مواد پر جائیں

جاوید احمد غامدی میرے بعد

اردو

میرا آبائی وطن اگرچہ ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ داؤد ہے، لیکن میری پیدایش پاک پتن کے قریب ایک گاؤں میں ہوئی اور میں اِسی شہر اور اِس کے سواد میں اُس عمر کو پہنچا جب دماغ کبھی کبھی سوچنا بند کر دیتا اور دل کبھی کبھی دھڑکنا بھول جاتا ہے اور ہم اِس کے نتیجے میں جو کچھ کرتے ہیں، اُس پر آپ ہی حیران ہوتے ہیں:

واے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو

آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا

آج سے کم و بیش بیس سال پہلے اِسی شہر کے ایک مدرسے میں، میں چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ درس نظامی کی کتابیں بھی اُس وقت تک میں نے غالباً ’’کافیہ‘‘ اور’’ شرح جامی‘‘ تک پڑھ لی تھیں۔ شہرستان علم کے در وا ہو چکے تھے اور میں اب کوچہ و بازار کی سیر دیکھنے کے لیے ہر روز عصر کے بعد شہر کی میونسپل لائبریری جاتا تھا۔ میرا گھر مضافات میں تھا۔ میں وہاں سے چل کر روزانہ پیدل لائبریری پہنچتا۔ شوق طلب بھی کیا چیز ہے۔ میرا یہ معمول برسوں رہا، لیکن مجھے یاد نہیں کہ طبیعت نے کبھی خستگی کی شکایت کی ہو:

طالباں را خستگی در راہ نیست

عشق خود راہ ست و ہم خود منزل ست

لائبریری کے راستے میں، میں نے ایک روز دیکھاکہ ایک بنک کے دروازے پر پہرا دینے والے سنتری کی نگاہیں دور تک میرا تعاقب کر رہی ہیں۔ چھوٹی عمرتھی، دل و دماغ اِس صورت حال سے پہلی مرتبہ خوف و حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دوچار ہوئے۔ اگلے کئی روز یہی ہوا تو خوف و حیرت پر تجسس نے غلبہ پا لیا۔ میں چاہتا تھا کہ آگے بڑھ کر اِس کی وجہ معلوم کروں، لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی۔ وہ بھی، معلوم ہوتا تھا کہ کچھ کہنا چاہتا ہے، لیکن راہ نہیں پاتا۔ گویا وہی معاملہ تھا جو غالب کے ساتھ بارگاہ عشق میں ہوا تھا:

ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے

حیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو

بہت دن گزر گئے۔ ایک شام میں لائبریری سے واپس آ رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں خلافت کے موضوع پر ایک علمی کتاب تھی۔ میں راہ چلتے اُس کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ مجھے خیال نہیں ہوا کہ بنک قریب آ گیا ہے۔ اچانک میں نے دیکھا، وہ میرا راستہ روکے کھڑا ہے۔ میری نگاہ اُس کے چہرے پر پڑی۔ اُس کی ڈاڑھی سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اُس نے غالباً ابھی وضو کیا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بلا کی چمک اور اُس کی پیشانی پر سجدوں کا جمال تھا۔ بڑی محبت کے ساتھ اُس نے مجھ سے پوچھا: تم یہ کتاب پڑھو گے؟ تم نصاب کی کتابوں کے علاوہ اِس طرح کی علمی کتابیں بھی پڑھتے ہو؟ میں نے اقرار میں سر ہلایا تو اُس نے کہا: تمھارے ہاتھ میں ایک دن میں نے عربی کی ایک کتاب بھی دیکھی تھی۔ تم عربی جانتے ہو؟ جانتا ہوں، میں نے جواب دیا۔ تم نے عربی کہاں پڑھی ہے؟ اُس نے عربی میں مجھ سے سوال کیا تو میں حیران رہ گیا۔ لمحے بھر کے لیے مجھے اپنی سماعت پر یقین نہیں ہوا۔ میں کبھی اُسے دیکھتا اور کبھی اُس کے جسم پر سنتری کی وردی کو دیکھتا۔ میں نے خواص کے لباس میں جاہل دیکھے تھے، یہ میرے لیے پہلا تجربہ تھا کہ میں عوام کے لباس میں ایک عالم کو دیکھ رہا تھا۔

تم جو کتاب لے کر جا رہے ہو، اِسے پڑھ لو۔ یہ ایک بڑے آدمی کی کتاب ہے۔ میں تمھیں ایک اور کتاب دوں گا جس میں اِس کتاب پر علمی تنقید کی گئی ہے۔ تم کوئی راے قائم کرنے سے پہلے اِسے بھی پڑھ لو۔ علم کی دنیا میں اشخاص کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ یہاں ساری اہمیت صرف دلیل کو حاصل ہے۔

اِس کے دوسرے دن جو کتاب اُنھوں نے مجھے دی، میں نے اُسی دن اُسے ختم کر لیا۔ یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا جب میں دلیل کی اہمیت سے واقف ہوا۔ میری یہی واقفیت آج بھی میری زندگی کی سب سے بڑی متاع ہے۔ میں نے اِسے ایک سنتری سے حاصل کیا تھا۔ بعد میں، میں نے لاہور کی سب سے بڑی درس گاہ میں فلسفہ اور انگریزی ادب کی تعلیم پائی۔ اِس سے بڑی کوئی چیز، حقیقت یہ ہے کہ میں وہاں سے بھی حاصل نہ کر سکا۔ میں نے دوران تعلیم میں بارہا سوچا: کاش، میرے سب ہم جماعت اور استاد بھی کبھی لائبریری جاتے ہوئے اِس راستے سے گزرے ہوتے۔

کئی سال بعد، پچھلے ماہ میں پاک پتن گیا۔ ولی محمد صاحب سے اُسی بنک کے دروازے پر ملاقات ہوئی۔ وہ آج بھی وہیں کھڑے تھے جہاں بیس برس پہلے میں نے اُنھیں دیکھا تھا۔ مجھے نہیں معلوم، اُن کی درس گاہ سے کوئی اور بھی فارغ ہوا یا:

ہوئی معز ولی انداز و ادا میرے بعد ​​

[1986ء]