مواد پر جائیں

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (1)

سید ابو الحسن علی حسنی ندوی اردو

واقعہ یہ ہے کہ اس جدید تعلیم یافتہ نسل پر ذہنی وعلمی طور پر مولانا مودودی نے گہرا اور نہایت وسیع اثر ڈالا ہے، انھوں نے اس نسل کی صدہا بے چین روحوں، ذہین اور تعلیم یافتہ نو جوانوں کو اسلام سے قریب کرنے، بلکہ اس کا گرویدہ بنانے اور اس کے دل و دماغ میں اسلام کا اعتماد و وقار بحال کرنے کی قابل قدر خدمت انجام دی ہے، جہاں تک اس تعلیم یافتہ اور ذہین (Intellectual) طبقہ کا تعلق ہے، اس اثر انگیزی میں (اس ربع یا نصف صدی میں ) مشکل سے کوئی مسلمان مصنف و مفکران کا مقابل و ہم سر ملے گا۔

مولانا مودودی کے بعض خیالات و تحقیقات سے کسی کو کتنا ہی اختلاف ہو (اور خود یہ نا چیز بھی ان لوگوں میں شامل ہے، جنھوں نے اس علمی محاسبہ اور تنقید کا فرض انجام دیا ہے )1 اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی تحریریں اور مضامین مغرب کی تہذیب اور اس کے فلسفۂ حیات کے گہرے مطالعہ اور ذاتی واقفیت پرمبنی ہیں، انھوں نے ایسے مبصرانہ اور جرأت مندانہ انداز میں اس کی تنقید اور اس کے علمی تحلیل و تجزیہ کا فرض انجام دیا ہے جو خود اعتمادی سے بھر پور اور مرعوبیت و سطحیت سے دور ہے، اور جس میں نام ور نو مسلم مغربی فاضل علامہ محمد اسد کے سوا ان کا کوئی نظیر و ہم سر اور ان کا کوئی پیش رو ( اس قریبی زمانہ میں ) نظر نہیں آتا۔ انھوں نے اسلام کے نظام حیات، اس کی تہذیب کی بنیادیں، حیات انسانی کی تنظیم کے اصول، اسلامی حکومت کے محاسن و خصائص اور اس کے قیام کے طریق و شرائط کو نئے اسلوب اور علمی زبان میں اس خوبی سے پیش کیا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ ( جو مغربی طرز استدلال اور جدید علمی اسلوب کا خوگر تھا) اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ انھوں نے اسلام کے حقائق، اس کے قوانین معاشرت اور اس کے اقتصادی، سیاسی نظام کو اس انداز میں پیش کیا، جس میں معذرت و تاویل کا وہ رنگ نہیں تھا، جو عرصہ سے ان مسائل پر لکھنے والے دانش وروں اور اہل قلم کے یہاں پایا جاتا تھا، بلکہ انھوں نے بارہا مغربی تہذیب اور اس کے فلسفۂ حیات کے بارے میں اقدامی پوزیشن اختیار کی اور خود اس کی بنیادوں اور جڑوں پر تیشہ زنی کی، جس کی وجہ سے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے بہت سے افراد کا وہ احساس کہتری اور شکست خوردگی دور ہو گیا جو خالص مغربی تعلیم نے ان میں پیدا کر دیا تھا، اور بہت سے نوجوانوں کے دل میں اسلام کی سربلندی اور اسلامی حکومت کے قیام کا جذبہ اور اس کی ضرورت کا احساس بیدار ہو گیا جو اس کوناقابل عمل، بلکہ ناقابل تصور سمجھنے لگے تھے۔ اور یہ ان کی وہ خدمت ہے، جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، کاش کہ وہ اپنی ساری صلاحیتیں اور توانائیاں اس نقطہ پر مرکوز کر دیتے اور جیسا کہ ایک مرتبہ میں نے لاہور کی ایک مخصوص صحبت میں ان سے کہا تھا کہ وہ اس کے لیے فضلا اور نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار کر دیتے جو ان مسائل پر پُر مغز اور فکر انگیز طریقہ پر اور یجنل (Original) لٹریچر پیش کرتی اور اس ذہنی اور تہذیبی ارتداد کے راستہ میں سد سکندری بن جاتی جو سارے عالم کو اس وقت اپنے پیٹ میں لے چکا ہے اور وقت کا اہم ترین چیلنج اور اس عہد کا ’’فتنۂ ارتداد‘‘ ہے۔ انھوں نے یہ عذر کیا تھا کہ ’’پتّا مارنے والے محنتی اور ذہین نوجوان نہیں ملتے‘‘۔

