مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(2)

]’’سیر و سوانح‘‘ کے زیرعنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین

کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

بچپن کی یادوں میں مولانا کو یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے دادا جان انھیں کلرک کی قسم کا بابو بنانا چاہتے تھے۔ انھیں اپنے دادا جان سے اگرچہ بہت محبت تھی، لیکن انھیں کلرک بننا شدید نا پسند تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گھر اور ارد گرد کے ماحول میں اہل علم کے لیے جو قدرومنزلت دیکھتے، وہ اسے پسند کرتے۔ اور ان کے ذہن میں اپنے لیے ایسا ہی کچھ بننے کا خیال پروان چڑھ رہا تھا۔ بتاتے ہیں کہ ہماری برادری مولوی شبلی، مولوی حمید الدین اور مولوی شبلی متکلم کی وجہ سے عالموں کی برادری کہلاتی تھی۔اور اس وجہ سے ان کا معاشرے میں خاص مقام تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جب اسکول آتے جاتے،سعدی کی کریما کے اشعار پڑھتے اور لوگ انھیں توجہ سے سنتے اور ان کی تحسین بھی کرتے اور کچھ لوگ فرمایش کرتے کہ انھیں یہ اشعار سنائے جائیں اور وہ بڑی خوش الحانی سے گانے لگتے :

کریما بہ بخشا ئے بر حال ما

کہ ہستم اسیرِ کمندِ ہوا

نداریم غیرا ز تو فریاد رس

توئی عاصیاں را خطا بخش و بس

نگہدار ما را ز ِراہ خطا

خطا در گذارو صَوابم نُم

ترجمہ : اے بخشش فرمانے والے، ہمارے حال پر رحم فرما۔اس لیے کہ میں حرص کی قید کا قیدی ہوں۔تیرے سوا ہماری فریاد کو سننے والا کوئی نہیں۔ صرف تو ہی گناہگاروں کی غلطی بخشنے والا ہے۔ہمیں غلطی کے راستے سے محفوظ رکھ۔غلطی معاف فرما اور مجھے سیدھا راستہ دکھا۔

لوگ نہ صرف یہ اشعار سنتے، بلکہ ننھے طالب علم کی لےَ میں لے َملاتے اور ساتھ ساتھ پڑھتے۔

مولانا نے کریما کے ان اشعار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

’’ ایک عرصہ ہم انھی اشعار کے اسیر رہے، لیکن بڑے ہوئے تو احساس ہوا کہ اس میں تو پورا تصوف در آیا ہے۔‘‘

غالباً مولانا کا اشارہ ’’ اسیر کمند ہوا ‘‘ کی طرف ہے۔

گاؤں کے ہندووں سے تعلق

اس وقت کے سماجی حالات میں مذہبی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے مولانا بتاتے ہیں کہ ہم ہندووں کی رسومات جیسے شادی بیاہ وغیرہ میں باقاعدگی سے جاتے تھے اور وہ بھی آتے تھے۔ یعنی تہذیبی تعلق پوری طرح قائم تھا۔ مسلمان ان کی خالص مذہبی تقاریب میں نہیں جاتے تھے، لیکن ہندو بقر عید پر بھی آتے تھے۔ اس موقع پر مسلمانوں کی طرح وہ اچھا لبا س بھی پہنتے تھے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ وہ بڑے بڑے پگڑ باندھتے تھے۔ اور یہ راجپوت ہندووں کا خاص لباس ہوتا تھا۔ تحفے تحائف کا بھی تبادلہ ہوتا۔

مولانا کے ذہن میں اپنے بچپن اور لڑکپن کی اس طرح کی کوئی یاد نہیں جس سے ہندو مسلم سماج میں نفرت یا تلخی کی نشان دہی ہوتی ہو۔ حالانکہ یہ لوگ اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے جن سے مولانا کے آباواجداد مسلمان ہوئے تھے۔ دین کی یہ تبدیلی کسی منافرت یا عداوت کا باعث نہیں بنی تھی۔مولانا مزید بتاتے ہیں کہ اسلام نے ان کے اندر صرف عقائد کی تبدیلی کی تھی یا حلال حرام کے بارے میں لوگ متنبہ ہوئے تھے۔ لیکن جہاں تک سماجی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ تھا، رسم و رواج تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ بلکہ ان کا کہنا تھا کہ راجپوتوں والی انا اور احساس تفاخر مسلمان ہونے کے بعد بھی ہم میں موجود تھا۔ مولانا تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی اس حوالے سے مدرسہ میں بہت اصلاح ہوئی۔ وہ فرماتے ہیں :

’’ مجھ میں ایک قسم کا اکھڑ پن بھی تھا جس کی مولانا حمید الدین نے خاص طور پر تہذیب کی۔ ‘‘

اس حوالے سے مولانا اپنے استاد کی حساسیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے نوٹ کیا کہ وہ اپنے ایک بیٹے کو مرزا، ایک کو مغل اور ایک کو شاہد خاں یعنی پٹھان کہتے تھے۔ ہم اس پر بہت حیران ہوتے۔ آخر ہم نے ایک دن اس کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے یہ نام ان کے مزاج کی وجہ سے رکھے ہیں۔ان کے نزدیک قوموں میں ایک خاص مزاج ہوتا ہے جو افراد کی طبیعت میں منعکس ہوتا ہے۔

