(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(5)
]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
آزادیِ فکر
مدرسۃ الاصلاح کی ایک نمایاں خصوصیت جس کا مولانا امین احسن اصلاحی پر بطور خاص اثر تھا، وہاں پر فروغ پانے والی آزادیِ فکر کا کلچر ہے۔ جیسا کہ نصاب کے حوالے سے ذکر کیا جاچکا ہے کہ قرآن مجید پورےکا پورا نصاب کا حصہ تھا اور اس کو براہ راست سمجھنے کی اہلیت پیدا کی جاتی تھی اور کوئی بھی تفسیر حتیٰ کہ خود امام فراہی کی تفسیر بھی اس کا حصہ نہیں تھی۔ واضح رہے کہ یہ اس لیے تھا کہ طلبہ کسی بھی قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر دین کے محقق عالم بن سکیں۔ اس حوالے سے خود مولانا اصلاحی ماہنامہ ’’اصلاح‘‘ کے اگست 1936 کے شمارے کے ادارتی شذرے میں لکھتے ہیں :
’’ ہمارا یہی معاملہ مولانا حمیدالدین رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف کے ساتھ ہے۔ ان کا علم ’و تَبَحُّر مُسَلَّم‘، ان کا درجۂ اجتہاد اور رتبۂ امامت مسلم،ان کا زہد وتقویٰ بھی مسلم، لیکن ان کے معصوم ہونے کے ہم قائل نہیں ہیں۔ ان کی تصنیفات میں وہ تمام کم زوریاں ہو سکتی ہیں جو مصنفوں کی کتابوں میں ہو سکتی ہیں، اس لیے کہ وہ مصنف محقق تھے، معصوم نہیں تھے۔ہم لوگوں کی نظر میں ان کی بہت عزت ہے۔ اس لیے کہ وہ علم وعمل کی ’جامعِیَّت‘ کے اس دور میں بہترین نمونہ تھے۔ انھوں نے اپنی ایک ذات کے اندر علوم و فنون کی اتنی شاخیں جمع کر لی تھیں جن کی کوئی دوسری مثال ان کے ہم عصروں میں نہیں تھی۔ پھر علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انھیں توفیق ِعمل سے نوازا تھا۔اور یہ چیز ان کے ہر قول و عمل میں اس قدر نمایاں تھی کہ ہر صاحب نظر صرف ایک دفعہ دیکھ کر اندازہ کر سکتا تھا۔یہ سب کچھ تھا، لیکن ہم نے ’ارباباً مِن دونِ اللّٰہ‘ کی حیثیت دے کر ان کے ہر قول و فعل کو اپنے لیے ’’ اُسوہ ‘‘ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ جب وہ زندہ تھے تو ان کی مجلسوں میں ان کی تحقیقات پر آزادانہ نکتہ چینی کرتے تھے۔ ( اگر گنجایش دیکھتے تھے )اور ان کی وفات کے بعد ان کی تحقیقات پر اسی طرح بحث و نظر کرتے ہیں جس طرح تمام محققین کی تحقیقات پر۔ انھوں نے کبھی ’’لَب بند و گوش بند ‘‘ کی تلقین نہیں کی۔ ان کی تعلیم یہ تھی کہ غورو فکر کرو اور اپنے دروس میں اسی کا طریقہ بتاتے تھے۔ وہ جب اس چیز میں ہمارے اندر کوئی کم زوری محسوس کرتے تو ان کو بہت مایوسی ہوتی۔ مگر انھوں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ سب میرے مقلد بن جائیں۔ اور اگر وہ یہ چاہتے تو یقیناً مدرسۃ الاصلاح میں ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوتی۔ پس اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ہم مولانا حمید الدین رحمۃ اللہ کی ہر راے کو اور ہر بات کو صواب اور ہر تصنیف کو الہامی سمجھتے ہیں تو ہم اس کی نسبت یہی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے حال سے بے خبر ہے۔‘‘ (3-4)
مولانا نے اپنی زبانی روایت میں متعدد بار یہ قصہ سنایا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ایک طالب علم کسی علمی موضوع پر کسی دوسرے صاحب علم کی راے پوچھنے اور سمجھنے آیا۔ مولانا فراہی نے تفصیل سے اُس صاحب علم کی راے بیان کر دی۔ مولانا فراہی نے یہ راے اس قدر مدلل طریقے سے بیان کی کہ وہ طالب علم یہ سمجھا کہ مولانا کی بھی یہی راے ہے۔ اور اس نے یہ راے دوسری جگہ ان کے نقطۂ نظر کے طور پر بیان کر دی۔ جب مولانا کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ میں نے تو ان کی راے کے وہ دلائل بتائے تھے جو ان کی راے کے حق میں ہو سکتے تھے۔ اس پر طلبہ نے پوچھا کہ پھر آپ کی راے اس معاملے میں کیا ہے ؟
