مواد پر جائیں

اللہ کا اپنے بندوں پر حق

سید منظور الحسن اردو

[مسند احمدکی روایت،رقم 13742 سے ماخوذ]

پوچھا یہ پیمبرؐ نے معاذؓ ابنِ جبل سے

اللہ کا حق کیا ہے بھلا بندوں پہ اُس کے؟

بولے یہ معاذ آپ پہ جاں میری فدا ہو

معلوم ہے یہ بات نبی اور خدا کو

فرمایا پیمبرؐ نے: ”سنو بات حقیقی

اللہ کا حق ہے کہ عبادت ہو اُسی کی

خالق ہے وہی سب کا، وہی سب کا الٰہ ہے

پوجا کا سز۱وار فقط ایک خدا ہے

ساجھی نہیں اُس ذات کا دنیا میں کوئی اور

بچتے ہی رہو شرکِ الہٰی سے بہر طور“

پھر آپ نے پوچھا یہ معاذ ابنِ جبل سے

کیا حق ہے بھلا بندۂ مومن کا خدا پہ؟

بولے یہ معاذ آپ پہ جاں میری فدا ہو

معلوم ہے یہ بات نبیؐ اور خدا کو

یہ سن کے نبیؐ پاک بڑی شان سے بولے

رحمت کے، محبت کے نئے در کئی کھولے:

”جو بندہ خدا ہی کے لیے سر کو جھکائے

معبود کسی اور کو اپنا نہ بنائے

اللہ نے حق اُس کا کیا خود پہ یہ قائم

دوزخ کی سزا سے رہے محفوظ وہ دائم“

پیغام نبیؐ سے یہ ہمیں درس ملا ہے

توحید پہ ایمان میں انساں کی بقا ہے

جن ہو یا فرشتہ ہو یا انسان کوئی ہو

اللہ کا پیمبر ہو یا اللہ کا ولی ہو

محتاج ہے ہر نفس فقط اپنے ہی رب کا

سب دست نگر اُس کے ہیں، رازق ہے وہ سب کا

افلاک میں اُس کا کہیں ہم سر نہیں کوئی

معبودِ حقیقی سے بلند تر نہیں کوئی

گر بندے مصیبت میں خداوند کو بلائیں

مشکل کوئی آئے تو مدد اُس کی ہی چاہیں

حاجت کوئی دل میں ہو، کریں اُس سے دعائیں

سب درد و الم اپنے خداوند کو سنائیں

پھر اُن کا خدا اُن کے گناہ معاف کرے گا

محشر میں بھی رحمت کی نظر اُن پہ کرے گا