راجپوت یعنی ’’حکمرانوں کی اولاد ‘‘ہندستان کی اشرافیہ ہے۔ انھیں معاشرے میں سیاسی، مذہبی اور سماجی لحاظ سے ہمیشہ سے ایک برتر حیثیت حاصل رہی۔یوں ان کے ہاں احساس تفاخر کا پایا جانا ایک فطری عمل ہے۔ مولانا نے اس بارے میں تبصرہ فرمایا کہ زمانے کی گردشوں نے اگرچہ ان سے اقتدار اور سماجی رتبہ چھین لیا یا دیگر قومیں بھی ان کے مقابلے میں آگئیں، لیکن ان کے اندر احساس تفاخر باقی رہا۔

مولانا نے اپنی معاشرت میں عوامی سطح پر اس طرح کے بھی کسی تاثر کی نفی فرمائی کہ ایسی گھٹن یا طبقاتی محرومی یا کشمکش موجود تھی جس سے نکلنے کی کوئی تحریک یا خواہش پائی جاتی ہو۔ وہ اپنے سماجی حالات کو پر امن اور بھائی چارے کی قدروں میں بندھا ہوا دیکھتے تھے۔

مدرسۃ الاصلاح کے قیام کا پس منظر

مولانا نے مدرسۃ الاصلاح میں اپنے داخلے کی داستان سناتے ہوئے اس کے وجود پذیر ہونے کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ مولانا نے ان واقعات وحادثات کی طرف ایک بلیغ تبصرہ کیا اور بتایا کہ مولانا شبلی نعمانی نے مدرسے کے قیام میں کیا کردار ادا کیا اور کیوں کیا:

’’مولانا شبلی نعمانی اپنی جہاں گردی سے تھک کر اعظم گڑھ آگئے۔انھوں نے وہاں قیام کا فیصلہ کیا۔ باہر کی ساری سرگرمیاں ــــ لکھنؤ وغیرہ کی ــــ وہ سب چھوڑ چکے تھے۔ وہ پاؤں توڑ کر بیٹھ گئے اور یہ بطور استعارہ نہیں کہہ رہا، ایسا ہی ہوا۔ ان کا پاؤں کٹ گیا۔ پھر کان پور کا حادثہ ہوگیا۔ مولوی لوگوں کو زنجیریں پہنائی گئیں تو وہ تڑپ اٹھے۔ ان کے بھائی فوت ہوگئے۔ ان سب کا ان کی شاعری اور ہر چیز پر اثر پڑا۔ اور جب وہ اعظم گڑھ میں ’’معتکف‘‘ ہوئے تو وہ خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھے۔ وہ بڑی بافیض ہستی تھے۔ وہ تو جہاں بیٹھ جاتے، وہاں باغ و چمن پیدا ہو جاتے۔ نہریں جاری ہو جاتیں۔دارالمصنفین کا تصور تو پہلے ہی ان کے دل و دماغ میں تھا۔ اس کی انھوں نے داغ بیل ڈال دی۔ نیشنل ہائی اسکول، شبلی کالج بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ مدرسہ اصلاح المسلمین کی طرف گئی۔ اس کی وجہ ندوہ کا حادثہ ہے…وہ اپنے تصورات کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ مولانا ہرگز ایسے آدمی نہیں تھے جو یونہی عمر گزار جائیں۔ وہ چلتے پھرتے طوفان تھے۔ اب ان کو خیال آیا کہ دینی تعلیم کا ایک ادارہ یہاں ہونا چاہیے۔ اس خیال میں ندوہ سے مایوسی کا بھی دخل ہو سکتا ہے۔ یوں وہ مدرسۃ الاصلاح کی طرف متوجہ ہوئے۔‘‘

یہ تمام جملے محض جملے نہیں یہ پوری پوری تلمیحات ہیں۔ یہ ماضی کے گمبھیر حوادث اور مستقبل میں ہونے والے انتہائی دور رس حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اس اجمال کی تفصیل ناگزیر ہے۔

1857ء کی جنگ میں ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کی با شعور اشرافیہ اس نتیجے پر پہنچی کہ مسلح جدوجہد سے وہ اب اپنے حالات میں بہتری نہیں لا سکتے۔ اس نتیجے پر پہنچ کر ان کے ہاں تین طرح کے دبستان پیدا ہوئے۔ پہلے کا ظہور 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کے قیام کی شکل میں ہوا۔ استاد محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے الفاظ میں یہ دبستان اِس بات پر مصر ہوا کہ نہ دین کو خاص اپنے مکتب فکر کے اصول و مبادی اور اپنے اکابر کی آرا سے بالاتر ہو کر براہ راست قرآن و سنت سے سمجھنا ممکن ہے اور نہ مغربی تہذیب اور اُس کے علوم اِس کے مستحق ہیں کہ وہ کسی پہلو سے اہل دین کی نظروں میں ٹھیریں۔ اِس گروہ کے بڑوں میں قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، محمود الحسن دیو بندی، انور شاہ کاشمیری، حسین احمد مدنی، اشرف علی تھانوی اور شبیر احمد عثمانی کے نام بہت نمایاں ہیں۔(مقامات 55)

