مواد پر جائیں

نیا لباس ] مسند احمد کی روایت، رقم 305 سے ماخوذ[ روایت ہے مسند میں پڑھنے کے لائق پڑھے اِس کو ہر علم و دانش کا شائق اِسے بو امامہ بیاں کر رہے ہیں نہاں رازِ ہستی عیاں کر رہے ہیں ملا جب نیا کپڑا حضرت عمرؓ کو دعا مانگ کر، ہم سے کہنے لگے وہ:

سید منظور الحسن اردو

پیمبرؐ کا اُسوہ جو مجھ کو ملا ہے

ہمیشہ عمل میں نے اُس پر کیا ہے

پیمبرؐ نے ہم سے یہ فرمایا اک دن

محبت سے، شفقت سے سمجھایا اک دن:

”نیا کپڑا جب بھی پہننے لگو تم

تو تعریف اپنے خدا کی کرو تم

کہو ذاتِ حق ہے پرستش کے لائق

وہی سب سے افضل، وہی سب سے فائق

اُسی سے ہر اک چیز ہم مانگتے ہیں

اُسی کی عنایت سے تن ڈھانپتے ہیں

پرانا لباس اپنا پھر تم اتارو

کسی فردِ محتاج کو جا پکارو

اُداسی کی تصویر میں رنگ بھر دو

پرانا لباس اُس کو خیرات کر دو

اگر تم سدا اِس روش پہ چلو گے

تو اپنی ترقی کا ساماں کرو گے

خدا کی پنہ تم کو حاصل رہے گی

قیامت کے دن کامیابی ملے گی“