مواد پر جائیں

تخت سلیمان کے دھڑ کی حقیقت

نعیم احمد بلوچ اردو

]’’نقد نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

قرآن مجید میں متعدد ایسے مقامات ہیں جن کی حقیقت جاننے پر بہت اختلافات ہوئےہیں۔ اس حوالےسے بعض ذہنوں میں یہ سوالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ :

1۔قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ وہ سمجھنے کے لیے بہت آسان کتاب ہے، لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ اس کے متعدد مقامات کو سمجھنے میں اس قدر مشکلات پیش آتی ہیں؟ کیا یہ مشکلات قرآن کے دعوے کے خلاف نہیں ؟

2۔ ایسے مقامات کی اب ایسی تشریحات سامنے آ گئی ہیں جن سے بظاہر بات سمجھ میں آجاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کیا اہل علم نے قرآن پر غور ہی نہیں کیا تھا؟ آخر آج کے لوگوں کے پاس کون سا ہنر آگیا ہے کہ صدیوں پرانی گتھیاں صرف ان ہی پر کھل رہی ہیں ؟

3۔اسلام کے دور اول میں جو لوگ قرآن کی زبان سے بھی اچھی طرح واقف تھے، ہم ان کی تشریح کو کیوں نہ مانیں؟ ان کی تشریح صاف بتاتی ہے کہ یہ اس دور کی ایک خود ساختہ کتاب تھی اور اس کی حقیقت اب واضح ہورہی ہے، لیکن کچھ قدامت پسند یا جن کی اس قرآن اور اسلام سے معاش وابستہ ہے، اس کی لچھے دار تشریحات کرکے لوگوں کو پھر لُبھا رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ قرآن کا اصل اور حقیقی فہم وہی ہے جو اس کے اولین لوگوں نے سمجھا۔ اور اس کے مطابق قرآن محض پرانے قصے کہانیوں کی کتاب ہے۔

ہم نے قرآن کے ایسے ہی موضوعات کا انتخاب کیا ہے جن پر اس قسم کے سوالات کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک مقام قرآن مجید کی سورۂ ص کی آیات 34 اور 35 ہیں۔ ان آیات کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہےاور حتمی طور پر اس کی کوئی تفسیر بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔‘‘ (4/338 )

اس نشست میں ہم انھی آیات کے بارے میں مطالعہ کریں گے :

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَ اَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ. قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ ہَبۡ لِیۡ مُلۡکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ. (سورۂ ص 38: 35-34)

آیات کا سادہ ترجمہ یہ ہے:

’’ہم نے سلیمان کو (ایک اور) آزمایش میں بھی ڈالا تھا اور اُس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیاتھا۔ پھر اُس نے رجوع کیا۔ اور دعا کی: اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی سلطنت بخش جو میرے سوا کسی کے لیے زیبا نہ ہو۔ تو بڑا ہی بخشنے والا ہے۔‘‘

بعض مفسرین نے ’جَسَدًا ‘ کو ’اَلۡقَیۡنَا ‘ کا مفعول قرار دے کر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے :

ہم نے سلیمان کو ایک آزمایش میں ڈالا اور اس کے تخت پر ایک جسد لا کر ڈال دیا۔

یہ ترجمہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوگئےکہ:

1۔ جو جسد ڈالا گیا وہ کیا تھا، اس سے کیا مراد ہے ؟

2۔ اس میں آزمایش کس پہلو سے تھی ؟

3۔ اس آزمایش کا اگلی دعا سے کیا تعلق ہے ؟

بنیادی طور پر اس آیت کو دوطرح سے سمجھا گیا۔ جن مفسرین نے ان آیات کو روایات سے سمجھنے کی کوشش کی، انھوں نے ’جَسَدًا ‘ کو مفعول سمجھا اور ان روایات کے مطابق ان آیات کی تفسیر کی۔ یہ روایات متعدد ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر مفسرین متفق بھی نہیں ہوئے۔ البتہ تین آرا نمایندہ کہی جا سکتی ہیں۔ اس میں دو آرا اسرائیلیات سے ہیں اور ایک بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے۔

پہلی راے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی راے رکھتے ہیں۔ ابن کثیر اس راے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قوی سند کے ساتھ مروی ہے۔ قرآن مجید کے پہلے مفسر ابن جریر طبری(پیدایش 224ھ) نے بھی اس کی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ راے کا خلاصہ یہ ہے :