اس کے بالکل مقابل ایک دوسرا گروہ تھا۔ اس کے خیال میں حق و باطل کا معیار وہی تہذیب اور اُسی کے علوم قرار پائے جن کے ہاتھوں ہم نے شکست کھائی تھی۔ یعنی انگریز کا نہ صرف علم، بلکہ اس کی تہذیب اور ترقی میں اسی کا لا ئحۂ عمل نسخۂ کیمیا ٹھہرا۔ اس کے سرخیل سر سید احمد خان تھے جنھوں نے علی گڑھ میں 1857ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی داغ بیل ڈالی۔

ان دو کے مقابل مولانا شبلی ایک تیسرے دبستان کے علم بردار تھے۔ اس دبستان کے بنیادی اصول کیا تھے ؟ استاد محترم لکھتے ہیں :

’’اِس جماعت کے بنیادی اصول دو تھے: ایک یہ کہ ہمارے لیے ترقی یہی ہے کہ ہم پیچھے ہٹتے چلے جائیں، یہاں تک کہ اُس دور میں پہنچ جائیں جب قرآن اتر رہا تھا اور جب خدا کا آخری پیغمبر خود انسانوں سے مخاطب تھا۔ اور دوسرے یہ کہ یہ خود قدیم کی ضرورت ہے کہ ہم جدید سے بھی اُسی طرح آشنا رہیں، جس طرح قدیم سے ہماری شناسائی ہے۔ سید سلیمان ندوی، ابو الکلام آزاد، ابوالاعلیٰ مودودی، حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، یہ سب اِسی جماعت کے اکابر ہیں۔ میں اِسے ’’دبستان شبلی‘‘ کہتا ہوں۔‘‘ (مقامات 56)

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شبلی پنے استاد مولوی فاروق چڑیا کوٹی سے علم کا سفر شروع کرتے ہیں۔انھی کے اثر سے امام ابوحنیفہ سے شدید متاثر ہو کر ان کے نام کو اپنے نام کاحصہ بنا کر ’’نعمانی‘‘ بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر جدید طرز تعلیم کا وہ شعبہ اختیار کرتے ہیں جو اپنے وقت کا مقبول ترین اور سب سے معروف ہے، یعنی وکالت۔ لیکن ان کے اندر کی جولانیِ طبع نہ ان کو فقہ حنفی کا اسیر رہنے دیتی ہے اور نہ وکالت کا پیشہ ان کے ذوق کی تسکین کر پاتا ہے۔ سر سید ان کی بے پناہ صلاحیتوں سے متاثر ہوتے ہیں اور انھیں اپنے کالج کے شعبۂ تدریس میں شامل کر لیتے ہیں۔ جہاں تک خدمت علم اور تعلق خاطر کا تقاضا ہے وہ علی گڑھ میں سید صاحب کی وفات تک تدریس کرتے ہیں۔ اور جہاں تک تشنگی علم کا تعلق ہے تووہ پروفیسر تھامس آرنلڈ کو عربی پڑھانے کے عوض ان سے فرانسیسی سیکھتے ہیں، یورپ کا سفر کرتے ہیں۔مصر و عرب کا دورہ کرتے ہیں۔وہ صرف علم کے بَحر ذَخّار ہی میں غوطہ زن نہیں ہوتے، بلکہ اس وقت کی دنیا کا بچشم سَر مشاہدہ کرتے ہیں۔ مصر میں محمد عبدہ اور ترکی میں سلطان عبدالحمید ثانی سے ملاقات کرتے ہیں۔

وہ سر سید سے اس حد تک تو فکری اتفاق رکھتے تھے کہ ملت کی بقا اور ترقی کا راز علم کی فراوانی اور ترویج ہی میں مضمر ہے۔ لیکن وہ ان کے سیاسی و سماجی افکار کے بارے میں کیا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اس کا اندازہ ان کے جید شاگرد سیدسلیمان ندوی کے اس اقتباس سے ہوتا ہے:

’’کوئی غیر قوم جب کسی دوسرے ملک پر حکومت کرتی ہے تو اس کی سلطنت کا سب سے کامیاب اصول یہ ہوتا ہے کہ وہ محکوم قوم کے افراد اور طبقوں میں اختلافات پیدا کر دے۔ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو صدیوں کی جنگ و جدل اور لڑائی بھڑائی کے بعد وحدتِ ملکی کی ایک سطح پر آگئے تھے جن کا لباس قریب قریب ایک تھا۔ تمدن یکساں ہو گیا تھا،زبان ایک ہو گئی تھی، مگر انگریزوں نے ہندوستان کی حکومت ہاتھ میں لینے کے ساتھ پہلا کام یہ کیا کہ فارسی کو سرکاری دفتروں سے خارج کر کے اردو کو اس کی جگہ دی اور اس کے بعد فورٹ ولیم کالج میں بیٹھ کر اردو کے ساتھ ایک نئی زبان کا کالبُد تیار کیا اور اس کا نام ہندی رکھا۔پہلی مسلمانوں کی اور دوسری ہندوؤں کی زبان قرار دی۔اختلاف کا یہ اثر آگے کو پھیلا اور رفتہ رفتہ سارے ملک پر چھا گیا۔‘‘ ( حیاتِ شبلی۔صفحہ 400-401)

یعنی مولانا شبلی اور سید سلیمان ندوی سر سید کے دو قومی نظریے،اردو ہندی اختلافات وغیرہ جیسے مناقشات کو قومی مفاد کے خلاف انگریزوں کی سازش سمجھتے تھے، جس کو پروان چڑھانے میں سید صاحب نے بڑی نیک نیتی سے اپنا کردار ادا کیا۔

