ماہنامہ ”اشراق“ کو جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت کے ترجمان اور ”المورد“ کے فکری نمایندے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا آغاز 50 سال پہلے 1973ء میں لاہور پاکستان سے ہوا۔ 2017 ءمیں ’’المورد ہند‘‘ کے زیر اہتمام اور مولانا ذکوان ندوی کی ادارت میں ’’اشراق ہند‘‘ کا اجرا ہوا۔ اگست 2023 سے ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کی کاوشوں سے ’’اشراق امریکہ‘‘ کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ غامدی صاحب کے دیرینہ شاگرد سید منظور الحسن اِس کے مدیر ہیں۔ وہ گذشتہ 20 سال سے ’’اشراق پاکستان‘‘ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ شاہد محمود معاون مدیر مقرر ہوئےہیں۔رسالے کے مدیر انتظامی ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرحان سید ہیں۔ اِس کا امریکہ سے اجرا اُنھی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ’’اشراق امریکہ‘‘ کے لیے باعث اعزاز ہے کہ اِسے امام العصر جناب جاوید احمد غامدی کی سرپرستی حاصل ہے۔
”اشراق امریکہ“ کا آڈیو ورژن
ذرائع ابلاغ کے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ”اشراق امریکہ“ کو آڈیو کی صورت میں بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں مصنفین کی تحریریں اُن کی اپنی آواز میں نشر کی جا رہی ہیں تاکہ دعوت کو ان کروڑوں لوگوں تک پہنچایا جائے، جو اردو رسم الخط سے ناواقفیت کے باعث اُس سے مستفید ہونے سے قاصر ہیں۔ محمد حسن الیاس نے اِس جدت کو شامل کرنے کا عزم کیا ہے۔ وہ ”اشراق آڈیو“ کے مدیر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
’’اشراق امریکہ‘‘ کے اہداف و مقاصد
”اشراق امریکہ“ کے مدیر سید منظور الحسن نےجناب جاوید احمد غامدی کی قائم کردہ 50 سالہ روایت کی روشنی میں اشراق کے 10 اہداف و مقاصد بیان کیے ہیں:
1۔ ’’اشراق‘‘ علما کے انذار کا ترجمان ہے۔
2۔ ’’اشراق‘‘ دین کی بے آمیز تعلیمات کا آئینہ دار ہے۔
3۔ ’’اشراق‘‘ مدرسۂ فراہی کے اندازِ فکر کا نمایندہ ہے۔
4۔ ’’اشراق‘‘ حریتِ فکر کا علم بردار ہے۔
5۔ ’’اشراق‘‘ علمی مکالمے کا حامی ہے۔
6۔ ’’ اشراق‘‘ فرقہ بندی کا مخالف ہے۔
7۔ ’’اشراق‘‘ لوگوں کی انفرادی اصلاح کا نقیب ہے۔
8۔ ’’اشراق‘‘ قوم کا ہم درد اور اُس کی غلطیوں کی اصلاح کا داعی ہے۔
9۔’’اشراق‘‘ معیاری زبان و بیان کا ضامن ہے۔
10۔’’ اشراق‘‘ نو آموز قلم کاروں کی درس گاہ ہے۔
”الاسلام“ کا عربی میں ترجمہ
امام العصر جناب جاویداحمد غامدی کے افکار کو عالم عرب سے متعارف کرانے کے لیے اُن کی کتابوں کے عربی تراجم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اِ س سلسلے کا پہلا قدم ’’الاسلام“ہے۔ یہ اُن کی کتاب ”میزان“ کا خلاصہ ہے۔ ترجمے اور تحقیق کا کام استاذ نزار وجیہ فلوح نے کیا ہے۔ یہ کتاب ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ اور عالم اسلام کے مشہور مکتبہ ’’دار القلم‘‘ کے اشتراک سے شائع ہو رہی ہے۔ انشااللہ جلد مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔ غامدی صاحب کی باقی کتب کو بھی عربی میں منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔
’’ سنڈے اسکول‘‘
’’سنڈے اسکول‘‘ کا مقصد طلبا میں قرآن و سنت کی روشنی میں بنیادی اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ یہ اسکول ڈاکٹرشہزاد سلیم صاحب کی نگرانی میں سرگرام عمل ہے۔15 اساتذہ اس میں تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ رواں سنڈے اسکول کے فیکلٹی ممبران کی ٹیچرز ٹریننگ مکمل ہوئی۔ یہ فیکلٹی ممبران کالج اور یونیورسٹی کے وہ طلبا ہیں، جو غامدی سینٹر اور ’’المورد‘‘ کی دعوت سے متاثر ہیں اور اس کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالناچاہتے ہیں۔
