ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کو امام العصر جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے۔اِس کا پہلا شمارہ50 سال پہلے مارچ 1973میں لاہور (پاکستان) سےشائع ہوا تھا۔ اگلے 12سال یہ حسبِ حالات وقتاً فوقتاً شائع ہوتا رہا۔ 1983ء میں ’’المورد‘‘ قائم ہوا تو اِسے اُس کے فکری نمایندے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ 1987ء میں اِس کا ڈیکلریشن استاذِ گرامی کے نام منتقل ہوا تو یہ باقاعدگی سے شائع ہونے لگا۔2 بعد ازاں جب استاذِ گرامی کے فرزندِ ارجمند جواد احمد صاحب نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو دعوتی کام کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا تو ’’اشراق‘‘ کی نگرانی کے جملہ امور اُنھیں سونپ دیے گئے۔اللہ کا شکر ہے کہ وہ اُنھیں حسبِ استطاعت خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں اور ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور بلاانقطاع جاری و ساری ہے۔الحمد للہ رب العالمین۔
اِس رسالے کے ادارتی اور انتظامی امور میں جن رفقا کا غیر معمولی کردار رہا ہے، اُن میں ڈاکٹر منیر احمد، شکیل الرحمٰن، طالب محسن، خورشید ندیم، نعیم بلوچ، معز امجد، محمد بلال اورقدیر شہزاد کے نام نمایاں ہیں۔ راقم الحروف کو بھی استاذِ گرامی نے اِس کی خدمت کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ اُنھی کی سرپرستی اور رہنمائی میں کم و بیش 20 سال سےاِس کی ادارت کے فرائض بجا لانے کا موقع میسر ہے ۔ تدوین و طباعت میں معظم صفدر،نعیم احمد، شاہد محمود ، شاہد رضا اور اظہر امیرکی خدمات گراں قدر ہیں۔ جن رجالِ کار نے اِسے لوگوں تک پہنچانے کے مشن کو اپنایا اور گھروں، دفتروں، دکانوں میں اِسے دستیاب کرنے کے لیے شب و روز جدوجہد کی، اُن میں دو شخصیات کا کردار غیر معمولی ہے:ایک محمد اسحاق ناگی مرحوم اور دوسرےڈاکٹر حبیب الرحمٰن شہید ۔ ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کو اِسی کی خدمت کی بہ دولت شہادت کا رتبہ ملا ۔ اللہ دونوں کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔ ’’اشراق‘‘ کی تعمیر و ترقی اور اِس کادوام و استحکام استاذِ گرامی اور اُن کے اِن رفقا و احباب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِن کی اجتماعی مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اِن کے اخروی اجر کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔
گذشتہ برسوں کے دوران میں جب دنیا کے مختلف ملکوں میں ’’المورد‘‘ کے انفرادی نظم قائم ہوئے تو پاکستان سے باہر اُن سب کاموں کی بنیاد پڑ گئی ، جو ’’المورد‘‘ کے تصور کا لازمی جز ہیں۔ اِن نوتشکیل اداروں نے پاکستان میں قائم اولین ’’المورد‘‘ کو مثالی نمونہ (Role Model) بنایا اور اپنے افرادی اور مالی وسائل کی رعایت سے تصنیف و تالیف، تعلیم و تربیت اور نشرو اشاعت کے کاموں کو منظم کرنا شروع کیا۔ اِن کے مؤسسین اور منتظمین نے اپنے کاموں کو اُنھی خطوط پر استوار کیا، جن پر اولین ’’المورد‘‘ کو قائم کیا گیا تھا اور اُنھیں اُنھی ناموں سے موسوم کیا، جو استاذِ گرامی کے ساتھ نسبت کو ظاہر کرتے تھے یا اُن کے کاموں کی حیثیت سے معلوم و معروف تھے۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ کام اپنی ساخت، شناخت اور تعلق میں اُسی تحریک کا حصہ قرار پائیں، جس کا بیڑا استاذِ گرامی نے اٹھایا تھا اور اُسی روایت کا تواتر شمار ہوں، جو نصف صدی سے امام العصر کی اقتدا میں قائم ہے۔ اِس تناظر میں بعض اہلِ دعوت کو تمنا ہوئی کہ اگر اسباب میسر ہوں تو ہمارے دعوتی ترجمان ’’اشراق‘‘ کو بھی دیگر ممالک سے جاری کیا جائے ۔ یہ تمنا پوری ہوئی اور اِس سلسلے کا اولین قدم ماہنامہ ’’اشراق ہند‘‘ کی صورت میں اٹھایا گیا۔یہ 2017 ءسے باقاعدگی سے جاری ہے۔ فاضل محقق اور عالم ِدین مولانا محمد ذکوان ندوی اِس کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
پروردگار کا احسان ہے کہ ہندوستان کے بعد اب امریکہ سے بھی ’’اشراق‘‘ کے اجرا کے اسباب پیدا ہو گئے ہیں۔اِن اسباب کی فراہمی ’’المورد امریکہ‘‘ کےرفقا اور ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب فرحان سید کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ اِس کی ادارت کے لیے میری ناچیز خدمات پیش ہیں ۔
’’اشراق امریکہ‘‘ تحریر کے ساتھ آڈیو کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔یہ صورت ہمارے دعوتی کام میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ اِس میں مصنفین کی تحریریں اُن کی اپنی آوازوں میں نشر ہوں گی۔ مقصود یہ ہے کہ دعوت کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اِس کے ساتھ اُسےبرصغیر پاک و ہند کے اُن کروڑوں لوگوں تک پہنچایا جائے، جو اردو رسم الخط سے ناواقفیت کے باعث اِس سے مستفید ہونے سے قاصر ہیں۔ ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کی روحِ رواں اور اُس کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن برادرم محمد حسن الیاس نےاِس جدت کو شاملِ حال کرنے کا عزم کیا ہے۔ وہ ’’اشراق آڈیو‘‘ کے مدیر کے فرائض انجام دیں گے۔
ہماری خوش نصیبی ہے کہ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے ’’اشراق امریکہ‘‘ کی سر پرستی کو قبول فرمایا ہے۔ہمارے لیے اِس سے بڑھ کر شرف و اعزاز اورکیا ہو گا کہ ہمیں اپنے عہد کے امام کی رہنمائی میں دین کی خدمت کا موقع میسر ہے۔ دعا ہے کہ پروردگاراِس سے تادیر فیض یاب رکھے۔ آمین۔
’’اشراق امریکہ‘‘ صحافت کے میدان میں ہماری دعوت کا نقشِ ثالث ہے۔ ’’اشراق پاکستان‘‘ کو نقشِ اول اور ’’اشراق ہند‘‘ کو نقشِ ثانی کی حیثیت حاصل ہے۔ گویا یہ اُسی سفر کا تیسرا سنگِ میل ہے ، جس کا آغاز نصف صدی پہلے استاذِ گرامی نے کیا تھا ۔ ہر نشانِ راہ جہاں راہ گزر کی صحیح سمت کا اطمینان دلاتا ہے ، وہاں سامانِ سفر کی ترتیب اور عزمِ سفر کی تجدید کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ ’’اشراق امریکہ‘‘ کے آغاز کے موقع پر اِس تقاضے کو پورا کرنے کی صورت یہ ہے کہ اُن اصولوں، اُن معیاروں اور اُن قدروں کی یاد دہانی کی جائے ، جنھیں بانی’’اشراق‘‘ نے قائم کیا اور اُن کے رفقا نے دل و جان سے برقرار رکھا۔
یہ درجِ ذیل ہیں:
1۔ ’’اشراق‘‘ علما کے انذار کا ترجمان ہے
دین کی دعوت کا کام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے امت کے علما کو منتقل ہوا ہے۔ اِسے قرآنِ مجید نے ’’انذار‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی لوگوں کو اخروی زندگی کی تیاریوں کے لیے بیدار کیا جائے۔ یہ کام ظاہر ہے کہ تصنیف و تالیف اور تعلیم و تربیت کے اہتمام اور اُن کی نشر و اشاعت پر مبنی ہے۔ ’’اشراق‘‘ اِن کاموں کے جامع اور ناشر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر تا ہے۔