یہ اختلاف تعبیر دین اور لائحۂ عمل کا بھی تھا۔ اس حوالے سے ’’حیات شبلی‘‘ میں بیسیوں اختلافات کا ذکر ہے، لیکن ہم طوالت کے خوف سے محض ایک اور اقتباس یہاں درج کرتے ہیں :

’’ان واقعات کے ساتھ ’’الفاروق‘‘ کی تصنیف میں جو اختلافِ راے پیدا تھا وہ بھی شمار کے لائق ہے۔ ایک ( سر سید )کے نزدیک حضرت عمر فاروق صرف رسول کی حکومت و سلطنت کے نمایندہ تھےاور دوسرے کے نزدیک وہ ’’آنچِہ خوباں ہمہ دارند،تو تنہا داری‘‘ (یعنی تمام کمالا ت آپ ہی کی ذات میں جمع ہیں) کے مصداق تھے۔ اس سلسلے میں سرسید نے خلفاے راشدین کی نسبت اپنے نج کے خط اور اخباری مضمون میں جو راے ظاہر کی، مولانا جیسے شیفتۂ اصحابِ رسول کے لیے اس کا برداشت کرنا آسان نہ تھا۔اسی لیے انھوں نے ’’الفاروق‘‘ پوری محنت سے لکھی اور سرسید کے اعتراض و اختلافات اور ناراضی کی کوئی پروا نہ کی۔مسلمانوں کی موجودہ بیماریوں کا علاج سرسید کے نزدیک یہ تھا کہ مسلمان مذہب کے سوا ہر چیز میں انگریز ہو جائیں اور مولانا شبلی کے نزدیک یہ تھا کہ صحیح اسلامی عقائد و اخلاق کی حفاظت اور بقا کے ساتھ ساتھ نئے زمانے کی صرف مفید باتوں کو قبول کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ مولانا نے ندوہ کے کسی جلسہ میں یا کہیں اور ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں، بڑھتے جائیں، لیکن مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ پیچھے ہٹتے جائیں، پیچھے ہٹتے جائیں، یہاں تک کہ صحابہ سے جا کر مل جائیں۔ سرسید کو ان کی اس تقریر پر بڑا غصہ آیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کو اس قسم کی نصیحتیں اس راستے سے پیچھے ہٹا دیں گی جس پر وہ لے جانا چاہتے ہیں۔چنانچہ اس کے خلاف انھوں نے سخت مضمون لکھا۔‘‘ ( حیات شبلی 268)

مزید دیکھیں کہ جب سرسید نے اپنی تفسیر قرآن کا ترجمہ شبلی سے کرانا چاہا تو انھوں نے مصروفیات کا عذر کر دیا۔اس کے بعد انھوں نےفرمایش کی کہ مولانا حمیدالدین فراہی سے کہا جائے۔ ظاہر ہے وہ شبلی کے شاگرد بھی تھے اور بھانجے بھی، اس لیے شبلی کے بعد ان کی نظر انتخاب ان پر پڑی۔ وہ ان دنوں کالج میں تعلیم کے سلسلے میں موجود تھے۔ اور اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے تھے، مگر انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ جب سر سید نے بااصرار وجہ پوچھی تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اس باطل کی اشاعت میں تعاون عَلَی الْاِثْم کے گناہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہتے۔ (حیات شبلی288)

شبلی کی علی گڑھ سے بے زاری کی ایک بڑی وجہ سر سید کی آمرانہ طبیعت بھی تھی۔ اس کے مقابلے میں شبلی کے اندر کمال درجے کی رواداری اور جمہوریت پسند مزاج تھا۔ جس کا اظہار سیاسی، انتظامی اور فکری، غرض ہر طرح کے امور میں ہوا۔ مثلاًسر سید کانگرس کے سخت خلاف جب کہ شبلی اسے اتحاد قومی کا ذریعہ اور انگریزی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ سر سید نے اس پر شدید تنقید کی۔ پھر وہ ہندو مسلم اتحاد کے قائل تھے اور وفات تک اسی سیاسی نظریے پر قائم رہے۔

سرسید سے اس گہرے اختلاف کے باوجود انھوں نے اگر ان سے تعلق خاطر رکھا تو اس کی وجہ وہ عمدہ تہذیب اور شرافت کا چلن تھا جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شبلی ایک دوسرے نظریے اور ایک دوسرے نظام فکر کےحدی خواں تھے۔اور اس کی شہادت ان کی حیدر آباد میں جامعۂ عثمانیہ اور پھر ندوۃ العلما لکھنؤ میں مصروفیت سے بھی ملتی ہے۔

علی گڑھ کالج کی علمی مصروفیات اور کارناموں نے انھیں پورے ہندستان میں ایک ممتاز اور منفرد شاعر، ادیب ونقاد اور عبقری عالم دین اور ماہر تعلیم کے طور پر بھی متعارف کرا دیا تھا۔ چنانچہ کالج سے فارغ ہونے کے بعد حیدر آباد کے نظام کی درخواست پر وہ جامعۂ عثمانیہ میں مشیر ہو گئے۔

