معرفتِ الہٰی اور حصول تزکیہ کا دوسرا قابل اعتماد ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے صحیح فیض ایک طالبِ تزکیہ اسی وقت حاصل کر سکتا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کو صحیح قسم کی نسبت حاصل ہو، اس نسبت کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ رسالت کی حیثیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ خاص طور پر یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ عہد صحابہ و تابعین کے گزرنے کے بعد سے اس چیز کے بارہ میں ہمارے درمیان بہت کچھ اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور اس اختلاف کا اثر حصولِ معرفت و تزکیہ کے اس مقصد پر لازماً پڑتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے وابستہ ہے، اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ پہلے اختصار کے ساتھ نقطہ ہاے نظر کا یہ اختلاف واضح کر دیں۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری کس نوعیت کی وابستگی معرفت الہٰی کے مقصد کے لیے کار آمد ہو سکتی ہے اور یہ وابستگی پیدا کرنے کے لیے ہمیں کن باتوں کا اہتمام کرنا ہے، کس قسم کی جدوجہد عمل میں لانی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کی حیثیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کے بارہ میں ہمارے اندر جو غلط تصورات پیدا ہو چکے ہیں، وہ ہیں تو بہت سے لیکن ہم ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ ہم صرف چار بنیادی غلط فہمیوں کی طرف اشارہ کریں گے جو ہمارے چار بڑے بڑے گروہوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔
1۔ ہمارے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا ہے جو خدا اور بندوں کے درمیان نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی حیثیت سمجھتا ہے جو ایک کاتب اور مکتوب الیہ کے درمیان کسی معتمد ہرکارہ اور ایک دیانت دار چٹھی رساں کی ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام بس یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب اپنے بندوں پر نازل فرمانی چاہی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہنچا دی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ختم ہو گیا۔ وہ اپنے اسی تصور کے لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت متعین کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ منصبِ رسالت کا اس قدر حقیر تصور رکھتے ہیں، ان کے لیے معرفتِ الٰہی کے نقطۂ نظر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہ جاتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ کسی غیر معمولی وابستگی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ جب اصلی کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف خط پہنچا دینا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خط پہنچا چکے تو اس کے بعد اگر کوئی اہمیت ہے تو وہ اصل خط کی ہے یا زیادہ سے زیادہ کاتب کی، نہ کہ خط کے لانے والے قاصد کی۔ اس کے بعد تو اگر قاصد سرے سے درمیان سے غائب بھی ہو جائے، جب بھی ان حضرات کے نقطۂ نظر سے کوئی خلا نہیں واقع ہونا چاہیے۔
رسالت کا یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے۔ نبی، خدا اور اُس کے بندوں کے درمیان صرف ایک قاصد اور نامہ بر ہی نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک معلم بھی ہوتا ہے، ایک مُزکی بھی ہوتا ہے، ایک مرشد بھی ہوتا ہے، ایک سراج منیر بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک واجب الاطاعت ہادی بھی ہوتا ہے اور پھر اپنی تمام خصوصیتوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ارشاد و ہدایت کے فرائض کے سلسلہ میں براہ راست خدا کی نگرانی میں ہوتا ہے، جس کے سبب سے وہ غلطی اور گم راہی کے تمام خطروں سے بالکل محفوظ و مامون ہوتا ہے۔ اس کا فریضہ صرف یہی نہیں ہے کہ وہ خدا کی کتاب بندوں کو پہنچا دے، بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ وہ اس کتاب کے تمام اسرار و رموز لوگوں کو سمجھا دے، اس کتاب پر عمل کر کے دکھا دے، اس کتاب پر عمل کرنے والوں کا ایک گروہ اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کر دے اور اس کتاب کے مضمرات، ان کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں نمایاں کر دے۔ ان سارے کاموں میں اس کی اپنی ذات ایک عامل کی حیثیت سے بھی شریک ہوتی ہے اور ایک رہنما کی حیثیت سے بھی شریک ہوتی ہے اور اپنی اس دوسری حیثیت میں جو کچھ وہ کہتا ہے یا کرتا ہے یا جس چیز کو وہ منظور کر لیتا ہے، اس کو اس کتاب کے اور اس منصبِ رسالت کے تحت ہی سمجھا جاتا ہے اور اسی حیثیت سے اس کو قبول کیا جاتا ہے۔
