takes a village to raise a child
کی روشنی میں آج کے والدین کو کل کے لیے خود کو کیسے تیار کرنا چاہیے؟
تسلیم زہرہ
تسلیم زہرہ شہر سرائے عالمگیر سے”بچوں کی تربیت کے چند اہم پہلو” پر لکھتی ہیں کہ ان کے ذہن میں کئی سوالات ہیں
بچوں کے سامنے اپنے جزبات اور رویوں کو والدین کیسے قابو میں کریں؟
اگر والدین کو کچھ نفسیاتی مسائل ہوں تو اپنے گھر میں موجود اپنے بچوں کو نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہونے سے کیسے بچایا جائے؟
جیسا ہمارے ارد گرد کا ماحول ہے اس میں بچوں کو بدتمیز بننے سے کیسے بچایا جائے کہ ان کے دل میں ان کے بڑوں کی عزّت پیدا ہو؟
اپنے بچوں کے دلوں میں اپنا رعب بغیر مار کے کیسے پیدا کیا جائے؟ کیا رعب پیدا کرنا صحیح بھی ہے؟
اپنے بچوں کے دلوں میں ہمارے/ اپنے لیے بھروسہ کیسے بڑھایا جائے؟
۶) میری بیٹی بڑی ہو رہی ہے۔ اس پہ اپنا اچھا اثر کیسے ڈالوں کہ جب وہ ضد کرے تو وہ میری بات سمجھ پائے۔ مانے بھی کیوں!؟ آج کل کی اولاد کا لگتا ہے کہ اپنی ضد میں کسی کی بھی نہیں سنتے! کبھی کبھی تو قابو ہی میں نہیں آتے۔
کلثوم ثاقب
امریکہ سے کلثوم ثاقب لکھتی ہیں کہ جنوری تا مارچ کے صالحات میں ذرخیز معلومات سے مزین خوبصورت مضامین پڑھنے کو ملے – ویسے تو تمام مضامین ہی پڑھ کے علم میں اضافہ ہوتا ہے مگر ثوبیہ نورین کے مضمون”بچوں کی تربیت کے چند اہم پہلو” کو پڑھنا شروع کیا تو دل چاہ رہا تھا کہ یہ کبھی ختم نہ ہو- اس بہترین مکالماتی انداز میں لکھے ہوئے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہم والدین کی حیثیت کو کوئی بڑی چیز سمجھتے ہی نہیں اور اگر ذمہ داری سمجھتے بھی ہیں تو بس اس حد تک کہ ہم والدین کما کہ کھلائیں، ان کی خواہشات پوری کریں اورجہاں تک انکی تربیت کا سوال ہے وہ اسکول اور مسجد خود ہی کر دینگے – تربیت کا پہلا مرحلہ والدین کا عمل اور کردار ہوتا ہے،اگر والدین صرف اپنے دور کی مثالیں دے کر اولاد کو بیزار کرتے رہے تو اسکا انجام بھیانک نکلے گا- بچوں کو کم عقل یا نالائق سمجھنا، انکو بے جا لاڈ پیار کرنا یا حد سے زیادہ سختی کرنا، ایسے جیسے وہ اولاد نہیں،جاگیر ہوں- ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو نہ تربیت کرنی پڑے اور نہ ہی محنت، بس اولاد خود سے سب کچھ سیکھ لے اور بڑی ہو جائے- ہم اپنے سوشل میڈیا اور دیگر تفریحات کی قربانی اولاد کے لیے نہیں دینا چاہتے اور نہ ہی انکے ساتھ بیٹھ کے انکی اچھی ، بری، چھوٹی ، بڑی ، ناسمجھی کی باتیں سننے کی زحمت کرتے ہیں۔اس کے باوجود اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن اس دن سے ڈرنا چاہ یئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہماری آنکھ کھلے تو بہت دیر ہو چکی ہو۔-
فوزیہ رضی
لائبریری کی پائیدار اہمیت” پر فوزیہ رضی سنگاپور سے لکھتی ہیں کہ میں پین تالیس سال کی عمر میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنھوں نے موبائل سے کچھ زیادہ ہی دوستی کر لی ہے اور گوگل جی کے ہاتھ پر بیعت! لیکن اس آرٹیکل نے میری سوچ اور سمجھ میں بہت اضافہ کیا۔ لائبریری کی اہمیت اور سوسائٹی میں ضرورت، اس کے ان گنت فوائد پڑھ کر مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیاکہ وقت کے ساتھ بدلنے کا مطلب یہ نہیں کہ پرانے طریقے غلط ہیں بلکہ کوایگزسٹ کر کے، آج کی لائبریری کو اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا حصہ بنا کر بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ثوبیہ نورین
“لائبریری کی پائیدار اہمیت” پر ثوبیہ لاہور سے لکھتی ہیں: بہت ہی اچھا اور انفرمیٹ یو ٹاپک ہے۔ اس آرٹیکل نے میرے بچپن کی بہت سے یادیں تازہ کیں جو ہمارے شہر اور اسکول کی لائبریری سے وابستہ ہیں۔ لائبریرین کی اہمیت والا پوائنٹ بہت ہے کمال کا تھا!
