مواد پر جائیں

جسمانی سزا اور تشدد پسندی کی نفسیات

ڈاکٹر عرفان شہزاد اردو

ہمارے سماج میں تشدد براے تادیب والدین اور اساتذہ کا جائز حق مانا جاتا ہے۔ اس سے تشدد براے اصلاح کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ تشدد پسندی نفسیات کا حصہ بن جاتی اور مسائل کو بزورِ طاقت حل کرنے کی خُو پیدا ہوتی ہے۔ کسی انتہائی نوعیت کے واقعہ میں معاملے کی سنگینی واضح کرنے کی خاطر کبھی ہلکی پھلکی جسمانی سزا کی ضرورت شاید ہو سکتی ہے۔ شفقت آمیز والدین کی طرف سے اتنی سزا بھی تنبیہ کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔تشدد کا جواز بہرحال کبھی پیدا نہیں ہوتا۔

بچوں کو نظم و ضبط، اخلاق و آداب اور کچھ ضروری مہارتیں سکھانے کے لیے کچھ سختی کرنا پڑتی ہے، مگر اس کے لیے بھی کسی جسمانی سزا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تشدد سے اصلاح اندازِ تربیت کی غلطی ہے۔ یہاں اصلاح کی ضرورت اصلاح کار کو ہے۔

براے تربیت بچوں پر تشدد کرنے کا مذہبی جواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک روایت سے پیش کیا جاتا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بچہ دس سال کا ہو جائے تو اسے نماز نہ پڑھنے پر سزا دی جائے۔ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔1 یہ روایت علم و عقل کے مسلّمات اور دین کے مجموعی مزاج سے بھی بظاہر متصادم نظر آتی ہے۔ جب شریعت میں نماز کا مکلف ہی بالغ فرد ہے تو دس سال کی عمر میں نماز ادا نہ کرنے پر مارنا ناقابل فہم ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ نفسیات کے ماہرین بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ بچپن کی یہ سختی کیسے انسانوں کے مزاج اور مذہب سے تعلق پر اثر انداز ہوتی ہے، جب کہ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی کریم النفس شخصیت، جنھوں نے پوری زندگی دین کو نرمی، ملائمت اور استدلال سے سمجھایا، وہ کیسے علی الاطلاق ایسی ہدایت کر سکتے ہیں جو جسمانی مار، نفسیاتی دباؤ اور عبادت جیسے شعوری عمل کو زبردستی ادا کرانے کی ترغیب بن جائے۔2

تشدد پسندی ہمارے جاگیر دارانہ کلچر میں شامل ہے۔ رعایا کو زیرِ نگیں رکھنے کے لیے ان پر تشدد کے مظاہرے ایک لازمی عنصر کے طور پر اس کلچر کا حصہ چلے آئے ہیں۔ اسی کے مظاہر ہیں جو ہم مختلف صورتوں میں دیکھتے ہیں۔ ہماری علاقائی زبانوں میں موجود محاورے اور ضرب الامثال تشدد پسندی کے جواز کے عکاس ہیں۔ بابا بلھے شاہ سے منسوب یہ اشعار یہی بیان کرتے ہیں:

چار کتاباں اتوں لتھیاں، اتوں لتھا ڈنڈا

چار کتاباں کج نہ کیتا، سب کج کیتا ڈنڈا

(چار الہامی کتابیں اوپر سے نازل ہوئیں اور ڈنڈا بھی اوپر سے نازل ہوا۔ چاروں کتابوں سے کچھ نہ ہوا، جو کچھ ہوا ڈنڈے سے ہوا۔)

بچے کو استاد کے حوالے کرتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کا یہ کہنا کہ ’’بچے کی ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا‘‘ یعنی بچے کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں، باقی کھال پر جتنا چاہیں مشق ستم کیجیے، تشدد کے جواز کا بیانیہ ہے۔ لوگ فخر سے بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں انھوں نے والدین اور اساتذہ سے کتنی مار کھائی۔ چنانچہ ہمارے ہاں جسمانی سزائیں آخری چارۂ کار نہیں، بلکہ ترجیحاً اختیار کی جاتی ہیں۔

تشدد سے تربیت پانے والے بچوں میں ڈر، عدم تحفظ، منافقت، جھوٹ، بدیانتی، بزدلی، بد تمیزی اور طاقت کے بل پر مفاد اور مقاصد کے حصول کی خصلتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