2۔ ’’اشراق‘‘ دین کی بے آمیز تعلیمات کا آئینہ دار ہے
دین اُسی صورت میں انسانوں کے لیے حجت قرار پاتا ہے، جب اُسے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی الہامی تعلیمات پر منحصر کیا جائے۔ آپ سے قبل و بعد کے انسانی علوم و افکار کی کوئی آمیزش اُس میں نہ ہونے دی جائے۔ چنانچہ ’’اشراق‘‘ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دین کو فلسفہ، کلام، فقہ،تصوف اورتاریخ کی ملاوٹوں سے بالکل الگ کر کے بے کم و کاست اور خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔
3۔ ’’اشراق‘‘ مدرسۂ فراہی کے اندازِ فکر کا نمایندہ ہے
دورِ حاضر میں امام حمید الدین فراہی، امام امین احسن اصلاحی اور امام جاوید احمد غامدی کا کام خالص قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ مدرسۂ فراہی کے اِن جلیل القدر اہل علم نے اِس بات کو بہ طورِ اصول اختیار کیا ہے کہ دین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر وتصویب تک محدود سمجھا جائے۔نہ اِس میں کوئی کمی کی جائے، نہ اضافہ کیا جائے اور نہ اِس میں کسی فکر ، کسی نظریے، کسی خیال کو در اندازی کی اجازت دی جائے۔’’اشراق‘‘ بعینٖہ اِس نقطۂ نظر کا حامل ہے۔لہٰذا اُسے مدرسۂ فراہی کے فکری نمایندے کی حیثیت حاصل ہے۔
4۔ ’’اشراق‘‘ حریتِ فکر کا علم بردار ہے
علم و فکر کی آزادی علم و فکرکی بقا کا ذریعہ ہے۔ اِسی سے علوم و فنون میں تعمیر و ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور انسان کے اُن پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِس راہ میں اگر تقلید و تہدید اور جبر و اکراہ کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں تو نہ صرف اِس کی ترقی کا سفر رک جاتا ہے، بلکہ اِس کا اعتبار بھی ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ میں گذشتہ چند صدیوں سے اِسی کا چلن ہے۔ چنانچہ مذہبی روایت دین سے مقدم اور معتبر ہو گئی ہے اور لوگ قرآن و سنت کو اُسی کی روشنی میں سمجھنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔اندھی تقلید کی یہ جامد روایت دین کی دعوت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ لہٰذا ’’اشراق‘‘ نے اِسے ببانگِ دہل چیلنج کیا ہے اور دینی علوم پر غور و فکر کی کامل آزادی کا علم بلند کیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ جریدہ دورِ حاضر کے مذہبی جبر و استبداد کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
5۔ ’’اشراق‘‘ علمی مکالمے کا حامی ہے
اہلِ علم کے مابین اتفاق و اختلاف علم کے سفر کا لازمی جز ہے۔ اتفاق و اختلاف کے لیے نقد و نظر اور بحث و مکالمہ ناگزیر ہے۔ علم کی دنیا میں اُسی اتفاق یا اختلاف کو وقعت ملتی ہے، جوتجزیہ و تحلیل کے بعد دلائل سے ثابت ہو۔ یہ سارا عمل علمی تبادلۂ خیال کو پروان چڑھاتا ہے۔ مکالمہ ایک صاحب علم کے سوال اور دوسرے کے جواب پر منحصر ہوتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں علم منتقل ہوتا اور صحیح اور غلط میں امتیاز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ’’اشراق‘‘ اگرچہ مدرسۂ فراہی کے اندازِ فکر کا آئینہ دار ہے، مگر یہ دیگر مکاتبِ فکر کے ساتھ علمی تبادلۂ خیال کو ضروری سمجھتا ہے۔ اِس کے ’’نقد و نظر‘‘ اور ’’نقطۂ نظر‘‘ کے شعبے اِسی طرح کے مضامین کے لیے مختص ہیں۔