ان آیات میں ’جسد‘ سے مراد ایک شیطان جن ہے۔ اس نے سلیمان علیہ السلام کی شکل اختیار کرکے وہ انگوٹھی ہتھیا لی جس کو پہن کر سلیمان علیہ السلام سارا نظام سلطنت چلاتے تھے۔اور ایسا اس لیے ہوا تھا کہ سلیمان علیہ السلام کے محل میں ان کی ایک چہیتی ملکہ چالیس دن تک اپنی کنیزوں کے ساتھ ُبت پرستی کرتی رہی اور سلیمان علیہ السلام اس سے غافل رہے۔ اس کا خمیازہ آپ کو انگوٹھی سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس جن نے آپ کے تخت پر قبضہ کر لیا اور سلیمان علیہ السلام اپنی سلطنت سے الگ کر دیے گئے۔ چالیس دن تک وہی جن سلطنت کے امور چلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہی سلیمان علیہ السلام کے حرم میں جاتا رہا۔ پھر لوگوں کو شک ہوا۔ انھوں نے اس جن کو تورات پڑھنے کو کہا تو اس کی اصلیت لوگوں پر کھل گئی۔ وہ وہاں سے بھاگا اور انگوٹھی دریا میں پھینک دی۔ اسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ اتفاق سے یہی مچھلی سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ لگ گئی۔ وہ تخت سے محرومی کے بعد مچھلیاں پکڑنے کی مزدوری کرنے لگ گئے تھے اور یہ مچھلی انھیں مزدوری میں ملی تھی۔ انھوں نے مچھلی کا پیٹ کاٹا تو انگوٹھی مل گئی۔ اس سے ان کی ساری طاقتیں بحال ہو گئیں اور وہ دوبارہ سلطنت کے مالک ہو گئے۔ یوں یہ شیطان جن وہ جسد تھا جسے تخت سلیمان پر ڈالا گیا تھا۔ اس کے بعد سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی کہ انھیں ایسی سلطنت عطا ہو جو کوئی ان سے چھین نہ سکے۔

امام رازی سمیت بہت سے مفسرین نے اس پر سخت تنقید کی ہے کہ اگر شیطان جن پیغمبروں کا روپ دھار لیں تو پورا دین ہی مشتبہ ہو جائے۔ اس کے علاوہ اسے قرآن کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔ اس میں تو حضرت سلیمان علیہ السلام سے ایک بڑی غلطی یا غفلت کا صدور ہوا ہے۔ یہ آزمایش کس پہلو سے ہے؟ اور اسے اسرائیلیات سے ماخوذ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔

دوسری راے طبرانی اپنی ’’الاوسط‘‘ میں لائے ہیں۔ ابن مَردوَیہ نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ الامامیہ نے اس راے کو ابو عبد اللہ سے روایت کیا ہے اور یہی راے شعبی سے بھی روایت کی گئی ہے۔ اس راے کے بارے میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کی سند کمزور ہے۔ اس کے باوجود اسے تفاسیر میں ایک راے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

اس کے مطابق سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیس سال کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا۔ شیاطین جن نے یہ دیکھ کر کہا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہا اور سلیمان کے بعد تخت پر بیٹھ گیا تو ہم سلیمان کے بعد پھر اس کی غلامی میں گرفتار رہیں گے۔ چنانچہ انھوں نے اسے قتل کرنے کی سازش کی۔ سلیمان علیہ السلام کو اس سازش کا پتا چل گیا۔انھوں نے بیٹے کو بادلوں میں چھپا دیا۔ سلیمان علیہ السلام کا یہ اقدام ہی وہ گناہ اور آزمایش تھی جس میں وہ مبتلا ہوئے، یعنی انھوں نے خدا کے بجاے بادلوں پر توکل کیا۔ اللہ کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ چنانچہ ایک موقع پر جب کہ آپ اپنی جنگی مہمات میں مصروف تھے، وہ لڑکا بادلوں سے مردہ حالت میں آپ کے تخت پر آن گرا۔ تب سلیمان علیہ السلام کو احساس ہوا کہ انھوں نے خدا پر توکل نہیں کیا۔ انھوں نے توبہ کی۔ پس ان آیات میں جسد سے مراد حضرت سلیمان کا وہ مردہ بیٹا ہے جو تخت پر آن گرا تھا۔