مولانا نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ کو اس راے پر کیا اعتراض ہے؟ جب تک آپ اس راے کی کم زوری اور نقص تک خود نہیں پہنچ جاتے میں دوسری راے بیان نہیں کروں گا۔
مولانا اصلاحی فرماتے ہیں کہ اس سے طلبہ کی یہ تربیت ہوئی کہ وہ استاذ کی تقلید میں نہیں اپنے غورو خوض سے درست راے پر پہنچیں۔ مولانا بتاتے ہیں کہ یہ ان کے استاد کی مستقل عادت تھی کہ وہ سائل کو اسی وقت اپنی راے سے آگاہ کرتے جب تک وہ یہ نہ بتا دیتا کہ اس معاملے تمام آرا کے اندر یہ اور یہ نقائص پائے جاتے ہیں اور اب وہ کسی نئی راے جاننے کا حقیقی ضرورت مند ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کی ادبی فضا
مدرسۃالاصلاح کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ تدریسی علوم و فنون کے ساتھ ساتھ طلبہ ادب و شاعری کو اختیار کرنا بڑاباعث فخر سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ بڑی واضح تھی۔ کلاسیکی شاعری ان کے نصاب میں شامل تھی اور مدرسے کے بانیان خود اعلیٰ پائے کے ادیب اور شاعر تھے، اس لیے ان کی اقتدا میں ادب کی ہر صنف کی طرف ان کا راغب ہونا ایک فطری امر تھا۔ ظاہر ہے کہ اس میں وہی طلبہ آگے بڑھتے جن کے اندر اس کی فطری صلاحیت اور رجحان ہوتا۔ امین احسن بتاتے ہیں کہ مدرسے میں شاعری کی فضا تھی اس لیے انھوں نے بھی شعر کہنا شروع کیا۔
اس میدان میں بھی ان کے آئیڈیل امام فراہی اور شبلی نعمانی تھے۔ امام فراہی فارسی اور عربی میں شعر کہتے تھے، لیکن انھوں نے اسے اپنا میدان بنایا اور نہ اپنے کلام کو مدون کرنے کی کوئی کوشش کی۔ البتہ ان کی زندگی کے بعدان کا عربی اور فارسی کلام مدون صورت میں بھی سامنے آیا۔ اس کے مقابلے میں علامہ شبلی کا معاملہ دوسرا تھا۔ ان کے اشعار تو زبان زد عام تھے۔ امین احسن بتاتے ہیں کہ انھوں نے اردو میں شاعری شروع کی، لیکن جلد ہی انھیں یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ ان کا مید ان نہیں۔
اپنی زبانی روایت میں انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ لوگ میری شاعری کیوں پڑھیں؟ کیا یہ غالب و شبلی سے بہتر ہے؟ اگر یہ اس سے بہتر نہیں ہے تو لوگوں کا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ چنانچہ انھوں نے شاعری کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس فیصلے پر پہنچنے سے پہلے وہ ایک معرکہ سر انجام دے چکے تھے۔
استاد کی ہجو اور جرمانے کی سزا
امین احسن اپنے تاثرات بیان کرنے میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے۔ ہوا یہ کہ انھیں اپنے ایک استاد سے ایک ایسی شکایت پیدا ہوئی جس میں دوسرے طالب علم بھی ان کے موقف کے قائل تھے۔ بس پھر کیا تھا، انھوں سب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان پر ایک نظم کہہ ڈالی۔ یہ نظم اصل میں ہجو تھی۔ نظم بہت اچھی تھی اور سب کو پسند آئی۔ سارے مدرسے میں اس کا چرچا تھا۔ یہاں تک کہ صدر مدرسہ امام فراہی تک جا پہنچی۔انھوں نے امین احسن کو طلب کیا اور استاد پر اس طرح کے منظوم تبصرے کو احترام استاد کے خلاف قرار دیا۔ امین احسن کو جرمانہ بھی کیا گیا اور نصیحت بھی کہ اس طرح کی حرکت کسی طور مناسب نہیں۔ البتہ اس نظم پر یہ تبصرہ بھی کیا کہ یہ نظم بہت اعلیٰ تھی۔
یہ نظم کس استاد پر تھی، اس کا ذکر مولانا امین احسن نے کبھی نہیں کیا۔ اور اس نظم کے ایک بھی شعر کاکبھی ذکر نہیں کیا۔ مولانا کے اس طرز عمل کی وجہ سے ہم نے اس کا کھوج لگانے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس واقعے سے ہمیں مدرسۃ الاصلاح کی ایک اور خوبی کابھی علم ہو تا ہے۔ وہ یہ کہ اخلاقی کم زوری کے معاملے میں مدرسے میں کسی قسم کی رعایت روا نہیں رکھی جاتی تھی۔ اس حوالے سے ایک مزید واقعے کی مثال دی جاتی ہے۔