تعلیمی سال 2023-24 کے لیے 301 طلبا نے اندراج کیا ہے۔ گوگل کلاس رومز مکمل طور پر تیار ہو گئے ہیں اور طلبا نے اس میں شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔سنڈے اسکول کی کلاسز کا آغاز 19 اگست بروز ہفتہ سے ہو چکا ہے۔
سانحۂ جڑانوالہ پر محمد حسن الیاس کا چشم کشا انٹرویو
گذشتہ دنوں پاکستان کے شہر جڑانوالہ میں پاکستان کی تاریخ کا ایک درد ناک سانحہ ہوا۔ اس میں مسیحی برادری کی بے شمار عبادت گاہوں اور گھروں کو جلا دیا گیا۔ اس سانحے پر گفتگو کے لیے پاکستان کے معروف چینل پی این این کے پروگرام ”سوال تو ہو گا“ میں ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ ایند ایکیڈیمکس محمد حسن الیاس کو مدعو کیا گیا۔ اُن کے ساتھ معروف دینی عالم مولانا ابتسام الہٰی ظہیر بھی شریک گفتگو تھے۔محمدحسن الیاس نے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک اسلامی ریاست کے اندر اس کے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور اسلام میں مذہب اور توہین مذہب کے نام پر ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات کا محرک ہماری مذہبیت کا غلط انداز فکر اور ارباب اقتدار کی غلط حکمت عملی ہے۔ ان کے نزدیک جب تک روایتی مذہبی فکر کو دین کے صحیح فکر سے تبدیل نہیں کیا جاتا، اُس وقت تک ایسے سانحات کا تدارک ممکن نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے علما کے نزدیک ایسے اقدامات کے مرتکب مجرم نہیں، بلکہ ہیرو ہیں۔ یہ پروگرام ہزاروں لوگوں نے دیکھا اور سینکڑوں نے حسن الیاس صاحب کے موقف کی تائید کی۔
نوجوانوں کی دینی تربیت
نوجوان نسل ہمارامستقبل ہے۔ اُس کے ذہن میں اٹھنے والے دینی اور فکری سوالات کا جواب اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ اِسی مقصد کے پیش نظر ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ وقتاً فوقتاً اہل علم و دانش کو مدعو کر کے اُن کے ساتھ نوجوانوں کے مکالموں کا اہتمام کرتا ہے۔اِس ضمن میں ”قرآن اور زندگی کا معما“ کے موضوع پر محمد بشار الیاس کی میزبانی میں ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب کے ساتھ پروگرام ریکارڈ کیے گئے۔ اس میں نئی نسل کے قرآن مجید اور دین پر اٹھنے والے سوالات کو بے تکلف انداز میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی موضوع پر ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب نے شارق بٹ صاحب کے ساتھ انگریزی میں بھی تبادلۂ خیال کیا تاکہ انگریزی سمجھنے والے نوجوان بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ یہ آٹھ اقساط پر مشتمل سیریز ہے، جو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل سے نشر ہو رہی ہے۔
’’اسلام اسٹڈی سرکل ‘‘
ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب نے ”اسلام اسٹڈی سرکل“ کے عنوا ن سے ایک سیشن کا آغاز کیا ہے۔ اس میں وہ مختلف دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کرتے ہیں۔ یہ سیشن تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں قرآن مجید کی آیات سے ایک موضوع منتخب کر کے اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ دوسرے حصے میں منتخب احادیث نبوی پر گفتگو ہوتی ہے۔ تیسرے حصے میں بائیبل کے کسی اقتباس کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں موضوع سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیے جاتے ہیں۔ پچھلے مہینے کے سیشن میں ”عاجزی“، ”نیکی اور بدی”، ”سخاوت کا مظاہر کرنا“ اور ”ڈیٹنگ اور دوستی‘‘ جیسے موضوعات زیر بحث رہے۔یہ سیشن انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔
’’حیاتِ امین‘‘
امام امین احسن اصلاحی جلیل القدر عالم دین، مفسر قرآن اور مدرسۂ فراہی کے عظیم محقق تھے۔ ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ نے ”حیات امین“ کے زیر عنوان ان کی سوانح حیات لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کا مقصد مولانا کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی علمی اور فکری میراث سے آنے والی نسلوں کو واقف کرانا ہے۔ اس کام کے لیے ”المورد امریکہ“ کے اسکالر نعیم احمد بلوچ کی خدمات کو مختص کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس کام کے لیے براہ راست مولانا سے حاصل کی گئیں معلومات کو بنیاد بنایا ہے۔ اس سوانح حیات کو آڈیو کی صورت میں بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔ یہ ماہنامہ ”اشراق امریکہ“ میں سلسلہ وار شائع کی جائے گی۔
قاری نجم مصطفیٰ کی ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ آمد
پچھلے ماہ عالم اسلام کے مشہور قاری خوشی محمد صاحب کے صاحب زادے اور پاکستان پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے سابق آفیشل قاری مراکش سے ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ تشریف لائے۔ انھوں نے غامدی صاحب سے ملاقات کے دوران میں مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا، مراکش کے حالات کی روداد سنائی اور اپنی خوب صورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت پیش کی۔
ڈاکٹر خالد ظہیر کا خطبۂ جمعہ
ڈاکٹر خالد ظہیر کو ڈیلس میں Islamic Association of Colleyville کی طرف سے جمعہ کی امامت کے لیے مدعو کیا گیا۔ نماز جمعہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف اخلاقی موضوعات کو خطبے کا موضوع بنایا۔ نماز جمعہ کے بعد لوگوں کے ساتھ سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی۔ اس میں لوگوں نے ڈاکٹر صاحب سے دینی موضوعات پر مختلف سوالات کیے۔
’’البیان‘‘ اور ’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس
غامدی صاحب کی تفسیر قرآن ’’البیان‘‘ اور اسلام پر ان کی کتاب ’’میزان‘‘کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پچھلے ماہ ’’البیان‘‘ کی 4 نشستوں کا انعقاد ہو ا، جن میں سورۂ بقرہ کی آیات 40 تا 82 زیر بحث آئیں۔ ’’میزان‘‘ سیریز کے تحت ‘‘The Preaching Shariah’’ کے عنوان سے ڈاکٹر شہزاد سلیم نے دو لیکچرز ریکارڈ کیے۔ یہ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
یوم آزادی اور غامدی صاحب کی یادیں
14 اگست کے حوالے سے محمد حسن الیاس نے غامدی صاحب کے ساتھ خصوصی پروگرام ریکارڈ کیا۔ اس میں حسن الیاس صاحب نے معمول سے ہٹ کر گفتگو کی اور غامدی صاحب سے پاکستان سے وابستہ ان کی یادوں کے حوالے سے سوالات کیے۔ اُن کی جاے پیدایش،آبائی شہر اور اعزہ و اقارب کے بارے میں دریافت کیا۔ غامدی صاحب نے اس پروگرام میں پاکستان اور اپنے اعزہ و اقارب سے دوری کے احساسات اور جذبات کا اظہار کیا۔ ایک سوال کے جواب میں غامدی صاحب نے بتایا کہ اپنے وطن سے پیدا ہونے والے جذباتی تعلق کا متبادل دنیا کی کوئی چیزیا کوئی دوسرا وطن نہیں ہو سکتا۔ اِس ہجرت کے نتیجے میں اُن کو جو درد و غم سہنا پڑا ہے، اِس کا اظہار اُنھوں نے اپنی نظم ’’قُربانت شُؤم‘‘ یعنی ’’میں تجھ پر قربان ہوں‘‘ میں کیا ہے۔ اُس کے دو شعر ملاحظہ کیجیے:
اے مری ارضِ وطن کی خاک، قُربانت شُؤم
ارضِ پاکستان، خاکِ پاک، قُربانت شُؤم
ڈھونڈتا ہے پھر تری گلیاں، ترے لیل و نہار
یہ ترا شیدا گریباں چاک، قُربانت شُؤم