عائشہ اسد
“الّو برائے فروخت نہیں” پر تبصرہ پڑھ کر عائشہ اسد لاہور سے لکھتی ہیں: بہت اچھا تبصرہ پیش کیا ہے آپ نے۔ ماشاءاللّٰہ۔ سن کے رونا آ گیا! اب تو یہ ڈارمہ دیکھنا ہی پڑے گا!
آمنہ رزاق
آمنہ رزاق واہ کنٹ سے لکھتی ہیں: بہت خوب ثوبیہ! ماشاءاللّٰہ ۔ آپ کی سوچ ،سمجھ اور فہم میں اللّٰہ برکت فرمائے۔ آپ کا تبصرہ پڑھ کر دل چاہ رہا ہے کہ یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں۔
نزہت فاطمہ
نزہت فاتمہ بحرین سے علیزے نجف کا مضمون “خود مختاری :مرد و زن کا مشترکہ حق” کے لیے لکھتی ہیں کہ یہ بہت متاثر کن اور دلنشیں تحریر ہے- اس انتہائی اہم اور حساس موضوع کو پڑھنے کے بعد امید ہے کہ یہ مضمون لوگوں کے شعور کو بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا- حیرت ہوتی ہے کہ ایسے درد دل رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں پھر بھی بہت بڑی تعداد میں خواتین کے ساتھ ناانصافی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی-عورتوں پر مظالم اور پیش آنے والے مسائل ہم روز خبروں میں دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، لیکن معاشرے نے جیسے اس کی طرف سے آنکھیں موند لی ہوں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق کا جو استحصال ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر گھرانوں میں خواتین خواہ ۲۵ سال کی ہوں یا ۵۰، ۶۰ سال کی، مگر اپنے گھر میں بھی اپنی آزادیِ رائے کے حق کو استعمال نہیں کر پاتیں-ان کو مردوں کے حکم کا پابند بنایا جاتا ہے۔ ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ہمارے معاشرے کے لیے بالکل اجنبی شے ہے-یہ بات بھی غورِطلب ہے کہ لڑکیوں اور خواتین پر ہونے والے مظالم میں خود خواتین بھی شامل ہوتی ہیں-انہی خواتین کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تربیت اس نہج پر ہوتی ہے کہ لڑکے امرانہ ذہن کے مالک بن جاتے ہیں اور لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ ان کو سمجھوتہ ہی کرنا ہے خواہ ان کے ساتھ زیادتی ہی کیوں نہ ہو رہی ہو- لڑکیوں کے حقوق جو اسلام نے دیے ہیں اس سے صرفِ نظر کر لیا جاتا ہے-یا تو خواتین اپنے حقوق کے بارے میں نا آشنا ہیں یا پھر انھیں بھول جانے پر مجبور۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات معیوب سمجھی جاتی ہے کہ لڑکیاں اپنے حقوق کے بارے میں لب کشائی کریں-
میں ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی کہ لڑکوں کی تربیت اپنے گھروں میں اس طرح سے ہوتی ہے کہ جب وہ شوہر اور باپ بنتے ہیں تو ان کا مزاج اپنے گھر کے ماحول اور تربیت کی وجہ سے امرانہ ہو چکا ہوتا ہے۔ لہذا وہ جو فیصلہ کریں،بلا چوں چراں، بیوی اور بچوں کو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوتاہے۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ اولاد کو اپنی مرضی اور رجحان کے مطابق تعلیم کا یا اپنے پروفیشن کو چننے کا حق نہیں دیا جاتا،والد صاحب جو فیصلہ کریں اسی حکم کو بجا لانا ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں لڑکے اور لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنی تعلیم اور کریئر کا انتخاب نہیں کر سکتے پھر اس کا اثر ان کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔
بہرحال یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے ایک ایسے انقلاب کی راہ ہموار کر دی ہے کہ جس کا دائرہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جائے گا اسی طرح معاشرے میں اور بالخصوص خواتین میں آگہی پیدا ہوگی اور اعتماد میں اضافہ ہوگا-