سماج اس وقت اگر اخلاقی حالت کی ناقابلِ رشک سطح پر نظر آتا ہے اور تشدد پسندی اور طاقت کے بل پر مسائل حل کرنے کو درست سمجھتا ہے تو اس کے پیچھے تشدد براے اصلاح کے بیانیے کا گہرا عمل دخل ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد یہ یقین رکھتی ہے کہ ملک میں مثبت تبدیلی لانے کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کرپٹ سیاست دانوں کو سولی چڑھا کر ملک کو ان سے پاک کر کے تعمیر نو کی بنیادیں رکھی جائیں۔آمریت کو پسند کرنے والے بھی اسی نفسیات کے حامل ہیں۔ انھیں ملک کے مسائل کا حل ایک مطلق العنان حکمران میں نظر آتا ہے جو اپنے آہنی ہاتھوں سے سب کچھ درست کر دے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے مختلف گروہوں کا سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ کرنا، سیاسی انتخابات اور مذہبی اجتماعات کے دوران میں ہونے والے پر تشدد جھگڑے اسی تشدد پسندی کے مظاہر ہیں۔ یہاں تک کہ طب کا شعبہ بھی اس بہیمانہ نفسیات سے محفوظ نہیں۔ ڈاکٹر حضرات ہڑتال کے دوران میں مریضوں کی جانوں کو یرغمال بنا کر اپنی مانگیں پوری کروانا درست سمجھتے ہیں۔ وکلا جتھا بندی کر کے مخالفین پر حملے اور تشدد کے جواز پیش کرتے ہیں۔ پولیس زیر حراست ملزمان پر تشدد روا سمجھتی ہے۔ سڑکیں بند کر کے لوگوں کے روزگار، بلکہ بسا اوقات ان کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر اپنے مطالبات منوانا معقول گردانا جاتا ہے۔

فرد اور سماج میں حقیقی تبدیلی کن عوامل کے تحت آتی ہے اور اس میں کتنا وقت لگتا ہے، تشدد پسند ذہنیت اس نفسیاتی اور سماجی سائنس سے نابلد ہوتی ہے۔ جس تبدیلی کا خمیر طاقت کے استعمال اور تخریب پر رکھا جائے اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں، تاریخ کے المناک تجربات سے یہ نفسیات واقف نہیں۔ ڈر اور خوف سے اختیار کی گئی تبدیلی منفی اور ناپائیدار ہوتی ہے۔ تبدیلی وہی دیرپا ہوتی ہے جس کے لیے انسانی شعور کو مخاطب کیا جائے اور اس میں وقت لگتا ہے۔

بچوں کے رویوں میں مثبت کردار پیدا کرنے اورمنفی عادات کی روک تھام کے لیے والدین اور اساتذہ کے ذاتی حقیقی کردار اور اچھے ماحول کی دستیابی سے بڑھ کر کوئی چیز موثر نہیں ہوتی۔ بچوں پر تشدد ایک بھیانک عمل ہے جس کے نتائج فرد اور خاندان سمیت پورا سماج بھگتتا ہے۔ بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ قانون بھی اس سلسلے میں اپنا موثر کردار اداکرے۔ اس سلسلے میں کرنے کا پہلا کام خود پولیس کی درست ذہنی تربیت ہے۔