ادھر 1892ء میں ندوۃ العلما قائم ہوا۔اس کی تحریک کان پور میں علی گڑھ ہی سے مستفید علما نے پیدا کی تھی۔ یہ سب لوگ سرسید کے نظریے کے مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سرسید کے فکر سے متاثر تعلیمی ادارے مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ وہ یک رخے ہو چکے ہیں۔ چنانچہ ملک بھر کے علما کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور مسلمانوں کی درست سمت علمی و مذہبی رہنمائی کی جائے۔مولانا شبلی نعمانی پہلے ہی اجلاس سے اس قافلے میں شریک ہوگئے اور غیر معمولی تقریر کی۔

اس ادارے کے ہر دو سال بعد اجلاس ہوتے رہے۔ ان میں شبلی باقاعدگی سے سرگرم رکن کی حیثیت سے موجود ہوتے۔علما نے جدید و قدیم تصورات کے تحت ایک معتدل دار العلوم قائم کرنے کا فیصلہ تو اوّلین جلسوں ہی میں کرلیا تھا، لیکن طویل مشوروں کے بعد چوتھے جلسے میں عملی طور پر دارالعلوم قائم ہو گیا۔ یوں لکھنؤ میں ستمبر 1898 میں سرسید کی وفات کے چھ ماہ بعد ’’دارالعلوم ندوۃ العلما ‘‘قائم ہو گیا۔

شبلی نے اس مدرسے سے اپنی بہت سی امیدیں اور خواب وابستہ کر لیے۔ ندوہ کی کونسل میں دیوبند سمیت ہر مکتبۂ فکر کے ہندستان بھر سے جید علما شامل تھے۔اس لیے ان کا خیال تھا کہ اتحادو اتفاق سے یہ برصغیر ہی نہیں عالم اسلام کا ایک عظیم تعلیمی ادارہ ہو گا۔ چنانچہ 1905ء میں وہ عملی طور پر بھی اس سے متعلق ہو گئے۔ وہ ادارے کے معتمد یعنی سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔

شبلی نے جب ندوہ میں قیام کا فیصلہ کیا تھا تو نواب محسن الملک نے ایک پیشن گوئی کی تھی۔ انھوں نے شبلی کو کہا کہ ندوہ کی اس کسمپرسی میں کوئی شخص آپ کا مزاحم نہ ہوگا، لیکن جب ترقی کے آثار نمایاں ہوں گے تو دفعۃً سارے مولوی آپ پر ٹوٹ پڑیں گے۔ (حیات شبلی 639)

شبلی جب تک جامعۂ عثمانیہ حیدر آباد سے منسلک رہے، انھیں ندوہ سے گہری توقعات رہیں، لیکن جب وہ ادارے کے معتمد بن گئے تو آہستہ آہستہ انھیں احساس ہونا شروع ہو گیا کہ یہ وہ قافلہ نہیں ہے جس کی حدی خوانی کی انھوں نے اتنی تمنا کی تھی۔ مثلاً انھیں مدرسے کے نصاب میں انگریزی کو بطور مضمون شامل کرنے میں ایک طویل جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک عام آدمی کے لیے تو انگریزی کی تحصیل پر فتوے ختم ہو گئے تھے، لیکن علما کا انگریزی سیکھنا جرم عظیم سمجھا جاتا تھا۔ جب کہ شبلی اسے بہت ضروری خیال کرتے تھے۔ بلکہ وہ سنسکرت اور ہندی کو بھی بنیادی زبانوں کی تدریس میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ مگر جب اس تجویز کو رد کر دیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اسے ایک تجویز ہی کے طور پر رکھ لیا جائے، لیکن ایسا کرنا بھی گوارا نہ کیا گیا۔ اور جب وہ معتمد بن گئے تو اسے داخل نصاب کیا گیا۔ لیکن یہیں سے ان کی مخالفت کا آغاز بھی ہو گیا۔ یوں انھوں نے اختیارات ملنے کے بعد اصلاح کی کوششیں جاری رکھیں۔اور اس میں انھیں بہت حد تک کامیابیاں بھی ملیں۔ ندوہ کے طلبہ اپنی علمی استعداد اور قابلیت میں ہندستان کے ممتاز ترین علما میں شمار ہونے لگے۔

ان عظیم کامیابیوں کے باوجود حاسدین اور مخالفین کی ایک جماعت ان کے درپے ہو گئی۔ ان پر الزامات لگنے لگے کہ وہ تو اصل میں سر سید ہی کے ’’ایجنٹ ‘‘ ہیں اور انھی کا ایجنڈا پورا کرنے آئے ہیں۔ تقوے کے ہیضے کا شکار ان کو ’’شعار اسلام ‘‘ میں کمی کے مجرم ٹھیرانے لگے۔ روایت کے اسیر مذہب میں عقل کو داخل کرنے کے ناقابل معافی جرم پر ان کے دشمن ہو گئے۔ ان کے نزدیک مذہب ماننے کی چیز تھی، اس کو عقل پر پرکھنا ’’ سواد اعظم ‘‘ کے خلاف تھا۔ شبلی مجسم اخلاص اور انسان کی عزت نفس کے محافظ تھے، ان بے سوادیوں پر بہت بد مزا ہوئے۔ بہت کوششوں کے بعد بھی جب ان کی ہمتیں جواب دے گئیں تو 1912ء میں پہلے مدرسہ،جو اب یونیورسٹی بن چکا تھا، کے مجلے ’’ ندوہ ‘‘سے اور پھر 1913ء میں دار العلو م سے مستعفی ہو گئے۔ اور اس حالت میں مستعفی ہوئے کہ ہندستان بھر سے ان سے محبت کرنے والے انھیں ندوہ واپس آنے کی اپیلیں کر رہے ہیں اورطلبہ ان کے جانے پر ہڑتالیں کر رہے ہیں اور شبلی ہیں کہ خاموشی سے اعظم گڑھ چلے آئے۔ ندوہ کے ناظم وہی مولانا خلیل الرحمان بنا دیے گئے جو ندوہ کو خالص قدیم طرز پر چلانا چاہتے تھے اور جو اس لحاظ سے قیام ِندوہ کے بنیادی اغراض و مقاصد سے بھی متفق نہیں تھے۔ گویا :

