یہ ہے بچو، ایک کہانی
میٹھی، تازہ اور پرانی
ابراہیم، جنید اور مریم
تینوں بیٹھے تھے کچھ برہم
میں نے پوچھا: بات کیا ہے!
چہروں پر برسات یہ کیا ہے!
روتے روتے رک کر بولے
ہم بیٹھے تھے بستہ کھولے
اِس نے میری گیند اٹھا لی
اِس نے لے کر ٹافی کھا لی
مجھ کو یہ امی نے دی تھی
میں نے یہ بازار سے لی تھی
اِس کا بلاّ اب میں لوں گا
اِس کی گڑیا میں چھینوں گا
مریم بھی کیوں پیچھے رہتی
اپنی گڑیا کا غم سہتی
اٹھی، جھپٹی، چیخ کے بولی
تب ماروں گی تم کو گولی
اِس کو ہاتھ لگا کر دیکھو
اِس کے پاس تو جا کر دیکھو
ٹھیرو، ٹھیرو، چپ ہو جاؤ
لڑنا بِھڑنا چھوڑ کے آؤ
تم نے پِلوں کو دیکھا ہے
بلی، بلوں کو دیکھا ہے
چھینا جھپٹی اُن کو بھائے
لپّا ڈگی بھی خوش آئے
تم تو آدم زاد ہو، بچّو
حوّا کی اولاد ہو، بچّو
عقل سے بہرہ یاب ہوئے ہو
علم سے عالم تاب ہوئے ہو
آؤ، یہ سب باتیں چھوڑیں
شیطانوں سے رشتہ توڑیں
اپنے رب سے لینا سیکھیں
باقی سب کو دینا سیکھیں