  1. ۔ اِس مضمون کی روایت یوں ہے:عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع‘‘. (سنن ابو داؤد ،رقم 495) ’’عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمھاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انھیں مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔“ذخیرۂ حدیث میں یہ روایت صرف دو صحابہ سے منقول ہے:1۔سبرہ بن معبد الجہنی رضی اللہ عنہ۔2۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ۔پہلے صحابی ،سبرہ بن معبد الجہنی سے منقول تمام روایات، ایک ضعیف راوی عبد الملک بن الربيع الجہنی کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ علماے حدیث اس روایت پر جو حکم لگاتے ہیں، وہ یہ ہے: ’إسناد ضعيف، فيه عبد الملك بن الربيع الجهني وهو ضعيف الحديث‘۔دوسرے صحابی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی نسبت سے منقول روایت منقطع ہے۔ یہ سب سے پہلے ’’المدونۃ الکبریٰ‘‘، امام مالک میں نقل ہوئی ہے۔(1/ 132) یہ روایت ’’ابن وھب‘‘ بیان کرتے ہیں جن کی پیدایش 125 ھ کی ہے،جب کہ جن صحابہ سے وہ نقل کر رہے ہیں، اُن دونوں کا انتقال 65 ھ سے پہلے ہو چکا تھا۔ یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ امام مالک نے اِس روایت کے علم میں ہونے کے باوجود خود بھی اسے اپنی ’’موطا‘‘ کا حصہ نہیں بنایا۔عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سےیہ روایت سب سے پہلے حدیث کی جس کتاب میں سامنے آئی، وہ ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ ہے۔ان تمام روایات میں ’سوار بن داؤد ‘ موجود ہیں جن کے بارے میں متعدد علماے جرح و تعدیل مطمئن نہیں ہیں۔مثلاً حافظ ذہبی نے ان پر ’’ضعف‘‘ کا حکم لگایا ہے۔اسی طرح ’’تقریب التہذیب‘‘ کے مصنف کی راے میں بھی قابل اعتماد نہیں ہیں۔ ان کے بقول یہ روای ضعیف ہے، مگر اس پر اعتبار کیا جاتاہے۔ اس کی راے کو سوائے احمد بن حنبل کے کوئی اچھا نہیں سمجھتا۔ ’ضعيف يعتبر به ، ولم يحسن الرأي فيه سوى أحمد‘۔لہٰذا تنہا صرف اسی ایک راوی کی بنا پر عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی اس سلسلے کی تمام روایات ’’ضعیف‘‘ قرار دی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاصر علماے حدیث نے بھی اس روایت کو سنداً قبول نہیں کیا۔ نیز ، روایت میں اس کی صراحت نہیں ہے کہ ’’عمرو بن شعیب‘‘ اپنے والد کی نسبت سے خود اپنے ہی دادا سے روایت کر رہے ہیں یا اُن کے والد اپنے دادا سے روایت کر رہے ہیں (عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده)۔ پہلی صورت ہے تو روایت میں ارسال ہوگا اور دوسری ہے تو انقطاع ہوگا۔ ابن ابی شیبہ نے اِس پوری بات کو ایک تابعی کے قول کے طور پر الگ سے بھی نقل کیا ہے، جس سے اِس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سرے سے حدیث تھی ہی نہیں، بلکہ ایک تابعی کا قول تھا ــــــ چنانچہ ’’مصنف‘‘ ہی میں ہے: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن أبي رجاء، عن مكحول، قال: ’’يؤمر الصبي بها إذا بلغ السبع ويضرب عليها إذا بلغ عشرًا‘‘.(رقم3402) ’’وکیع کہتے ہیں کہ سفیان نے ابی رجا سے اور انھوں نے مکحول سے سنا کہ جب تمھاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انھیں مارو۔‘‘یہ غالباً کسی صحابی کا اثر یا تابعی کی اجتہادی راے تھی ، جو ایسے نقل ہوگئی۔اِس بات کی تائید ’’مسند بزار‘‘ کی ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے۔ امام شوکانی نے اپنی کتاب ’’نیل الاوطار‘‘ میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا کہ ایک دوسری روایت میں صراحت ہے کہ یہ پوری روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک کاغذ پر لکھی ہوئی ملی تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کے بغیر ہی کسی شخص کے الفاظ لکھے تھے کہ اس کے بقول بچے کو نماز نہ پڑھنے پر غالباً نو سال کی عمر میں مارا جا سکتا ہے۔ روایت یہ ہے:عن عبيد اللّٰه بن أبي رافع، عن أبيه رضي اللّٰه عنه، قال: وجدنا صحيفة في قراب سيف رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد وفاته فيها مكتوب: ’’بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم، فرقوا بين مضاجع الإخوة والأخوات لسبعِ سنين، واضربوا أبناءكم على الصلاة إذا بلغوا أظنه تسعًا‘‘.(رقم 3332) ’’عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ کی وفات کے بعد تلوار کے پاس ایک کاغذ لکھا ملا تھا جس پر لکھا تھا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، بہن بھائیوں کے بستر سات سال کی عمر میں الگ کردو اور بچوں کو میرے خیال کے مطابق نو سال کی عمر میں نماز ادا نہ کرنے پر مارو۔‘‘یہی وجہ ہے کہ بخاری اور مسلم تک نے اپنے انتخاب میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا۔ (ملخص از تحقیق جناب حسن الیاس، ’’بچوں کو نماز نہ پڑھنے پر مارنا‘‘ ماہنامہ اشراق، اگست، 2021۔ (https://www.javedahmedghamidi.info/#!/ishraq/60ffb900404eb9173b50147e?articleId=60ffca6b404eb9173b5014ca&decade=2020&year=2023
  2. ۔ ایضاً۔