بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(4)
وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور یاد کرو، جب تم نے کہا: اے موسیٰ، ہم ایک ہی کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے۔ سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ سبزی، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز جو زمین اگاتی ہے، وہ اِن چیزوں میں سے ہمارے لیے نکال کر لائے۔ اُس نے کہا: تم ایک بہتر چیز کو کم تر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو؟ اچھا تو جاؤ، کسی مصر ہی میں جا رہو۔ اِس لیے کہ یہ جو کچھ تم مانگتے ہو، وہاں تم کو مل جائے گا۔ (وہ یہی کرتے رہے) اور اُن پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔ یہ اِس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے تھے اور اُس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اُنھوں نے نافرمانی کی اور وہ (اللہ کی ٹھیرائی ہوئی) کسی حد پر نہ رہتے تھے۔61
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾
وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴿۶۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۶۴﴾ وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِیۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡکُمۡ فِی السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ﴿ۚ۶۵﴾ فَجَعَلۡنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَ مَا خَلۡفَہَا وَ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۶۶﴾
وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۶۷﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِکۡرٌ ؕ عَوَانٌۢ بَیۡنَ ذٰلِکَ ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۸﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرۡضَ وَ لَا تَسۡقِی الۡحَرۡثَ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا ؕ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ ؕ فَذَبَحُوۡہَا وَ مَا کَادُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾
(سو جزا و سزا کا قانون بالکل بے لاگ ہے، اِس لیے) وہ لوگ جو (نبی امی پر) ایمان لائے ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی ہوئے اور جو نصاریٰ اور صابی کہلاتے ہیں، اُن میں سے جن لوگوں نے بھی اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کو مانا ہے اور نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے اُن کا صلہ اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور (اُس کے حضور میں) اُن کے لیے نہ کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔62
اور یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑو جو ہم نے تمھیں دی ہے، اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچے رہو۔ پھر اِس کے بعد بھی تم اُس سے پھر گئے۔ سو حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ کی عنایت اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو (اپنے اِس رویے کی وجہ سے) تم بڑے نامراد ہوتے۔ اور تم اُنھیں بھی جانتے ہی ہو جنھوں نے تمھارے لوگوں میں سے سبت کی بے حرمتی کی تو ہم نے اُن سے کہا: جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ۔ اِس طرح اُن کی اُس بستی کو، (جس
وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾ فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ کَذٰلِکَ یُحۡیِ اللّٰہُ الۡمَوۡتٰی ۙ وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕوَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ قَالُوۡۤا اَتُحَدِّثُوۡنَہُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ لِیُحَآجُّوۡکُمۡ بِہٖ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾ اَ وَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾ وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ لِیَشۡتَرُوۡا
میں اُنھوں نے سبت کی بے حرمتی کی تھی)، ہم نے اُس کے گردوپیش کے لیے ایک نمونۂ عبرت اور خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ایک ذریعۂ نصیحت بنا دیا۔ 63-66