رسالت کے اس تصور کو سامنے رکھ کر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم جتنی گو نا گوں نوعیتوں کے تعلقات رکھتے ہیں اتنی گوناگوں نوعیتوں کے تعلقات نہ دنیا میں ہمارے کسی کے ساتھ ہیں، نہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں آپ سے آپ یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اگر کوئی شخص ان گو نا گوں تعلقات کی نوعیت سے اچھی طرح واقف نہ ہو یا ان میں سے بعض کا یا کُل کا منکر ہو تو وہ ہر گز آپ کی ذات با برکات سے وہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتا جس کے لیے آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
2۔ دوسرا گروہ جو منصب رسالت کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہے وہ ہمارے اربابِ تصوف کا ہے، یہ لوگ اول تو شریعت اور طریقت اور علم ظاہر اور علم باطن کی الگ الگ حد بندیاں قائم کیے ہوئے ہیں۔ پھر مزید یہ ستم کرتے ہیں کہ ان دونوں علموں کو ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں تک علمِ ظاہر یا علمِ شریعت کا تعلق ہے اس کی تعلیم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو دی، لیکن علم باطن یا علم طریقت کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور ایک راز کے صرف چند مخصوص لوگوں ہی کو بتائی اور پھر انھی لوگوں کے واسطہ سے یہ علم سینہ بہ سینہ تصوف کے مختلف سلسلوں تک منتقل ہوا ہے اور وہی اس راز کے امین بنے۔
اس خیال کے اندر جو خرابیاں ہیں اور اس سے منصب نبوت کے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر اس سے معرفت الٰہی کے نصب العین کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کی طرف ہم اس کتاب کی پہلی فصل میں بعض اشارات کر چکے ہیں۔ یہ خیال اگرچہ غلط ہے، لیکن غلط ہونے کے باوجود ہمارے نزدیک کم از کم اس پہلو سے غنیمت ہے کہ اس میں علم ظاہر اور علم باطن، دونوں کا سرچشمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ علمِ شریعت کا سرچشمہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کیا گیا ہو، لیکن علمِ طریقت کا سرچشمہ کسی اور کو قرار دے دیا گیا ہو۔ ورنہ اہل تصوف میں تو ایک ایسا گروہ بھی ہے جو نبوت اور ولایت کے دو الگ الگ بالکل متوازی منصب تسلیم کرتا ہے پھر ان میں سے ایک کو وہ علم ظاہر (یعنی علم شریعت) کا سرچشمہ قرار دیتا ہے اور دوسرے کو علم باطن کا۔ اس گروہ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس طرح خاتم الانبیا کا منصب مخصوص ہے، اسی طرح بعض اشخاص کے لیے ان کے نزدیک خاتم الاولیا کا منصب مخصوص ہے۔ ان کے نزدیک یہ دونوں منصب بالکل دو متوازی نظاموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دو مستقل نظاموں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ ان کے درمیان رقابت اور کشمکش کی حالت رہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بھی برابر رقیبانہ چوٹیں چلتی رہتی ہیں۔ طریقت کے علم بردار شریعت کے حامیوں کو ظاہر پرست اور بے مغز قرار دیتے ہیں اور شریعت کے حامی، طریقت کے حامیوں کو مبتدع اور گم راہ ٹھہراتے ہیں اور اس تعصب اور غلو نے بڑھتے بڑھتے یہ شکل اختیار کر لی ہے کہ بہت سے صوفی حضرات شریعت کو اپنی طریقت کے مقابلے میں پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتے اور معرفت الٰہی کے نقطۂ نظر سے ان کی نگاہوں میں جو مرتبہ شیخ محی الدین ابن عربی کا ہے وہ العیاذ باللہ کسی نبی کا بھی نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص منصب رسالت کے متعلق سوء ظن میں مبتلا ہو جائے تو اس کو معرفت الٰہی کا ایک ذرہ بھی حاصل نہیں ہو سکتا، اگرچہ وہ بزعم خویش باطن میں اتنا کمال حاصل کر لے کہ ہوا میں اڑنے اور پانی پر دوڑنے لگ جائے۔ معرفت الٰہی کا صلی ذریعہ صرف انبیا علیہم السلام ہی ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت آخری اور کامل شریعت ہے اس وجہ سے لازماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الاولیا اور خاتم العارفین ہیں۔ معرفت کا جو مقام آپ کو حاصل ہوا، وہ نہ کسی اور کو حاصل ہوا اور نہ ہو گا اور علم کا جو خزانہ آپ کی شریعت کے اندر پوشیدہ ہے، وہ خزانہ نہ کسی اور چیز کے اندر ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