قران کریم میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “مرد ہو یا عورت، میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا کوئی عمل ضائع نہیں کروں گا تم سب آپس میں ایک ہی ہوـ” یعنی ایک جیسے ہو-
مذہب کی تعلیمات کے لیے قران کریم کو سمجھ کر پڑھنا اور اپنے بچوں کو بھی اس کی ترغیب دینا از حد ضروری ہے!روزانہ چند آیات ہی صحیح، ترجمے کے ساتھ پڑھیں، غور کریں اور عمل کے لیے اصول لیں- والدین اپنی اولاد کی تربیت میں خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، فرق نہ کریں۔ دونوں کو مکمل تعلیم فراہم کریں۔ دونوں کو آج کی دنیا میں خودمختاری کی اہمیت کا احساس دلائیں۔
آخر میں صالحات کے پلیٹ فارم پر میں والدین سے یہ گزارش کرنا چاہوں گی کہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ اچھے انسان اور مہربان والدین بنیں-اس سلسلے میں المورد میں ایک کورس بھی چل رہا ہے کانشس پیرنٹنگ جس کو جوائن کر کے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ـ والدین کو چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کا خود جائزہ لیں اور ان کو دور کرنے کی کوشش کریں-اپنے دینی و دنیاوی مطالعے کو وسیع کریں تاکہ تنگ نظری اور فرسودہ روایات اور خیالات سے دامن چھڑا سکیں۔
نادرہ زیدی
کراچی سے نادرہ زیدی لکھتی ہیں کہ لائبریری کی پائیدار اہمیت کا آرٹیکل کو سن کر دل خوش ہو گیا۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہمارے نانا نانی اور امی مجھے اور میرے بھائی کو لائبریری لے جاتے تھے، وہاں سے ہم اپنی پسند کی کتابیں لیتے اور امی سی مختلف کتابوں اور مصنفوں کی کتابوں کی اہمیت سنتے۔ ہمیں کتابوں سے دلی محبت سکھائی گئی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پہلے فکشن پڑھو، اس سے کریئ یٹیو تھنکنگ اچھی ہوگی، کہانیوں کے مختلف کرداروں کے اندر اپنا آپ نظر آئے گا۔ اور پھر نان فکشن پڑھو۔ جس سے دنیا کے علم کے بارے میں اضافہ ہوگا۔ چاہے وہ تاریخ پر مبنی ہو یا کسی کی سوانح حیات پر۔اس تحریر میں مصر میں الیگزینڈر کی لائبریری کی تاریخ پڑھ کر اچھا لگا۔ میں مصر کی ایک قدیم لائبریری میں گئی تھی اور اس کے سامنے کی دیوار پر ہر زبان کا ایک لفظ لکھا ہوا ہے۔اس یاددہانی کا بہت شکریہ! والدین کے لیے بہت ضروری ہے کے وہ اپنی اولاد میں لائبریری جانے کی اہمیت اپنے عمل سے ڈالیں۔کہانیوں کو پڑھنا بہت کچھ سکھاتا ہے۔ ذہن کو مضبوط بناتا ہے۔ زبان کی فراوانی بڑھاتا ہے۔ لکھنا سکھاتا ہے۔اس تحریر میں کامکس کی اہمیت کے بارے میں پڑھا، بہت خوب۔ بہت ضروری پوائنٹ ہے! اکثر لوگ اس کے بارے میں غلط رائے رکھتے ہیں۔ تحریر اور آڈیو دونو بہت اچھی کاوشیں ہیں۔
عظمیٰ حسن
سنگاپور سے عظمیٰ حسن لکھتی ہیں کہ اُمّ موسیٰ ایک بہت پُر اثر تحریر ہے- حضرت موسیٰ کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا چکا ہے۔ لیکن دو باتیں یہاں مختلف ہیں۔
پہلی بات ، وہ تاریخی پس منظرجس کی وجہ سے بنی اسرائیل اس مصیبت میں تھے اور دوسرا وہ زاویہ جس سے اس کہانی کو لکھا گیا
ان کی والدہ کے نقطہ نظر سے ان کی کہانی کو پڑھ کر ایک مختلف آگاہی ملی۔ اس ماں کے جذبات اور احساسات کیا ہوں گے جس کی اولاد خطرے میں ہو۔ اس ماں کے ایمان کاکیا ہی معیار ہوگا جو اپنے لخت جگر کو اللّٰہ کے حوالے کر دے۔اور اس رب کی محبت اپنے بندے کے لیے! کس خوبصورتی سے اللّٰہ نے وسیلے پیدا کیے اور اپنے بندے کی دعا کو قبو ل فرمایا۔کس قدر خوبصورت اللّٰہ اور بندے کا رشتہ ہے۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہم اپنا ایمان اور توکّل مضبوط کر لیں تو اس کے اثرات ہماری زندگی پر کیا ہوں گے! ہمارے کتنے مسائل اور مستقبل کا خوف دور ہو گا جو ہمیں اور ہماری سوچ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ شاید ہمیں اس سے آزادی مل سکے۔