مواد پر جائیں

نظم قرآن امت کا حبل المتین

فواد احمد اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

قرآن مجید کا اعجاز قاری پر واضح ہونے کے لیے پہلے اس کا مدعا اور اس کی تاثیر آشکار ہوجانا ناگزیر ہے اور یہ تب ممکن ہوجاتا ہے جب قرآن مجید کے کلام کی ہیئت کی انفرادیت اور اس کلام میں موجود نظم دریافت ہوجائے۔ اس عظیم کلام کی ہیئت اس وقت زیر بحث نہیں ہے جب کہ امام فراہی کے بقول قرآن مجید کا نظم ان اسرار و عجائب کے خزانے کی کلید ہے، جو اس کلام میں موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کی پوری علمی روایت میں بیش تر لوگوں نے قرآن مجید کا مدعا متعین کرتے وقت اس میں موجود نظم کو پیش نظر نہیں رکھا۔ امام فراہی کے بقول نظم قرآن اسرار و عجائب کا وہ مدفون خزانہ ہے جس کا بہت کم حصہ اب تک دریافت ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کلام کا مدعا متعین کرنے میں جب اس کی نظم کو نظر انداز کیا گیا اور اس کلام کو متفرق آیات کا مجموعہ سمجھا گیا تو اس کے سبب مسلمانوں کے درمیان غیر ضروری اختلافات پیدا ہوگئے۔ اس کے بعد ان مختلف نقطہ ہاے نظر رکھنے والوں کے درمیان اختلافات وقت گزرنے کے ساتھ اس قدر شدت اختیار کرگئے کہ ہر نقطۂ نظر رکھنے والوں کی الگ روایت بن گئی اور اس روایت سے جڑے تعصبات پیدا ہوگئے اور یوں امت فرقوں میں تقسیم در تقسیم ہوگئی، کیونکہ نظم قرآن کی صورت میں ان مختلف مکاتب فکر کے درمیان کوئی معیار نہیں مانا گیا جس کو ان کے درمیان قول فیصل کی حیثیت حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی اپنے ہی فہم کو خدا کا اصل مدعا سمجھ رہا ہے۔ قرآن مجید کا نظم اس کی مختلف تعبیر و تفاسیر کے لیے معیار ہے۔ اسی معیار پر پرکھا جائے گا کہ قرآن مجید کا اصل مدعا کیا ہے۔ جب نظم قرآن پیش نظر رکھا جائے تو مدعا متعین کرنے کے لیے دوسرے ذرائع کی ضرورت باقی نہیں رہتی، بلکہ قرآن مجید اپنا مدعا خود ہی واضح کرتا ہے اور یوں قرآن مجید کسی انسانی فہم کے تابع نہیں ہوتا۔اختلاف کی صورت میں جب نظم قرآن کی authoritative حیثیت کو نظر انداز کیا گیا تو اس lacuna کو پُر کرنے لیے اجماع اور اس کے بعد اپنے مکتبۂ فکر کی روایت کی صورت میں انسانی فہم کو اتھارٹی دے دی گئی۔ اجماع کو اتنی بڑی حیثیت دے دی گئی کہ یہ قرآن مجید کا فہم متعین کرتا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی راے میں کسی مجتہد کا پہلا مرجع اجماع ہونا چاہیے۔ یعنی ان کے ہاں مصادر کی ترتیب میں سب سے پہلی حیثیت اجماع کو حاصل ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

فينظر أول شي في الإجماع فان وجد في المسألة إجماعا ترك النظر في الكتاب والسنة.

(المستصفى 374)

’’یعنی مجتہد کو سب سے پہلے کسی حکم کی تلاش کے لیے اجماع کو دیکھنا چاہیے اگر وہاں مسئلے کا حکم مل جاتا ہے تو قرآن مجید اور سنت میں تلاش کرنا چھوڑ دے۔‘‘

اجماع کا اصل تصور ہی تبدیل کردیا گیا۔اجماع تو اصل میں جم غفیر (یہاں غور کریں جم غفیر سے مراد فقط علما و فقہا نہیں، بلکہ کسی دور کے عام و خاص لوگ ہیں) کا کسی ’’واقعہ‘‘ (یہاں دوبارہ غور کریں کسی واقعے کو نہ کہ کسی فہم) کو اگلی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ یہی عمل اس واقعے کی صحت کے لیے سند اور اگلی نسل کے لیے ذریعۂ علم بن جاتا ہے۔ یہ اجماع کا غلط تصور ہے کہ کسی مخصوص دور کے خاص لوگ کسی مخصوص فہم پر متفق ہوجائیں اور پھر اسی مخصوص فہم کو علم قطعی سمجھا جائے ۔

