مواد پر جائیں

ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ

مولانا سید مناظر احسن گیلانی اردو

انسان کے ہاتھوں نے مغز کی باتوں کو کاغذوں پر اتارا پھیلایا، اتنا پھیلایا یا پھیلاتے رہیں گے کہ انطلاطق کے ایک ساحل کو دوسرے ساحل سے ملایا جا سکتا ہے۔ کتنی کتابیں، کتنے رسالے، کتنے اخبارات کہ زمین کے کرہ کو اُس میں اب ہم لپیٹ سکتے ہیں۔ تہوں پر تہیں چڑھا سکتے ہیں اور یقیناً ہماری اور ہمارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ کمائی پھر بھی بچ جائے گی۔ آخر اُن سیاہیوں کو کون تول سکتا ہے، کاغذ کے اُن دستوں کو کون ناپ سکتا ہے، لکڑی یا لوہے کے اُن ٹکڑوں یا قلموں کو کون گن سکتا ہے جو اب تک اس راہ میں خرچ ہوئے یا آیندہ ہونے والے ہیں۔

لیکن جس نے لکھا اور جس کے لیے لکھا، اُن میں کون ہے جس نے یقین کے ساتھ اُن کو لکھا یا یقین کے ساتھ اُس کو پڑھا۔ برناڈ شا کی تمثیلی حکایات ہوں یا شرلاک ہومز کی اختراعی روایات، ہوشربا کی داستانیں ہوں یا پریم چند اور سدرشن کے افسانے۔ ہم جھوٹ بول رہے ہیں اور ہم سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ کیا لکھنے والے اور پڑھنے والے، دونوں اس یقین کے سوا اپنے اندر کوئی اور یقین رکھتے ہیں؟ مرزا داغ کا قدم اگر سچ کی چٹانوں پر نہ تھا تو تم سے کس نے کہا کہ مسٹر شیکسپیئر کی ٹانگیں بھی ہوا کے سوا کسی اور چیز پر قائم تھیں؟ مورخ خود بھی جانتا ہے کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے قیاس اور تخمینہ کے سہارے پر لکھتا ہے اور تاریخ کے پڑھنے والے بھی جانتے ہیں کہ اٹکل سے نکالے ہوئے نتیجوں کے سوا تاریخ کی کتابوں میں اور کچھ نہ ملے گا۔

یہ اُن باتوں اور زبان کی درازیوں کا حال ہے جنھیں لکھ کر ہم نے علم کا بھیس عطا کیا ہے۔ لیکن جو واقعی علوم ہیں اور جن کے نتائج پر زندگی کے بے شمار کاروبار چل رہے ہیں، بلاشبہ نتائج تو صحیح ہیں، لیکن ان نتائج کے لیے جن قوانین کو ہمارے دماغ نے اصول کی شکل میں پیش کرنا چاہا ہے، تم نہیں جانتے، لیکن اصول کے جاننے والے جانتے ہیں کہ انھوں نے بھی ان کو اس حد تک نہیں جانا ہے اور شاید جان بھی نہ سکتے، جس کے بعد علم پر یقین کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس غبی اور غیر فلسفی دماغ کو کون فلسفی کہہ سکتا ہے جو اپنی فلسفیانہ کوششوں میں ”شک“ اور ”ارتیاب“، ”تذبذب“ اور ”دُبدَھا“ کے خارستانوں تک نہ پہنچ گیا ہو۔ ”شک“ ہی کے کانٹے اور ”تذبذب“ ہی کے انگارے فلسفیانہ محنت کی سب سے بڑی اور یقیناً سب سے بڑی قیمتی مزدوری ہیں۔

سائنس اور ریاضی کے نتائج سے کسے انکار ہے، کون کہتا ہے کہ دن نہیں ہوتا اور رات نہیں آتی، فصلیں نہیں بدلتیں، موسم نہیں پلٹتے، لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن سے پوچھو کہ جن اصولوں سے ان نتائج کو مختلف زبانوں کے مختلف دماغوں نے وابستہ کیا ہے کیا اس کی درستگی پر انھیں یقین نہیں تھا یا اُس پر یقین کے لفظ کے استعمال کا کوئی حق رکھتا ہے۔

امتیں کہتی ہیں کہ آدم زاد کی مذہبی جماعتوں میں غل ہے کہ ان کے پاس یقین ہے۔ نصرانی کہتے ہیں، انجیل یقین ہے، یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ تورات میں اطمینان ہے، ہندوؤں سے سنتا ہوں کہ وید میں یقین ہے۔ علمی ڈگمگاؤ کے لیے گیتا میں قرار ہے کہ یہ علام العیوب کی کتابیں ہیں جو انھیں بھی جانتا ہے جو گزر چکے اور اُن کو بھی جو گزر رہے ہیں اور انھیں بھی جو گزرنے والے ہیں۔ وہ بھی اُس کے سامنے ہیں جو ہمارے سامنے ہیں اور وہ بھی جو ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ ہاں جس کا علم اتنا محیط ہو، کیا شک ہے کہ اسی کی کتاب، اسی کی تصنیف کہہ سکتی ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ہے، مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ اُن قوموں کے پاس اب وہ کتاب باقی رہ گئی ہے، جسے خدا کے نمایندوں اور رسولوں نے انھیں سپرد کی تھی؟ وید ہو یا اوشا، تورات ہو یا انجیل، تعلیمات یودہ یا تلقینات کنفوشس، کیا کسی کے پاس وہ چیز اپنی اصل شکل میں باقی رہ گئی ہے جس شکل میں انھیں ملی تھی؟ اندرونی اور بیرونی شہادتوں کی اس پکار سے کانوں میں انگلیاں وہ کیوں ٹھونستے ہیں جو محض اپنی قومی اور ملی انانیت یا خودی کے نشے میں اس حادثہ کو نہیں دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں جو خود ان کے ہاتھوں یا ان کے پیشواؤں کے ہاتھوں سے ان کی کتابوں پر گزر گیا۔

خدا کی باتوں میں انسانی خواہش کی خمیر مل گئی ہے، اب اس کو جدا کرنے کی کس میں طاقت ہے؟

پس اب برٹش میوزیم کی طویل الذیل الماریوں، پیرس اور نیویارک کی عظیم الشان لائبریریوں، برلن اور ویانا کے لق و دق کتب خانوں، ہاں مشرق و مغرب کے سارے کتابی ذخیروں کے درمیان زمین کے چہرے پر اگر ’ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ‘ کا دعویٰ کسی کتاب کے متعلق کیا جا سکتا ہے تو وہ صرف وہی کتاب ہے جو شاید ہر مسلمان کے ”گھر“ میں ہے، لیکن غالباً اب کسی کے ”اندر“ نہیں الا ما شاء اللہ۔