’’ذکر فراہی‘‘ میں ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی امین احسن ہی کے دور طالب علمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک طالب علم حکیم عبدالقیوم ندوی کے ساتھ کچھ طالب علموں نے ایک شرارت کی۔ انھوں نے ایک بلی مار کر اسے ایک دوسرے طالب علم قاسم علی کی چارپائی پر پھینک دیا۔ قاسم علی اٹھا تو سخت گھبرایا۔ اسے یہ باور کرایا گیا کہ یہ حرکت عبدالقیوم کی ہے۔ قاسم علی ایک کھاتے پیتے باپ کا نک چڑھا بیٹا تھا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، الزام ہی کو سچ مان لیا اور عبدالقیوم کو خوب مارا۔ وہ بے چارا واویلا کرتا رہا کہ وہ سراسر بے قصور ہے، لیکن قاسم علی طاقت میں بھی بڑھ کر تھا اور اسے باپ کا گھمنڈ بھی تھا۔
یہ وہ دن تھے جب امام فراہی مدرسے کے پرنسپل تو تھے، لیکن ابھی وہ مدرسے میں قیام پذیر نہیں ہوئے تھے۔ وہ تین دنوں کے لیے مدرسے آتے تھے اور آج خوش قسمتی سے انھوں نے اعظم گڑھ آنا تھا۔ عبدالقیوم ریلوے اسٹیشن ہی جا کر کھڑا ہو گیا اور امام فراہی کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے ہی وہ اسٹیشن پہنچے اس نے رو رو کر اپنے اوپر ہونے والی ظلم کی داستان سنا ڈالی۔
امام فراہی نے انھیں انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ معاملے کی تحقیق پر واضح ہو گیا کہ یہ حرکت عبدالقیوم کی نہیں اور قاسم علی نے اپنی رعونت کی وجہ سے مار پیٹ کی ہے۔ امام فراہی نے فوراً نگران کو طلب کیا۔ اور اسے پوچھا کہ یہ مقدمہ میرے پاس کیوں آیا ہے؟ اس کی تحقیق آپ کی ذمہ داری تھی۔ اور آپ نے قاسم سے پوچھ گچھ کرنے کے بجاے اس پر خاموشی کیوں اختیار کی؟
قاسم علی پر واضح کیا گیا کہ آپ کا اپنے والد کا طعنہ دینا سخت معیوب ہے۔ یہ مدرسہ کسی دولت مند کے تعاون سے نہیں مسلمانوں کے تعاون اور اللہ کی توفیق سے چلتا ہے۔ آپ کو ہوسٹل سے فوراً خارج کیا جاتا ہے۔ آپ صرف غیر اقامتی طالب علم کے طور پر یہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ جب کہ نگران استاد کو یہ سزا دی گئی کہ اس کے مہینے بھر کی تنخواہ سے عبدالقیوم کو دودھ پلایا جائے گا۔ ( 414)
سب سے پسندیدہ استاد
دوران تعلیم جس استاذ سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ مولوی عبدالرحمان نگرامی تھے۔ انھیں علامہ شبلی نعمانی، امام فراہی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی و فکری صحبت حاصل رہی۔ بتایا جا چکا ہے کہ انھیں بطور خاص امام فراہی نے مدرسۃ الاصلاح کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مدرسۃ الاصلاح میں جس استاد نے مستقبل کے امین احسن کو پہچانا،وہ مولانا نگرامی ہی تھے۔ انھوں ہی نے اپنے ہونہار اور ذہین شاگرد کی وہ علمی کم زوریاں دور کیں جو ان کے اولین اساتذہ کے طریقۂ تدریس کے ساتھ عدم مناسبت کی وجہ سے رہ گئی تھیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا نگرامی ہی نے امین احسن کو اس قابل بنایا کہ وہ امام فراہی کے کڑے معیار پر پورا اتر کر ان کی علمی میراث کے امین بن سکیں۔ خود امین احسن اپنے اس استاد سے بہت متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ امین احسن کے گہرے تعلقات قائم ہوئے۔ چنانچہ ہم اساتذہ کے تعارف میں ان کا بطور خاص تذ کرہ کریں گے۔
سب سے اچھے دوست اور ہم جماعت
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ امین احسن اپنے ہم جماعتوں میں سب سے چھوٹی عمر کے تھی۔ ان سے کچھ بڑی عمر مولوی اختر احسن کی تھی۔ وہی امین احسن کے سب سے اچھے دوست تھے۔ دوران تعلیم ان کے ساتھ ایک مقابلے کی فضا رہی۔ لیکن سب سے گہری اور با اعتماد دوستی بھی انھی کے ساتھ تھی۔ امین احسن انھیں دوران تعلیم اپنا برتر ہم جماعت سمجھتے اور ان سے طالب علمانہ استفادہ بھی کرتے۔ یہ دوستی اس وقت بہت مضبوط اور برادرانہ تعلق میں ڈھل گئی جب امین احسن بطور استاد مدرسہ سے وابستہ ہوئے۔ ( اس کا تفصیلی حال آگے آرہا ہے۔ )
کھیل کے میدان میں
