مواد پر جائیں

شق القمر غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(7)

ـــــ3ـــــ

انفس و آفاق میں

نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی آیاتِ الہٰی

اللہ کی آیات کی تیسری صورت وہ خارقِ عادت اور خلافِ معمول نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ اپنے نبیوں کو عطا فرماتا ہے۔ حقیقت میں یہ اُسی طرح کے حیرت انگیز اور عقل کو عاجز کر دینے والے احوال ہیں، جو دستِ قدرت سے براہِ راست ظاہر ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اِن کے ظہور میں انبیا کا توسط اختیار کیا جاتاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ معاملات کی باگ گویا پیغمبر کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ چنانچہ عالم شہود میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے، اُسی کی وساطت اور اُسی کے توسل سے ہوتا ہے۔ اِس کی ایک دل نواز مثال اللہ تعالیٰ کا موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا درجِ ذیل حکم ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ. وَاتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ.

(الدخان44: 23-24 )

’’اچھا تو میرے بندوں کو رات ہی رات میں لے کر نکل جاؤ اور آگاہ رہو کہ تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور ہاں، دریا (سے گزرنے کے بعد اُس) کو پر سکون چھوڑ دینا۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ اب غرق ہونے والا لشکر ہیں۔‘‘

مطلب یہ ہےکہ بنی اسرائیل کو لے کر نکل جانے کے بعد اپنے عصا کے ذریعے سے دریا کو برابر پرسکون کرتے جانا۔ استاذِ گرامی اِس حکم کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’قرآن اور بائیبل، دونوں میں تصریح ہے کہ دریا کا پانی موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم کے گزرنے کے لیے تند ہواؤں کے ذریعے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ حکم اِسی بنا پر دیا گیا اور اِس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے گزرتے ہی وہ ہٹا ہوا پانی واپس آ کر فرعون اور اُس کی فوجوں پر چھا گیا، جو اُس وقت بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے دریا کے بیچ میں پہنچ چکی تھیں۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو حکم کا اسلوب ایسا ہے کہ گویا دریا اُس وقت پیغمبر کے اختیار میں دے دیا گیا تھا، جسے اگر پر سکون ہونا تھا تو اُسی کی اجازت سے ہونا تھا۔‘‘(البیان4 / 483-484)

انبیا کے ذریعے سے ظاہر ہونے والی یہی آیات ہیں، جنھیں اصطلاح میں معجزات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔1 اِن کی حیثیت بینات یعنی روشن و رخشاں دلائل کی ہوتی ہے، جو عارف و عامی اور حامی و مخالف، سب کے لیے یکساں معتبر ہوتے ہیں۔ایمان کی نعمت سے فیض یاب عاقل اور سلیم الطبع لوگ اِن کا تقاضا نہیں کرتے، تاہم یہ اُن کے لیے انعام و اکرام یا ازدیادِ ایمان کا باعث بنتے ہیں۔ منکرین اور معاندین اِن کے طلب گار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اُن کی تذکیر و تنبیہ یا تادیب و تعذیب کے لیے اِنھیں نازل فرماتے ہیں۔

استاذِ گرامی نے اِس امر کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’نبی کی شخصیت انسانیت کا مظہرِ اتم اور اُس کی دعوت انسان کی فطرت پر مبنی ہوتی ہے … وہ لوگوں سے جو کچھ کہتا ہے، عقل و بصیرت کے آخری معیار پر کہتا ہے اور اُنھی چیزوں کے بارے میں کہتا ہے، جن سے انسان غافل ہوتا یا اُنھیں بھلا بیٹھتا ہے۔ پھر اُس کی نبوت کے پیچھے اخذ و اکتساب کا کوئی پس منظر بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اُس کو پہچاننے میں کسی سلیم الفطرت شخص کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ انسان کے دل و دماغ بیدار ہوں تو روے و آواز پیمبر معجزہ ست۔

تاہم اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اُس کو ایسی بینات بھی عطا فرماتے ہیں کہ معاندین اگرچہ زبان سے اقرار نہ کریں، لیکن اُس کی صداقت پر یقین کے سوا اُن کے لیے بھی کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔‘‘(میزان 133-134)

اِن آیات یا معجزات کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں قرآنِ مجید سے جو رہنمائی ملتی ہے، وہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے۔