یہ ایک تقدیری بات ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد ان کی توانائی کا بڑا حصہ جماعت کی تنظیم و توسیع، اسلامی قانون کے نفاذ کے مطالبہ اور دستوری و انتخابی ذرائع سے اقتدار کو جماعت کی طرف منتقل کرنے پر مرکوز ہوگئی۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کو اپنے آخری دور میں اس کا احساس ہو گیا تھا کہ جن پیروؤں اور ہم خیالوں سے وہ اس کی توقعات وابستہ کر رہے ہیں اور جس معاشرہ کی زمین پر وہ یہ عمارت اٹھانا چاہتے ہیں، اس میں اس کا بوجھ برداشت کرنے اور اس کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے، اور شاید ان کو یہ احساس بھی ہو چلا تھا کہ اس ناگزیر درمیانی منزل کے طے کرنے میں کسی قدر عجلت اور خوش گمانی سے کام لیا گیا۔ اس کو اس سے زیادہ دینی و اخلاقی تربیت اور انھی کے الفاظ میں ’’سیرت سازی‘‘ اور تعمیر کردار کی ضرورت تھی جتنی اس کو حاصل ہوئی، اس کے لیے (خواہ اس کا کچھ نام رکھا جائے، اور ’’تصوف‘‘ کے مروجہ طریقوں سے کتنا ہی احتراز کیا جائے ) کسی قدر روحانی اور باطنی تربیت، ضبط نفس، ایثار و قربانی، ذوق بندگی، اور تعلق مع اللہ کی روح کی ضرورت تھی۔ اس حقیقت کے اشارے ان کے اس مشہور خیال افروز اور ولولہ انگیز مقالے میں ملیں گے جو ’’اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟‘‘ کے عنوان سے انھوں نے تقسیم سے بہت پہلے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا تھا۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کے انقلابات بھی دیکھے، خود اپنی جماعت کے انتشار، اس کے بنیادی ارکان کی علیحدگی اور ان کی صف آرائی کے حادثہ سے بھی بارہا دوچار ہوئے، جس سے ان دینی جماعتوں کو کم سابقہ پڑا ہوگا، جن کی بنیاد صحیح دینی وروحانی تربیت و ایثار پر پڑی اور جن کو قیادت کے لیے کوئی طاقت ور اور دل آویز دینی شخصیت حاصل ہوئی،2 یہاں تک کہ بتدریج جماعت میں ان اہل علم حضرات میں سے کوئی نہیں رہا جو اس کے قیام و آغاز کے زمانہ سے شریک تھے، پھر بالکل آخر میں ایران کا ’’اسلامی انقلاب“ کے نام سے وہ انقلاب بھی دیکھا، جو قیام حکومت اور معاشرۂ اسلامی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والوں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایک خونی انقلاب اور ایک جذباتی رد عمل بن کر رہ گیا ہے، ان کی خداداد ذہانت اور واقعات سے فائدہ اٹھانے کی فطری صلاحیت سے اس کی پوری امید ہے کہ اگر ان کو مہلت ملتی اور ان کی زندگی اور صحت ساتھ دیتی اور جماعت کی زمام قیادت ان کے ہاتھ میں ہوتی تو وہ جماعت کے فکر و نظام میں بڑی اہم اور دور رس تبدیلیاں کرتے اور افراد جماعت کی اصلاح و تربیت میں بعض مؤثر قدم اٹھاتے، اور ’’اسلامی حکومت‘‘ کے بجاے ”اسلامی معاشرہ‘‘ کے قیام پر اپنی توجہ کا بڑا حصہ مرکوز کر دیتے۔ جولائی 1978 کے آخری ہفتہ میں جب میری ان سے لاہور میں آخری ملاقات ہوئی اور میں نے ہندوستان میں ”پیام انسانیت‘‘ کی تحریک اور پاکستان میں بھی اسی کے مماثل کسی تحریک کی ضرورت کا ذکر کیا اور معاشرہ کی اخلاقی گراوٹ اور زبوں حالی کا تذکرہ کیا تو انھوں نے اس کی تحسین فرمائی اور تائید و ہمت افزائی کے کلمات کہے۔