اس تاویل کو بھی کمزور روایت اور قرآن کے خلاف قرار دے کر رد کیا گیا ہے۔ اور سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایسے کسی تاریخی واقعے کا ذکر بھی نہیں ملتا۔ پھر اس سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ سلیمان علیہ السلام کی دعا کا اس واقعے سے کیا تعلق ہے؟

اس سلسلے کی سب سے مشہور تاویل جسے مفسرین کی اکثریت مانتی ہے، وہ ایک متفق علیہ حدیث پر مبنی ہے :

حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عن ابی ہریرة قال: قال سلیمان لاطوفن اللیلة علی تسعین امراةً. کل تلد غلامًا یقاتل فی سبیل اللّٰه فقال له صاحبه قال سفیان یعنی الملک قل ان شاء اللّٰہ فنسی فطاف بهن فلم تات امراة منهن بولد الا واحدة بشق غلام فقال ابوہریرة یرویه قال لو قال ان شاء اللّٰه لم یحنث وکان درکا فی حاجته.

(بخاری، رقم 3424)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان نے قسم کھائی کہ میں ضرور آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ان میں سے ہر بیوی ایک لڑکا جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو گا۔ سفیان راوی بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھی یعنی فرشتے نے کہا: ان شاء اللہ کہیے، تو وہ بھول گئے۔ پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے بھی، لیکن ان میں سے صرف ایک عورت کے ہاں لڑکے کا آدھا جسم پیدا ہوا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی قسم رائگاں نہ جاتی، بلکہ یہ (ان شاء اللہ کہنا) ان کے مقصد کے حصول (کا ذریعہ) ہوتا۔‘‘

اس حدیث کی بنیاد پر یہ راے اختیار کی گئی کہ یہ جسد اصل میں یہی ادھورا بچہ تھا۔عام طور پر اکثر مفسرین نے یہی راے اختیار کی ہے۔لیکن اس راے پر صاحب تفہیم القرآن سید ابو الاعلیٰ مودودی نے بہت زور دار تنقید کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی ہے اور اسے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ خود’’بخاری‘‘ میں مختلف مقامات پر یہ روایت جن طریقوں سے نقل کی گئی ہے، ان میں سے کسی میں بیویوں کی تعداد 60 بیان کی گئی ہے، کسی میں 70، کسی میں 90، کسی میں 99 اور کسی میں 100۔ جہاں تک اسناد کا تعلق ہے، ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے اور باعتبار روایت اس کی صحت میں کلام نہیں کیا جا سکتا، لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی، جس طرح وہ نقل ہوئی ہے، بلکہ آپ نے غالباً یہود کی یاوہ گویوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر بہ طور مثال بیان فرمایا ہو گا۔ اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ اس بات کو حضور خود بہ طور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔ ایسی روایت کو محض صحت سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اتروانے کی کوشش کرنا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔ ہر شخص خود حساب لگا کر دیکھ سکتا ہے کہ جاڑے کی طویل ترین رات میں بھی عشا اور فجر کے درمیان دس گیارہ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اگر بیویوں کی کم سے کم تعداد 60 ہی مان لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس رات بغیر دم لیے فی گھنٹا 6 بیوی کے حساب سے مسلسل دس گیارہ گھنٹے مباشرت کرتے چلے گئے۔ کیا یہ عملاً ممکن بھی ہے؟ اور کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ حضور نے یہ بات واقعے کے طور پر بیان کی ہو گی۔ پھر حدیث میں یہ بات کہیں نہیں بیان کی گئی کہ قرآن مجید میں جس جسد کے ڈالنے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہی ادھورا بچہ ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حضور نے یہ واقعہ اس آیت کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ علاوہ بریں اس بچے کی پیدایش پر حضرت سلیمان کا استغفار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انھوں نے استغفار کے ساتھ یہ دعا کیوں مانگی کہ ’’مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو۔‘‘

(تفہیم القرآن4/ 338- 337)

معروف اہل حدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے اس کا دفاع اس طرح کیا ہے:

