صبا، عمراور اسد اپنے کمرے میں اسکول کاکام کر رہے تھے۔ تینوں میں مقابلہ تھاکہ کون اپنا کام پہلے ختم کرتا ہے۔ صبا کو سب سے زیادہ کام ملا تھا۔ اس لیے اسے ڈر تھا کہ وہ اس دوڑ میں اپنے بھائیوں سے پیچھے رہ جائے گی۔ لیکن وہ آرام سے ہار ماننے والی نہیں تھی۔ بڑی جلدی جلدی اس کا قلم چل رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ دل ہی دل میں سوچتی کہ آخر اسے اتنا کام کیوں دیا جاتا ہے؟ مگر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
اچانک اسے اپنے بازو پرخارش محسوس ہوئی۔ اس نے قلم میز پر رکھا اور بازو کھجانے لگی۔ تھوڑی دیر کے لیے خارش ختم ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد اسے کندھے پر پھر خارش محسوس ہوئی، لیکن اس دفعہ اسے یوں لگا جیسے کوئی چیز اس کے کندھے پر رینگ رہی ہو۔ اس پر ایک خوف سا طاری ہو گیا۔ اگلے ہی لمحے اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی، کسی چیز نے اسے بہت زور سے کاٹا تھا۔ اس کا پین ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر پڑا۔ اس نے وہی ہاتھ زور سے اس جگہ پر مارا جہاں اسے کاٹا گیا تھا۔ کوئی موٹی سی چیز اس کے ہاتھ کے نیچے آ گئی اس نے چیختے ہوئے کہا:
”امی! مجھے بچھو نے کاٹ لیا۔ ہائے میں مر گئی امی!!“ دونوں بھائی فوراً اس کی مدد کو لپکے۔
صباخوف سے پسینے میں بھیگ چکی تھی اور اس کارنگ زرد پڑ چکا تھا۔
عمر نے کاٹنے والی چیز کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔ بہن کی محبت اور ہم دردی نے اس کے دل سے بچھوکا خوف نکال دیا تھا، وہ اسے بھی کاٹ سکتا تھا۔ مگر اس نے کوئی پروا نہ کی اور اس چیز کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔ لیکن کاٹنے والی چیز بڑی مضبوطی سے صبا کے جسم سے چمٹی ہوئی تھی۔اس نے زور لگا کر اسے کھینچا اور فرش پر پھینک دیا۔
صبا کو ایک بڑے چیونٹے نے کاٹا تھا۔ وہ ٹڈی جتنا موٹا اور کالے رنگ کا تھا۔ دراصل یہ چیونٹا باہر کے باغیچے سے آیا تھا۔ آلو چے کے پودے پر اسی طرح کے بہت سے کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں۔ یہ چیونٹا باغیچے سے سفر کرتا ہوا صبا کے کمرے میں اور پھر اس کے بازو تک آن پہنچا اورجب اس نے اپنا بازو کھجایا تو اس نے غصے میں آکر اسے کاٹ کھایا تھا۔ اس طرح کے چیونٹے بہت غصیلے ہوتے ہیں۔ ان کا بڑا سا سر ہوتا ہے۔ اگر ان کو چھیڑا جائے تو یہ اپنا منہ کھول کر کاٹ کھانے کودوڑتے ہیں۔ ایک دفعہ جب یہ کسی چیز پر اپنے جبڑے گاڑ لیں تو پھر یہ مر توجاتے ہیں، مگر اس چیز کو نہیں چھوڑتے جسے انھوں نے کاٹا ہوتا ہے۔
صبا کو جس چیونٹے نے کاٹا تھا، وہ بھی اسی قسم کا تھا۔ عمر نے جب اس چیونٹے کو صبا کے کندھے سے الگ کیا تو اس کا سر وہیں چمٹارہ گیا۔ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہو چکے تھے، لیکن اس کے جبڑوں کی پکڑ ڈھیلی نہیں پڑی تھی۔ پھر عمر نے اس کے سر کو مضبوطی سے پکڑ کر کھینچا تو صبا کی جلد بھی اس جگہ سے اکھڑ گئی جہاں چیونٹے نے اسے کاٹ رکھا تھا۔ درد سے بے قرار ہو کر صبا بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اس کی آواز سن کرامی اور ابو بھی کمرے میں آ چکے تھے۔ دونوں نے اسے بہت پیار کیا اور جلدی سے اس کے زخم پر مرہم لگایا۔ مرہم لگنے سے اسے کچھ سکون محسوس ہوا اور پھر وہ آہستہ آہستہ ہنسنے کھیلنے لگی۔ امی ابو بھی اس سے باتیں کرنے لگ گئے تھے تاکہ درد سے اس کی توجہ ہٹ جائے۔
باتوں باتوں میں صبا نے ابو سے پوچھا:
”اباجان! آخر اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے کیڑے مکوڑے پیدا ہی کیوں کیے ہیں؟ آخر ان کا فائدہ کیا ہے؟“
”ہاں اباجان! آپ خودہی تو کہتے ہیں کہ انسان اس دنیا کی سب سے افضل مخلوق ہے۔لیکن یہ کیڑے مکوڑے تو ہمیں تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ انھیں پیدا ہی نہ کرتا تو بہتر نہ تھا؟“ عمرنے اپنا خیال ظاہر کیا۔
اباجان مسکرائے اور بولے: ”بیٹے تمھیں علم ہے کہ ہماری زمین میں ستر فی صد جانور یہی کیڑے مکوڑے اور حشرات ہی ہیں۔ اور دنیا کی یہ تمام رونقیں انھی کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے ہیں۔ یہ ہرگز فالتو نہیں ہیں۔“
”وہ کیسے اباجان؟… نہ اس بات پر یقین آتا ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے ستر فی صد ہیں اور نہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کی وجہ سے زمین میں زندگی ہے!“ صبا نے پوچھا۔