یا دور نبوت کے بعد کسی مخصوص دور میں مخصوص لوگوں کے کسی مخصوص فہم پر متفق ہونے کو قطعی علم سمجھا جائے اور پھر قرآن مجید کو بھی اسی انسانی فہم کے تابع کیا جائے، اور پھر قیامت تک یہی فہم حتمی مانا جائے تو یہ اجماع کا غلط تصور ہے۔ لہٰذا جب نظم قرآن کو پیش نظر رکھا جائے تو قرآن مجید کی تفسیر میں خود قرآن ہی کو مرجع کی حیثیت حاصل ہوگی اور باقی تمام ذرائع علم اس کے تابع ہوں گے۔ امام فراہی بھی اپنی کتاب ’’نظام القرآن‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ نظم قرآن کی طرف میری رہنمائی خارج سے نہیں، بلکہ خود قران مجید کے اندر سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نظم قرآن کو نظر انداز کرنے سے ہر فقہی مذہب اپنی الگ الگ مستقل حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور ہمارے پاس وہ معیار یا کسوٹی باقی نہیں رہتی جس کو مختلف فقہی مذاہب کے متعین کیے گئے بنیادی اصولوں کو پرکھنے کیلئے بروے کار لایا جائے۔ لہٰذا ہمارے پاس کوئی common legal theory نہیں ہے جس کو معیار کی حیثیت حاصل ہو ،اس کے برعکس ہر فقہی مذہب اپنے الگ اصولوں پر کھڑا ہے اور یہ اصول دوسرے فقہی مذہب سے مختلف ہیں۔ لہٰذا جب ہم نے کسی مخصوص فقہی مذہب کے حکم کی صحت کو دیکھنا ہو تو کسی مخصوص مذہب کے اصولوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ان اصولوں میں مطابقت ہے یا نہیں۔ یعنی ان اصولوں کی صحت کے لیے ان کے درمیان مطابقت ضروری ہے۔ جب کہ کسی فقہی مذہب کے ان اصولوں کی بلاواسطہ اصل مصدر (قرآن مجید) سے validation حاصل کی جائے ، اس کا کوئی طریق کار نہیں کیونکہ نظم قرآن کو نظر انداز کرکے ہر ایک نے اپنے فہم کے مطابق اپنے فقہی مذہب کے بنیادی اصول متعین کیے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف مذاہب کے اصولوں کی validation کے لیے کوئی معیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب کے legislative presumptions کا birds eye view پیش نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ کسی مخصوص فقہی مذہب کے اندر رہ کر اس کے اصولوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید کو انسانی فہم کے تابع کرنے سے میری مراد قرآن مجید کی تعبیر کے دوران میں سیاق وسباق، موقع و محل ، اور مخاطبین (یہ کسی بھی کتاب کو سمجھنے کے فطری اصول ہیں)، سب نظر انداز کرکے کوئی special اصول وضع کرنا ہے (جیسے حدیث سے تشریح کرنا، اجماع کو معتبر ماننا وغیرہ )۔ ایسا کرنے سے ہر مکتبۂ فکر الگ مستقل حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ کیونکہ ہمار ے پاس وہ کسوٹی باقی نہیں رہتی جو ان مختلف مکاتب فکر کے درمیان فیصلہ کن ہو ۔

نظم قران کی رعایت کے بعد بھی مختلف مکاتب فکر بنیں گے، لیکن تب ہمارے پاس وہ کسوٹی ہوگی جو اختلاف کے وقت فیصلہ کن ہو۔ ہم یہ کہنے کے قابل ہوں گے کہ یہ متعین اصول ہیں اور ان اصولوں کا یہاں اطلاق نہیں ہوا ۔ انسانی فہم کے برعکس نظم قرآن ہی قرآنی فہم ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔نظم قرآن ہی حبل المتین ہے۔ امام فراہی ’’نظام القرآن ‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ تاویل کے بیش تر اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ آیات کے اندر نظم کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ اگر نظم کلام ظاہر ہوتا اور سورہ کا عمود یا مرکزی مضمون واضح طور پر سب کے سامنے ہوتا تو تاویل میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہ ہوتا، بلکہ سب ایک ہی جھنڈے کے نیچے جمع ہوجاتے اور سب کے منہ سے ایک ہی صدا بلند ہوجاتی ’ کشجرة طيبة أصلها ثابت او فرعها في السماء ‘، ’’وہ ایک شجرۂ طیبہ کے مانند ہے جس کی جڑ زمین میں اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں ۔‘‘