’’بعض لوگوں نے عقل ودرایت کی رو سے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک رات میں اتنی تعداد میں بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ انبیا علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ معجزات عطا فرماتا ہے۔ انھی معجزات میں ایک معجزہ قوت ِمردانگی بھی ہے، علاوہ ازیں ان کے اوقات میں برکت بھی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت سلیمان کے واقعے کو عام انسانی معیار پر ماپنا اور پھر اسے عقل ودرایت کے خلاف باور کرانا یکسر غلط ہے۔

چنانچہ حافظ ابن حجر اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس واقعے میں انبیا علیہم السلام کی اس خصوصیت کا بیان بھی ہے جو قوت ِجماع کی صورت میں اُن کو عطا کی جاتی ہے جو اُن کی بنیادی صحت، قوت ِبارآورگی اور کمالِ مردانگی پر دلالت کرتی ہے، حالانکہ انھیں عبادت اورعلوم کے ساتھ بھی خصوصی اشتغال ہوتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ معجزہ اس سے زیادہ بلیغ انداز میں عطا کیا گیا تھا۔ آپ کا اپنے رب کی عبادت میں، علومِ ربانی میں اور مخلوق کی فلاح وبہبود میں اشتغال بہت زیادہ تھا، علاوہ ازیں آپ نہایت کم خور تھے جو کثرتِ جماع والے شخص کے لیے جسمانی کمزوری کا باعث ہے، اس کے باوجود آپ (بعض دفعہ) ایک ہی رات میں غسل واحد کے ساتھ اپنی گیارہ بیویوں کے ساتھ مباشرت فرما لیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے جو جتنا زیادہ متقی ہوتا ہے، اس کی جنسی قوت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔‘‘(فتح الباری: ج6، ص 563، طبع دار السلام،الریاض)

یہ بات تو اپنی جگہ صحیح ہے کہ حضرت سلیمان کا یہ واقعۂ مباشرت حدیث میں آیت ِزیر بحث کی تفسیر کے طور پر بیان نہیں ہوا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اپنے فہم کے مطابق اس آیت پر اس کا انطباق کیا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر تاویلات وتوجیہات کے مقابلے میں جو بیش تر اسرائیلی روایات پر مبنی ہیں،یہ انطباق زیادہ صحیح ہے اوراِس سے اس آیت کی ایک معقول توجیہ سامنے آجاتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!‘‘ ( محدث ميگزين، شمارہ 251،اگست 2001)

حافظ صاحب کے بیان کے مطابق اس دفاع میں بھی یہ بات واضح ہے کہ انھیں یہ تاویل دوسری تاویلات سے بس بہتر نظر آئی ہے۔ وہ اسے یقینی اور حتمی نہیں کہہ رہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ان مفسرین میں نمایاں ہیں جنھوں نے ’’جسداً‘‘ کو مفعول بھی مانا ہے اور آیت کی تفسیر میں کسی روایت کو بھی قبول نہیں کیا۔ وہ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’حضرت سلیمان کے یہ الفاظ’’ اے میرے رب !مجھے معاف کردے اور مجھ کو وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو ‘‘ اگر تاریخ بنی اسرائیل میں جائیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں غالباً یہ خواہش تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو اورحکومت و فرماں روائی آیندہ انھی کی نسل میں باقی رہے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فتنہ قرار دیا۔ اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد رَحُبْعام ایک ایسا نا لائق نوجوان بن کر اٹھا جس کے لچھن صاف بتا رہے تھے وہ داؤد وسلیمان کی سلطنت چار دن بھی نہیں سنبھال سکے گا۔ ان کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈالے جانے کا مطلب غالباً یہی ہے کہ جس بیٹے کو وہ اپنی کرسی پر بٹھانا چاہتے ہیں وہ ایک کندۂ ناتراش تھا۔ تب انھوں نے اپنی اس خواہش سے رجوع کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی یہ بادشاہی مجھی پر ختم ہو جائے۔میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رہنے کی تمنا سے باز آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے اپنے بعد کسی کے لیے بھی جانشینی کی نہ وصیت کی اور نہ کسی کی اطاعت کے لیے لوگوں کو پابند کیا۔‘‘ ( تفہیم القرآن 4 /338 )