مدرسے میں مولانا کے مطابق تین کھیل باقاعدگی سے کھیلے جاتے تھے۔ کرکٹ، والی بال اور فٹ بال۔ امین احسن ان سب میں حصہ لیتے، لیکن وہ کبھی بھی اچھے کھلاڑی نہیں رہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ ان کے ہم جماعت کبھی بھی خوش دلی سے انھیں اپنی ٹیم کا حصہ نہیں بناتے تھے۔ اس لیے کہ ان کی کارکردگی سے کبھی کوئی ٹیم مقابلہ نہ جیت سکی تھی۔ ان کی کھیل میں مہارت متوسط سے بھی کم تر ہوتی۔ انھیں ان کی متاثر کن تعلیمی قابلیت کے ’’رعب ‘‘ کی وجہ سے ساتھ رکھا جاتا۔ بقول مولانا ان کے ہم جولی ’’ ترس کھا کر ‘‘ انھیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ مولانا کے مطابق باقی کھیلوں کی نسبت انھیں کرکٹ سے کچھ دل چسپی ضرور تھی، لیکن یہ بھی بہت واجبی تھی۔
مدرسۃ الاصلاح میں تعلیم کی تکمیل
امین احسن نے مدرسے میں پورے آٹھ برس تعلیم حاصل کی۔ یہی مدرسے کی پوری مدت تدریس تھی۔ اس دوران میں انھوں نے عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ قرآن مجید، حدیث اور فقہ میں مہارت حاصل کی۔ کلامی علوم کی تعلیم سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ انگریزی زبان میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ وہ علمی کتب کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے تھے۔ نہ صرف سمجھ سکتے تھے، بلکہ اسے پڑھا بھی سکتے تھے۔
فقہ اور تفسیر میں انھیں کسی خاص مکتبۂ فکر کی تعلیم نہیں دی گئی۔ مدرسے کی اصولی تعلیم کے مطابق ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی گئی کہ وہ خود ترجیح قائم کریں اور اپنے دلائل کی بنیاد پر کسی بھی راے کے ردو قبول کا فیصلہ کر سکیں۔ دوران تعلیم امین احسن کا شمار مدرسے کے لائق ترین، متحرک اور چوٹی کے طلبہ میں ہوتا تھا۔اس کی شہادت متعدد واقعات سے ملتی ہے۔ یہاں مزید دل چسپ واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔
عربی زبان کے مضمون میں ’’سبع معلقات‘‘ کا امتحان ہوا۔ سید سلیمان ندوی ممتحن تھے۔امین احسن نے پرچہ حل کیا۔ وہ ان کے جوابات سے بہت متاثر ہوئے۔ اس پرچے پر لکھا:
’’یہ ایک طالب علم کا پرچہ ہے۔ مجھے’’ندوہ ‘‘ کے لیے اس طرح کے استاد بھی کہاں سے ملیں گے۔‘‘
یاد رہے علامہ شبلی نعمانی کے جید شاگرد سید سلیمان ندوی جامعہ ندوۃ العلما کے مشہور اساتذہ میں سے ایک تھے۔
مدرسے میں ان کی علمی قابلیت کے بارے میں جاوید احمد غامدی بیان کرتے ہیں :
’’انگریزی زبان میں اُن کی استعداد اتنی اچھی تھی کہ علوم عالیہ کی کتابیں اِس زبان میں نہ صرف یہ کہ بغیر کسی دقت کے پڑھتے، بلکہ اُن کے اَدَق مطالب دوسروں کو سمجھا دے سکتے تھے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم عربی بولنے پر قدرت نہیں رکھتے، لیکن وہ جب امام فراہی سے استفادے کے لیے اُن کے پاس مقیم تھے تو بے تکلف عربی بولتے تھے۔ مشہور عالم موسیٰ جار اللہ ہندوستان آئے تو امام فراہی سے ملنے مدرستہ الاصلاح بھی گئے۔ امین احسن ہی اُن کے میزبان تھے۔ عربی زبان میں گفتگو اور تقریر پر اُن کی قدرت دیکھ کر ایک دن اُنھوں نے پوچھا: عرب میں کتنے سال گزار کر آئے ہو؟ امین احسن نے جواب دیا: ’ما مست قدمی ھاتین قط بلاد العرب‘(میرے اِن دونوں پاؤں کو کبھی سرزمین عرب نے نہیں چھوا)۔ موسیٰ جار اللہ بڑی دیر تک اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔‘‘ (اشراق : دسمبر، جنوری 1998)
امین احسن خود بتاتے ہیں کہ انھوں نے 1922 میں مدرسۃ الاصلاح میں اپنی تدریس مکمل کی۔(مقالات اصلاحی 2/396)
رشتۂ ازدواج