اولاً، اِن معجزات کا ظہور اگر چہ انبیا کے ذریعے سے ہوتا ہے، مگر یہ سر تا سر من جانبِ اللہ ہوتے ہیں۔ اِن کی نوعیت، اِن کے اثر اور موقع و مقام کا فیصلہ اللہ کے اذن پر منحصر ہوتا ہے۔ انبیا و رسل اِنھیں اُسی وقت ظاہر کرتے ہیں، جب اُنھیں اللہ کا حکم ہو۔ اِن کے ظہور اور وقوع میں نبی کا کام فقط یہ ہوتا ہے کہ وہ مثال کے طور پر اپنا عصا پتھر پر مارے یا اُسے زمین پر ڈال دے یا مٹھی بھر ریت کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکے یا منزل من اللہ کلام کی تلاوت کا فریضہ انجام دے۔ سورۂ مائدہ (5) میں اللہ تعالیٰ نے قیامت میں پیش آنے والے اُس واقعے کو بیان فرمایا ہے کہ جب نصاریٰ پر اتمام حجت کے لیے سیدنا مسیح علیہ السلام کو عطا کیے گئے معجزات کا ذکر کیا جائے گا۔ اُس موقع پر ’بِاِذۡنِیۡ‘ (میرے حکم سے) کے الفاظ کو بار بار دہرایا جائے گا۔ اِس سے مقصود یہ باور کرانا ہو گا کہ جن معجزات کو بنیاد بنا کر اُنھوں نے مسیح کو اللہ کی الوہیت میں شریک کیا، وہ اللہ ہی کی جانب سے تھے اور اُسی کے حکم پر مبنی تھے۔ نصاریٰ نے اُنھیں حضرت مسیح سے منسوب کر کے ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ.

وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ.

وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ. (5: 110)

’’جب اللہ کہے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، میری اُس عنایت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر اور تمھاری ماں پر کی تھی، اُس وقت، جب میں نے روح القدس سے تمھاری مدد کی، تم گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔

اور اُس وقت، جب میں نے تمھیں قانون اور حکمت سکھائی، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور اُس وقت، جب تم میرے حکم سے پرندے کی ایک صورت مٹی سے بناتے تھے، پھر اُس میں پھونکتے تھے اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔

اور اُس وقت، جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور اُس وقت، جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تم سے روک دیے، جب تم کھلی ہوئی نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے اور اُن کے منکروں نے کہا کہ کچھ نہیں، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی تفسیر میں اللہ کے اذن کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ تمام باتیں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نصاریٰ پر حجت تمام کرنے کے لیے فرمائے گا۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں نصاریٰ پر یہ حقیقت واضح کر دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ پر جو انعام بھی ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، اُنھوں نے جو معجزے بھی دکھائے، سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے اور یہودیوں نے اُن کو جن خطرات میں ڈالا، اُن سے اُن کو اللہ تعالیٰ ہی نے نکالا۔ پھر جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور اِس کے سب سے بڑے گواہ خود عیسیٰ ہیں تو نصاریٰ بتائیں کہ اُنھوں نے کس کے کہنے سے اُن کو خدا بنا ڈالا؟ یہاں’بِاِذْنِیْ‘ (میرے حکم سے) کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔ ایک ایک بات پر اللہ تعالیٰ اِس کو دہرائے گا اور اِن میں سے ہر بات پر سیدنا مسیح علیہ السلام ’امَنَّا وَصَدَّقْنَا‘ ہی کہیں گے تو ظاہر ہے کہ جن معجزات کے بل پر نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنایا، جب وہ سب خدا کے ’اذن‘ سے ہوئے اور اُس کا اعتراف خود معجزات کا دکھانے والا ہی کرے گا تو نصاریٰ کے حصے میں فضیحت اور رسوائی کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا؟‘‘ (تدبر قرآن 2/ 607)