’’ہندو مذہبی صحائف میں محمد ﷺ کی پیشں گوئیاں: ایک تنقیدی جائزہ‘‘
اِس تحقیقی مضمون کے مصنف مشفق سلطان ہیں۔ اس مضمون میں انھوں نے مسلمانوں کے ہاں پائی جانے والی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے کہ کہ ہندو مذہبی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق پیشں گوئیاں موجود ہیں۔ اُنھوں نے سنسکرت زبان اور ہندو مذہبی کتابوں کے حوالے پیش کر کے بیان کیا ہے کہ ہندو مذہبی کتابوں میں موجود ’’کلکی اوتار‘‘ کا مصداق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس نہیں ہے۔ یہ مضمون ’’اشراق امریکہ‘‘ کے اگست 2023 کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار سوال و جواب کی نشست
غامدی سینٹر میں اگست کے مہینے کی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشست کا انعقاد ہوا۔ سوال و جواب کی اس نشست میں یزید کی ولی عہدی، وحدت الوجود اور توہین صحابہ کے قانون جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔
’’تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کی مجوزہ حکمت عملی‘‘
یہ سید منظور الحسن کا ایک اہم مضمون ہے جو ’’اشراق امریکہ‘‘ کے اگست 2023 کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون ”المورد“کے زیر اہتمام ہونے والے تصنیفی کاموں کا مجوزہ پالیسی بیان ہے۔ اس تحریر کا مقصد اس ابہام اور الجھاؤ کو دورکرنے کی سعی ہے، جو گذشتہ دس پندرہ برسوں سے اہل المورد محسوس کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں مصنف نے ”المورد“ کے مقاصد کی روشنی میں اُس کے تصنیفی کاموں کی نوعیت کو واضح کیا ہے۔ اُنھوں نے اپنے نقطۂ نظر کے لحاظ سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’’المورد‘‘ جیسےاداروں میں تصنیفی کام کی اوونر شپ اور اشاعت کے جملہ حقوق کس کے پاس ہونے چاہییں۔
23 اعتراضات کے جواب میں:”حدیث کیا ہے؟“ کا آغاز
23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کے زیرِ عنوان اگلے موضوع کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان نشستوں میں حدیث کی تاریخ، تدوین، خلفاے راشدین کی نظر میں حدیث کی اہمیت اور راویوں پر جرح و تعدیل کے حوالے سے مکالمہ ہوا۔ اگست 2023 میں اس موضوع کی چار نشستیں نشر ہوئی ہیں۔
’’سیاست واقتدار اور اہل بیت کرام کا اسوہ‘‘
یہ ڈاکٹر عمار خان ناصر کا مضمون ہے، جو ’’اشراق امریکہ‘‘کے اگست کے شمارےمیں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں مصنف نے اسلامی تاریخ سے صحابہ اور اہل بیت کے واقعات کی روشنی میں سیاست اور اقتدار کے چند اصولی نکات متعین کیے ہیں۔ اُن کے نزدیک اگر اہل بیت کے مجموعی اسوے کو مشعل ِ راہ بنایا جائے تو فرقہ بندی اور گروہی عصبیت کے تنازعات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
”مطالعۂ سیرت“ کی آڈیو ریکارڈنگ
”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ کی یہ خواہش ہے کہ ”دبستان شبلی“ اور دوسرے مکاتب فکر کے اکابر علما کی کتب کو آڈیو کی صورت میں مہیا کیا جائے تاکہ اردو رسم الخط سے ناواقف لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان علما کے کام اور فکری اور علمی افکار سے مستفید ہو سکے۔ اس کام کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ ایک آڈیو سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے اور اس کی ابتدا ڈاکٹر خالد ظہیر صاحب نے مولانا وحید الدین خان کی کتاب ”مطالعۂ سیرت“ کی آڈیو ریکارڈنگ سے کر دی ہے۔
توہین رسالت کی سزا بیان کرنے والی حدیث کی حقیقت