امین احسن ابھی مدرسۃ الاصلاح میں آخری برس کےطالب علم تھے کہ وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ امین احسن کی پہلی شادی اپنے ہی راجپوت خاندان میں رابعہ خاتون سے ہوئی۔ ان سے پانچ اولادیں ہوئیں۔ دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔ قمر النساء اور شمس النساء ان کی بیٹیوں کے نام ہیں۔ بڑی بیٹی شمس النساء تقسیم سے پہلے ہی انتقال کر گئیں۔ ابو صالح، ابو سعید اور ابو سعد ان کے بیٹوں کے نام ہیں۔ تادم تحریر صرف ابوسعید حیات ہیں۔ ابو سعد نے تقسیم کے بعد ہندستان ہی میں اعظم گڑھ رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی وفات وہیں ہوئی۔ مولانا کے بیٹوں میں ابوصالح کا شمار پاکستان کے نامور صحافیوں میں ہوتا تھا۔ وہ 1965 ء کے مشہور فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ (ان کا تفصیلی تذکرہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ ان شاءاللہ) مولانا کی دوسری شادی ان کی پہلی بیگم کی وفات کے بعد 1945 ء میں ہوئی۔ اس کا ذکر بھی اپنے مقام پر آئے گا۔
عملی زندگی کا آغاز
جس برس امین احسن مدرسۃ الاصلاح کی تدریس سے فارغ ہوئے، اسی برس اخبار میں ایک اشتہار آیا۔ یہ بجنور کے معروف سِہْ روزہ اخبار ’ مدینہ ‘ میں نائب مدیر کی اسامی کا اشتہار تھا۔ مولانا امین احسن کے معتمد ترین شاگرد جناب خالد مسعود روایت کرتے ہیں کہ امین احسن کے کسی بے تکلف دوست نے شرارتاً اس کے لیے ان کی طرف سے درخواست بھیج دی۔ اس کا جب مثبت جواب آیا تو امین احسن حیران رہ گئے۔ اس وقت ان کی عمر محض اٹھارہ انیس برس تھی۔ قرین قیاس یہی ہے کہ اس وقت ان کی شادی ہو چکی تھی۔ امین احسن نے اپنے سب سے پسندیدہ اور مربی استاد عبدالرحمان نگرامی سے مشورہ کیا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے؟
امین احسن نے استاد کے مشورے کے مطابق اس اخبار میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس اخبار کی کچھ تفصیل ہم یہاں بیان کرتے ہیں :
سہ روزہ مدینہ 1912 ء میں مولوی مجید حسن نے بجنور سے نکالا تھا۔یہ 26×20 کی تقطیع پر دس صفحات پر مشتمل اخبار تھا۔اس کے بارے میں ایک کتاب’’ دروس التاریخ ‘‘کے پہلے حصے کے آخری صفحے پر اس کا ایک اشتہار ملتا ہے، جس میں لکھا ہے:
’’1912 ء سے شہنشاہِ کونین کی یاد تازہ رکھنے کے لیے قابل اور اہلِ قلم ایڈیٹروں کی زیرِ ادارت جاری ہے۔بفضلہٖ ہفتے میں دو بار اپنے کثیر التعداد معاونین کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ خدمتِ قوم و ملک، پاسداریِ مذہب و ملت اس کا شعار، آزادیِ وطن وقومی مطالبات کا علم بردار، سیاستِ حاضرہ کا مفسر،حق و صداقت کا شہر،عربی و انگریزی اخبارات کا خلاصہ، مصری، شامی و ترکی جرائد کی روح،دنیا کے ہر گوشے میں پہنچنے والا، ملاحظہ و مطالعہ خود ہمارے بیان کی تصدیق کرے گا۔طلب فرما کر ملاحظہ کیجیے۔قیمت سالانہ چھے روپے،ششماہی چار روپے،سہ ماہی دو روپے۔ممالکِ غیر سے آٹھ روپے۔
محمد مجید حسن، مالک اخبار مدینہ بجنور (یو پی)‘‘
ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی اپنے مقالے ’’مولانا امین احسن اصلاحی کی صحافتی خدمات ‘‘میں لکھتے ہیں :
’’ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کے مطابق یہ ایک ثقہ قسم کا نیشنلسٹ سہ روزہ تھا اور اس کے خیالات سے بہت سے لوگوں کو اختلاف رہا ہے لیکن اس کی ثقاہت،سنجیدگی اور بلند معیاری سے کسی نے انکار نہیں کیا۔( صحافت پاکستان اور ہند میں۔ لاہور،مکتبۂ کارواں 1982ء صفحہ 187)
رئیس الدین فریدی نے مدینہ بجنور سے وابستہ مدیروں کے نام گنوائے ہیں جن میں حامد الانصاری غازی،نصر اللہ خاں عزیز،ابو سعید بزمی بھوپالی،قاضی عدیل احمد عباسی، بدر الحسن حلالی،محمد احسن اور قدوس صہبائی شامل ہیں۔امین احسن کا نام یہاں یا کسی اور صحافتی تاریخ میں نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نائب مدیر تھے اور نو آموز۔ مزید یہ کہ انھوں نے زیادہ تر تراجم کرنے،مضامین لکھنے اور پروفنگ کا کام کیا تھا۔اس حوالے سے وہ خود کہتے ہیں:
’’’مدینہ‘ سے میرا تعلق غالباً 1922ء میں قائم ہوا۔یہ اس زمانے میں یو پی کے سہ روزہ اخباروں میں سے ایک اچھا اخبار سمجھا جاتا تھا۔ یہ زمانہ تحریکِ خلافت اور کانگریس، دونوں کی سرگرمیوں کا تھا اور دونوں کچھ ملی جلی چل رہی تھیں اور مدینہ اخبار دونوں کا ہم نوا تھا۔اس وجہ سے مجھے بھی مضامین ان دونوں کے تقاضوں کے مطابق لکھنے پڑتے تھے۔‘‘
اس ادارے سے ’’غنچہ ‘‘ کے نام سے بچوں کے لیے ایک ہفت روزہ بھی شائع ہوتا۔ امین احسن کو اس کی ذمہ داریاں بھی دے دی گئیں۔ ہفت روزہ غنچہ ہی کے لیے انھوں نے عربی ناول کا اردومیں ترجمہ کیا۔ اس ناول کا نام ’’ الجاسوس الہندی ‘‘ تھا۔ اس کے مصنف مصطفیٰ الصغیر تھے۔ یہ جنگ عظیم اول کے پس منظر میں لکھا گیا ناول تھا۔ اس میں ایسے جاسوس کے کارنامے بیان کیے گئے تھے جو خلافت عثمانیہ کے حق میں انگریزوں کے خلاف ایک اہم مہم سر کرتا ہے۔ اس کی ایک ریکارڈ کی کاپی ہم نے اپنے خسر جناب خالد مسعود مرحوم کے ہاں دیکھی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ اس کی تحریر ترجمہ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ امین احسن نے اس کانام ’’ہندستانی جاسوس ‘‘ رکھا تھا۔ ہفت روزہ غنچہ میں یہ تحریر بالاقساط شائع ہوتی رہی۔ قارئین کی پسندیدگی کی وجہ سے اسے مدینہ بجنور کے مکتبہ نے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ یہ مولانا کی سب سے پہلی تصنیف بھی کہلاتی ہے۔
اسی مکتبہ سے امین احسن نے عربی زبان میں لکھی گئی تاریخ کی ایک جید کتاب کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ مشہور مورخ محی الدین الخیاط کی تصنیف تھی۔ اس پہلی ملازمت کے دوران میں امین احسن کی تحریروں نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ ان میں مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے۔ انھوں نے مدینہ اخبار کی تحریروں کو دیکھ کر یہ تبصرہ کیا :
’’ اخبار مدینہ کو ایک نابالغ مدیر میسر آگیا ہے۔ ‘‘
اس تبصرے کو مثبت معنی میں لیں یا اسے طنزیہ کہیں، لیکن ایک بات اس سے واضح ہوتی ہے کہ نوجوان امین احسن نے اپنے دور کے سب سے نامور ادیب کو ضرور اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
امین احسن کم از کم ڈھائی برس تک مدینہ اخبار سے وابستہ رہے۔ اس دوران میں انھوں نے دن رات کام کیا۔ کام کی زیادتی نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔چنانچہ انھوں نے اخبار سے استعفا دے دیا۔
’’الناظر‘‘ سے وابستگی
ان کی صحافتی زندگی کا اگلا پڑاؤ مشہور اخبار’’ الناظر‘‘ تھا۔ امین احسن اس کی مجلس تحریر میں شامل ہو گئے۔ اس اخبار میں اس وقت کے دو نام ور ادیب پہلے سے موجود تھے۔ ایک مولانا عبد الماجد دریابادی اور دوسرے مولانا ظفرالملک علوی۔ان دونوں بزرگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ان کی تحریروں میں مزید پختگی پیدا ہوئی۔ تقریباً ایک برس کے بعد وہ ’’الناظر‘‘ سے علیحدہ ہو گئے۔ ( بحوالہ ماہنامہ چراغ راہ، جولائی 1950، صفحہ 17،تحریر ابن انوار)
اس علیحدگی کا باعث غالباً ایک نئے ہفت روزہ سے تعلق تھا۔
ہفت روزہ ’’سچ‘‘ سے وابستگی
کوچۂ صحافت میں امین احسن کی تیسری ملازمت ہفت روزہ ’’سچ‘‘ کی مجلس ادارت میں شمولیت ہے۔ یہ ہفت روزہ مولانا عبدالماجد دریابادی نے 1925ء میں شروع کیا۔ اس میں مولانا عبدالرحمان نگرامی بھی شامل تھے۔ گمان غالب ہے کہ انھی کے مشورے پر امین احسن ہفت روزہ ’’ سچ‘‘ میں آئے ہوں گے۔ ہفت روزہ ’’ سچ ‘‘ کے بارے میں ڈاکٹر عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں :
’’آخر میں ایک چھوٹے سے، لیکن نہایت اہم ہفت روزہ کا ذکر ضروری ہے۔ اس کا نام پہلے ’سچ‘ تھا پھر ’صدق ‘ ہوا اور کچھ عرصے بعد دوبارہ جاری ہوا تو ’ صدق جدید ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ‘‘ (صحافت پاکستان اور ہند میں، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، صفحہ251)
امین احسن کو یہاں چند ماہ بعد ہی کام کا موقع ملا۔ اس کے بعد وہ واقعہ ہو گیا جس نے ان کی زندگی کو ایک نیا موڑ دے دیا۔ قبل اس کے کہ ہم مولانا کی زندگی کے اس اہم ترین واقعے کا ذکر کریں، ایک اور حقیقت کو جاننا ضروری ہے۔