ثانیاً، اِنھیں علم و ہنرکا کمال نہیں سمجھاجا سکتا۔ نہ اِنھیں شعبدہ اور فریبِ نظر قرار دے کر رد کرنا ممکن ہوتا ہے اور نہ سحر و ساحری کہہ کر قبول کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اِن چیزوں کے ماہرین بھی اِن کی صحت اور قطعیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اخذ و اکتساب کی سطح سے بلند اور سحر و ساحری سے ماورا کوئی منفرد معاملات ہیں۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’اِن معجزات کو کوئی شخص سحر و ساحری یا علم و فن کا کمال کہہ کر رد نہیں کر سکتا، اِس لیے کہ اِس طرح کے علوم و فنون کی حقیقت اُس کے ماہرین سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتااور وہ بھی اُن کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے جن دو معجزات کا ذکر اوپر ہوا ہے، اُن کا اثر مٹانے کے لیے فرعون نے یہی امتحان کیا تھا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اُس نے تمام مملکت میں ہرکارے بھیج کر ماہر جادوگر بلائے اور میلے کے دن اُنھیں مقابلے کے لیے پیش کر دیا۔ اُس نے یہ اہتمام فتح کی توقع میں کیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ جادوگروں نے عصاے موسوی کو اپنا طلسم نگلتے دیکھا تو بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ایمان چونکہ حقیقت کوبہ چشم سر دیکھ لینے سے پیدا ہوا تھا، اِس لیے ایسا راسخ تھا کہ فرعون نے جب اُنھیں دھمکی دی کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دوں گا اور تمھیں کھجور کے تنوں پر سر عام سولی کےلیےلٹکا دوں گا تو وہی جادوگر جو چند لمحے پہلے بڑی لجاجت کے ساتھ اُس سے انعام کی درخواست کر رہے تھے، پکار اٹھے کہ ماہ ِنخشب اور خورشیدِ جہاں تاب کا یہ فرق دیکھ لینے کے بعد اب ہمیں کسی چیز کی کوئی پروا نہیں ہے:

قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقۡضِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا. اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغۡفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَکۡرَہۡتَنَا عَلَیۡہِ مِنَ السِّحۡرِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی.

(طٰہٰ 20: 72-73)

’’جادوگروں نے جواب دیا: ہم اُن روشن نشانیوں پر ہرگز تم کو ترجیح نہ دیں گے، جو ہمارے سامنے آ چکی ہیں اور نہ اُس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اِس لیے تمھیں جو کرنا ہے، کر گزرو۔ تم جو کچھ کر سکتے ہو، اِسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں، اِس لیے کہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اُس جادو کو بھی معاف فرمائے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے۔ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والاہے۔‘‘‘‘

(میزان 136)

ثالثاً، اِن معجزات کا ایک بڑا مقصد منکرین اور معاندین پر اتمام حجت ہوتا ہے۔ یعنی جو لوگ عقل و فطرت کے دلائل پر دھیان نہیں دے رہے اور بلا جواز نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔چنانچہ اِن کے ظہورکے بعد منکرین کے لیے انکار کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ وہ اگر زبان سے اِنھیں جھٹلا بھی رہے ہوں، مگر اُن کے دل و دماغ اِن کے اقرار پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اظہر من الشمس ہوتے اور ہر عام و خاص کے لیے یکساں لائق حجت ٹھہرتے ہیں۔ اتمام حجت کا ایک پہلو منکرین کو ایمان لانے کا مزید موقع دینا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ جب منکرین پیغمبر سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اُس کے رو برو اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، وہ اگر درست ہے تو پھر اُس عذاب کو لے آؤ، تو اِس کے جواب میں عذاب کے بجاے حسی معجزات دکھا کر اُنھیں عذاب کے یقینی ہونے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے رحمت کا ظہور ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی آنکھیں عقل و فطرت کے بین دلائل سے نہیں کھلیں، ممکن ہے کہ اِن غیر معمولی واقعات کو دیکھ کر کھل جائیں اور وہ ایمان لانے پر آمادہ ہو جائیں۔ اِس کی مثال قوم ثمود میں اونٹنی کا ظاہر ہونا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’یہ اونٹنی قوم کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ایک نشانی عذاب کی حیثیت سے نام زد کی گئی تھی۔ چنانچہ قرآن میں تصریح ہے کہ جب ثمود کے لیڈر نے اِس کی کونچیں کاٹ دیں تو اِس کے تیسرے دن عذاب الہٰی آ دھمکا۔…

مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب کے بجاے ایک نشانی عذاب کی نام زدگی اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت کی دلیل تھی۔ وہ قہر میں دھیما اور رحمت میں جلدی کرنے والا ہے۔ اِس وجہ سے اُس نے یہ پسند فرمایا کہ لوگوں کو مزید مہلت دے کہ اب بھی وہ متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہو جائیں، لیکن اُنھوں نے متنبہ ہونے کے بجاے جسارت کا آخری قدم اٹھا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘ (تدبر قر آن3/ 301-302)

[باقی]

  1. ۔ واضح رہے کہ قرآنِ مجید میں معجزے کی اصطلاح اختیار نہیں کی گئی۔ وہاں اِس مفہوم کے لیے آیت ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ معجزے کے مفہوم پر مفصل معلومات کے لیے اِسی تصنیف میں ضمیمہ 1 ملاحظہ کیجیے۔