6۔ ’’ اشراق‘‘ فرقہ بندی کا مخالف ہے
فرقہ بندی گروہی عصبیت پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی لوگ کسی گروہ یا جماعت کی حمایت علم و استدلال یا حق و صداقت کی بنا پر نہیں کرتے، بلکہ نسبت، تعلق اور وابستگی کی بنا پر کرتے ہیں۔ وابستگی بہ ذاتِ خود کوئی عیب نہیں، لیکن یہ اگر حق کے مقابلے میں ہو تو سراسر فساد ہے۔ پھر یہ معاشرے میں وہی فتنہ، وہی شر پیدا کرتی ہے، جو زمانۂ رسالت میں ابوجہل اور ابو لہب نے پیدا کیا تھا۔ ہمارے ہاں یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہ ایک دوسرے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے اور اُن کے لیے انکار، ارتداد اور تکفیر کے فتوے جاری کرتے ہیں اور نوبت یہ آ جاتی ہے کہ اُن کے خون کو مباح اور قتل کو واجب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ’’اشراق‘‘ اِس تعصب اور فرقہ بندی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ جاہلی عصبیت کی سنگلاخ پگ ڈنڈیوں کو چھوڑ کر اخوت و سلامتی کی ہموار شاہ راہوں کو اختیار کریں۔
7۔ ’’اشراق‘‘ لوگوں کی انفرادی اصلاح کا نقیب ہے
دین چاہتا ہے کہ انسان کے علم و عمل کو آلایشوں سے پاک کر کے اُسے خدا کی ابدی جنت کا اہل بنایا جائے۔ اِس کے لیے سب سے بنیادی چیز خالق کے ساتھ بندگی کے تعلق کو پورے خلوص سے قائم کرنا ہے۔ اِس کے بعد مخلوق خدا کے ساتھ اپنے معاملات کو مبنی بر اخلاق رکھنا ہے۔ اِن دونوں پہلوؤں سے انسان کو وعظ و نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’اشراق‘‘ اِسی تذکیر و تلقین کا مجموعہ ہے۔ خاص انفرادی تہذیبِ اخلاق کے پہلو سے اِس میں ’’اصلاح و دعوت‘‘ کا شعبہ مختص ہے۔
8۔ ’’اشراق‘‘ قوم کا ہم درد اور اُس کی غلطیوں کی اصلاح کا داعی ہے
اِس میں شبہ نہیں کہ ’’اشراق‘‘ علماے دین کا پلیٹ فارم ہے اور اِس بنا پر اُس کا اصل ہدف دعوت و انذار ہے، مگر خود دعوت کا تقاضا ہے کہ ملک و ملت کے دکھ درد میں شریک رہا جائے۔ اُنھیں تکلیف پہنچے تو محبت اور تسلی کا اظہار کیا جائے، وہ سرخ رو ہوں تو اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ وہ انتشار و افتراق کا شکار ہوں تو اخوت اور اتحاد کا درس دیا جائے۔ غفلت ، جہالت اور اخلاقی پستی کے اندھیروں کی طرف گام زن ہوں تو عزم و ہمت، علم و ہنر اور ادب و اخلاق کے اجالوں کی طرف بلایا جائے۔اِس مقصد کے لیے اُنھیں جھنجوڑا بھی جائے، ڈرایا بھی جائے، خبر دار بھی کیا جائے، مگر مایوس ہر گز نہ ہونے دیا جائے۔
مقامِ افسوس کہ مسلمان قوم علم و عمل کے انحطاط کا شکار ہے۔ اِس کے رہنماؤں نے جو حکمت ِ عملی بھی اختیار کی ہے، اُس نے اِس میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی ہر حکمت عملی عقل کے بجاے جذبات اور اصولوں کے بجاے سطحی مفادات پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے اپنے ملک میں قومی حیثیت سے منظم ہونے کے بجاے بے قابوگروہوں کی صورت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ برِصغیر اور بعض دیگر ممالک میں اُن کی سیاست، معیشت اور معاشرت تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے۔ اِس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ اُنھیں اُن کی قومی اور اجتماعی غلطیوں کا احساس دلایا جائے اور اُن کی فوری اصلاح کی طرف متوجہ کیا جائے۔ یہ کام اگرچہ ’’اشراق‘‘ کا اصل میدان نہیں ہے، مگر اِ ن معاملات میں اصولی رہنمائی اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُس نے اِس ذمہ داری کو نبھانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔
9۔’’اشراق‘‘ معیاری زبان و بیان کا ضامن ہے
قرآنِ مجید شہ پارۂ ادب اور زبان و بیان کا عظیم معجزہ ہے۔ اُس کی دعوت کو پیش کرنے والی ہستی افصح العرب والعجم تھی۔ آپ کے جلیل القدر صحابہ بھی فصیح اللسان تھے۔ اُن کی اتباع میں سلف و خلف کے علما نے جب دین کی دعوت کو پیش کیا تو صحتِ زبان اور حسنِ کلام کو خاص طور پر ملحوظ رکھا۔ اردو زبان میں بھی دبستانِ شبلی کے تمام اہل قلم نے معیاری زبان و بیان کے التزام کو لازمی امر کے طور پر اختیار کیا۔ ’’اشراق‘‘ نے اِس روایت کوپوری محنت سے قائم رکھا ہے۔ اُس کے صفحات میں اسلوب کی ندرت، جملے کی سلاست، محاورے کی موزونی، املا کی درستی اور اوقاف کی پابندی کا ہر ممکن لحاظ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو دان طبقے میں اِسے معیاری اردو زبان کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
10۔’’ اشراق‘‘ نو آموز قلم کاروں کی درس گاہ ہے
’’اشراق‘‘ نے ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ہر نام و ر ادیب، ہربڑا انشا پرداز فنی تربیت اور مشق مزاولت کے بعد ہی معتبر ہوتا ہے۔ اعلیٰ جرائد نہ صرف ادیبوں کے کام کو متعارف کراتے ہیں، بلکہ باصلاحیت نوجوانوں کو صاحبِ طرز ادیب بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ’’اشراق‘‘ یہ خدمت برس ہا برس سے انجام دے رہا ہے۔ متعدد قلم کار ہیں، جنھوں نے ’’اشراق‘‘ سے لکھنے کا آغاز کیا ، اُس کے تدوینی عمل سے بار بار اپنی تحریروں کو گزارا اور بالآخر صاحبِ کتاب مصنف کے مقام پر فائز ہوئے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو ’’اشراق‘‘ انشا پردازی کی ایک عظیم دانش گاہ ہے، جس میں دین کے طلبا علم و تحقیق، تصنیف و تالیف اور ترتیب و تدوین کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
یہ وہ بنیادی اصول، وہ لازمی معیارات اور وہ مستقل اقدار ہیں، جنھیں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے ’’اشراق‘‘ کی مستحکم روایت کے طور پر قائم کیا ہے۔ اِس روایت کو وجود بخشنے کے لیے اُنھوں نے صبر و برداشت کے خار زاروں میں عمر بھر آبلہ پائی کی ہے ، تب کہیں جا کر سرو و سمن پیدا ہوئے ہیں ۔ اُن کی نصف صدی کی خود نوشت اِن دو جملوں میں تحریر ہے:
ہوتا ہے روز راہ کے کانٹوں سے تار تار
سیتا ہوں اُن کی نوک سے پھر پیرہن کو میں
اِس دشتِ بے چراغ میں کرتا ہوں روز و شب
پیدا ہر اک ببول سے سرو و سمن کو میں
لیکن یہ اُنھی کا کام ہے، اُنھی کا حوصلہ اور اُنھی کا مرتبہ ہے۔ ہم جیسے رہ نوردانِ شوق تو بس اُن کے نقشِ قدم کو چراغِ راہ ہی بنا سکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ جستجو اور یہ آرزو کر سکتے ہیں :
تیرہ ہیں مہ و مہر تو ہم اپنے لہو سے
کر دیتے ہیں یہ بزم چراغاں کوئی دن اور
اِس دور میں سرمایۂ اربِ نظر بھی
اب ہو گا فراہی کا دبستاں، کوئی دن اور
- ۔ اس سے پہلے اِس کا ڈیکلریشن استاذِ گرامی کے رفیق ڈاکٹر مستنصر میر کے پاس تھا۔