ان چند ’’سخن گسترانہ‘‘ باتوں کے باوجود جو بہر حال اندازوں اور تمناؤں پر مبنی ہیں، اس میں شک نہیں کہ تعلیم یافتہ نو جوانوں کو اسلام سے قریب کرنے اور اس کے دلوں میں اسلام کی طرف سے اعتماد بحال کرنے میں ان کے قلم نے جو خدمت انجام دی وہ ہر شبہ اور اختلاف سے بالا تر ہے، اور عالم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی جدید تحریک اور جدوجہد کی تاریخ میں نا قابل انکار اور نا قابلِ فراموش ہے۔

مجھے مولانا کی شخصیت اور تحریروں سے واقفیت کی سعادت 1934-35ھ ہی سے حاصل ہو گئی تھی، جب دار العلوم ندوۃ العلما میں میری تدریسی زندگی کا آغاز ہوا، میں نے ان کی کتابوں اور تحریروں سے بہت استفادہ کیا اور میری تحریر میں اس کا رنگ آیا۔ یہ میر اعنفوان شباب تھا،3 اسی زمانہ میں ان کے شہرۂ آفاق رسالہ ”ترجمان القرآن“ میں میرا ایک مضمون سورۂ کہف کی تفسیر کے بعض اشارات پر شائع ہوا4 جو مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے بہت پسند کیا۔ اس وقت مولانا حیدر آباد میں تھے اور ’’ترجمان القرآن‘‘ وہیں سے نکلتا تھا، دوسرا ’’دین وسیاست“ کے عنوان سے لاہور سے شائع ہوا۔ میری پہلی ملاقات ان سے لاہور میں اگست 1939 کی کسی تاریخ میں ہوئی۔ میں اور رفیق محترم مولانا محمد منظور صاحب نعمانی ایک دینی مہم اور تلاش کے سلسلہ میں بلوچستان کا سفر کر رہے تھے، اس ملاقات میں مولانانعمانی اور مولانا حبیب اللہ صاحب ( فرزند اکبر حضرت مولانا احمد علی لاہوری) بھی ساتھ تھے، مجھے یاد ہے کہ ملتے ہی مولانا نے کہا ” آج قران السعدین ہی نہیں قران السعد اء ہو گیا‘‘۔

میری مولانا سے خط و کتابت غالبا اگست 1940 سے شروع ہوئی، میں رفیق محترم مولانا عبدالسلام صاحب قدوائی ندوی مرحوم کے ساتھ ’’ الندوہ‘‘ کا ایڈیٹر تھا، ہم لوگوں نے اس میں ایک سلسلہ ’’ میری محسن کتابیں‘‘ کے نام سے شروع کیا، جس میں ہندوستان کے مشاہیر اہل علم و اہل فکر کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ افادۂ عام اور ’’تازہ واردانِ بساط علم‘‘ کی رہنمائی کے لیے ان کتابوں کا ذکر کریں جنھوں نے ان کے ذہن کی تشکیل اور سیرت کی تعمیر میں خاص حصہ لیا ہے، اور ان کے دماغ پر گہرے اور دیر پا نقوش چھوڑے ہیں۔ میں نے مولانا کو بھی دعوت دی، اس سلسلہ میں ان کا جو جواب آیا وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے کہ یہ ان کے مطالعہ کا نچوڑ اور خود ان کی سوانح و سیرت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا نے مجھے 31 ا گست 1940 کو ایک مفصل خط لکھا جس میں مجھ سے اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’پردہ‘‘ کے عربی ترجمہ کا انتظام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے لکھا کہ:

’’ میری دلی خواہش ہے کہ عربی میں بھی اس کا ترجمہ ہو جائے، تاکہ ممالک عربیہ خصوصاً مصر میں اس کی اشاعت کی جاسکے۔ ندوہ کے سوا کسی اور مرکز کی طرف نظر نہیں جاتی، یہ کام اگر ہو سکتا ہے تو وہیں ہو سکتا ہے۔ براہ کرم آپ کسی ایسے صاحب کو اس کام پر مامور فرمائیں جو جیتی جاگتی زبان میں اسے منتقل کر سکیں۔‘‘

