( شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا ناموس رسالت کے جذبات کے اظہار پر تبصرہ)
مولانا سید مناظر احسن گیلانی اپنے استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے درس کا ایک واقعہ سناتے ہیں :
’’بخاری شریف کا سبق ہو رہا تھا۔ مشہور حدیث گزری کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے مال، بال بچے اور سارے انسانوں سے زیادہ میں اس کے لیے محبوب نہ ہو جاؤں۔
فقیر نے عرض کیا کہ’’بحمد اللہ عام مسلمان بھی سرکارِ کائنات کے متعلق محبت کی اس دولت سے سرفراز ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ ماں باپ کی توہین کو تو ایک حد تک مسلمان برداشت کر لیتا ہے،لیکن رسالت ماب کی ہلکی سی سبکی بھی مسلمانوں کو اس حد تک مشتعل کر دیتی ہے کہ ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں، آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ جان پر لوگ کھیل گئے ہیں۔‘‘
یہ سن کر حضرت نے فرمایا: ’’ہوتا بے شک یہی ہے جو تم نے کہا۔ لیکن کیوں ہوتا ہے؟ تہ تک تمھاری نظر نہیں پہنچی، محبت کا اقتضا یہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے ہر چیز قربان کی جائے ، لیکن عام مسلمانوں کا جو برتاؤ آں حضرت کی مرضئ مبارک کے ساتھ ہے وہ بھی ہمارے تمھارے سامنے ہے۔ پیغمبر نے ہم سے کیا چاہا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں، اس سے کون ناواقف ہے،پھر سبکی آپ کی جو مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے اس کی وجہ محبت تو نہیں ہو سکتی۔ ‘‘
خاکسار نے عرض کیا کہ تو آپ ہی فرمائیں، اس کی صحیح وجہ کیا ہے؟نفسیاتِ انسانی کے اس مبصرِ حاذق نے فرمایا کہ ’’سوچو گے تو درحقیقت آں حضرت کی سبکی میں اپنی سبکی کا غیر شعوری احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اور انا مجروح ہوتی ہے۔ہم جسے اپنا پیغمبر اور رسول مانتے ہیں تم اس کی اہانت نہیں کر سکتے۔چوٹ درحقیقت اپنی اسی ’انانیت‘ پر پڑتی ہے، لیکن مغالطہ ہو تا ہے کہ پیغمبر کی محبت نے ان کو انتقام پر آمادہ کیا ہے۔ نفس کا یہ دھوکا ہے…محبوب کی مرضی کی جسے پروا نہ ہو،اذان ہورہی ہے اور لایعنی اور لاحاصل گپوں سے بھی جو اپنے آپ کو جدا کرکے مؤذن کی پکار پر نہیں دوڑتا، اسے انصاف سے کام لینا چاہیے کہ محبت کا دعویٰ اس کے منہ پہ کس حد تک پھبتا ہے۔ ‘‘
(کتاب:احاطۂ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن ،مصنف مولانا مناظر احسن گیلانی)