میؔر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

یہ ہے مولانا کے ان جملوں کی تفصیل جن کو انھوں نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا : ’’ مولانا شبلی نعمانی اپنی جہاں گردی سے تھک کر وہاں آگئے۔انھوں نے اعظم گڑھ میں قیام کا فیصلہ کیا۔ باہر کی ساری سرگرمیاں ــــ لکھنؤ وغیرہ کی ــــ وہ سب چھوڑ چکے تھے۔ ‘‘

اس کے بعد مولانا اصلاحی ان کے پاؤں کے حادثے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شبلی ایک تقریب میں شرکت کے لیے17 مئی 1907 کواعظم گڑھ گئے۔دفتر سے اٹھ کر زنان خانے میں گئے۔ اندر نشست پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ وہاں ایک بندوق بھی پڑی ہوئی تھی۔ یہ بندوق ان کے بیٹے حامد حسن نے کووں کو مارنے کے لیے رکھی تھی۔ وہ لیچی کے باغ میں پھلوں کا نقصان کرتے تھے۔ بندوق بھری ہوئی تھی۔ مولانا نے اسے اپنی بہو کو دینا چاہی تاکہ وہ اسے کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیں، لیکن پکڑاتے ہوئے بندوق کی لبلبی دب گئی۔ بندوق کا رخ اگر چہ نیچے کی طرف تھا، لیکن نال کا رخ ان کے پاؤں کی طرف تھا اور وہ بھی محض ایک بالشت کے فاصلے پر۔ بقول سید سلیمان ندوی کے مولانا کا ٹخنہ چور ہوگیا، پاؤں پنڈلی سے محض دو تسمے سے لٹک رہا تھا۔ باہر نکالا تو ایڑی جوتے ہی میں رہ گئی۔ اس حادثے میں مولانا کا پاؤں پنڈلی سے کاٹنا پڑا۔ باقی عمر انھوں نے مصنوعی پاؤں لگا کر بسر کی۔

اس حادثے نے مولانا کی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔وہ تین ماہ سے زیادہ اعظم گڑھ ہی میں رہے۔ اسی کو مولانا اصلاحی ’’اعتکاف ‘‘سے تعبیر کر رہے ہیں۔ جس میں انھوں نے شاعری بھی کی اور مستقبل کے منصوبے بھی بنائے۔ مولانا نے شبلی کے اس شعر کی بطور خاص تحسین کی :

شبلی نامہ سیہ را بخبر اے عملش

پا بریدند و صدا خاست کہ سَرمی بایست

مفہوم کچھ یوں ہے کہ شبلی سیاہ کار کا پاؤں کٹ گیا اس کے گناہوں کی پاداش میں۔ اور غیب سے آواز آئی، نہیں اس کا سر کاٹ کر لاؤ۔

کان پور کے حادثے اور مولویوں کو زنجیر پہنانے کا قصہ یہ ہے کہ1913ء میں یو پی صوبے میں واقع شہر کان پور کی ایک سڑک کی توسیع کی گئی۔ نقشے میں مچھلی بازار کے مقام پر ایک مسجد بھی اس توسیع کا حصہ بنتی تھی۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا تو مسجد کا صرف مشرقی حصہ اس میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ حصہ مسجد کے طہارت خانوں پر مشتمل تھا اور انگریز حکومت نے اس کا متبادل دینے کا بھی اعلان کر دیا۔ کچھ جذباتی مسلمان اس پر بھی راضی نہ ہوئے۔ انھوں نے مقدمہ بھی کیا، لیکن فیصلہ ان کے خلاف ہوا۔ حکومت نے فیصلہ آنے کے بعد مسجد کا مشرقی حصہ گرا دیا اور سڑک کی تعمیر شروع کر دی۔ مسلمانوں نے مسمار حصے کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب انھوں نے سڑک کو ہٹانا شروع کیا تو ان پر فائرنگ کر دی گئی۔ مسلمانوں کا فیصلہ اگر غیرقانونی اور جذباتی تھا تو انگریز حکومت کا اقدام بھی ظالمانہ تھا۔ اس فائرنگ کی زد میں آکر بچوں سمیت درجن بھر مسلمان شہید ہو گئے۔ اس سانحہ پر شبلی کی طرف سے ایک طویل نظم لکھی گئی۔ وہ اپنے پاؤں کے زخم کے خراب ہو جانے سے احتجاج میں شریک نہ ہو سکے۔وہ اپنے علاج ہی کے سلسلے میں بمبئی گئے ہوئے تھے۔ مولانا نے شبلی کی اس نظم کے ان اشعار کی بطور خاص بہت تحسین کی :

عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں

کہ بچے ہیں سویرے ان کو سو جانے کی عادت ہے

شہیدان وفا کی خاک سے آتی ہیں آوازیں

کہ شبلی بمبئی میں رہ کے محروم سعادت ہے

بھائی کی وفات اور اسکول کے کالج بننے کی تفصیل یہ ہے کہ مولوی اسحاق شبلی کے چھوٹے بھائی تھے۔ کامیاب وکیل اور سرگرم سیاسی رہنما تھے۔ مسلم لیگی تھے، لیکن جداگانہ انتخاب کے سخت خلاف۔ شبلی کی طرح وہ بھی اسے قومی وحدت کے خلاف انگریزوں کی سازش سمجھتے تھے۔ انھوں نے شبلی کو خاندان کی زمینوں اور دوسرے معاملات سے فراغت کرا رکھی تھی تاکہ وہ علمی اور ملی کاموں میں دل جمعی سے حصہ لیتے رہیں۔ وہ 5 اگست 1914 کو انتقال کر گئے۔ یہ شبلی کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔ اعظم گڑھ میں وہ پہلے ہی ڈیرے ڈال چکے تھے۔ اب بھائی کی وفات پر وہ بالکل وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ لیکن بھائی کی وفات کا غم انھوں نے اس طرح کاٹا کہ ان کے چھوڑ ے ادھورے کام مکمل کرنے کی کوشش کی۔

سرائے میر میں شبلی کے خاندان والوں نے نیشنل اسکول کے نام سے ایک معیاری تعلیم گاہ قائم کی تھی۔ اسے حکومتی امداد بھی حاصل تھی۔ لیکن بوجوہ اسکول کی تنزلی ہوئی اور یہ مڈل ہو گیا۔ مولوی اسحاق نے اسے دوبارہ منظم کیا۔ اور اسے ہائی درجے تک لے گئے اور بھائی کو بتایا کہ وہ اسے کالج تک ترقی دینےکا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تب شبلی نے اسے کالج بنانے کا منصوبہ اپنے ہاتھ میں لیا، لیکن وہ اسے مکمل کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ شبلی کے خاندان نے اپنی محنت جاری رکھی اور آخر یہ اسکول ان کی وصیت کے مطابق 1940 ء میں کالج کا درجہ پانے میں کامیاب ہو گیا اور اس کا نام شبلی کالج رکھا گیا۔ مولانا نے اسی کا ذکر کیا ہے۔

دارالمصنفین اور مدرسۃ الاصلاح قائم کرنے کی تفصیل یہ ہے کہ مولانا حمید الدین فراہی کے گاؤں پھریہہ کے پاس ان کے رشتے داروں اور دوسرے نیک دل مسلمانوں نے اصلاح المسلمین کے نام سے 1906ء میں ایک انجمن بنائی۔ یہ ایک پلیٹ فارم تھا جہاں وقتاً فوقتاً علما آتے اور وعظ کرتے۔ ان علما میں عبدالحق حقانی اور مولانا ثنا اللہ امرتسری جیسے مشہور علما بھی ہوتے۔ یہی انجمن 1909ء میں باقاعدہ ایک مدرسہ بن گئی۔ کچھ کچے کمروں کی سادہ سی عمارت بھی بنا دی گئی۔ لوگ متوجہ ہوئے تو 1910ء میں شبلی سے اس کی سرپرستی کی درخواست کی گئی۔وہ ان دنوں ندوہ میں تھے۔ انھوں نے یہاں پر ایک شان دار جلسہ منعقد کرایا جس میں مولانا عبیداللہ سندھی کو خاص طور پر مدعو کیا گیا۔ یہ شبلی کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی آمد کی وجہ مولانا حمیدالدین فراہی تھے جو ان دنوں شبلی ہی کے حکم پر کراچی میں تدریس کر رہے تھے اور وہاں پر ان کی مولانا سندھی سے قرآن فہمی پر ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اس جلسے سے ارد گرد کے علاقوں میں مدرسے کا اچھا تعارف ہو گیا۔

اس جلسے کے بعد اپریل 1910 ہی میں شبلی نے مولانا حمید الدین فراہی کو خط لکھا کہ وہ چند روز کے لیے سرائے میر آجائیں تاکہ مدرسے کو بہتر کیا جائے۔

مولانا اصلاحی اسی خط کا ذکر کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہی اس بدحال مدرسے کی حالت بہتر ہوئی۔ شبلی نے مدرسہ کے ناظم مولوی فیض الحسن کو طریقے سلیقے سے فارغ کر دیا کیونکہ لوگوں کو ان سے بہت شکایات تھیں۔ ( مولانا سلیمان ندوی )

شبلی نے ندوہ سے دو بہت قابل اور ذہین طلبہ کو بھی بلا لیا۔ یہ عبدالرحمان نگرامی اور معین الدین تھے۔ نگرامی وہی استاد ہیں جن کا ذکر مولانا اصلاحی بطور خاص اپنے عربی استاد کی حیثیت سے کرتے ہیں اور ان کا مزید تذکر ہ ا بھی آگے آرہا ہے۔