اس کے بعد میرے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’ کچھ مدت ہوئی آپ کا ایک عنایت نامہ آیا تھا، جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ وہ کتابیں جن کا ممنون ہوں یا ”میری محسن کتابیں“ کے عنوان پر کچھ لکھوں، میں اس کا جواب دینا بھول گیا، ابھی آپ کو خط لکھتے ہوئے اس کا خیال آیا۔

جاہلیت کے زمانہ میں میں نے بہت کچھ پڑھا ہے، قدیم وجدید فلسفہ، سائنس، تاریخ، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری دماغ میں اتار چکا ہوں، مگر جب آنکھیں کھول کر قرآن کو پڑھا تو بہ خدا یوں محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا سب ہیچ تھا، علم کی جڑ اب ہاتھ آئی۔ کانٹ، ہیگل، نٹشے، مارکس اور دنیا کے دوسرے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظر آتے ہیں، بیچاروں پر ترس آتا ہے کہ ساری ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں الجھتے رہے اور جن مسائل پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کر ڈالیں پھر بھی حل نہ کر سکے، ان کو اس کتاب نے ایک دو فقروں میں حل کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر یہ غریب اس کتاب سے ناواقف نہ ہوتے تو کیوں اپنی عمریں اس طرح ضائع کرتے ؟ میری اصل محسن بس یہی ایک کتاب ہے، اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے، حیوان سے انسان بنا دیا ہے، تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی، ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا ہے کہ زندگی کے جس معاملہ کی طرف نظر ڈالتا ہوں حقیقت اس طرح بر ملا مجھے دکھائی دیتی ہے، گویا اس پر کوئی پر دہ ہی نہیں ہے۔ انگریزی میں اس کو کنجی شاہ کلید (Master Key) کہتے ہیں، جس سے ہر قفل کھل جائے، سو میرے لیے یہ قرآن شاہ کلید ہے۔ مسائل حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں وہ کھل جاتا ہے۔ جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ‘‘

مولانا سے میری دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب مولا نا اس کمیٹی میں شرکت کے لیے لکھنؤ تشریف لائے جو اسلامی دستور کا خاکہ تیار کرنے کے لیے نواب سر احمد سعید آف چھتاری کی دعوت پر ندوۃ العلما میں منعقد ہورہی تھی۔ مولانا نے اپنی آمد سے پہلے مجھے اپنی تشریف آوری کی اطلاع دی اور اپنے قیام کا مجھے ذمہ دار بنایا۔ اس وقت ان کا 24 دسمبر 1940 کا ایک خط سامنے ہے جو ایک اہم تاریخی یادگار کے طور پر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

’’مبارک پارک، پونچھ روڈ، لاہور 24 دسمبر 1940

مکری و محترمی۔ السلام علیکم

عنایت نامہ ابھی ملا اور آج ہی اتفاق کی بات ہے، نواب صاحب چھتاری کا خط آیا جس میں انھوں نے ایک کمیٹی کی شرکت کے لیے مجھے لکھنؤ آنے کی دعوت دی ہے . .. ان نوابوں اور ان کی کمیٹیوں سے تو مجھے کوئی دل چسپی نہیں، اور اگر محض ان کی کمیٹی کی شرکت کا معاملہ ہوتا تو میں ٹال دیتا، مگر اس بہانے ندوہ سے اور آپ کے رفقاے کار سے براہ راست تعلق قائم کرنے کا ایک موقع ہاتھ آتا ہے، اس لیے میں نے لکھنؤ حاضر ہونے کا تہیہ کر لیا ہے. . . میں انشاء اللہ 3 جنوری کو لکھنؤ پہنچوں گا، میرے قیام کے لیے کوئی مناسب انتظام کرنا آپ کا ذمہ ہے، میں کسی ایسی جگہ ٹھہرنا چاہتا ہوں جہاں ہر قسم کے لوگ مجھ سے مل سکیں اور آزادی کے ساتھ گفتگو کرسکیں۔ علی گڑھ میں میں نے اولڈ بوائز لاج کو پسند کیا تھا، اس کا یہ فائدہ ہوا کہ ہر خیال اور ہر گروہ کے آدمی مجھ سے بے تکلف ملے۔ ایسی ہی کوئی جگہ میں لکھنؤ میں چاہتا ہوں۔ میں چونکہ بے ہمہ ہوں اس لیے خدا نے مجھے باہمہ بھی بنا دیا ہے، سخت قسم کے دہریہ اور کمیونسٹ بھی مجھ سے اسی طرح ملتے ہیں، جس طرح مومنین صادقین، اور ان لوگوں سے بات چیت کرنے میں ایسی جگہ آسانی ہوتی ہے، جہاں وہ شخصیتیں نہ ہوں جن سے یہ لوگ تکلف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