”بھئی یہ کون سی مشکل بات ہے… سائنس دانوں نے انسانوں سمیت دنیا کے تمام جان داروں کا حساب لگایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ حشرات ہی دنیا کی ستر فی صد آبادی ہیں اور باقی صرف تیس فی صد ہیں۔ بھئی آپ خوددیکھیں کہ اس گھر میں چھ انسان رہتے ہیں اور کیڑے مکوڑے ہزاروں اور لاکھوں کی تعدا میں ہوں گے۔ یعنی اللہ کی یہ مخلوق ہر اس جگہ پائی جاتی ہے، جہاں زندگی موجود ہے۔ میدان، صحرا، دریا، سمندر، کھیت، جنگل، پہاڑ، غرض دنیا کے ہر خطے میں کوئی اور جانور ہو نہ ہو یہ ضرور ہوتے ہیں۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ ان کی بدولت زمین میں زندگی کیسے ہے تو یہ بات سمجھنے کے لیے آپ مجھے بتائیں کہ کیا پودوں اور درختوں کے بغیر جان دار زندہ رہ سکتے ہیں؟“
”نہیں اباجان! پودے آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور غذا بھی۔ ان کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے اور اسی طرح پودے ہمارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔“ اسد نے کہا۔
”تو پھر سنو، زمین کے اندر وہ ساری غذا جو پودوں کی خوراک بنتی ہے اور جنھیں جڑوں کے ذریعے سے پودے زمین سے کھینچتے ہیں، انھی لا تعداد کیڑے مکوڑوں سے بنتی ہے۔ یہ مر کر زمین میں دفن ہو جاتے ہیں اور پھربیکٹیریا اوردوسری چیزیں زمین میں شامل ہو کر کھاد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ حشرات زمین میں شامل نہ ہوں تو زمین کبھی اتنی زرخیز نہ ہو کہ اس پر کچھ اگ سکے۔چنانچہ پودوں کی ہریالی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ حشرات ہیں۔اب آپ خود اندازہ کریں کہ خدا کی اس مخلوق کا ہمیں نقصان ہے یا فائدہ؟“
صبا، عمراوراسد نے بات سمجھنے کا اقرار سر ہلا کر کیا۔ صبا کوئی بات کہنے ہی والی تھی کہ اسد نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا:
”صبا چھپکلی!“
”بھئی صبا چھپکلی یا وہ دیوار پر چھپکلی؟“ عمر نے نکتہ اٹھایا۔ لیکن صبا، چھپکلی سے بہت خوف زدہ تھی۔ اس نے ہلکی سی چیخ ماری اور کہنے لگی: ”ابو، اس کم بخت چھپکلی کا آخر کیا فائدہ ہے؟“
اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ پورا کمرہ انتہائی تیز آواز سے گونج اٹھا۔ آواز اتنی تیز اور تکلیف دہ تھی کہ سب نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔
دراصل یہ ایک قسم کے جھینگر کی آواز تھی۔ اس قسم کے جھینگر عموماً باغوں وغیرہ میں ہوتے ہیں، لیکن معلوم نہیں وہ یہاں کہاں سے آگیا تھا اور اندھیرے کے بجاے اس نے اپنا راگ بجلی کے قمقموں کی روشنی میں کیوں الاپنا شروع کر دیا تھا۔
بہر حال اس کی آواز انتہائی تکلیف دہ تھی۔
صبا کے ابو نے بہت شی شی اور ہش ہش کیا، مگر وہ کم بخت آج کانوں کے پردے پھاڑنے کا عزم کرکے آیا تھا۔ اس شور میں پھر اچانک صبا کی چیخ بلند ہوئی۔اس کی چیخ جھینگر سے بھی تیز تھی۔ اس کے ابو نے غصے سے کہا:”بھئی اب کون سے مصیبت آن پڑی؟“
”ابو! یہ چھپکلی، میری طرف بھاگ کر آئی تھی۔ اگر میں پیچھے نہ ہٹتی تو یہ مجھے کاٹ کھاتی۔“
”لا حول ولا قوۃ! بھئی چھپکلیاں انسانوں کو نہیں کاٹتیں۔“ اباجان کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ جھینگر کی آواز یک دم بند ہو گئی۔ کمرے میں پر سکون خاموشی چھا گئی۔ البتہ صبا سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک موٹی سی چھپکلی نے کالے سیاہ رنگ کے ایک بڑے سے جھینگر پر حملہ کر دیا تھا۔ چھپکلی اس جھینگر کو مارنے کے چکر میں تھی اور وہ اپنی جان بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ سب لوگ اس لڑائی کو دل چسپی سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد چھپکلی نے جھینگر کو دو چار پٹخیاں دے کر ادھ موا کر دیا اور پھر اس کو نگلنے لگی۔ اس منظر سے سب کو بہت کراہت محسوس ہوئی اور انھوں نے اپنے چہرے دوسری طرف کر لیے۔ چھپکلی نے جھینگر کو منہ میں دبایا اور بھاگ کر کسی کونے کھدرے میں چھپ گئی، جہاں اسے اپنے شکار کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنا تھا۔
اباجان صبا کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے: ”کیوں بیٹا، اب بھی تم چھپکلی کو فالتو چیز کہو گی؟“
”نہیں اباجان! واقعی اس دنیا کی کوئی چیز فالتو نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو کسی مقصد کے تحت ہی پیدا کیا ہے۔“
”ہاں بیٹا! یہی بات علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک شعر میں یوں کہی ہے: