مواد پر جائیں

شکایت ایک نفسیاتی کمزوری

مولانا وحید الدین خان اردو

شکایت کا سبب کوئی انسان نہیں، اس کے اسباب خود قانون فطرت کے اندر ہیں۔ جب بهی کچھ لوگ مل کر رہیں یا مل کر کوئی کام کریں تو لازماً ایک کو دوسرے سے ناخوش گوار تجربات ہوتے ہیں۔ یہی تجربات شکایت پیدا کرتے ہیں۔ اب جو آدمی شکایت کو فطرت کے نظام کا ایک تقاضا سمجھے وه اس کو نظر انداز کردے گا اور جو آدمی شکایت کو ایک شخص کا فعل سمجھ لے وه اس کے خلاف شکایت میں مبتلا ہو جائے گا۔

کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ہمیشہ متحده کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بهی کچھ لوگ متحد ہوں گے تو لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت بهی پیدا ہوگی۔ اب اگر ایسا ہو کہ لوگ شکایتوں کو لے کر ساتھ چهوڑ دیں تو کبهی کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا۔ بڑا کام صرف وه لوگ کر سکتے ہیں جن کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وه شکایت کے باوجود متحد رہیں، شکایت کے باوجود وه مقصد کی خاطر دوسروں سے جڑے رہیں۔

اس معاملے کا دوسرا سخت تر پہلو ایک اور ہے۔ وه یہ کہ اجتماعی زندگی میں شکایت کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس لیے شکایتی مزاج کے لوگ عملاً ڈبل اسٹینڈرڈ بن جاتے ہیں۔ وه ایسا کرتے ہیں کہ جہاں ان کا گہرا انٹرسٹ وابستہ ہو، وہاں تو وه شکایت کو نظر انداز کر کے جڑے رہتے ہیں۔ اور جہاں گہرے انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وه فورًا شکایت لے کر کهڑے ہو جاتے ہیں۔

شکایتی مزاج ایک قسم کی نفسیاتی کمزوری ہے۔ اس نفسیاتی کمزوری کے ساتھ آدمی کبهی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ حتٰی کہ یہ نیکی بهی اس کے لیے مقدر نہیں کہ کوئی شخص ایک بڑا کام کر رہاہو تو وه اس کا اعتراف کرے۔ کیونکہ اپنے مزاج کی بنا پر اس کو کوئی نہ کوئی ایسی شکایتی بات مل جائے گی جس کا حوالہ دے کر وه اس کو رد کردے اور اس سے الگ ہو جائے۔

[الرسالہ، مئی 2001ء]

خیال و خامہ