رسالہ5 کے متعلق انشاء اللہ و ہیں بالمشافہ گفتگو ہوگی۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ‘‘

مولانا جنوری 1941کے پہلے ہفتے میں لکھنؤ تشریف لائے، یہ زمانہ مسلمانوں میں ایک طرف کا نگریس کی تحریک (جس کی قیادت جواہر لال نہرو کر رہے تھے ) کے زور، دوسری طرف پاکستان کا نعرہ بلند ہو جانے کی وجہ سے بڑی بے چینی اور جوش و سرگرمی کا تھا۔ مولانا کے پُر زور، فکر انگیز مضامین اور ’’ترجمان القرآن‘‘ کے مقالات نے اسلامی حلقوں میں ایک جنبش اور حرکت پیدا کر دی تھی۔ نو جوان اسلام کی اس ترجمانی کے دل دادہ تھے، جو بلند سطح سے اور پُر از اعتماد لہجہ میں کی جائے اور مسلمانوں میں امنگ، حوصلہ اور اپنے ماضی اور تہذیب پر اعتماد پیدا کرے۔ مولانا کا قیام دارالعلوم کے مہمان خانہ میں ہوا، جہاں استاد محترم مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا آزاد سبحانی مقیم تھے۔ یونیورسٹی کے مسلمان طلبا اور شہر کے صاحب فکر مسلم نوجوان جوق در جوق آتے اور مولانا سے بڑے ذوق وعقیدت سے ملتے۔ ایسے موقع پر مولانا ان کو لے کر مسجد میں جابیٹھتے، جو مہمان خانہ سے متصل ہے۔ ندوہ کی طرف سے میں ان حضرات کی میز بانی اور رفاقت پر مامور تھا اور مولانا لکھنؤ‎ کے احباب میں مجھ سے زیادہ مانوس اور واقف تھے، اس لیے مجھے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا اور زیادہ سے زیادہ رہنے کا موقع ملا۔ میں مولانا کی سنجیدگی … نستعلیقی، اسی کے ساتھ طبیعت کی شگفتگی، اخلاق اور اپنے مقصد کی لگن سے بہت متاثر ہوا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ مولا نا بڑا لطیف مزاج فرماتے تھے اور طبیعت میں ظرافت تھی …جو زباں دانی اور دہلوی مذاق سلیم کے ساتھ مل کر بڑی لطافت پیدا کر دیتی، خشکی ان میں نام کو نہ تھی، اور وہ جلد بے تکلف ہو جاتے۔مولانا چند دن قیام کر کے واپس گئے، لیکن خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔

[باقی[

  1. ۔ ملاحظہ ہو مصنف کی کتاب ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘، مطبوعہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ۔
  2. ۔ اس سلسلہ میں حضرت سید احمد شہید کی تحریک و جماعت کا ذکر بے محل نہ ہوگا، جن کی دعوت آخری درجہ کے مالی و جانی ایثار اور راہ خدا میں جاں نثاری و سرفروشی پر مبنی تھی، اس کے باوجود ایک شخص نے بھی آخر دم ( معرکہ بالا کوٹ) تک ان کا ساتھ نہ چھوڑا، اور جو اس شہادت زار سے زندہ واپس آئے وہ آخری سانس تک ان کا دم بھرتے رہے، اور اسی راہ پر گام زن رہے ’مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا‘۔
  3. ۔ میری عمر اس وقت بیس سے کچھ ہی اوپر تھی۔
  4. ۔ انھی اشارات کی مدد سے میں نے اپنی کتاب ”معرکۂ ایمان و مادیت‘‘ تصنیف کی۔
  5. ۔ عربی رسالہ کا اجرا جوفکر اسلامی ودعوت کا آرگن بن سکے، آگے اس کی تفصیل آئے گی۔