پھر جب شبلی ندوہ سے بالکل فارغ ہوئے تو انھیں خیال ہوا کہ وہ اسی مدرسے کو اپنے خوابوں کی تعبیر دیں۔ چنانچہ اپنے بھائی مولوی اسحاق کی وفات سے پہلے انھوں نے مولانا حمید الدین فراہی کو ایک تاریخی خط لکھا۔ وہ ان دنوں حیدرآباد میں تھے۔اور شبلی ہی کے توسط سے ان کی ملازمت کے معاملات طے ہو رہے تھے۔ حالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فراہی تمام زندگی اپنے استاد ہی کے حکم سے ملازمت کرتے اور اداروں سے وابستہ رہے۔ شبلی نے لکھا :

’’بحث یہ ہے کہ ہماری قومی قوت سرائے میر پر صرف ہو یا اعظم گڑھ پر،دونوں کے برداشت کے قابل قوم نہیں ہے۔کم سے کم یہ کہ دونوں کی جداگانہ پوزیشن قائم ہونی چاہیے اور ان کا باہمی تعلق بھی۔

کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک کو مرکز بنا کر اسی کو دین اور دنیا، دونوں تعلیموں کا مرکز بنایا جائے۔یہیں خُدّامِ دین بھی تیار ہوں،مذہبی اعلیٰ تعلیم بھی دلائی جائے، گویا گرو کل ہو، تم اپنی رائے لکھو،ندوہ میں لوگ کام نہیں کرنے دیتے تو اور کوئی دائرۂ عمل بنانا چاہیے،ہم سب کو وہیں بود و باش کرنی چاہیے،ایک معقول کتب خانہ بھی وہاں جمع ہونا چاہیے،اگر تم بہ عزم جَزم آمادہ ہو تو میں موجود ہوں۔

آج ڈائریکٹر تعلیمات سے تمھارے متعلق فیصلہ کرانا ہے،صرف یہی ایک زینہ رہ گیا ہے، لیکن یہ فیصلہ موافق بھی ہو جائے تب بھی میں اس کو قومی خدمت پر ترجیح نہیں دیتا، البتہ کچھ معاش کا سہارا ہونا چاہیے وہ بقدرِ کفاف کسی نہ کسی طرح ہوتا رہے گا۔آخر تمھارا بھی خود خیال تھا،پرنسپلی اور بیش قرار تنخواہ چند روزہ ہیں اور یہ کام ابدی ہے۔ ‘‘ (مکتوبات شبلی ،حمید 67 )

اس کے بعد مولوی اسحاق کی وفات ہو گئی۔ اور شبلی اعظم گڑھ آکر یہاں کے منتشر کاموں کو اکٹھا کرنے لگے۔ ان کے ذہن میں جب وہ منصوبہ اچھی طرح آگیا، جس کا انھوں نے مولانا فراہی سے تذکرہ کیا تو وہ سرائے میر کے ادارے کی سربراہی کے لیے کسی مناسب استاد کا نام سوچنے لگے۔ اس پرجب امام حمید الدین نے انھیں لکھا کہ آپ خود کیوں نہیں مدرسے کی نظامت قبول فرماتے تو اس کے جواب میں 21 ستمبر 1914کو لکھا:

’’بھائی بہ ایں ضعف و دل شکستگی مدرسۂ سرائے میر کی نظامت کیوں کر کر سکتا ہوں، کوئی دوسرا شخص سوچو،امکانی مدد کرتا رہوں گا۔‘‘ ( مکتوبات شبلی ، حمید 75)

بالآخر انھوں نے سوچ بچار کے بعد اکتوبر 1914 کے شروع میں مولوی مسعود علی صاحب کو اعظم گڑھ بلایا،پھر انھوں نے مولوی شبلی متکلم کو اس کام کے لیے مقرر کیا۔شبلی کے ذہن میں اس وقت دارالمصنفین،درجۂ تکمیل اور سرائے میر کو ملا کر ایک اچھی خاصی جامعۂ اسلامیہ کا تصور تھا۔اس کے لیے انھوں نے اپنے شاگردوں کو بلا بھیجا۔ یہ لوگ جب جمع ہوئے تو شبلی مرض الموت کے ساتھ بستر پر تھے۔

شبلی کی وفات کے تیسرے روز مولانا حمید الدین نے شبلی کے چند شاگردوں کو لے کر ایک مجلس بنائی۔ اس کا نام اخوان الصفا رکھا اور اس کا مقصد یہ قرار پایا کہ شبلی مرحوم کے ادھورے کاموں کو مکمل کیا جائے۔اس مجلس میں مولانا حمید الدین کے ساتھ یہ لوگ شامل تھے:

مولوی مسعود علی ندوی،مولوی شبلی متکلم ندوی اور سید سلیمان ندوی۔

مولانا حمید الدین فراہی نے حیدرآباد کی ملازمت سے مستعفی ہوکر اپنی زندگی اس کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور قرآن پاک کی تعلیم و تدریس اور اس کا خاص مقصد قرار دے کر اس کا ایک خاص نصاب بنایا۔

یوں اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ شبلی کی زندگی کے آخری دنوں میں مدرسے کے حوالے سے ان کی مراد پوری ہو۔ اور یہی وہ سارے حالات تھے جن کی طرف مولانا نے چند جملوں میں خلاصہ کرتے ہوئے بطور خاص فرمایا تھا کہ ان واقعات کی تفصیل آپ کے ذمے ہے !

[باقی]

خیال و خامہ