مولانا محترم ایک تو ’غالباً‘ کے الفاظ سے یہ راے بیان کر رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کی راے کے بالکل خلاف قرآن اگلی ہی آیت میں حضرت سلیمان کی یہ دعا بیان کر رہا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک بے مثل بادشاہی کی تمنا کر رہے ہیں۔ پھر حضرت سلیمان کی جانشینی کے حوالے سے بھی تاریخ میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی اور مولانا اسے بھی اپنا اندازہ بیان کر رہے ہیں۔ پھر ’’جسد‘‘ سے مستقبل میں بادشاہ ہونے والا شہزادہ مراد لینا بالکل ہی قرین قیاس نہیں۔

وہ مفسرین جنھوں نے جسد سے مراد خود حضرت سلیمان لیے ہیں اور کسی روایت کو قبول نہیں کیا، ان میں امام فخر الدین رازی، علامہ آلوسی اور دیگر شامل ہیں۔

’’تفسیر کبیر‘‘ میں امام رازی کے الفاظ یہ ہیں:

اقول لا یبعد ایضاً ان یقال انه ابتلاه اللّٰه تعالیٰ بتسلیط خوف او توقع بلاء. (26/393)

’’میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی بعید نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی خوف یا متوقع مصیبت کو غالب کر کے آپ کو آزمایا ہو۔‘‘

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ آیات کے اجمال کی کوئی واضح تفصیل نہیں کر رہے، بس ایک امکان ظاہر کر رہے ہیں جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔البتہ جسد سے مراد وہ سلیمان علیہ السلام کی کیفیت کو قرار دے رہے ہیں۔ اور اس سوال کا جواب تو بالکل ہی نہیں دیا گیا کہ دوسری آیت میں دعا کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

ان آیات کی ایک تاویل تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں ابومسلم اور بعض دوسرے لوگوں کی راے کی حیثیت سے بیان کی گئی ہے۔ اس میں ’جسداً‘ کو مفعول ضمیر کا حال مان کر یہ کہا گیا ہے کہ یہ سلیمان علیہ السلام کی علالت اور ان کی پس ماندگی کی وجہ سے ان کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ امام رازی نے اس راے کو محقق علما کے ایک گروہ کی طرف سے بیان کردہ راے کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس تاویل کی بھی مشکل یہ ہے کہ بیماری کا کوئی ذکر الفاظ ِقرآنی میں نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی تاریخی شہادت ملتی ہے اور نہ اس تاویل سے یہ جواب ملتا ہے کہ اس کا مابعد دعا سے کیا تعلق ہے۔

ان تمام آرا کے بعد اب مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی کی راے بیان کی جاتی ہے۔ وہ ’جسداً‘ کی نحوی ترکیب وہی کرتے ہیں، جو متعدد مفسرین پہلے کر چکے ہیں اور روایات کے بجاے ان آیات کے درو بست اور نظم قرآن ہی سے ان کو سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان آیات کا ترجمہ یہ ہے :

’’اور ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ہم نے اس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا۔ اس نے دعا کی: میرے رب، مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت بخش جو میرے سوا کسی کے لیے زیبا نہیں۔ تو بڑا ہی بخشنے والا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن6/ 530- 529)

مولانا اصلاحی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انابت کا دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے… تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیش تر علاقے چھین لیے اور باقی علاقوں میں بھی ایسی گڑ بڑ پھیلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام بالکل مجبور و محصور ہو کر رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام ایک خدا ترس بادشاہ تھے، اس وجہ سے انھوں نے یہ گمان فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی غلطی کی سزا دی ہے۔ اس احساس نے ان کے غم کو دوبالا کر دیا اور وہ اس غم اور بے بسی کی حالت میں اپنے تخت حکومت پر ایک جسد بے جان ہو کر رہ گئے۔ اس وقت انھوں نے نہایت تضرع کے ساتھ اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب، میرے گناہ معاف کر اور اگرچہ میں تیرے فضل و انعام کا حق دار نہیں رہ گیا ہوں، لیکن تو بڑا بخشنے والا ہے، اس وجہ سے میرے عدم استحقاق کے باوجود مجھے ایسی بادشاہی دے جس کے سزاوار اس طرح کے گناہ کے ساتھ دوسرے نہ ہوتے ہیں، نہ ہوں گے۔‘‘

(تدبر قرآن 6/ 533)