وہ حقیقت یہ ہے کہ امین احسن مدرسۃ الاصلاح سے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بجنور میں ملازمت تو کر رہے تھے، لیکن ان کا دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔ یہ دل کہاں اٹکا ہوا تھا ؟ اس کا جواب ہمیں اس خط سے ملتا ہے جو ا نھوں نے 13جنوری 1924 میں اپنے استاد امام حمید الدین فراہی کو لکھا۔ یہ خط ملاحظہ فرمائیں :
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
گرامی نامہ آج صبح موصول ہوا۔ اس کا جواب بذریعہ ارجنٹ تار بھیج چکا ہوں۔ غالباً موصول ہو چکا ہوگا۔
میں حسب ارشاد فوراً امتثال امر کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ لیکن صورت ایسی پیش آگئی کہ حضور کے جواب کا انتظار کرنا پڑا۔ میں ان دنوں ’’ مدینہ ‘‘ اور تراجم سے زیادہ قرآن مجید کے مشاغل میں مصروف ہوں۔ اور بغیر کسی قائم مقام کے میرا یہاں سے ٹلنا از بس دشوار ہے۔ اگر میں اپنے ملنے والوں میں سے اپنا کوئی قائم مقام دے سکوں تو مجھے باآسانی چھٹی مل سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ فی الحال میرے لیے یہ ناممکن ہے، احباب مدرسہ میں سے شاید کوئی بھی اس کے لیے تیار نہ ہو گا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ میں مستقل طور پر علیحدہ ہو جاؤں اور اپنے بجاے کسی اور کو اپنے فرائض سپرد کر دوں۔ میں ذاتی طور پر اس کے لیے مستعد اور بخوشی مستعد ہوں بشرطیکہ حضور اس کی اجازت دیں۔ میرے لیے ملازمت کی پاس داری باعث ندامت ہے۔ میں جناب والا کے حکم اور مدرسہ کی خدمت کے لیے اپنے تمام مصالح دنیوی کو خیر باد کہہ سکتا ہوں۔ مینیجر صاحب موجودہ حالات میں میری غیر حاضری اپنے مصالح کے لیے غیر مفید سمجھتے ہیں۔ اور رنگون و کلکتہ سے صرف ایک ماہ میں میری واپسی قطعی ناممکن تصور کرتے ہیں۔ پھر میرے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں اپنے آپ کو حضور کی مرضی کے سپرد کر دوں۔
میری مرضی یہی ہے کہ اس سفر میں مجھے جناب کی معیت و خدمت کا شرف حاصل ہو۔ میرے لیے یہ باعث صد خیر و برکت ہے۔ جواب کا منتظر ہوں، قطعی فیصلہ سے مطلع فرمائیے، خادم بہر صورت تیار ہے۔ والسلام
آپ کا خادم
امین
یہ خط امین احسن نے جس مراسلے کے جواب میں لکھا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ مدرسۃ الاصلاح میں مالی مشکلات درپیش تھیں۔ یہ جنگ عظیم اول کے بعد کا زمانہ تھا۔ اس کی وجہ سے ایک عالمگیر بحران تھا۔ اس موقع پر مدرسے کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ برما ( موجودہ نام میانمار )میں وسائل کے حصول کے لیے ایک وفد بھیجا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ اس میں امام فراہی کے ساتھ ان ہی کی صوابدید کے مطابق امین احسن کانام بھی شامل تھا۔ چنانچہ انھیں امام فراہی نے اس وفد میں شامل ہونے کے لیے خط لکھا۔ امین احسن کا انتخاب اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہ اپنے استا ذ کی نگاہ میں بہت اہم تھے اور ان سے انھیں مدرسے کی ترقی کے لیے کس قدر نیک توقعات تھیں۔ ایک دوسرے ملک کے سفر میں بطور ہمراہی ان کا انتخاب استاد اور شاگرد کے مزاج کی ہم آہنگی کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔
جیسا کہ جواب سے واضح ہے کہ امین احسن نے اسی دن اس خط کا جواب تار کے ذریعے سے دیا اور اس میں پر جوش طریقے سے اپنی آمادگی کا اظہار کیا تھا اور اطلاع دی ہوگی کہ وہ ابھی اخبار کی انتظامیہ کو مہینے بھر کی چھٹی کی درخواست دیں گے۔ اگر درخواست قبول نہ ہوئی تو انھوں نے نوکری ختم کرکے اعظم گڑھ آنے کی اجازت مانگی ہو گی۔ جب ان کے اس تار کا کوئی جواب نہ ملا تو انھوں نے یہ خط لکھا۔
