]’’نقد نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
مارکسزم دورِ جدید کی سب سے بڑی فکری تحریک تھی جس نے پوری دنیا کو کسی نہ کسی پہلو سے متاثر کیا۔ سیاسی طور پر اس کا نتیجہ عظیم سوویت یونین کی شکل میں ظاہر ہوا اور نصف دنیا پر اس کا اقتدار قائم ہو گیا۔ معاشی طور پر ایک طرف اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم وستم کے آگے بند باندھا تو دوسری طرف کمیونسٹ ممالک میں سوشل ازم کی بنیاد پر ایک عملی نظام قائم کیا۔ تاہم اس کا سب سے زیادہ اثر دنیا بھر کے سوچنے والے اذہان پر ہوا اور دنیا کے ہر خطے میں اس کے ذہین ترین افراد متاثر ہوئے اورکمیونسٹ نظریات کے علم بردار بن کر کھڑے ہو گئے۔
بیسویں صدی کے بیش تر حصے میں روایت پسند دائیں بازو اور کمیونسٹ افکار سے متاثر بائیں بازو کی کشمکش جاری رہی۔ پاکستان اس کشمکش کا ایک اہم میدان اس پہلو سے تھا کہ سوویت یونین کے قریب واقع ہونے کے باوجود اور ارد گرد موجود دیگر ممالک میں کمیونسٹ اور بائیں بازو کے افکار کے فروغ کے باوجود پاکستان دائیں بازو، روایت پسندی اور مذہب کا گٹھ تھا۔ بائیں بازو کے بہت سے لوگوں کے نزدیک تو مغربی قوتوں نے پاکستان کو وجود ہی اسی لیے بخشا تھا کہ وہ کمیونزم کے سیلاب کے سامنے دائیں بازو کا ایک قلعہ بن سکے۔
پس منظر میں جو بھی ہو، مگر عملی طور پر پاکستان کا کردار یہی رہا اور پاکستان بیک وقت اسلام کا علم بردار اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے حامل مغربی ممالک کا ایک قریبی حلیف رہا۔ اس کے جواب میں سوویت یونین نے بھی یہاں موجود بائیں بازو کی بہت مدد کی اور یہاں بائیں بازو کے بہت بڑے اور نمایاں دانش وروں اور اہل علم نے جنم لیا۔ تاہم عوامی سطح پر کبھی بائیں بازو کو پاکستان میں زیادہ پذیرائی نصیب نہ ہو سکی۔
1977ء میں جب جنرل ضیا الحق کا دور شروع ہوا تو یہ گویا کہ دائیں بازو اور اہل مذہب کے دورِ اقتدار اور بائیں بازو کے دورِ زوال کا آغاز تھا۔ رہی سہی کسر پہلی افغان جنگ نے پوری کر دی جس میں پاکستان، عرب ممالک اور تمام مغربی ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کے خلاف ایک پروکسی جنگ لڑی جو آخر کار کمیونزم کے زوال اور سوویت یونین کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ اس واقعے نے پاکستانی بائیں بازو کی رہی سہی قوت کو بھی ختم کر دیا۔
اس کے بعد نوے کی دہائی اور اکیسویں صدی کے آغاز میں دائیں بازو کے لیے میدان مکمل طور پر خالی تھا، مگر اس عرصے میں جاری مذہب کے نام پر برپا انتہا پسندی، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری اور مذہب کے نام پر جاری دہشت گردی نے معاشرے کے ذہین اور حساس طبقات اور خصوصاً نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔
ایسے معاشرے میں دو بڑی مضبوط آوازیں نمایاں ہوئیں جنھوں نے صورت حال پر کھل کر تنقید کی۔ پہلی آواز ان اہل علم کی تھی جنھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ بتایا کہ دین اسلام انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم ہر گز نہیں دیتا۔ مذہبی انتہا پسندوں نے ایسے اہل علم کو معاشرے میں اسلام دشمن ثابت کرنے کے لیے ان کے خلاف شدید ترین پروپیگنڈا کیا۔ دہشت گردوں نے ان میں سے نمایاں ترین آوازوں کو شہید کر دیا یا ہجرت پر مجبور کر دیا۔ جو باقی بچے انھیں خوف و دہشت کی فضا اور پروپیگنڈے کے علاوہ بدترین سماجی اور معاشی مقاطعے کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ایک وقت آیا کہ حکومت نے مجبور ہو کر دہشت گردی کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور یوں صورت حال کچھ بہتر ہوئی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک دوسری آواز بھی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اٹھی۔ یہ آواز وہی بائیں بازو کی تھی جسے اب وہ نوجوان مل گئے تھے جو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تھے۔ انفارمیشن ایج نے ان نوجوانوں کو مغربی بائیں بازو کی اس روایت سے متعارف کرا دیا جو سرمایہ دارانہ جبر کے ظہور ثانی اور دہشت گردی کے فروغ کی بنا پر ایک دفعہ پھر زندہ ہو گئی تھی۔ اس دوسری آواز کے علم بردار نوجوان دانش وروں میں بائیں بازو کے اہل علم کی وہ بیش تر صفات تھیں جو عام طور پر بائیں بازو کے اہل علم کو لوگوں میں مقبول بناتی رہی تھیں۔ یعنی یہ اسٹیٹس کو کے سخت خلاف ہوتے ہیں اور باغیانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس ریڈیکل اپروچ کے علاوہ یہ وسیع المطالعہ ہوتے ہیں اور ساتھ میں تحریر و تقریر میں اپنا مدعا بھرپور طریقے سے بیان کرتے ہیں۔
مذہبی انتہا پسندوں کو زیادہ خطرہ پہلی آواز سے تھا اسی لیے انھوں نے اس دوسری آواز کو نظر انداز کر کے پہلی آواز کو دبانے میں پورا زور لگا دیا تھا۔ اس کا فائدہ بائیں بازو کی اس دوسری آواز کو ہوا اور سوشل میڈیا کے فروغ نے ان کی آواز کو معاشرے میں تیزی سے پھیلا دیا۔ آج حالات سے نالاں لوگ جب بائیں بازو کی آواز کو سنتے ہیں جس میں انقلابی گفتگو ہے، باغیانہ اسلوب ہے، اسٹیٹس کو اور مذہبی انتہا پسندی پر سخت تنقید ہے، مغربی اہل علم اور دانش وروں کے حوالے ہیں، تاریخی واقعات کے پس منظر کا بیان ہے تو انھیں لگتا ہے کہ یہی وہ انقلابی گروہ ہے جو ہمیں نجات کا راستہ دکھا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ہو یا جدید دنیا ہو، دونوں کی نجات نہ دائیں بازو کی روایتی حقیقت میں ہے نہ بائیں بازو کی انقلابی سوچ میں۔ نہ مسلمانوں کی انتہا پسندانہ فکر میں ہے اور نہ کمیونزم کے احیاے نو میں۔ انسانیت پچھلے دو سو برس میں ان سب کو اپنے منتہاے کمال پر دیکھ چکی ہے اور ان کے پیدا کردہ فساد، خوں ریزی، استحصال اور جبر کو بھی بھگت چکی ہے۔ انسانیت کی نجات صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ایمان و اخلاق کی اس دعوت میں ہے جس کا علم بردار قرآن مجید ہے۔
بدقسمتی کہہ لیجیے یا انسانیت کے امتحان کی نوعیت ایسی ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ قرآن مجید کے بیان کردہ اسی سیدھے راستے پر تاقیامت بیٹھا رہے گا۔ وہ لوگوں کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے بہکا کر انھیں ہر صورت اس راہ پر آنے سے روکے گا اور اس آواز کو سننے سے باز رکھے گا۔ شیطان اس کام کے لیے کبھی دنیا پرستی کو استعمال کرتا ہے، کبھی دولت، شہرت اور طاقت کی ہوس کو بروے کار لاتا ہے۔ وہ کبھی اقتدار کا پھندا بناتا ہے اور کبھی میڈیا اور شہوانیت کو اپنا آلۂ کار بناتا ہے۔ وہ کبھی شرک و الحاد کو استعمال کرتا ہے اور کبھی فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو پھیلا کر اپنا مقصد حاصل کرتا ہے۔ وہ کبھی بائیں بازو، سیکولر ازم اور کمیونزم کو استعمال کرتا ہے اور کبھی سرمایہ دارانہ نظام کے جبر، مارکیٹ اکانومی کی منافع پرستی اور دائیں بازو کی قدامت پسندی کو دام ہم رنگ زمیں بنا لیتا ہے۔ وہ کبھی انسانیت کا نعرہ لگاتا ہے اور کبھی آزادی کے خواب دکھاتا ہے۔
شیطان کا مشن دو ٹوک ہے۔ اسے لوگوں کو سچی خدا پرستی سے روکنا ہے۔ اسے خدا کے معیارات کے مطابق فری اخلاقی رویے سے انسانیت کو ہٹانا ہے۔ اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیا علیہم السلام تک پہنچنے سے لوگوں کو روکنا ہے۔ اسے قرآن مجید کی ایمان و اخلاق کی دعوت کو اپنانے سے لوگوں کو روکنا ہے۔
جو لوگ دائیں اور بائیں سے اوپر اٹھ کر قرآن مجید کی ایمان و اخلاق کی دعوت تک پہنچ جائیں، وہی لوگ ہیں جو دنیا میں بھی خیر پیدا کریں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی دنیا میں اس جنت میں رہیں گے جس کا خواب مارکس نے دنیا کو دکھایا تھا اور وہ بری طرح ناکام رہا۔ یہ جنت کا وہ معاشرہ ہو گا جہاں انسانوں کا انسانوں پر سے اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔ جہاں ہر ظلم و ناانصافی کو ہمیشہ کے لیے جہنم تلے دفن کر دیا جائے گا۔ جہاں ہر انسانی خواب پورا ہو گا اور جہاں ہر برائی کا ابدی طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