’وَ لَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یعنی ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا۔ یہ امتحان اللہ کی سنت ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جرم ہی کی سزا کے طور پر امتحان میں ڈالے گئے ہوں۔ امتحان تمام نبیوں اور رسولوں کو پیش آئے ہیں جس سے ان کے صبر یا شکر کی آزمایش ہوئی ہے۔ اسی طرح کے ایک امتحان میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی ڈالے گئے۔ اور چونکہ وہ ایک بادشاہ تھے، اس وجہ سے ان کو یہ امتحان ان کی بادشاہی کی راہ سے پیش آیا۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 534- 533)

مولانا کی راے میں آیت کو سمجھنے میں یہ ضروری ہے کہ اسے حضرت سلیمان کے حوالے سے سمجھا جائے۔ اسی لیے ان کی آزمایش کا تعلق حکمرانی سے ہی ہو سکتا ہے، بیماری سے نہیں جیسا کہ علامہ آلوسی نے ’’روح المعانی‘‘ میں یا دوسرے مفسرین نے خیال کیا۔

قرآن مجید نے سلیمان علیہ السلام پر آنے والے اس امتحان کو ’وَ اَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ ان الفاظ کی شرح وہ اس طرح کرتے ہیں :

’’یہ نہایت مختصر،لیکن نہایت جامع لفظوں میں اس امتحان کا بیان ہے کہ کہاں تو وہ ایک وسیع الاطراف حکومت کے نہایت طاقت ور اور صاحب اقتدار بادشاہ تھے یا ہم نے ان کو ان کے تخت پر ایک بالکل جسد بے جان بناکر ڈال دیا۔ لفظ ’جسد‘ یہاں بہ طور کنایہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے بسی اور ان کے غم و الم کی تصویر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی اور حالات نے ان کو اس قدر بے بس اور غم زدہ بنا دیا کہ گویا صرف جسم رہ گیا، روح غائب ہو گئی۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ایک بے بس اور غم زدہ بادشاہ کی جو اپنے مرکز میں محصور ہو کر رہ گیا ہو، اس سے بہتر تصویر نہیں ہو سکتی۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 534)

’ثُمَّ اَنَابَ ‘کی شرح کرتے ہوئے بیان کیا ہے:

’’ یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام ایسے حالات میں بھی اپنے رب سے مایوس نہیں ہوئے، بلکہ ان کو احساس ہوا کہ یہ ان کی کسی غلطی پر ان کی پکڑ ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ اسی کی طرف توبہ و استغفار کے لیے متوجہ ہوئے۔‘‘ (تدبر قرآن6/ 534)

دعا کا مفہوم واضح کرتے ہو ئے لکھتے ہیں:

’’(اس نے دعا کی: میرے رب، مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت بخش جو میرے سوا کسی کے لیے زیبا نہیں۔) اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تو مجھے ایسی بادشاہی دے، جیسی بادشاہی میرے بعد کسی اور کو نہ ملے، بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے کسی حکومت کا اہل تو نہیں رہ گیا ہوں، تاہم تو اپنے فضل سے مجھے ایسی بادشاہی دے جس کا سزاوار نہ میں ہوں، نہ میرے بعد کوئی اور ہو گا۔

…تو بڑا بخشنے والا ہے، اس وجہ سے میں بھی اپنی غلطیوں کے باوجود امیدوار ہوں کہ تو مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 534)

دعا میں موجود الفاظ ’لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ ‘کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس دعا میں اصلی زور بادشاہی کی بے مثال عظمت و شوکت پر نہیں، بلکہ بلا استحقاق بادشاہی دیے جانے پر ہے کہ مجھے میرے گناہوں کے باوجود بادشاہی دے جب کہ میرے بعد کوئی اور اس کا سزاوار نہیں ٹھیرے گا۔ اس دعا میں اپنے گناہ کا جو شدید احساس ہے وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی غایت خشیت و انابت کی دلیل ہے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 534)

جناب جاوید احمد غامدی اس حوالے سے لکھتے ہیں :

’’یعنی ایسا بے بس اور غم زدہ بنا دیا تھا کہ اُس کے تخت پر گویا صرف ایک جسم پڑا ہوارہ گیا جس میں سے روح نکل گئی تھی۔ یہ اُن حالات کی طرف اشارہ ہے، جب دشمنوں نے یورش کرکے اُن کے بیش تر علاقے چھین لیے اور باقی مقامات پر بھی ایسی گڑبڑ پھیلا دی تھی کہ نظم حکومت بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان اُس زمانے میں اپنے دارالحکومت میں بالکل محصور و مجبور ہو کر رہ گئے تھے۔ قرآن نے اِس پوری صورت حال کو کمال بلاغت کے ساتھ ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ ہم نے سلیمان کو اُس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا۔‘‘(البیان 4/ 306)

مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی نے جن تاریخی واقعات کا ذکر کیا ہے، وہ بائیبل کی کتاب ’’سلاطین‘‘ کے گیارہویں باب میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں ہداد اور روزن بن الیدع کا ذکر ہے جنھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے بہت مسائل پیدا کیے۔ اسی طرح John Bright نے اپنی کتاب ’’A History of Israel ‘‘میں بھی اسی واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اور انھی دو دشمنوں کا نام لے کر اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ :

1۔ان آیات کا فہم چنداں مشکل نہیں تھا۔ اس میں پیچیدگی تب پیدا ہوئی جب انھیں روایات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں اس حوالے سے کوئی اختلاف روایت نہیں ہوا۔ قرآن نے اپنے مدعا کو آسان فہم ضرور قرار دیا تھا، لیکن اس کی یہ شرط لگائی تھی کہ اسے عربی مبین اور اس کے داخل سے سمجھا جائے نہ کہ اس کو سمجھنے کے لیے ظنی روایات کا سہارا لیا جائے۔

2۔ جب اسرائیلی روایات بیان کی گئیں تو ان کی روشنی میں آیت کی نحوی ترکیب بدلی گئی اور اس کا نحو کے لحاظ سے متن میں امکان بھی تھا۔ اور جب زبان اور داخلی نظم کے بجاے قرآن کو روایات سے سمجھنے کا چلن ہوا تو طرح طرح کی تاویلات وجود میں آتی گئیں۔

3۔ زمانی لحاظ سے پہلے اسرائیلیات سے ان آیات کو سمجھا گیا، مگر اس کے بعد جب احادیث مدون ہو گئیں تو پھر صحیحین کی روایت سے اس کی تاویل کو وسیع پیمانے پراختیار کر لیا گیا۔

4۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہوا کہ مسلمانوں کی ساری علمی تاریخ ان آیات کے حقیقی فہم سے بے بہرہ ہوگئی ہو، بلکہ پہلی دو صدیوں میں تو اس حوالے سے کوئی ایسی تفسیر، کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ قرآن نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہے جسے اس کے اولین مخاطبین ہی نہ سمجھ سکے۔ حقائق اوجھل ہونے کے باوجود امام رازی اور دیگر مفسرین نے ان آیات کا قریب قریب مفہوم سمجھ لیا تھا۔ غیر عقلی اور غیر حقیقی روایات کا شدت سے رد کیا، مگر قرآن کو داخل سے سمجھنے کی روایت کمزور پڑنے سے وہ بعض حقائق متعین نہ کر سکے۔

5۔ یہ مقدمہ بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ دور جدید کے مفسرین نے ان آیات کو من مانی تاویلات سے سمجھنے کی کوشش کی، بلکہ انھوں نے زبان و بیان کے مسلمات سے اس کا مفہوم متعین کیا اور پھر تاریخ کی واضح شہادت سے اسے موکد کیا۔ اگر ایسی بات ہوتی تو مخالف ضرور اس کا تذکرہ کرتے، لیکن وہ اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکے کہ ’’جسداً ‘‘کا حال ہونا نحوی اعتبار سے بالکل درست ہے اور قرآن کے داخلی متن کی شہادت اور تاریخ کی گواہی اسی تفسیر کے حق میں ہے۔

اصل حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن مجید کو اس کے داخلی نظائر، اس وقت کی زبان واسلوب اور اس کے نظم سے سمجھنا کوئی اجنبی طریقہ نہیں، بلکہ دنیا کی ہر کتاب کو اسی طریقے سے سمجھا جاتا ہے۔ اور قرآن کو اگر کوئی عالم اس طریقے سے سمجھتا ہے تو وہ اسے اس کے اولین مخاطبین کے طریقے پر سمجھ رہا ہے ۔ اور یہ قرآن کو اس دور میں لے جاکر سمجھنا ہے جس دور میں وہ نازل ہوا تھا نہ کہ کسی اجنبی اور جدید دور میں۔