اس خط سے انھوں نے یہ خبر دی کہ چھٹی کی منظوری بوجوہ نہیں ملی، اس لیے انھیں نوکری سے استعفے کی اجازت دی جائے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اخبار میں نوجوان امین احسن پر کس قدر انحصار کیا جاتا تھا۔ اور ان کے مقابل کا کوئی فرد بھی دستیاب نہیں تھا۔ امام فراہی کے حوالے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے امین احسن کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا اور انھیں نوکری کو خیر باد نہ کہنے کا پیغام پہنچایا ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر شرف الدین بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مقامی زمین دار حاجی حسن علی اور کسی دوسرے طالب علم کے ساتھ برما کی طرف روانہ ہوگئے۔
خط کے مندرجات سے یہ بھی عیاں ہے کہ امین احسن کا قرآن مجید سے پھرپور تعلق قائم تھا۔ یقیناً یہ ربط دوسری جگہ ملازمت کے دوران میں بھی قائم رہا ہوگا۔ اس خط میں امین احسن کا قرآن کے ساتھ تعلق کا بیان، ملازمت سے یک گونہ بیزاری اور مدرسے کی وابستگی کی شدید خواہش بھی ابلی پڑ رہی ہے۔ یہ وہ پس منظر ہے جو انھیں زندگی کے ایک اہم موڑ پر لے آیا۔
امام فراہی کی پیش کش
جب امین احسن ہفت روزہ ’’سچ‘‘ میں کام کر رہے تھے تو وہ کسی کام کے سلسلے میں اعظم گڑھ مدرسے میں گئے۔ وہیں ان سے امام فراہی نے پوچھا :
’’ امین اخبار نویسی ہی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھوگے؟‘‘
اس تاریخی سوال کا جواب انھوں کیا دیا، یہ ہم استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی ہی کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
’’1925ء میں امام فراہی نے اپنے گھر کے کسی گوشے میں کھڑے ہوئے اُن سے کہا تھا: امین احسن اخبار نویسی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھو گے؟ وہ بتاتے تھے کہ میں اُس زمانے میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور اچھے مشاہرے پر کام کر رہا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی توقف کے عرض کیا: میں آپ سے قرآن پڑھوں گا۔ امام فراہی نے اپنی اقامت گاہ ہی کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ یہاں ٹھیریں گے، اور میں ادارت سے استعفا دے کر ایک مرتبہ پھر طالب علمانہ زندگی گزارنے کے لیے اُس کمرے میں آ کر ٹھیر گیا۔ بعد میں مولانا سید سلیمان ندوی نے کسی کالج میں پروفیسری کے لیے اُن کا نام تجویز کیا اور کالج کے ذمہ داروں سے ہامی بھر لی کہ وہ اُنھیں راضی کر لیں گے۔ امین احسن کو بتایا گیا تو وہ چلچلاتی دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے دارالمصنفین پہنچے اور سید صاحب سے عرض کیا: آپ نے اِس فقیر کا نام تجویز کیا، آپ کا شکریہ، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں یہ پیش کش قبول نہ کر سکوں گا۔ امام فراہی کو میں اُن کی زندگی میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ بتاتے تھے کہ سید صاحب بالکل حیران رہ گئے۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک غریب طالب علم اتنی بڑی پیش کش اِس طرح ٹھکرا دے گا۔ بعد میں اُنھوں نے ندوہ میں تقریر کرتے ہوئے بڑے تاثر کے ساتھ اِس واقعے کا ذکر کیا اور طلبہ سے کہا کہ دیکھو، طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال میں یہ بات کہہ کر چلا آیا، لیکن مجھے اندیشہ رہا کہ استاذ امام اِن دنوں اگر ’’دارالمصنفین‘‘ آئے تو ہو سکتا ہے کہ سید صاحب اُن سے بات کریں اور وہ مجھے بھیج دینے کا وعدہ کر لیں۔ اُن کا چہرہ ایک عجیب احساس فخر سے تمتما اٹھتا تھا، جب وہ یہ بتاتے تھے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ استاذ امام وہاں گئے بھی اور سید صاحب نے اُن سے بات بھی کی، لیکن اُنھوں نے صاف کہہ دیا: آپ امین احسن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ میں یہ ساری محنت آخر کس کے لیے کر رہا ہوں؟‘‘
(اشراق،جنوری، فروری 1998)