3۔ ہمارے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماضی کی ایک قابل احترام شخصیت سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ساری قوم چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کہتی ہے، اس وجہ سے یہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ہی کہتے ہیں اور قومی روایات کے زیر اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حمیت اور عصبیت کا جذبہ بھی ایک حد تک رکھتے ہیں، لیکن یہ بات ان لوگوں کے دل میں کسی طرح بھی نہیں دھنستی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس معاملہ میں جو کچھ فرما گئے ہیں وہی حرف آخر ہے اور انسان کی دنیوی اور اخروی سعادت کا انحصار بس اس کو بے چون و چرا مان لینے ہی پر ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا اور سکھایا وہ ایک مخصوص زمانہ اور ایک مخصوص ماحول کے لیے تو بے شک ٹھیک تھا، لیکن علم و روشنی کے اس زمانہ میں بھی انھی چیزوں پر اصرار کیے چلے جانا، ان کے خیال میں جہالت اور حماقت ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں میں سے اگر کچھ چیزیں مانے جانے کے قابل ہیں تو یا تو وہ ہیں جو خود ان کی اپنی خواہشات کے مطابق ہیں یا وہ ہیں جن کو خوش قسمتی سے موجودہ زمانے میں بھی قدر و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو یہ لوگ دل سے گوارا کرنے کے لیے تیار ہوں اگرچہ اپنی کمزوری اور بزدلی کے سبب سے اس کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہ رکھتے ہوں۔
4۔ ہمارے عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے، جن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بس ایک اندھی بہری عقیدت کا مرجع ہے، وہ مختلف اوقات میں اپنی اس عقیدت کا اظہار کر کے اپنے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت کے تمام حقوق و واجبات سے اپنے آپ کو سبکدوش کر لیتے ہیں، انھیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس مقصد کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو کیا تعلیم دی، اپنے بعد امت پر کیا ذمہ داریاں چھوڑ گئے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے ہمیں کیا کچھ کرنا ہے، ان سوالوں پر غور کرنے اور ان کے تقاضے پورے کرنے کے بجاے وہ اپنے تصورات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ اظہار عقیدت کر لینے کو کافی سمجھ لیتے ہیں، اگرچہ اس اظہار عقیدت کا طریقہ صریحاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ہدایات کے خلاف ہی ہو۔ جاہل پیروں اور مولویوں کی ایک جماعت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عوام کے جذبۂ عقیدت سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ شریعت کی حقیقی ذمہ داریوں سے محفوظ رہتے ہوئے عوام میں مقبول بننے کا یہ راستہ بہت سہل ہے کہ عوام کی اس جاہلانہ عقیدت کی حوصلہ افزائی کی جائے چنانچہ انھوں نے ایک طرف تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب رسالت سے اٹھا کر خدائی کے منصب پر متمکن کرنے کی کوشش کی، اور اپنے زعم کے مطابق اس کے دلائل فراہم کیے۔ دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار عقیدت و محبت کے ایسے طریقے ایجاد کیے جن سے ان کو اپنی خواہشات نفس کی تسکین کے لیے شریعت کی تمام پابندیوں سے پوری آزادی مل جائے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور آپ کی محبت و عقیدت کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان تمام عقائد کی بنیادیں بھی ڈھا دی گئی ہیں جن سے معرفت الٰہی کی راہیں کھلتی تھیں اور وہ تمام اعمال و اخلاق بھی برباد کر دیے گئے جو اس معرفت کو جلا دینے والے تھے۔ جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اس مقصد کے لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کے لیے رہنما بنے اوران کو خدا کا راستہ دکھائے، اسی کے نام کو ان ظالموں نے اس مقصد کے لیے استعمال کیا کہ لوگوں کو خدا کے راستہ سے ہٹا کر ان کوگم راہی کے راستوں پر ڈال دیا۔