ہمارے دینی دعوتی لٹریچر، مذہبی اجتماعات اور توہین رسالت کی سزا کی بحثوں کے ضمن میں ایک روایت بڑے زور و شور سے پیش کی جاتی ہے کہ ”جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے اسے قتل کر دو۔“ محمد حسن الیاس نے اس روایت پر نقد کرتے ہوئے کئی اعتراضات بیان کیے جن کی بنا پر اس روایت کو قبول کرنا محال ہو جاتا ہے۔ انھوں نے اس روایت پر اٹھنے والے اعتراضات کو پانچ نکات کی صورت میں بیان کرتے ہوئے لکھا کہ تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس روایت کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔ یہ بحث غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر آڈیو کی صورت میں سنی جا سکتی ہے۔
Ask Dr. Shahzad Saleem
یہ سوال و جواب کی لائیو ماہانہ نشست ہے، جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔
ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث
جی سی آئی ایل کے زیر اہتمام جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہ اگست میں 15نشستوں کا انعقاد ہوا۔ غامدی صاحب نے ان نشستوں میں سورۂ نحل (16) کی آیات37تا64 کا درس دیا۔ درسِ حدیث میں’’اخلاقیات‘‘ اور ’’دین اور اخلاق‘‘ کے موضوع پرمختلف احادیث کی شرح و وضاحت کی گئی۔
’’جوابی بیانیہ‘‘
یہ نظم جناب جاوید احمد غامدی کے شہرۂ آفاق مضمون ’’جوابی بیانیہ ‘‘ سے متاثر ہو کر اور اُس کے تعارف میں لکھی گئی ہے۔یہ فرحان سید کی تخلیق ہے۔ اِس میں انھوں نے اسلام کے نام پر خون بہانے والوں اور بات بات پر کفر کے فتوے صادر کرنے والوں پر بھر پور تنقید کی ہے۔ اِس کے دو شعر ملاحظہ کیجیے:
خدا کا قرآن پڑھنے والے
نبی پہ ایمان رکھنے والے
خدا کی بستی جلا رہے ہیں
یہ کیسی دنیا بنا رہے ہیں؟
”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ کی توسیع
”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ ڈیلس، امریکہ میں واقع ہے۔ یہ عمارت اسلامی طرز تعمیر کی یاد تازہ کرتی ہے۔ غامدی سینٹر میں بڑی تعداد میں لوگ دینی و اخلاقی تربیت کی غرض سے آتے رہتے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو غامدی صاحب کے درس کے بعد سوال و جواب کی نشست میں لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ غامدی سینٹر کا ڈرائنگ روم اس کے لیے کم پڑ جاتا ہے۔ ادارے نے اس مسئلے کو محسوس کرتے ہوئےڈرائنگ روم میں توسیع کی ہے اور اسے بہترین فرنیچر اور جدید سہولتوں سے آراستہ کیا گیا ہے ۔
ملایشیا میں اسٹوڈیو
”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ کے ریسرچ اسکالر اور ماہنامہ ’’اشرا ق‘‘ کے مدیر سید منظور الحسن ملایشیا میں مقیم ہیں۔ اِس امر کی ضرورت تھی کہ دینی موضوعات پر ان کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کی گفتگوؤں سے بھی مستفید ہوا جائے۔ اس مقصد کے لیے ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ نے ملایشیا میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کا ایک جدید اسٹوڈیو قائم کیا ہے۔ اس کے ذریعے سے ان کی علمی گفتگوئیں اور تعلیمی نشستیں منظر عام پر آنی شروع ہو ں گی۔یہ پروگرام غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر بھی دیکھے جا سکیں گے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنس کراچی میں ڈاکٹر شہزاد سلیم کا لیکچر
ڈاکٹر شہزاد سلیم نے پچھلے ماہ ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز‘‘، کراچی کے افسران کو ’’سرکاری ملازمین کے لیے بہترین اخلاقی طرز عمل‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اس لیکچر میں متعدد افراد شریک ہوئے۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 6 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں محمد حسن الیاس نے جاری کیا۔