اور یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ (خون پر قسمیں کھانے کے لیے) تم ایک گاے ذبح کرو۔ وہ کہنے لگے: کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ اُس نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اِس طرح کا جاہل بن جاؤں۔ اُنھوں نے کہا: اچھا، اپنے رب کوہمارے لیے پکارو کہ وہ ہمیں بتائے کہ گاے کیسی ہونی چاہیے۔ اُس نے کہا: وہ فرماتا ہے کہ گاے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، اِن کے بیچ کی میانہ ہو۔ اب جاؤ اور وہ کرو جس کا تمھیں حکم دیا جا رہا ہے۔ بولے: اپنے رب کو ہمارے لیے پکارو کہ وہ ہم پر یہ بھی واضح کرے کہ اُس کا رنگ کیسا ہو۔ اُس نے کہا: وہ فرماتا ہے کہ وہ گاے سنہری ہو، شوخ رنگ، ایسی کہ دیکھنے والوں کو خوش آجائے۔ بولے: (ایک مرتبہ اور) اپنے رب کو ہمارے لیے پکاروکہ ہم کو اچھی طرح وضاحت کے ساتھ بتائے کہ وہ کیسی ہو، ہمیں گایوں میں کچھ شبہ پڑ رہا ہے، اور اللہ نے چاہا تو اب ہم ضرور اُس کا پتا پا لیں گے۔ اُس نے کہا: وہ فرماتا ہے کہ وہ گاے محنت والی نہ ہو کہ زمین جوتتی اور فصلوں کو پانی دیتی ہو۔ وہ ایک ہی رنگ کی ہو، اُس میں کسی دوسرے رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ بولے: اب تم واضح بات لائے ہو۔ اِس طرح اُنھوں نے اُس کو ذبح کیا اور لگتا نہ تھا کہ وہ یہ کریں گے۔ 67-71
بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ وَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾ وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۸۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۸۲﴾
اور وہ واقعہ بھی یادکرو، جب تم نے ایک شخص کوقتل کر دیا۔ پھر (جھوٹی قسمیں کھائیں اور) اِس کا الزام ایک دوسرے پر دھرنے لگے، اور اللہ نے فیصلہ کر لیا کہ جو کچھ تم چھپا رہے تھے، وہ اُسے ظاہر کر دے گا۔ چنانچہ ہم نے کہا: اِس (مردے) کو اُسی گاے کا ایک ٹکڑا مارو (جو قسمیں کھانے کے لیے ذبح کی گئی ہے تو وہ زندہ ہوگیا)۔ اللہ اِسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ 72-73
( تم یہی کرتے رہے، یہاں تک کہ) اِس کے بعد پھر تمھارے دل سخت ہو گئے، اِس طرح کہ گویا وہ پتھر ہیں یا اُن سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹتی ہیں اور اُن میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور اُن سے پانی بہ نکلتا ہے اور اُن میں ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ (یہ حقیقت ہے کہ تم یہی کرتے رہے ہو)، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔74
اِس کے باوجود، (مسلمانو)، کیا تم (اِن سے) یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری بات مان لیں گے؟ اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) اِن میں سے ایک گروہ اللہ کا کلام سنتا رہا ہے اور اُسے اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد جانتے بوجھتے، اُس میں تحریف کرتا رہا ہے۔ اور یہ(وہ لوگ ہیں کہ) جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے مان لیا ہے اور جب آپس میں اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: کیا تم اِن کو وہ بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولا ہے کہ وہ اِس کی بنیاد پر تمھارے پروردگار کے پاس تم سے حجت کریں۔ پھرکیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اللہ اُن سب باتوں سے باخبر ہے ؟ اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) اِن میں بن پڑھے عامی بھی ہیں جو اللہ کی کتاب کو صرف (اپنی) آرزوؤں کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں اور اپنے گمانوں ہی پر چلتے ہیں۔ـــــ سو تباہی ہے اُن کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شریعت تصنیف کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اِس کے ذریعے سے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں۔ سو تباہی ہے اُن کے لیے اُس چیز کی وجہ سے جواُن کے ہاتھوں نے لکھی اورتباہی ہے اُن کے لیے اُس چیز کی وجہ سے جو (اُس کے ذریعے سے) وہ کماتے ہیں ـــــ ۔ اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) اِنھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی۔ ہاں، گنتی کے چند دنوں کی تکلیف، البتہ ہو سکتی ہے۔ اِن سے پوچھو، کیا اللہ سے تم نے کوئی عہد لیا ہے؟ اِس لیے کہ اگر عہد لیا ہے تو اللہ کسی حال میں اپنے عہد کی خلاف ورزی نہ کرے گا یاتم اللہ پر ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تم کچھ نہیں جانتے۔ ہاں، کیوں نہیں، جن لوگوں نے کوئی بدی کمائی ہے اور اُن کے گناہ نے اُنھیں پوری طرح گھیر لیا ہے، وہی دوزخ کے لوگ ہیں، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے، وہی جنت کے لوگ ہیں۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 75-82