دنیا نیوز کے لیے ”علم و حکمت“ کے پروگراموں کی ریکارڈنگ
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ دنیا نیوز چینل پاکستان کا ایک معروف پروگرام ہے، جو کئی برس سے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیلس میں ریکارڈ ہوتا ہے اور ہفتہ وار نشر ہوتا ہے۔ میزبانی کے فرائض حسن الیاس صاحب انجام دیتے ہیں۔ اگست 23 میں 4 پروگرام ریکارڈ کیے گئے اور دنیا نیوز سے نشر ہوئے۔ ان پروگراموں میں جدید ریاست میں قانون سازی کی بنیاد، مذہب، سائنس اور فلسفہ پر بات ہوئی اور متفرق سوالوں کے جواب دیے گئے۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کے مختلف لیکچر زکی ریکارڈنگ
اگست 2023 میں ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب نے روزے پر چار، حج و عمرہ پر 4 اور زکوٰۃ پر 2 لیکچر ریکارڈ کروائے۔ Lessons of Life Seriesکے زیر عنوان 4 لیکچر ریکارڈ ہوئے۔ ان کے موضوعات’’شکر گزاری‘‘، ’’درگزر‘‘، ’’ہمت‘‘ اور مثبت سوچ کا فن‘‘ہیں۔ یہ لیکچر انگریزی زبان میں ہیں اور غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
Ask Ghamidi
پچھلے ماہ اگست میں Ask Ghamidi کی 31 ویں نشست ہوئی۔ یہ آن لائن نشست ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے دینی اور اخلاقی موضوعات سے متعلق مختلف سوالوں کے جوابات براہ راست غامدی صاحب سے حاصل کر سکیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نےاس نشست میں حصہ لیا۔
’’پانچ نمازیں‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی منظوم ترجمانی کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیاہے۔ سید منظور الحسن نے فضائل اخلاق پر مبنی حدیثوں کو نظم کی صورت میں ڈھالا ہے۔یہ نظمیں جناب جاوید احمد غامدی کی نظر ثانی سے بھی گزری ہیں۔ یہ کام بچوں کی دینی تعلیم کے لیے ہے، لہٰذا اِن نظموں کا اسلوب عام فہم ہے۔ اگست کے ’’اشراق امریکہ‘‘ میں صحیح بخاری کی ایک روایت کی منظوم ترجمانی شائع ہوئی ہے۔ اِس کا عنوان ہے: ’’پانچ نمازیں‘‘۔ نظم کا آخری شعر یہ ہے:
نمازیں گنہ کو دھوئیں اِس طرح
نجاست کو آبِ رواں جس طرح
قرآن اسٹڈی سرکل کا آغاز
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام زوم پر قرآن اسٹڈی سرکل کا آغاز کیا گیا ہے۔ اِس کے مہتمم عثمان علی فاروقی ہوں گے۔ اس کے ہفتے میں چار سیشن ہوا کریں گے۔ ایک سیشن میں نوجوانوں کو انگریزی زبان میں قرآن مجید کی تعلیم دی جائے گی۔ جب کہ باقی تین سیشن میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی تفسیر ”البیان“ اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تفسیر ”تفہیم القرآن“ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے گا۔ یہ تینوں سیشن اردو میں ہوں گے۔
’’خبر نامہ، المورد امریکہ‘‘
”الموردامریکہ“ جناب جاوید احمد غامدی کی سرپرستی میں قائم ہوا ہے۔ اِس کے قیام کا مقصد دین کی شرح و وضاحت، تمام ممکن ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس کی نشرو اشاعت اور اس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ”المورد امریکہ“ اور اس کے ذیلی اداروں سے وابستہ اہل علم دنیا کے مختلف ممالک میں موجود رہ کر دعوت دین کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ اِس امر کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اِن متنوع کاموں کے تعارف اور اِن کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاعات کے لیے نیوز لیٹر کا سلسلہ جاری کیا جائے۔ ’’اشراق امریکہ‘‘ کے تحت اِس سلسلے کو شروع کیا گیا ہے۔ ’’اشراق امریکہ‘‘ کےمعاون مدیر شاہد محمود اِس خبرنامے کو مرتب کرتے ہیں۔